صفحہ اول » بلاگ » خود کو روزگار کے قابل بنائیے

خود کو روزگار کے قابل بنائیے

Empowering_India__Rural_BPO_of_HDFC_Bank_595635677
روزگار مہیا کرنے والے اداروں کو شکایت ہے کہ انھیں نیم ہنر مند تعلیم یافتہ کارکن نہیں مل رہے

کمال میرے پڑوسی کے بیٹے کانام ہے ۔ کمال کے والد اپنی مدّتِ ملازمت مکمل کرنے کے بعد سبکدوش(ریٹائرڈ) ہوگئے تو کمال کے لیے یہ ضروری ہوگیا کہ وہ اپنے خاندان کی کفالت کی جدوجہد میں اپنے بڑے بھائی کا ہاتھ بٹائیں اور تعلیم کے ساتھ ساتھ کوئی ملازمت اختیا رکریں۔
متوقع ملازمت کے لیے انھوں نے کالج میں باقاعدہ تعلیم کا سلسلہ ختم کردیا اور پرائیویٹ امیدوار کی حیثیت سے رجسٹریشن کرالیا۔ دو سال سے زیادہ عرصہ گزرچکا ہے، وہ ابھی تک بے روزگار ہیں۔ انھیں کئی جگہ بھیجا گیا لیکن چوں کہ انھیں عملاً کوئی کام نہیں آتا، اس لیے ملازمت نہیں ملی۔ جب انھوں نے اپنی ملازت کے لیے کہا تھا، تب ان سے کہا گیا تھا کہ وہ کوئی ہنر سیکھیں مثلاً ٹائپنگ سیکھ لیں، انھوں نے ٹائپ کاری کے تربیتی ادارے میں داخلہ بھی لیا، لیکن دو سال کا عرصہ گزرنے کے باوجودانھیں ٹائپ کاری پرعبورنہیں ہے۔اس دوسال میں انھوں نے بارہویں جماعت کامرس سے کامیاب کرلی ہے اور اب بی کام کے سال اوّل میں ہیں لیکن ان کی ملازمت کا مسئلہ ابھی تک حل نہیں ہوسکا ہے۔
کمال کا معاملہ کوئی انوکھا واقعہ نہیں ہے۔ ہمارے یہاں لاکھوں تعلیم یافتہ نوجوانوں کو اسی قسم کے مسائل کا سامنا ہے۔ لاکھوں نوجوان، جو کسی بھی جگہ ملازمت اختیار کرکے یااپنا کوئی کاروبار شروع کرکے نہ صرف اپنے خاندان کی خوش حالی کا باعث ہوسکتے ہیں بلکہ قومی ترقی میں بھی معاون ہوسکتے ہیں، وہ بے روزگار ہیں۔ اپنی بے روزگاری کا ذمہ دار وہ ملک، حکومت یا معاشرے کو ٹھہراتے ہیں۔ کیا ان کا یہ الزام صحیح ہے ؟
آیئے اب ایک دوسری صورتِ حال کا مشاہدہ کرتے ہیں !
امجد صاحب کو اپنے دفتر کے لیے ایک ایسا دفتری معاون( آفس اسسٹنٹ) چاہیے جو دفتر کے روزمرہ کے کام انجام دے سکے۔ انھوں نے اپنے دوستوں سے بھی ذکر کیا اور اخبار میں اشتہار بھی دیا۔ بے شمار نوجوان آئے لیکن ان کی ضرورت کے مطابق ایک بھی نہیں ملا۔
کریم صاحب ایک دفتر میں مہتمم(سپرنٹنڈنٹ) کے عہدے پر کام کرتے ہیں انھیں شکایت ہے کہ ان کے یہاں ایک ٹائپ کار کی ضرورت ہے لیکن تین سال میں انھیں اچھا ٹائپ کار نہیں ملا۔شہاب الدین صاحب کا میکنیکل ورکشاپ ہے، انھیں شکایت ہے کہ پاکستان میں اچھے خرادی (ٹرنر) نہیں ہیں ۔
اچھا محاسب(اکاؤنٹنٹ) اچھا ڈرائیور، اچھا ٹیلی فون/ٹیلکس آپریٹر، اچھا بینکر، اچھا پلمبر، اچھا الیکٹریشن ،ہرجگہ ان کی ضرورت ہے۔ لیکن یہ لوگ دستیاب نہیں ہیں، جو بھی ہنر مند اپنے کام سے واقف ہے اور تجربہ رکھتا ہے وہ پہلے ہی کسی جگہ کام کررہا ہے۔ جو نئی جگہیں پیدا ہورہی ہیں ان کے لیے ہر شعبے میں ایسے کارکنوں کی شدید قلّت ہے جو خود اعتمادی کے ساتھ آزادانہ طور پر کام کرسکیں۔
گویا ایک طرف ہمارے تعلیم یافتہ نوجوانوں کی بڑی تعداد بے روزگار ہے اور دوسری جانب روزگار مہیا کرنے والے اداروں کو شکایت ہے کہ انھیں نیم ہنر مند تعلیم یافتہ کارکن نہیں مل رہے۔
یہ نہایت افسوس ناک صورتِ حال ہے لیکن اس ناخوش گوار صور تِ حال پر افسوس کرنے کے بجائے ہمیں اس کو بدلنے کی فکر کرنی چاہیے۔ اس مضمون میں آٹھویں، دسویں اور بارہویں جماعت کامیاب نوجوانوں کو ایسے مشورے دیے جارہے ہیں جن پر عمل کرکے وہ اس صورتِ حال کو تبدیل کرسکتے ہیں اور باعزت روزگار اختیار کرکے اپنی اور اپنے خاندان کی خوش حالی اور ترقی کا باعث بن سکتے ہیں۔ اپنے آس پاس نظر ڈالیے، محلے اور بازار میں آپ کو لاتعداد ایسے نوجوان نظر آئیں گے جو یا تو بالکل اَن پڑھ ہیں یا انھوں نے دو چار جماعتیں پڑھی ہیں۔ لیکن یہ لوگ دکانوں، کارخانوں، ورک شاپ او ر بازاروں میں مختلف نوعیت کے کام کرتے نظر آتے ہیں۔ گویا اَن پڑھ یا معمولی پڑھے لکھے ہونے کے باوجود ان لوگوں کو روزگار میسر ہے ۔

یہ بھی دیکھیں

grade 12 student pakistan

خود کو روزگار کے قابل بنایئے

کمال میرے پڑوسی کے بیٹے کانام ہے ۔ کمال کے والد اپنی مدّتِ ملازمت مکمل …