صفحہ اول » افواج » فضائیہ،ملک کے دفاعی نظام کا اہم ترین شعبہ ہے

فضائیہ،ملک کے دفاعی نظام کا اہم ترین شعبہ ہے

جدید دور میں دفاعی سائنس میں جس تیزی سے پیش رفت ہورہی ہے اس کی وجہ سے ملک کے دفاع میں فضائیہ کی اہمیت روزبہ روزبڑھتی جارہی ہے۔ فضائیہ کا کام ملک کی فضائی حدود اور سرحدوں کی حفاظت کرنا، دشمن کے فضائی حملوں کو روکنا اور فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے طیاروں کو گرفتار کرنا یا مار گرانا ہے۔ جنگ کے دوران فضائیہ اپنی بری فوج کو فضائی حملے سے تحفظ فراہم کرتی ہے، دشمن کی فوجوں کو تباہ کرتی ہے اوردفاعی اہمیت کی مخالف تنصیبات کو نشانہ بناتی ہے ۔
پاک فضائیہ (پاکستان ایئر فورس) کے شاہین صفت افسر اور جوان طیاروں کو اڑانے اور میزائلوں کے نظام کی موء ثر کارکردگی کا بنیادی فرض ادا کرتے ہیں۔ دیگر ذمہ داریوں میں انتظامی، طبی اور فراہمی و ترسیل کی ذمہ داریاں شامل ہیں جو فضائیہ کی موء ثر کارکردگی کو جاری رکھنے، افراد کی تربیت اورفضائیہ کی تنصیبات کی کارکردگی سے متعلق ہوتی ہیں

پاک فضائیہ کی تنظیم 

پاکستان ایئرفورس کا ہیڈ کوارٹر چکلالہ ( راول پنڈی) میں ہے۔ چیف آف ایئر اسٹاف فضائیہ کا سب سے بڑا عہدہ ہے۔ پی اے ایف ہیڈ کوارٹر کے تحت تین علاقائی ایئر کمانڈ پشاور، سرگودھا اور کراچی میں قائم ہیں جو پورے ملک کی فضائی حدود کی نگرانی اورتحفّظ کا کام انجام دیتی ہیں۔ ہر علاقائی ایئر کمانڈ کا سربراہ ایئر آفیسر کمانڈنگ کہلاتا ہے ۔

کام کی نوعیت 

فضائیہ کے افسروں کابنیادی کام ایئرفورس کے مختلف شعبوں کو موء ثر رکھنا ہے۔ افسراپنے عہدے کے اعتبار سے انتظامی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں۔ بعض افسروں کو ایک خاص شعبے میں مہارت کی تربیت دی جاتی ہے ۔جنرل ڈیوٹی (فلائنگ) برانچ کے افسروں کو طیارہ اڑانے کی تربیت دی جاتی ہے۔ یہ افسر طیاروں کی پرواز اور فضائی آپریشن کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ نیوی گیٹر طیاروں کے ہتھیاروں کے نظام کا نگراں ہوتا ہے اور ہوا باز (پائلٹ) کے ساتھ قریبی رابطہ رکھتے ہوئے اپنا کام انجام دیتا ہے (مثلاً میزائل کو درست نشانے پر پھینکنا) ۔
گراؤنڈ برانچ کے افسروں میں ایئر ٹریفک کنٹرولر شامل ہوتے ہیں جو ہر قسم کے موسمی حالات میں طیاروں کی بہ حفاظت اڑان، ان کی رہنمائی اور ان کے اترنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ یہ افسر ہدایات، فضائی پروازکی اطلاعات اور ہوا بازوں کی رہبری کے لیے ہدایات نشر کرتے ہیں، وقت ضرورت طیاروں کو متبادل ایئرپورٹ یا ایئر اسٹرپ پر اترنے کی ہدایت کرتے ہیں۔ ہنگامی حالات میں امدادی سرگرمیوں اور گم شدہ طیارے کی تلاش کے ابتدائی کام کا آغاز کرتے ہیں۔
فائٹر کنٹرولر طیاروں کی پرواز اور نقل و حرکت کی نگرانی کرتے ہیں اور ان کی شناخت کرتے ہیں ۔ اس شعبے کے افسر فضائی جنگ اورفضائی جنگی مشقوں کی نگرانی کرتے ہیں۔ فضا میں موجود طیاروں کے ہوا بازوں کو مخالف طیاروں کی نقل و حرکت اورممکنہ کارروائی سے باخبر کرتے ہیں ان کو جوابی کارروائی کی ہدایت دیتے ہیں۔
سسٹم آفیسر ، فضائی دفاع کے دیگر متعلقہ فرائض سرانجام دیتے ہیں ۔
فوٹو گرافک انٹر پریٹر ، جاسوس طیاروں کے ذریعے فراہم ہونے والی اطلاعات کا تجزیہ کرتے ہیں ۔ انجینئرنگ برانچ کے افسر طیاروں اور متعلقہ آلات کے فنی پہلوؤں کی نگرانی اور دیکھ بھال کرتے ہیں ۔اس شعبے کے افسر دو میں سے کسی ایک شاخ میں مہارت رکھتے ہیں۔
-1 ایرو سسٹم : ایروسسٹم سے متعلق افسر طیاروں کے فنی معاملات اوران پر موجود ہتھیاروں کی موء ثر کارکردگی کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔
-2 کمیونیکیشن الیکٹرونکس : اس شعبے سے متعلق افسر طیاروں اور زمینی تنصیبات کے مواصلاتی نظام اور آلات کی موء ثر کارکردگی، زمین سے ہوا میں پیغام کی ترسیل کے نظام، ہوائی اڈوں کے نشریاتی نظام (ریڈیو کمیونیکیشن) اور زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کی دیکھ بھال کے ذمہ دار ہوتے ہیں ۔
سپلائی برانچ کے افسر ، ضروری اشیا ، ہتھیاروں اورآلات کی فراہمی اور ترسیل کے ذمہ دار ہوتے ہیں انتظامی برانچ کے افسر معاون خدمات فراہم کرتے ہیں جن میں حسابات، تعلیم، تربیت، غذائی اور جسمانی تربیت شامل ہے ۔
سیکوریٹی برانچ میں ایئر فورس پولیس اور ایئر فورس سیکوریٹی کے افسر شامل ہوتے ہیں ۔
ایک رجمنٹ کے افسروں میں فضائی لڑائی کی قیادت کرنے والے، پیراشوٹ اسکواڈرن، زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل چلانے والے، اور فضائیہ کے طیاروں اور تنصیبات کی حفاظت کرنے والے شامل ہوتے ہیں ۔

حالاتِ کار 

فضائیہ کے افسروں کو ایک دوسرے کے ساتھ قریبی ماحول میں کام کرنے اور بیش تر اوقات رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ انھیں اندرونِ پاکستان یا بیرونِ پاکستان کسی بھی مدت کے لیے کسی بھی جگہ فرض کی ادائیگی سونپی جاسکتی ہے ۔
انتظامی شعبے اور فراہمی و ترسیل کے شعبے کے افسروں کو دفاتر میں کام کرنا ہوتا ہے۔ ایرو سسٹم انجینئر کو ہینگروں کے اندر یا باہر کام کرنا ہوتا ہے اور طیاروں کی کارکرگی ان کی فنی صلاحیت جانچنے یا خرابی کا پتا لگانے کے لیے پرواز کرنا ہوتی ہے ۔
کمیونیکیشن الیکٹرونکس کے شعبے کے افسر، سسٹم کنٹرول روم میں کام کرتے ہیں، لیکن ٹیکنیکل کمیونیکیشن ونگ میں کام کرنے والوں کو ہر طرح کی جغرافیائی صورتِ حال میں اپنے آلات نصب کرنے اوران کی موء ثر کارکردگی کی ذمہ داری ادا کرنی ہوتی ہے ۔
ایئر ٹریفک اورفائٹر کنٹرولر تقریباً ہمیشہ مدھم روشنی میں کام کرتے ہیں۔ طیاروں میں ہوا بازوں کے لیے اتنی محدود جگہ ہوتی ہے کہ عملی طور پر وہاں ان کا حرکت کرنا ممکن نہیں ہوتا۔

ذاتی خصوصیات 

فضائیہ کے افسر میں قیادت اورانتظام کی بہترین صلاحیتیں ہونی چاہییں۔ متحرک، مستعد اور حالاتِ کارکا بالکل درست اندازہ لگانے والے اور اس کے مطابق فوری فیصلہ کرنے والے کامیاب رہتے ہیں۔ خود اعتمادی فضائیہ میں جانے کے خواہش مند نوجوانوں کی اوّلین ضرورت ہے۔ جراء ت اور حوصلہ کسی بھی دفاعی خدمت کے افسر کی بنیادی ضرورت ہوتا ہے۔ ٹیم ورک کے جذبے سے کام کرنے والے باصلاحیت اور باوقار نوجوان فضائیہ کو اپنا مستقبل بنا سکتے ہیں ۔
فضائیہ میں بیش تر کام جدید قسم کے آلات اور اوزاروں کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ سائنس کا رجحان رکھنے والے نوجوان اور ریاضی /فنی پس منظر کے حامل افرا د ان مرحلوں سے سرخ روگزر سکتے ہیں ۔
گفتگو کی صلاحیت نہایت ضروری ہے۔ خصوصاً انجینئرنگ اورفائٹراور ایئر ٹریفک کنٹرول کے شعبوں میں کام کرنے والوں کو نہایت صاف اور واضح طور پر ہدایات /احکامات دینے ہوتے ہیں۔ پائلٹ ، نیوی گیٹر اورفائٹر/ ایئر ٹریفک کنٹرولرز کوتیزی سے بدلتے ہوئے حالات میں فوری ردِ عمل ظاہرکرنا ہوتا ہے۔ ان شعبوں کے افسروں میں قوتِ ارتکاز نہایت قوی ہونی چاہیے ۔

مواقع 

پاکستان ایئر فورس حسب ضرورت اخبارات میں اشتہار کے ذریعے متعلقہ شعبے کے افسروں کے لیے نوجوانوں سے درخواستیں طلب کرتی ہے ۔

ترقی کے امکانات 

باصلاحیت اور مطلوبہ اہلیت ومعیار کے حامل نوجوانوں کو پی اے ایف اکادمی میں تربیت کی تکمیل کے بعد بہ طور پائلٹ آفیسر یا فلائنگ آفیسر، ایئر فورس میں شامل کیا جاتا ہے۔ مقررہ مدت اورامتحان کے بعدانھیں فلائٹ لیفٹیننٹ کے عہدے پر ترقی دے دی جاتی ہے۔ باصلاحیت اور نمایاں کارکردگی ظاہر کرنے والے افسر بالترتیب اسکواڈرن لیڈر ، ونگ کمانڈر اور گروپ کیپٹن کے عہدوں تک ترقی پا سکتے ہیں ۔
پاکستان ایئر فورس میں بحیثیت افسر شمولیت کا طریقہ

اہلیت 

پاک فضائیہ میں شمولیت کے لیے بنیادی اہلیت انٹر میڈیٹ سائنس( پری انجینئرنگ) میں کم سے کم سیکنڈ ڈویژن میں کامیاب ہونا ضروری ہے۔ عمر کی حد 16 سے 22 سال ہے۔
نوجوانوں کو بالعموم دو شعبوں کے لیے منتخب کیا جاتا ہے ۔
-1 جنرل ڈیوٹی پائلٹ
-2 ایئرو ناٹیکل انجینئر
جنرل ڈیوٹی پائلٹ
جواں سال نوجوانوں کے لیے یہ سب سے پرکشش شعبہ ہے۔ فضائیہ کے لڑاکا طیارے اڑانا، آسمان کی بلندیوں میں پرواز کرنا اور ملکی فضاؤں کا دفاع کرنا، نوجوانوں کے جذبے، حوصلے اور شوق کی آزمائش ہے۔ جی ڈی پائلٹ کے لیے منتخب کیے جانے والے امیدواروں کو پی اے ایف اکادمی رسال پور میں بی ایس سی کی تعلیم دی جاتی ہے اور امتحان کامیاب کرنے کے بعد ڈیڑھ سال ہوا بازی کی تربیت فراہم کی جاتی ہے۔ پی اے ایف کے تربیتی ادارے جو جدید ترین آلات اورسازو سامان سے لیس ہیں اور تربیت کے اعلیٰ نظام کے نتیجے میں یہاں نوجوان اپنی بہترین صلاحیتوں اور وسیع تر ذہنی افق کے ساتھ قومی دفاع میں شامل ہوتے ہیں۔ تربیت کی تکمیل پر بی ایس سی (انجینئرنگ) کی سند کے ساتھ کامیاب امیدواروں کو بہ طور پائلٹ آفیسر پاک فضائیہ میں کمیشن دیا جاتا ہے ۔

ایروناٹیکل انجینئر 

ایرو ناٹیکل انجینئر بھی فضائیہ کے طیاروں اور زمینی تنصیبات کے آلات کو رواں رکھنے کا فرض انجام دیتے ہیں۔ اس کام کے لیے ایسے ذہین ، جدید آلات اورپیچیدہ مشینوں کو سمجھنے والے افسروں کی ضرورت ہوتی ہے جو خامیوں سے مبرا نظام عمل کوبروئے کار لا کر طیاروں ، مشینوں اور آلات کی کارکردگی اورافادیت کو موء ثر ترین بنا سکیں۔
ایرو ناٹیکل انجینئرنگ کی تربیت کے لیے منتخب کیے جانے والے نوجوانوں کو پی اے ایف کالج آف ایرو ناٹیکل انجینئرنگ میں ساڑھے تین سال کی تربیت دی جاتی ہے، جس کی کامیاب تکمیل پر انھیں بی ایس سی ایرو ناٹیکل انجینئرنگ کی سند کے ساتھ پاک فضائیہ میں بہ طور فلائنگ آفیسر کمیشن د ے دیا جاتا ہے ۔

داخلے کا طریقہء کار 

جی ڈی پائلٹ اور ایرو ناٹیکل انجینئر کے امیدواروں کا پہلے مرحلے میں پی اے ایف سلیکشن سینٹر پر ریاضی او رطبیعیات کا امتحان لیا جاتا ہے، ذہانت کی جانچ ہوتی ہے اور ابتدائی انٹرویو کے ساتھ طبی معائنہ کیا جاتا ہے۔
ابتدائی مرحلے میں کامیاب امیدواروں کو انٹر سروسز سلیکشن بورڈ کے امتحانات اورطبی معائنے کے مرحلوں سے گزرنا ہوتا ہے۔ کامیاب امیدواروں کی حتمی فہرست فضائیہ کے ہیڈ کوارٹر میں مرتب کی جاتی ہے ۔

تنخواہیں اور سہولتیں 

تربیت کے دوران امیدوار کی تعلیم اور تربیت کے تمام اخراجات پاک فضائیہ کی ذمہ داری ہے۔ منتخب کیڈٹس کو رہائش، کھانا ، علاج مفت فراہم کیا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں تربیت کے دوران کیڈٹ کو 910 روپے وظفہ دیا جاتا ہے ۔
پائلٹ آفیسر کی حیثیت سے امیدوار کو مجموعی طور پر تقریباً تین سے چار سو روپے اور فلائنگ آفیسر کی حیثیت سے تقریباً تین سے چھ سو روپے تنخواہ ملتی ہے۔ افسروں کو(صرف ان کے لیے) رہائش مفت فراہم کی جاتی ہے ۔
مزید معلومات کے لیے پاک فضائیہ کے درجِ ذیل مراکز سے رجوع کیا جاسکتا ہے :
پی اے ایف انفارمیشن اینڈسلیکشن سینٹر
-1 مکان نمبر 3413 کیہل لنک روڈ ۔ ایبٹ آباد، فون : 4352
ایبٹ آباد 31 ،مانسہرہ روڈ ۔ فون : 34784
1 ، اے ایکس ٹینشن اسکیم ، سیٹلائٹ ٹاؤن بہاول پور
فضل شہید روڈ ، ڈی آئی خان کینٹ ،ڈیرہ اسماعیل خان۔ فون : 812068
یونی ورسٹی کیمپس ، فیصل آباد۔فون : 30142
49 ۔ صلاح الدین سڑک ،حیدر آباد ۔فون : 781042
231 ۔ بی ، ڈاکٹر داؤد پوتا روڈ( نزد مہران ہوٹل) کراچی ۔فون 512969
14 ۔ منیر روڈ ، منیر چوک ، نزد پی اے ایف سنیما ،لاہور ۔ فون : 6663346-6698305
217 ۔ شیر شاہ روڈ ،ملتان ۔ فون 30188
9 ۔ دی مال ، پشاور ۔فون 275495-273061
61 ۔ اے ، چمن ہاؤسنگ سوسائٹی ، کوئٹہ ۔کوئٹہ ، فون 9203053
3 ۔ دی مال ،راول پنڈی ۔ فون 565695-50502513
مینارہ روڈ ۔ بالمقابل گورنمنٹ اسلامیہ کالج ،سکھر ۔فون 23796
o

یہ بھی دیکھیں

(ہوا باز (کمرشل پائلٹ

ہوا بازی ایک پر شوق اور سنسنی خیز پیشہ ہے۔ پاکستان میں ہوا بازوں کی …