صفحہ اول » بلاگ » زراعت اور متعلقہ پیشے

زراعت اور متعلقہ پیشے


بی ایس سی ’’آنرز‘‘کے چار سالہ نصاب کی تکمیل پر سند یافتہ امیدواروں کو سرکاری اور نیم سرکاری زرعی اداروں میں گریڈ ۷۱ پر ملازمت کی پیش کش کی جاتی ہے۔
فیصل آباد، ٹنڈو جام اور پشاور کی زرعی جامعات اور دیگر زرعی کالجوں میں ہر سال اوسطاً دو ہزار طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہوتے ہیں۔ بی ایس سی (آنرز) میں اوسطاً ۰۰۴۱ اور ایم ایس سی (آنرز) میں اوسطاً700امیدوار زیر تعلیم ہوتے ہیں جب کہ ہر سال پی ایچ ڈی کرنے والوں کی اوسط تعداد دس ہے۔
زرعی سائنس میں بی ایس سی(آنرز) یا اعلیٰ تعلیم کے بعد سند یافتہ نوجوانوں کو مندرجہ ذیل شعبوں میں کام کرنے کا موقع ملتا ہے۔
زراعت، جنگلات، اصلاح اراضی، زمینی جائزہ، تحفظِ نباتات ، امدادِ باہمی، بازار کاری، ذخیرہ گاہیں، زرعی خدمات، واپڈا سیڈ کارپوریشن، واٹر مینجمنٹ پروجیکٹ، زرعی ترقیاتی بینک، زرعی تحقیقاتی کونسل، پی سی ایس آئی آر، سینٹرل کاٹن کمیٹی، ملٹری فوڈ لیبارٹریز، سی ڈی اے، سیم و تھور سے نجات کے پروگرام، زرعی ترقیاتی بورڈ برائے امدادِ باہمی، پودوں کا قرنطانیہ، انسداد ملیریا، کیمیائی ٹیکنالوجی کا ادارہ محکمہ سماجی بہبود، دیہی ترقی کا منصوبہ، آبادی منصوبہ بندی کا محکمہ، دولتِ مشترکہ کا ادارہ برائے جراثیم سے نجات، زراعت سے متعلق صنعتیں، بینک اور مالیاتی ادارے کالج، جامعات اور مدارس، مویشیوں کی افزائش کے مراکز ڈیری فارمز، ذاتی کاروبار، زرعی ترقیاتی کارپوریشن، مرغیوں اور مویشیوں کا چارہ ،غذا بنانے کی صنعت، پودوں اور جانوروں کے علاج کی دوائیں بنانے والے ادارے۔
پیشہ ورانہ تعلیم کے لیے داخلے کی اہلیت
زراعت، باغبانی، علمِ حیوانات اور علمِ جنگلات کے تمام شعبوں میں پیشہ ورانہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے کسی بھی مخصوص تعلیمی ادارے میں داخلے کی بنیادی اہلیت پری میڈیکل میں بارہویں جماعت کامیابی ہے۔
بارہویں جماعت درجہ اوّل اور درجہ دوم میں کامیاب امیدوار داخلے کے لیے اہل ہوتے ہیں۔ مختلف یونی ورسٹیوں اور کالجوں میں کھلے مقابلے اور کوٹے کی بنیاد پر نشستیں مخصوص ہوتی ہیں۔ کوٹے میں صوبائی کوٹہ، قبائلی علاقوں کا کوٹہ، مسلح افواج کے اراکین کے بچوں کا کوٹہ ،متعلقہ ادارے کے اساتذہ کے بچوں کا کوٹہ اور کھیل اور سماجی و ثقافتی سرگرمیوں کی بنیاد پر نشستوں کا کوٹہ مخصوص ہوتا ہے۔
پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت کے ادارے
زراعت کے مختلف شعبوں میں تعلیم و تربیت کے لیے پاکستان میں درجِ ذیل ادارے کام کر رہے ہیں۔
1۔زرعی یونی ورسٹی، فیصل آباد: یہ پاکستان کا واحد تعلیمی ادارہ ہے جہاں زراعت، اینمل ہسبنڈری،ہارٹی کلچرل اور فارسٹری کے ان تمام شعبوں میں تعلیم و تربیت دی جاتی ہے جن کا تذکرہ اس مضمون میں کیا گیا ہے۔
2۔سندھ زرعی یونی ورسٹی، ٹنڈو جام
3۔سرحد یونی ورسٹی، پشاور
4۔بارانی زرعی کالج، راول پنڈی
5۔کلیہ زراعت، گومل یونیورسٹی، ڈیرہ اسماعیل خان
6۔یونی ورسٹی کالج برائے زراعت راولاکوٹ، آزاد کشمیر
7۔زرعی کالج، کوئٹہ
8۔کالج آف ویٹرنری سائنسز، لاہور
9۔فارسٹ انٹی ٹیوٹ ، پشاور
10۔زرعی کالج، ملتان
نصاب اور تربیت کا پروگرام
بی ایس سی (آنرز) چار سالہ دورانیہ کی تعلیم ہے۔
زرعی یونی ورسٹی فیصل آباد، بارانی کالج راول پنڈی، کالج آف ویٹرنری سائنسز لاہور میں سمسٹر سسٹم ہے۔ ڈگری پروگرام8 سمسٹر (چار سال) پر مشتمل ہے۔ ایک سمسٹر 18ہفتوں کا ہوتا ہے۔ سال میں دو سمسٹر ایک خزاں اور ایک بہار میں ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ گرمیوں کا سمسٹر بھی ہوتا ہے جو 8سے10 ہفتوں پر مشتمل ہوتا ہے تاکہ طلبہ و طالبات اپنے فیل شدہ مضمون یا ڈی گریڈ اس دورانیے میں بہتر بناسکیں۔ اگر کوئی طالب علم کسی وجہ سے بی ایس سی (آنرز) کی ڈگری متعلقہ 8 سمسٹر میں حاصل کرسکتا تو اسے مزید چار سمسٹر کی اجازت ہوتی ہے۔ بی ایس سی (آنرز) کے لیے کم سے کم کریڈٹ آورز 160ہیں۔ ایک مہینے میں 23سے 27تک کریڈٹ آورز پڑھنا ہوتے ہیں۔ ایک کریڈٹ آور تقریباً 50منٹ کا ہوتا ہے۔ ایم ایس سی (آنرز) کے لیے کم سے کم 45کریڈٹ آورز ہوتے ہیں اور اس کا دورانیہ چار سمسٹر (دو سال) کا ہوتا ہے۔ تعلیم و تدریس کا ذریعہ انگریزی ہے۔75 فی صد حاضری ضروری ہے۔
فیس اور دیگر اخراجات
ہر سمسٹرکی فیس علیحدہ لی جاتی ہے جو تقریباً 565 روپے ہوتی ہے (اس میں امتحان کی فیس، کاشن منی شامل ہے) اگر ہوسٹل میں رہائش اختیار کرنی ہو، تو اس کے لیے داخلے کے وقت داخلہ فیس کے ساتھ ہی تقریباً 400روپے جمع کرنے ہوتے ہیں۔ کھانے وغیرہ کا خرچہ طالب علم کو خود کرنا ہوتا ہے جو کسی صورت میں بھی 900روپیہ ماہوار سے زائد نہیں آتا۔
وظائف و مالی امداد
دوسرے پیشہ ورانہ تعلیمی اداروں کی طرح زراعت کے مختلف شعبہ جات میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کے لیے مختلف وظائف و مالی امداد کا خاطر خواہ انتظام ہے۔ زراعت میں بھی ذہین طلبہ و طالبات کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ اول انعام گولڈ میڈل دوم انعام سلور میڈل اور سوم انعام کانسی میڈل دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ محکمہء تعلیم کے وظائف، قرضِ حسنہ (بینکنگ کونسل) ڈسٹرکٹ کونسل وظائف، فوجی فاؤنڈیشن، زکوٰۃ فنڈ اور بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشنز کے وظائف سے طلبہ و طالبات کی مالی امداد کی جاتی ہے۔ یوں کہنا چاہیے فرسٹ ڈویژن حاصل کرنے والا کوئی ایسا طالب علم نہیں ہوتا جو کہ اپنے تعلیمی اخراجات پورے کرنے کے لیے وظیفہ حاصل نہ کرتا ہو۔
کام کی نوعیت اور حالاتِ کار
جیسا کہ مضمون کی ابتدا میں بیان کیا گیا ہے، زراعت اور اس کے متعلقہ پیشوں کو محض روزگار کے طور پر اپنانے والے زیادہ کامیاب نہیں ہوتے۔ ان پیشوں میں وہی لوگ ترقی اور کامیابی حاصل کرتے ہیں جو اپنے پیشے کو طرزِ زندگی کے طور پر اختیار کرلیں۔
زراعت اور اس کے متعلقہ شعبے، ایسے پیشے ہیں جن میں زندہ اشیا سے واسطہ ہوتا ہے وہ فصلیں ہوں یا پھول اور پودے، جانور ہوں یا جنگلات، یہ تمام اشیا جان داروں میں شمار ہوتی ہیں، پھلتی پھولتی ہیں،سانس لیتی ہیں اور غذا استعمال کرتی ہیں، بیمار پڑتی ہیں اور انھیں علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔ باہمی اختلاط سے ان کی نسلیں بڑھتی ہیں اور ان سے متعلق تمام سرگرمیاں وقت ،محنت اور توجہ کی طلب گار ہوتی ہیں۔ ان زندہ اشیا کے ساتھ مشینوں والا رویہ اختیار نہیں کیا جاسکتا کہ مقررہ اوقات میں ان کے ساتھ کام کیا اور پھر دوسری سرگرمیوں میں مصروف ہوگئے۔ کھیتوں میں فصلوں کی دیکھ بھال کرنا، زمین کا مطالعہ کرنا، تجربہ گاہوں میں بیجوں کی اعلیٰ نسل پیدا کرنے کے لیے تحقیق میں مصروف رہنا، دو پودوں کے اختلاط سے نئی نسل دریافت کرنا، جانوروں اور مویشیوں کی دیکھ بھال اور ان سے متعلق امور کے انتظامات ، بیمار اور زخمی پودوں اور مویشیوں کا علاج، زیادہ فی صد بہتر پیداوار دینے والے مویشیوں کی افزائش اور ان کی نسل کشی، پھولوں اور پودوں کی دیکھ بھال، جنگلات کے درختوں کی نگرانی اور پرورش، شجر کاری کے انتظامات اور نوخیز پودوں اور درختوں کی نگہداشت، پھلوں کی بہتر قسم پیدا کرنا۔ یہ تمام کام ذاتی شوق، د لچسپی اور کتابی علم کے علاوہ ان اشیا کے عملی مشاہدے اور مطالعے اور ان اشیاء کے ساتھ ہمدردانہ برتاؤ کی بنیاد پر ہی بہ حسن و خوبی انجام پاسکتے ہیں۔
تنخواہیں
زراعت اور اس سے متعلق شعبوں میں بی ایس سی (آنرز) سند کے حامل نوجوانوں کو سرکاری اور نیم سرکاری شعبوں میں گریڈ 17دیا جاتا ہے۔ زرعی ترقیاتی بینک اور دیگر تجارتی بینکوں میں اس قابلیت کے حامل امیدواروں کو گریٹ 16میں موبائیل کریڈٹ آفیسر کے طور پر ملازم رکھا جاتا ہے۔ انھیں موٹر سائیکل اور ایندھن کاا لاؤنس دیا جاتا ہے۔ بی ایس سی (آنرز) کو تین ہزار روپے سے پانچ ہزار روپے تک مشاہرہ دیا جاتا ہے۔
مزید معلومات کے لیے خط لکھیے۔
1۔ شیخ الجامعہ جامعہ زرعیہ، فیصل آباد 2۔شیخ الجامعہ جامعہ زرعیہ ،ٹنڈو جام سندھ
3۔شیخ الجامعہ جامعہ زرعیہ ،پشاور 4۔پرنسپل ،بارانی زرعی کالج مری روڈ راول پنڈی
5۔رئیس کلیہ زرعیہ 6۔پرنسپل زرعی کالج ،کوئٹہ
جامعہ گومل ڈیرہ اسماعیل خان 7۔پرنسپل کالج آف ویٹرنری سائنسز، لاہور
8۔ڈائریکٹر فارسٹ انسٹیٹیوٹ، پشاور 9۔پرنسپل یونی ورسٹی کالج برائے زراعت
oراولا کوٹ، آزاد کشمیر

یہ بھی دیکھیں

کیریر پلاننگ کے اہم نکات

اپنا جائزہ لیں اور خود کو جانیں اپنے اندر کی شخصیت کا جائزہ لیجیے۔ اپنے …