صفحہ اول » انجئرنگ » سول انجینئرنگ – انسان کے اوّلین پیشوں میں سے ایک پیشہ

سول انجینئرنگ – انسان کے اوّلین پیشوں میں سے ایک پیشہ

اپنے اطراف ایک نظر ڈالیے،آپ خود کو مختلف قسم کی تعمیرات میں گھرا ہوا پائیں گے۔ چھوٹے بڑے مکانات ،بلند فلیٹس، شان دار شاپنگ پلازہ، مصروف سڑکیں اور پل، پانی کے زمین دوز اور بالائے سرٹینک، برساتی نالے اور نکاسی آب کی لائنیں، مساجد اور اسپتال، دوکانیں اور بازار، پارک اور باغات….تعمیرات کی ایک بھرپور دنیاہے جس نے ہمیں اپنے گھیرے میں لیا ہوا ہے۔ تعمیرات کی یہی دنیا اس وقت ہمارا موضوع ہے۔
تعمیرات دنیا کی قدیم ترین صنعت اور انسان کے اوّلین پیشوں میں سے ایک پیشہ ہے۔ روٹی کپڑے کے بعد انسان کی تیسری بنیادی ضرورت ”مکان“ ہے۔ صنعت کی بنیاد جن طریقوں اور خام مال پر رکھی گئی تھی، ماحول اور معاشرے کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے مطابق ان طریقوں اور مواد میں بتدریج تبدیلی کا عمل جاری ہے۔
پاکستان میں گزشتہ دس بارہ برسوں کے دوران تعمیرات کی صنعت نے حیرت انگیز ترقی کی ہے صرف بڑے شہروں ہی میں نہیں بلکہ چھوٹے شہروں میں بھی مکانات، ٹاﺅن، ہاﺅسز، فلیٹس شاپنگ پلازہ، تجارتی عمارات اور ون یونٹ بنگلوز کے ہزاروں منصوبے مکمل ہوچکے ہیں اور سینکڑوں زیر عمل ہیں نہ صرف نجی شعبے میں بلکہ سرکاری شعبے میں بھی سول انجینئروں کی کھپت مسلسل بڑھ رہی ہے ۔پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے ابھی یہاں بہت سے ترقیاتی منصوبوں کو مکمل ہونا ہے۔ بجلی گھر، کارخانے، شاہراہیں اور پل، گودام اور بندر گاہیں، اسپتال، اسکول اور سرکاری عمارتیں وغیرہ بہت کچھ تعمیر ہونا ہےں۔ نجی شعبے میں بے شمار ہاﺅسنگ اسکیموں کو مکمل ہونا ہے، نئے شہر بسنے ہیں اور تازہ بستیاں آباد ہونی ہیں۔ ان تمام منصوبوں کے لیے ذہین، باصلاحیت اور اپنے پیشے کے ماہر سول انجینئروں کی ضرورت مستقبل کا ایک مستقل امکان ہے۔سول انجینئرنگ کے شعبے میں پاکستانی ماہرین اپنے ملک میں تو خدمات انجام دے رہے ہیں، اس کے علاوہ دنیا کے دوسرے متعدد ممالک ان کی خدمات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ کے ممالک سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، عراق، ایران اور دیگر خلیجی ریاستوں میں پاکستانی انجینئروںنے شہر کے شہر بسا دیے ہیں۔ امریکا میں دنیا کی بلند ترین عمارت سیرس ٹاورز بھی ایک پاکستانی ماہرِ تعمیرات کا کارنامہ ہے۔ اندرونِ ملک تربیلاڈیم کی سرنگ نمبر 2 کی درستگی اور شاہراہ ِریشم کی تعمیر پاکستانی سول انجینئروں کی ذہانت، مہارت اور محنت کے اعلیٰ کارنامے ہیں۔

پیشے کا تعارف
روایتی طور پر تعمیراتی صنعت کے دو شعبے ہیں۔ ایک شعبہ وہ ہے جس میں چھت دار عمارتیں،یعنی مکانات فلیٹس، اسکول، اسپتال وغیرہ شامل ہیں جب کہ دوسرا شعبہ بھاری تعمیرات کا ہے جس میں سڑکیں، پل، بند، بندر گاہیں، فیکٹریاں اور بجلی گھر وغیرہ شامل کیے جاتے ہیں۔ تاہم ان دونوں شعبوں میں تقسیم کے کوئی خاص اصول و قواعد مقرر نہیں ہیں۔

کام کی نوعیت
سول انجینئرنگ ایک وسیع شعبہ ہے جس میں مختلف نوعیت کے کام درپیش ہوتے ہیں۔ ذیل میں سول انجینئرنگ کے ذیلی شعبوں کا مختصر ذکر کیا جا رہا ہے۔
ڈیزائن، تحقیق اور ترقی (ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ)
سول انجینئرنگ کا ڈیزائن کا شعبہ تخلیقی عمل ہے جس میں مختلف نوعیت کے تعمیراتی کاموں مثلاً سڑک، پل، بندرگاہ، سرنگ، بنیادی شہری خدمات یعنی پانی،گیس، بجلی اور نکاسی کے معاملات درپیش ہوتے ہیں اور حالات و ضروریات کے مطابق دستیاب وسائل کو بہتر سے بہتر طور پر استعمال کرتے ہوئے کفایت شعاری کے ساتھ ماحول سے ہم آہنگ ڈیزائننگ کی جاتی ہے۔کام کے بارے میں ابتدائی معلومات اور ضروریات موءکل (کام کرانے والا) سے حاصل کرنی ہوتی ہے۔
کسی بھی تعمیراتی منصوبے کے لیے ابتدائی مرحلے میں ضروری اعداد و شمار اور بنیادی معلومات جمع کرنا ہوتی ہیں۔ جس جگہ تعمیرہونی ہے وہاں کا معائنہ کرنا ہوتا ہے، پیمائش لینی ہوتی ہیں، جزئیات کا اندازہ لگانا ہوتا ہے اور تعمیر پر صرف ہونے والے سامان کی تعداد، مقدار اور اس کی لاگت کا تخمینہ کرنا ہوتا ہے۔ اس شعبے میں دوسرے انجینئرز، آرکی ٹیکٹس اور سرویئر وغیرہ کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتے ہوئے کام کرنا پڑتا ہے۔
تحقیق و ترقی کی شعبے میں کام کرنے والوں کے لیے ضروری ہے کہ انھیں تعمیراتی سامان کے بارے میں معلومات ہوں۔ کسی بھی عمارت کے ڈھانچے میں یہ بات بنیادی اہمیت کی حامل ہوتی ہے کہ اس میں تناﺅ کتنا ہے اور وہ کتنا بوجھ برداشت کرسکتا ہے۔ یہی بنیادی عنصر کسی عمارت کو محفوظ یا غیر محفوظ بناتا ہے علاوہ ازیں تحقیق، ترقی اور ڈیزائننگ میں مقامی روایات، سماجی انداز، تہذیبی ورثے اور تعمیراتی قوانین کو بھی پیش نظر رکھنا پڑتا ہے۔
تعمیر/پیداوار، (کنسٹرکشن/پروڈکشن)
تمام تعمیراتی منصوبوں کا انتظام نہایت م¶ثرطور پر اس طرح کرنا ضروری ہے کہ مقررہ وقت پر ضرورت کی چیز دستیاب رہے تاکہ پیداوار (تعمیر) میں رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ اس لیے سول انجینئروں کا اپنے فن میں کافی طاق ہونے کے ساتھ ساتھ انتظامی امور کا ماہرہونا بھی ضر وری ہوتا ہے۔ ایک تجربہ کار سوال انجینئر کسی تعمیراتی منصوبے کا مکمل طور پر ذمہ دار ہوسکتا ہے۔ اسی لیے اسے تعمیراتی اور متعلقہ کاموں کی منصوبہ بندی نہایت ذہانت کے ساتھ کرنا ہوتی ہے۔ افراد، مشینیں، مال مسالا، ضرورت کی ہر چیز صحیح وقت پر اور پوری مقدار میں موجود ہونی چاہیے۔ کام کی منصوبہ بندی کے لیے ورک شیڈول تیار کرنے کی اہلیت ضروری ہے اس کے ساتھ ہی مشینوں، آلات اور عمارت کی دیکھ بھال اور مرمت (مینٹی نینس) کا کام، وقت ضائع کیے بغیر ہونا چاہیے۔
نگرانی (انسپکشن)
یہ کام تعمیر (پیداوار) کا حصہ بھی ہوسکتا ہے۔ جو بھی کام مکمل ہو رہا ہے اور سامان استعمال ہو رہا ہے، اس کے معیار کی جانچ پڑتال نہایت اہم ہوتی ہے تاکہ تعمیر میں کوئی بنیادی نقص نہ رہ جائے۔ یہ کام ٹیکنیشین بھی انجام دیتے ہیں۔

بلدیاتی انجینئرنگ
بلدیاتی اداروں کے شعبہ انجینئرنگ میں سول انجینئرز کو بلدیہ اور دوسرے اداروں کی جانب سے فراہم کردہ عوامی استعمال کی عمارتوں اور سہولتوں کی دیکھ بھال کرنا پڑتی ہے مثلاً پانی کی فراہمی و نکاسی کا انتظام، سڑکوں کی تعمیر و مرمت، ٹریفک سگنلز، پارکنگ کی جگہوں کی دیکھ بھال علاوہ ازیں انھیں شہر میں ہونے والی تعمیرات کی بھی نگرانی کرنی ہوتی ہے کہ ان میں مقررہ اصول و قواعد کا خیال رکھا جا رہا ہے یانہیں۔ بلدیہ میں کام کرنے والے سول انجینئرشہر کے مستقبل کی ضروریات کا اندازہ کرتے ہوئے بلدیاتی حکام کو آئندہ کے منصوبوں کی تیاری میں بھی مدد دیتے ہیں۔ بلدیہ کے تعمیراتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے انھیں ٹھیکے داروں اور کنسلٹنگ انجینئروں سے بھی ربط رکھنا ہوتا ہے۔

تعلیم و تربیت کے ادارے
سول انجینئرنگ کے شعبے میں انجینئروں اور ٹیکنیشنوں کی ضرورت پوری کرنے کے لیے پاکستان میں ڈگری اور ڈپلومے کی سطح کی تعلیم و تربیت کا انتظام ہے۔ پری انجینئرنگ میں بارہویں جماعت کامیاب نوجوان چار سالہ ڈگری کورس کے لیے اور دسویں جماعت کامیاب نوجوان تین سالہ ڈپلوما کورس میں داخلے کے لیے درخواستیں دے سکتے ہیں۔
پاکستان کی مندرجہ ذیل انجینئرنگ یونی ورسٹیوں اور کالج میں سول انجینئرنگ ٹیکنالوجی کے شعبے موجود ہیں۔ 1988ءاور 1989ءکے دوران ان تعلیمی اداروں کے سول انجینئرنگ کے شعبے میں سال اوّل میں جتنی نشستوں پر داخلوں کی گنجائش تھی وہ تعداد ذیل میں درج ہے:
1۔یونی ورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، لاہور۔    201
2۔مہران یونی ورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، جامشورو    ….
3۔این ای ڈی یونی ورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، کراچی    208
4۔این ڈبلیو ایف پی یونی ورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی،پشاور    83
5۔مہران یونی ورسٹی کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی،نواب شاہ    79
6۔یونی ورسٹی کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، ٹیکسلا    61
7۔خضدار انجینئرنگ کالج، خضدار    30

داخلے کے لیے اہلیت
ملک کے جن چھ تعلیمی اداروں میں سول انجینئرنگ کے شعبے میں تعلیم کی سہولت دستیاب ہے ان میں ہر سال پری انجینئرنگ میں بارہویں جماعت کامیاب امیدواروں سے داخلے کے لیے درخواستیں طلب کی جاتی ہیں۔ عام داخلے میرٹ کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔بی ایس سی اور ڈپلومہ آف ایسوسی ایٹ انجینئر میں کامیاب امیدواروں کے لیے بھی چند نشستیں مخصوص ہوتی ہیں علاوہ ازیں شمالی و قبائلی علاقوں، غیر ملکی طلبہ، دیہی علاقوں کے طلبہ، کھلاڑیوں،متعلقہ درس گاہوں کے اساتذہ/ ملازمین کے بچوں، پروفیشنل انجینئرز کے بچوں، مسلح افواج کے ارکان کے بچوں کے لیے بھی نشستیں مخصوص ہوتی ہے۔

تعلیم و تربیت کا نصاب
سول انجینئرنگ کے بی ای یا بی ایس سی کی سطح کے نصاب میں اسلامیات کے علاوہ انجینئرنگ سائنس کے بنیادی مضامین کی تعلیم دی جاتی ہے۔ مضامین میں ڈیزائننگ ڈرائنگ، فراہمی و نکاسی آب، جیوٹیکنیکل انجینئرنگ، صحتِ عامہ کی انجینئرنگ، ہائیڈرولکس ریاضی، سرویئنگ، طبیعیات، کیمیا، مطالعہءپاکستان، تھرموڈائنامکس، اسٹرینتھ آف مٹیرل، انجینئرنگ ، کنسٹرکشن سوائل مکینکس ،اسٹرکچر تھیوری، فلیوڈ مکنیکس انجینئرنگ اکنامکس، ری انفورسڈ کنکریٹ اور کنسٹرکشن مینجمنٹ شامل ہیں۔ چوتھے سال کے دوران طلبہ کو گروپ کی شکل میں یا انفرادی طور پر ایک منصوبہ مکمل کرنا ہوتا ہے۔
اخراجات، وظائف اور سہولتیں
پاکستان میں جامعات کی داخلہ فیس اوسطاً چار سو روپے اور سالانہ فیس تقریباً ڈھائی سو روپے ہے ۔ہاسٹل میں رہنے والے طلبہ کو بھی نہایت ارزاں نرخوں پر رہائش کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔
انجینئرنگ کے طلباءکو سال اوّل میں کیلکولیٹر اور ڈرائنگ کا سامان خریدنا ہوتا ہے جس کی قیمت اندازاً ڈیڑھ اور دو ہزار روپے تک ہوتی ہے۔ نصاب کی کتابیں یونی ورسٹی لائبریری یا بک بینک سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔ بعض بنیادی اور اہم نوعیت کی کتابوں کی خریداری کے مصارف ڈیڑھ دو ہزار روپے ہوتے ہیں۔ مستحق طلبہ کو فیس میں رعایت بھی دی جاتی ہے۔ تقریباً تمام تعلیمی اداروں میں اپنے شعبے میں اعلیٰ تعلیمی کارکردگی ظاہر کرنے والے طلبہ کو وظائف دیے جاتے ہیں۔
سول انجینئرنگ میں اعلیٰ اعزاز کے ساتھ ڈگری حاصل کرنے والے طلبہ کو مختلف تعمیراتی اداروں کی جانب سے سونے کے تمغے دیے جاتے ہیں۔
جامعہ پشاور میں گیمن (پاکستان) میڈل، واپڈا میرٹ میڈل اور قبائلی علاقوں کے امیدوار کو صدارتی ایوارڈ دیا جاتا ہے۔ این ای ڈی یونی ورسٹی میں میرٹ گولڈ میڈل،لاہور انجینئرنگ یونی ورسٹی میں دو طلبہ کو امپریل کنسٹرکشن کمپنی کی اسکالر شپ دی جاتی ہے۔

ذاتی خصوصیات
سول انجینئروں کو اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران حقیقی اور عملی نوعیت کے مسائل کا سامنا کرنا ہوتا ہے اور ان مسائل کا فوری حل تلاش کرکے کام کی رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ متعلقہ فرد منطقی اور عملی اندازِفکر کا حامل ہو۔ ڈیزائننگ اور پروڈکشن کا کام کرنے والوں کو تخلیقی صلاحیتکے ساتھ ساتھ فنِ تعمیر کے تکنیکی امور کا ماہر اور تصور کی بہتر لیاقت کا حامل ہونا چاہیے تاکہ وہ تعمیر و تکمیل کے مختلف مرحلوں کا صحیح تصور کرسکےں اور ان مرحلوں کی نوعیت اور عملی دشواریوں سے واقف ہوں۔ صاف ستھری ڈرائنگ تیار کرنا ایسا بنیادی کام ہے جو ہر انجینئرکو آنا چاہیے۔ موجودہ دور میں ڈیزائننگ اور ڈرائنگ کا کام کمپیوٹر کی مدد سے بھی کیا جاتا ہے لہٰذا کمپیوٹرسے واقفیت اور اس کا استعمال کام میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ عمارت کی تعمیری اشیا اور عمارتی ڈھانچے کے تناﺅ (اسٹریس) وزن برداشت کرنے کی طاقت (لوڈبیرنگ کیپسٹی) کا تخمینہ لگانے کے لیے ریاضی اور حساب کتاب میں دسترس ہونا ضروری ہے۔
کنسٹرکشن کے کام کے دوران سول انجینئروں کو ایک مزدور سے لے کر نہایت اعلیٰ تعلیم یافتہ فرد تک سے واسطہ پڑتا ہے لہٰذا ان میں یہ صلاحیت ہونا چاہیے کہ وہ ہر سطح اور طبقے کے لوگوں سے گفتگو کرسکےں اور اپنی ضرورت انھیں سمجھا سکے۔ علاوہ ازیں انجینئروں کو انتظامی امور سے بھی واقفیت ہونی چاہیے، ایک انجینئر بعض اوقات سینکڑوں کارکنوں کی ٹیم کا سربراہ ہوتا ہے۔ اس لیے قائدانہ صلاحیتیں بھی کام آتی ہیں۔

ماحولِ کار
سول انجینئرکے وقت کا زیادہ حصہ تعمیر کی جگہ (سائٹ) پر فنی اور انتظامی امور کی انجام دہی میں گزرتا ہے دفتری امور کی انجام دہی کے لیے اسے دفتر میں بھی بیٹھنا ہوتا ہے لیکن کام کی نگرانی تعمیر کا معائنہ اور استعمال ہونے والے سامان کے معیار کی جانچ کے لیے اسے بہ ذات خود سائٹ پر موجود رہنا ضروری ہوتا ہے۔ اپنے فرائض کی انجام دہی میں سول انجینئرکو بلند سیڑھیوں یا اونچی پہاڑ پر چڑھنا اترنا پڑتا ہے۔ ہر قسم کے موسم میں کھلے آسمان کے نیچے کام کرنا ہوتا ہے۔بعض اوقات اہم نوعیت کے کاموں مثلاً کنکریٹ کا سٹنگ کے وقت اسے مقررہ اوقات کے علاوہ دیر تک رکنا پڑتا ہے۔
کنسلٹنگ انجینئروں کے ساتھ کام کرنے والوں کو بالعموم دفتر میں کام کرنا ہوتا ہے لیکن کسی تعمیراتی منصوبے کے ابتدائی مرحلے میں انھیں سائٹ پر جاکر پیمائش یا معائنے کا کام کرنا ہوتا ہے اور تعمیر کے دوران وقتاً فوقتاً کام کا موقعے پر جاکر معائنہ کرنا پڑتا ہے۔ ان حضرات کو دوسرے متعلقہ لوگوں کے ساتھ مذاکرات اور بحث و مباحثہ میں بھی وقت صرف کرنا ہوتا ہے۔
سول انجینئرنگ کے پیشے کو اپنانے کی خواہش رکھنے والے نوجوانوں کو متحرک ہونا چاہیے۔ بعض اوقات کسی دوسرے شہر میں بھی کام کرنا پڑجاتا ہے اس صورت میں طویل عرصے کے لیے گھر سے دور رہنا ہوتا ہے۔

حالاتِ کار
سول انجینئرسرکاری ادارے، بلدیاتی ادارے یا کسی نجی ادارے میں کام کرتے ہیں۔ہر ادارے کی نوعیت کے اعتبار سے انھیں مختلف قسم کے حالاتِ کار کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سرکاری یا بلدیاتی ادارے کی ملازمت میں تنخواہ مقرر ہوتی ہے ، لیکن اختیارات حاصل ہوتے ہیں جب کہ نجی ادارے میں بھاری تنخواہیں ہیں، رہائش اور گاڑی کی سہولتیں اور دیگر مراعات ملتی ہیں لیکن یہاں ان تھک محنت کرنی ہوتی ہے۔اس محنت کا صلہ ذاتی تجربے میں گراں قدر اضافے اور مالی فوائد کی شکل میں ملتا ہے۔ تجربے کے ساتھ ساتھ تنخواہ میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ سول انجینئرنگ کے پیشے سے متعلق افراد کو کسی ایک جگہ کام نہیں کرنا ہوتا۔ انھیں اپنے شہر سے دور بھی جانا پڑتا ہے اور بعض اوقات چھ ماہ یا اس سے زائد عرصہ گھر سے دور رہنا پڑتا ہے۔

تنخواہیں
سول انجینئرنگ میں بی ای کی سندحاصل کرنے کے بعد نئے انجینئروں کو سرکاری بلدیاتی اداروں میں گریڈ ۱۷ میں ملازمت پیش کی جاتی ہے۔ گریڈ ۱۷ کی ابتدامیں تنخواہ ساڑھے تین ہزار سے پونے چار ہزار روپے تک ہوتی ہے جب کہ نجی اداروں میں ابتدا میں ذرا کم تنخواہ یعنی دو ہزار سے ڈھائی ہزار روپے تک ملتے ہیں لیکن چند سال کے بعد امیدوار کی کارکردگی کی بنیاد پر تنخواہ میں خاطر خواہ اضافہ ہوجاتا ہے۔
مواقع
جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے، ایک ترقی پذیر ملک کی حیثیت سے پاکستان میں سول انجینئرنگ کے پیشے کا مستقبل نہایت روشن ہے۔
پاکستان میں اس وقت رجسٹرڈ سول انجینئروں کی تعداد ۱۱ ہزار ایک سو ۵۲ ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے یہ تعداد زیادہ نہیں ہے۔ مستقبل میں ہمیں جن ترقیاتی منصوبوں کا سامنا ہے ان کے لیے مزید تعمیراتی انجینئروں کی ضرورت ہوگی۔
کراچی میں نئے ایئر پورٹ، جناح ٹرمینل کی تعمیر کا منصوبہ ہے۔ کے ڈی اے کی اسکیم نمبر 33 ایک پورا شہر ہے جسے ابھی آباد ہونا ہے۔ اگر کالا باغ ڈیم کے سیاسی پہلو کا حل تلاش کرلیا گیا  تو یہ بند بذات خود بجلی پیدا کرنے اور آب پاشی کے نظام کا زبردست منصوبہ ہوگا۔ ان چند بڑے منصوبوںکےعلاوہ چھوٹے بڑے شہروں اور خاص طور پر دیہاتوں میں تعمیر و ترقی کے منصوبوں کا لامتناہی سلسلہ تا دیر جاری رہنے والا ہے۔ ان سب منصوبوں کی تکمیل کے لیے اور ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے باصلاحیت اور ہنر مند سول انجینئروں کی ضرورت ہمیشہ رہے گی۔

ذیلی پیشے
سول انجینئرنگ کے کاموں میں انجینئر کو ہنر مندوں کی ایک پوری ٹیم کی مدد درکار ہوتی ہے اور ان معاونین کے ساتھ اشتراکِ عمل سے ہی سول انجینئر کسی تعمیراتی منصوبے کو مکمل کرسکتا ہے۔ یہ ہنر مند افراد ٹیکنیشن کہلاتے ہیں اور اپنے ہنر میں ماہر ہوتے ہیں۔
سول انجینئرنگ کے متعلقہ پیشوں میں سپروائزرز اور سینئر ڈرافٹس مین ، سرویئر، ڈیزائن اینڈ لیب اسسٹنٹ کے پیشے میں شامل ہیں۔ ان پیشوں کے لوگ تعمیر و مرمت (دیکھ بھال) کے لیے ناگزیر ہوتے ہیں۔ پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں کالج آف ٹیکنالوجی یا پولی ٹیکنیک قائم ہیں اور کم و بیش تمام پولی ٹیکنک/کالج آف ٹیکنالوجی میں سول انجینئرنگ کا شعبہ موجود ہے جہاں میٹرک کامیاب نوجوانوں کو سول ٹیکنالوجی میں تین سالہ ڈپلوما کی تربیت دی جاتی ہے۔

نجی کاروبار کے مواقع
سول انجینئرنگ کے پیشے میں نجی کاروبار کے مواقع بھی روشن ہیں۔ تازہ سند یافتہ انجینئر جب چار پانچ سال کا عملی تجربہ حاصل کرلیتے ہیں تو وہ اس لائق ہوجاتے ہیں کہ بہ طور مشیرِ تعمیرات (کنسلٹنٹ) اپنا ذاتی کاروبار شروع کرسکیں مشیر تعمیرات کا کاروبار پاکستان میں خاصا ترقی پذیر ہے اور اچھے مشیر تعمیرات کی کامیابی کسی شک و شبہ سے بالا ہے۔ انجینئروں کو ذاتی کاروبار کے لیے بعض قومی مالیاتی ادارے قرضہ بھی دیتے ہیں۔

رجسٹریشن
سول انجینئرنگ میں بی ای (بیچلر آف انجینئرنگ) کی سند حاصل کرنے کے بعد بہ طور سول انجینئرکام شروع کرنے سے پہلے پاکستان انجینئرنگ کونسل سے خود کو رجسٹر ڈکرانا ہوتا ہے۔ یہ رجسٹریشن لازمی ہے۔
اس کے علاوہ ملک میں سول انجینئرز کی پیشہ ورانہ انجمن بھی موجود ہے جس کی رکنیت حال کی جاسکتی ہے۔
سول انجینئرنگ کی تعلیم و تربیت اور پیشہ ورانہ امور کے بارے میں مزید معلومات کے لیے درجِ ذیل اداروں سے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔
1۔ صدر دفتر
پاکستان انجینئرنگ کونسل ،پوسٹ بکس نمبر1296 56-مارگلہ روڈ، اسلام آباد
2۔علاقائی دفتر
پاکستان انجینئرنگ کونسل،کمرہ نمبر102،پہلی منزل، سوک سینٹریونی ورسٹی روڈ ، کراچی
3۔انسٹیٹیوٹ آف انجینئرز پاکستان،شاہراہ فیصل، کراچی
4۔صدر، شعبہ سول انجینئرنگ،این ای ڈی یونی ورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، کراچی
5۔صدر شعبہ سول انجینئرنگ،مہران یونی ورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی،جام شورو
6۔صدر شعبہ سول انجینئرنگ،این ڈبلیو ایف پی یونی ورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پشاور

یہ بھی دیکھیں

کیریر پلاننگ کے اہم نکات

اپنا جائزہ لیں اور خود کو جانیں اپنے اندر کی شخصیت کا جائزہ لیجیے۔ اپنے …