صفحہ اول » بلاگ » زراعت اور متعلقہ پیشے

زراعت اور متعلقہ پیشے

5۔پلانٹ بریڈنگ اینڈ جینیٹکس: زراعت کا وہ شعبہ جس میں پودوں (آرائشی پودوں، نقد آور فصلوں وغیرہ) کی موروثی خصوصیات کا مطالعہ کیا جاتا ہے اور نئی نئی اقسام متعارف کروائی جاتی ہیں، کوئی زیادہ پیداوار دیتی ہے اور کوئی بیماریوں اور خشک سالی کے خلاف قوتِ مدافعت رکھتی ہے۔ اس میں بھی پی ایچ ڈی تک تعلیم دی جاتی ہے۔
6۔ایگری کلچرل اکنامکس: اس شعبے میں زراعت کے مسائل، معاشی مسائل، ان کو سمجھنے اور حل کرنے کے متعلق تعلیم دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ زرعی قرضہ جات کے حصول، فراہمی، استعمال اور زراعت کے منصوبے اورمعاشی جائزے اور پالیسی وغیرہ زرعی اقتصادی ماہر ہی بناتا ہے۔ اس میں چار شعبہ جات ہیں جن میں پی ایچ ڈی تک تعلیم دی جاتی ہے۔ ۱۔ایگری کلچرل اکنامکس ۲۔ ایگری کلچرل مارکیٹنگ ۳۔کوآپریشن اینڈ کریڈٹ ۴۔فارم مینجمنٹ۔
7۔ایگری ایکسٹینشن: اس شعبے میں زرعی میدان میں ہونے والی تحقیق کو کاشت کاروں تک پہنچانے کے متعلق تعلیم دی جاتی ہے۔ تاکہ وہ جدید علوم کو اپنا کر زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کرسکیں۔ اس شعبے میں ایم ایس سی (آنرز) تکتعلیم دی جاتی ہے۔
8۔ایگری کلچرل انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی: اس میں انجینئرنگ کی بنیادی تعلیم ،جدید ترین زرعی آلات کی دیکھ بھال اور ان کے استعمال کے متعلق پڑھانے کے ساتھ ساتھ آب پاشی کے پانی کو ضائع ہونے سے بچانے اور زیادہ سے زیادہ استعمال میں لانے کے متعلق تعلیم دی جاتی ہے۔ اس میں (i)شعبہ بنیادی انجینئرنگ (ii)شعبہ زرعی مشینری اور (iii)شعبہ آب پاشی و نکاسی ہے جس میں ایم ایس سی (آنرز) تک تعلیم دی جاتی ہے۔
9۔فائبر ٹیکنالوجی: اس شعبے میں اون، کپاس، مصنوعی ریشوں کی خصوصیات، ریشے دار پودے اور ان کی کوالٹی کے متعلق ایم ایس سی (آنرز) تک تعلیم دی جاتی ہے۔
10۔فوڈ ٹیکنالوجی: اس شعبے میں سبزیوں اور پھلوں کو محفوظ کرنے، پھلوں کی مصنوعات (شربت، اسکوائش، اچار، چٹنی، جام جیلی) ، دودھ اور دودھ کی مصنوعات، گوشت کو محفوظ کرنے اور خوراک سے متعلق دیگر امور کے بارے میں پی ایچ ڈی تک تعلیم دی جاتی ہے۔
جانوروں کی دیکھ بھال کے ذیلی شعبے
جانوروں کی دیکھ بھال سے متعلق شعبے درج ذیل ہیں۔ ان تمام شعبوں میں بی ایس سی (آنرز) سے پی ایچ ڈی تک کی تعلیم دی جاتی ہے۔
1۔اینمل بریڈنگ اینڈ جینیٹکس: اس شعبے میں جانوروں کی نسل کشی، جانوروں کی وراثت اور وراثتی بیماریوں کے متعلق تعلیم دی جاتی ہے۔ اس کی بدولت اعلیٰ نسل کے جانور پیدا کیے جاتے ہیں۔
2۔پولٹری ہسبنڈری: اس شعبے میں فارم پر رکھے جانے والے پرندوں اور مرغیوں سے کم لاگت میں زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کرنے، سائنسی بنیادوں پر ان کی دیکھ بھال اور انھیں بیماریوں سے محفوظ رکھنے اور انڈوں سے بچے نکالنے کی تعلیم دی جاتی ہے۔
3۔لائیو اسٹاک مینجمنٹ:اس شعبہ میں ہر قسم کے فارم پر رکھے جانے والے جانوروں کی دیکھ بھال اور ان سے حاصل کردہ اشیا کا صحیح طور پر انتظام شامل ہے۔
4۔اینمل نیوٹریشن:/ اس کا مقصد تمام جانوروں کے لیے ایسی غذا تجویز کرنا ہے جو جانوروں کے جسم کی تمام ضروریات کو پورا کرے۔ اس میں وٹامنز، معدنیات، کاربوہائیڈریٹس، فیٹس کے میٹا بولزم کی تعلیم دی جاتی ہے۔
5۔ویٹرنری اناٹومی: اس شعبے میں خلیے سے لے کر پوری جسامت تک تمام جانوروں کے اندرونی اور بیرونی ساخت کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔
6۔فزیالوجی اور فارما کالوجی: جانوروں کے جسم کے مختلف اعضا کے افعال، ادویات کی کمپوزیشن، دوائی کی مقدار اور طریقہ ،اثر، ذریعہ دوائی کے متعلق تعلیم دی جاتی ہے۔
7۔پیرا سائٹالوجی: تمام جانوروں میں پائے جانے والے اندرونی اور بیرونی طفیلیات (پیرا سائٹس) ان کا جسم میں داخل ہونے کا طریقہ، دورِ زندگی، علاج اور جسم پر اثر کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔
8۔مائیکرو بیالوجی: جراثیم کی کیمیائی اور طبی خصوصیات، جراثیم کی ساخت، جسم میں داخل ہونے کا طریقہ، دورِ زندگی، مکمل تدارک، دودھ، پانی اور خوراک سے پھیلنے والی بیماریوں کے تدارک کے متعلق پڑھایا جاتا ہے۔ اس میں (۱) بیکٹریا لوجی (۲) وائرولوجی(۳)مائیکالوجی(۴) ٹشو کلچر شامل ہیں۔
9۔ویٹرنری پیتھالوجی : احداث مرض (پیتھالوجی) کا مکمل علم اور کیمیائی و طبعی اجزا سے پیدا ہونے والے اثرات کا تفصیل سے مطالعہ کیا جاتا ہے۔
10۔کلینیکل میڈیسن اینڈ سرجری: مختلف جانوروں کی بیماریوں کا علاج معالجہ، ان کا تدارک اور آپریشن کے متعلق پڑھایا جاتا ہے۔
11۔ جانوروں کی نسل کشی: اس شعبے میں جانوروں کی نسل کشی کے متعلق تعلیم دی جاتی ہے۔ نظامِ تولید کے بارے میں پڑھایا جاتا ہے۔
پودوں کی افزائش و آرائش کے ذیلی شعبے
1۔ ہارٹی کلچر: زراعت کا وہ شعبہ جس میں آرائشی پھولوں، پودوں، درختوں، تمام سبزیوں، پھلوں، کھمبی (مش روم) ، لینڈ اسکیپ انجینئرنگ، ٹشو کلچر (ٹیسٹ ٹیوب بے بی کی طرح ٹیسٹ ٹیوب پودے پیدا کرنا) کی پی ایچ ڈی تک تعلیم دی جاتی ہے۔ ہر ایک کے لیے علیحدہ اعلیٰ تعلیم دی جاتی ہے۔
2۔کراپ فزیالوجی: یہ ایک جدید علم ہے۔ اس میں پودوں کے مختلف حصوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اور یہ بھی معلوم کیا جاتا ہے کہ کون سا کریکٹر کس کروموسوم پر عمل کرتا ہے اس میں ایم ایس سی (آنرز) تک تعلیم دی جاتی ہے۔
عملی زندگی میں کھیتوں اور کھلیانوں میں کام کرنے والوں کو کھلے آسمان تلے مصروف رہنا ہوتا ہے کاشت کاروں کو مشورے دینا اور زراعت سے متعلق ان کے مسائل کے حل تجویز کرنا، فصلوں کی بیماریوں کی تشخیص کرنا، نقصان پہنچانے والے کیڑے مکوڑوں کا سدباب تجویز کرنا، آب پاشی کے معاملوں کی دیکھ بھال،زمین کی زرخیزی بڑھانے کے اقدامات، سیم اور تھور سے متاثر زمین کو کار آمد بنانے کے اقدامات، زرعی آلات اور مشینوں کی دیکھ بھال ، پیداوار کی کٹائی اور اسے ذخیرہ کرنے اور بازار تک پہنچانے کے اقدامات کی نگرانی۔ یہ تمام امور زراعت کے پیشے سے متعلق ہیں اور محنت و توجہ کے طالب ہیں۔
اینمل ہسبنڈری کے شعبے میں کام کرنے والوں کو مویشیوں کی افزائش کے فارم، ڈیری فارم اور چراگاہوں پر کام کرنا ہوتا ہے، یہ لوگ مویشیوں کے اسپتالوں اور دواخانوں میں بہ طور ڈاکٹر اور سرجن کام کرتے ہیں، چڑیا گھروں اور سفاری پارکوں میں جانوروں کی دیکھ بھال کرتے ہیں، سرکس کے ساتھ چلتے ہیں اور اس کے جانوروں کی دیکھ بھال کے فرائض انجام دیتے ہیں۔
جنگلات کے شعبے میں کام کرنے والوں کو گھروں سے دور جنگلات میں رہنا ہوتا ہے جہاں ان کے ذمے شجر کاری، درختوں کی پرورش ،ان کی دیکھ بھال اور حفاظت اور درختوں کی کٹائی کے انتظامات ہوتے ہیں۔
ہارٹی کلچر کے شعبے میں کام کرنے والوں کو نرسریوں، باغات، پارکوں، پھلوں کے باغات اور سبزیوں کے فارموں میں کام کرنا ہوتا ہے۔
ان تمام شعبوں میں اعلیٰ تعلیم کے حامل افراد انتظامی اور تحقیقی و تعلیمی اداروں میں کام کرتے ہیں۔
نیچے کی سطح سے اوپر کی سطح تک، تمام شعبوں میں کام کرنے والوں کے لیے عملی مہارت نہایت ضروری ہوتی ہے۔ اپنے ہاتھ سے کام کرنے کو عار نہ سمجھنے والے اور بلاتکلف ہر وقت ہر کام کے لیے تیار رہنے والے کامیاب و بامراد ہوتے ہیں۔ بیش تر شعبوں میں ہمہ وقت کھلے ماحول میں، خوش گوار اور ناخوش گوار موسموں میں، اور دن رات کے موزوں اور ناموزوں اوقات میں کام کرنا پڑتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ اس شعبے سے وابستہ افراد کی صحت اچھی ہو۔
مواقع
زراعت اور اس کے مختلف شعبہ جات کی اہمیت سے کوئی شخص انکار نہیں کرسکتا۔ پاکستان میں 80 فی صد سے زائد لوگ۔۔۔بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر زراعت سے منسلک ہیں۔ زراعت کے خام مال پر انحصار کرنے والی ان گنت صنعتوں کا قیام عمل میں آچکا ہے اور اس کے لیے تربیت یافتہ زرعی سائنس دانوں کی از حد ضرورت ہے۔ ابھی تک کوئی ایسا زرعی سائنس دان نہیں جسے ملازمت کے لیے چھ ماہ سے زیادہ عرصہ انتظار کرنا پڑا ہو کیوں کہ سرکاری و نیم سرکاری اور نجی اداروں میں ان کے لیے ملازمت کے بے شمار مواقع ہیں۔ دنیا میں زراعت کے فروغ پر تحقیق کے لیے اقوام کا ایک ادارہ ’’فوڈ اینڈ ایگری کلچر آرگنائزیشن‘‘ بھی کام کر رہا ہے اور پاکستان میں اس تنظیم کے دفاتر میں بھی مقامی سائنس دانوں کی کھپت ہوتی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

کیریر پلاننگ کے اہم نکات

اپنا جائزہ لیں اور خود کو جانیں اپنے اندر کی شخصیت کا جائزہ لیجیے۔ اپنے …