صفحہ اول » انجئرنگ » میٹالرجیکل انجینئرنگ – ہرشعبہءزندگی میں دھاتوں کی حکمرانی ہے۔

میٹالرجیکل انجینئرنگ – ہرشعبہءزندگی میں دھاتوں کی حکمرانی ہے۔

Image151اپنے آس پاس نظر ڈالیے

عام کاروں سے دیوہیکل طیاروں تک اور سوئی سے لے کر بھاری بھرکم مشینوں تک، آپ کو ہر شعبہءزندگی میں دھاتوں کی حکمرانی نظر آئے گی۔ ہم صبح، دوپہر اور شام 24 گھنٹے عیش، مسرت اور آرام کی جو زندگی گزار رہے ہیں اس میں دھاتوں کا عمل دخل نمایاں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانی تہذیب و ترقی کے دور کا آغاز دھاتوں اور ان کے استعمالات سے ہوتا ہے۔ آج کی جدید زندگی میں معمولی سے معمولی کام بھی دھاتوں کے دخل اور استعمال کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

دھاتیں کیا ہیں؟

خالص دھات ایک کیمیائی عنصر ہے یعنی ان کو مزید کسی اور عنصر میں توڑا نہیں جاسکتا۔ اب تک جو سو سے زیادہ عناصر دریافت ہوئے ہیں ان میں 80عناصر دھاتیں ہیں۔ اگرچہ تمام دھاتیں اپنی خصوصیات مثلاً سختی اور طاقت کے اعتبار سے مختلف ہوتی ہیں لیکن ان میں بہت سی خصوصیات مشترکہ بھی ہیں۔ جب ان پر پالش کی جاتی ہے تو یہ چمکنے لگتی ہیں۔ دھاتیں حرارت اور بجلی کی اچھی موصل ہیں۔ زیادہ تر دھاتیں خاکستری مائل ہوتی ہے۔ تانبہ سرخی مائل اور سونا زرد ہوتا ہے۔
تمام دھاتیں انتہائی زیادہ درجہءحرارت پر پگھلتی ہیں۔ مرکری یا پارہ، جو تھرما میٹر میں استعمال ہوتا ہے، عام درجہءحرارت ہی پر مائع میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ جب کہ ٹنگسٹن ایسی دھات ہے جو چھ ہزار درجہ فارن ہائٹ پر پگھلتی ہے۔ اسی وجہ سے اسے بلبوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔
تمام دھاتیں اپنی کثافت کے اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں مثلاً ہیلیم سب سے ہلکی دھات ہے جس کی کثافت پانی سے نصف ہوتی ہے۔ اوشمیم سب سے بھاری دھات ہے جولوہے سے تین گنا اور پانی سے ساڑھے بائیس گنا زیادہ بھاری ہے۔ او شمیم کے ایک کیوبک فٹ کاوزن 1400 پاﺅنڈ ہوتا ہے۔

میٹالرجی کیا ہے

میٹالرجی یا دھات کاری دھاتوں کے علم کو کہتے ہیں۔ میٹالرجی کی تین شاخیں ہیں۔ 1۔استنباطی دھات کاری 2۔طبیعی دھات کاری 3۔صنعتی دھات کاری
دھاتیں کہاں سے آتی ہیں
بہت کم دھاتیں مٹی میں اپنی اصل خصوصیات کے ساتھ پائی جاتی ہیں، ان میں سونا، چاندی، پلاٹینیم اور تانبا شامل ہے۔ زیادہ تر دھاتیں آزاد حالت میں نہیں پائی جاتیں۔ یہ زیادہ تر دوسرے عناصر کے ساتھ کیمیائی طور پر ملی ہوئی ہوتی ہیں، جو کیمیائی مرکبات برآمد ہوتے ہیں وہ معدنیات کہلاتے ہیں جن معدنی مرکبات سے دھاتیں علیحدہ کی جاتی ہیں انھیں فلزات یا کچ دھات کہا جاتا ہے۔
کسی کچ دھات کی قدر و قیمت کا اندازہ اس سے لگایا جاتا ہے کہ اس میں اصل دھات کا تناسب کیا ہے؟ اور اس میں سے خالص دھات کے حصول پر کیا خرچ آئے گا؟ مثال کے طور پر ایسی کچ دھات کو جس میں صرف 20 فی صد لوہا ہو، معمولی اور پست درجے کی کچ دھات تصور کیا جاتا ہے۔ لیکن دوسری جانب ٹین کے فلزات میں اگر صرف 2 فی صد بھی خالص دھات ہو تو اسے اعلیٰ درجے کی دھات تصور کیا جاتا ہے۔ اسی طرح ریڈیم کی کچ دھات میں اگر 28000/1 فی صد بھی خالص دھات ہو تو اسے بے حد قیمتی تصور کیا جاتا ہے۔

کام کی نوعیت

میٹالرجیکل انجینئرنگ میں دھاتوں اور فلزات کا طبیعی و کیمیائی مطالعہ کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ کچ دھاتوں سے سائنسی اور انجینئرنگ کے نقطہءنظر سے اصل دھات کا حصول، صفائی، تشکیل کا عمل،اصلاح اور استعمال کے طریقوں پر غور کیا جاتا ہے۔ کیمیادان دھاتوں کی آکسیڈیشن اور تخفیف کا مطالعہ کرتے ہیں اور ان قوانین کا مطالعہ کرتے ہیں جن کے تحت فلزات اور کچ دھاتیں وجود میں آئی ہیں۔ کیمیکل انجینئرنگ اور کیمیائی پروسیسنگ کے اصولوں کی بنیاد پر کچ دھاتوں سے اصل کی علیحدگی کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ ماہرینِ طبیعیات دھاتوںکی خصوصیات کے تعین اور ان کی ساخت کے مطالعے کے لیے دھاتوں کی برقیاتی اور جوہری ساخت پر تحقیق کرتے ہیں۔میکینیکل انجینئرز دھاتوں کی لچک کا خصوصی طور پر مطالعہ کرتے ہیں اور ان کی دلچسپیوں کا محور عملی استعمال کے لیے دھاتوں کی میکانی کارکردگی اور صلاحیتِ کار ہوتا ہے۔ جب کہ ماہرین فلزیات اور دھات کاری کا بنیادی کام مندرجہ بالا شعبوں اور علوم کے پس منظر میں دھاتوں کی فلزات سے علیحدگی، دھاتوں کی مختلف استعمالات کے لیے صفائی، پرزوں اور آلات کی تیاری میں دھاتوں کے استعمالات پر مشتمل ہوتا ہے۔
کیمیائی دھات کاری یا کیمیکل میٹالرجی
میٹالرجی کی اس شاخ کو استنباطی دھات کاری یا ایکسٹریکٹو میٹالرجی بھی کہتے ہیں۔ اس میں کچ دھاتوں یا فلزات سے دھات علیحدہ کرنے کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔اس علم کے ماہرین دھاتوں کو زنگ لگنے سے بچانے کے طریقے بھی تلاش کرتے ہیں۔

طبعی دھات کاری یا فزیکل میٹالرجی

اس شاخ میں دھاتوں اور دھاتوں کے مرکبات (بھرت) کی ساخت اور خصوصیات کا مطالعہ کیا جاتا ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ کس کام کے لیے کون سی دھات موزوں ہے۔ دھاتی اشیا کے ٹوٹنے، ان کی ساخت بگڑنے اور دباﺅ کے خلاف مزاحمت کا بھی مطالعہ کیاجاتا ہے۔

صنعتی دھات کاری یا پروسیس میٹالرجی

دھات کاری (میٹالرجی) کی اس شاخ میں صنعتی مقاصد کے لیے دھاتوں کے استعمال کا علم سکھایا جاتا ہے۔ اشیا کی تیاری کے لیے دھات کو کسی خاص شکل میں تبدیل کرنے کے موزوں طریقے (ڈھلائی، فور جنگ، ایکسٹر وژن، رولنگ یا ڈرائنگ) اور کم لاگت کے ساتھ بہتر مصنوعات کی تیاری کے طریقوں کا علم بھی سکھایا جاتا ہے۔
جدید صنعت کی ترقی اور اسے رواں رکھنے میں مادوں کے سائنس دانوں(مٹیریکل سائنٹسٹ) اور دھات کار انجینئروں (میٹالر جسٹ) کا کردار نہایت اہم ہے۔ انھی انجینئروں کی وجہ سے کنکورڈ جیسے دیوہیکل طیارے اور مصنوعی قلب جیسے حسّاس اعضا وجود میں آئے ہیں۔

تعلیم و تربیت کے ادارے

پاکستان کی دو یونی ورسٹیوں اور ایک کالج میں بیچلرز اور اعلیٰ سطح پر میٹالرجیکل انجینئرنگ کی تعلیم دی جا رہی ہے ان میں لاہور یونی ورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، مہران یونی ورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، جام شورو اور داﺅد کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کراچی شامل ہیں۔
داﺅد انجینئرنگ کالج میں میٹالرجیکل انجینئرنگ کی تعلیم بی ای کی سطح پر دی جاتی ہے۔ چار سالہ نصاب کی تکمیل پر این ای ڈی یونی ورسٹی بی ای کی ڈگری دیتی ہے۔ مہران یونی ورسٹی میںبھی میٹالرجیکل انجینئرنگ کی تعلیم بی ای کی سطح پر دی جاتی ہے۔لاہور انجینئرنگ یونی ورسٹی میں میٹالر جیکل انجینئرنگ کی تعلیم بی ایس سی(انجینئرنگ) اور ایم ایس سی (میٹالر جیکل انجینئرنگ) کی سطح پر دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ پی ایچ ڈی نصاب بھی پیش کیے جاتے ہیں۔

داخلے کی اہلیت

بی ای میں داخلے کے لیے کم از کم مطلوبہ تعلیمی قابلیت انٹر سائنس پری انجینئرنگ ہے۔ چند نشستیں پولی ٹیکنک کے تین سالہ ڈپلوما یافتہ امیدواروں کے لیے بھی رکھی جاتی ہیں۔ ایم ایس سی کے لیے کم از کم مطلوب قابلیت متعلقہ مضمون میں بی ایس سی یا بی ای ہے۔

نصاب

جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا بی ای یا بی ایس سی (میٹالرجیکل انجینئرنگ) کا نصاب چار سال پر مشتمل ہے۔ تینوں اداروں میں معمولی ردّ و بدل کے ساتھ ایک ہی طرح کا نصاب مروج ہے۔
داﺅد کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، کراچی میں سال اوّل میٹالرجیکل انجینئرنگ میں ریاضیات، انگریزی، طبیعیات، کیمیا، عمومی دھات کاری،انجینئرنگ گرافکس، مختلف مادوں کی مضبوطی ورک شاپ پریکٹس، ارضیات اور معدنیات داخلِ نصاب ہیں۔ سال دوم میں ریاضیات، طبیعی کیمیا، مادی سائنس کی مبادیات، سرامکس (کوزہ گری) اسلامیات و مطالعہ پاکستان، کمپیوٹر پروگرامنگ، یونٹ آپریشن اِن منرل پروسیسنگ، طبیعی دھات کاری اور پاور ٹیکنالوجی شامل ہیں۔ سال سوم میں فیز ڈائیگرامز، میٹالرجی گرافی اور ٹیسٹنگ، مولڈ ٹیکنالوجی، صنعتی انتظام کاری اور پیداواری انجینئرنگ شامل ہیں۔ سال چہارم میں فیرس ایکسٹریکٹو میٹالرجی، اطلاقی فاﺅنڈری، برقی کیمیا، آکسیڈیشن، کوروژن، ڈیفیکٹس اینڈ فرپکچر انا لیسس، ہیٹ ٹریٹمنٹ نی و مریکل انا لیسس، دھات کاری کے عملی طریقوںمیں طبیعی کیمیا کا استعمال، دھات کاری کے مسائل، ریسرچ پروجیکٹ شامل ہیں۔
مہران یونی ورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، جام شورو میں مندرجہ بالا مضامین کے علاوہ جومیٹریکل ڈرائنگ، مشین ڈرائنگ، سروے انگ، ویلڈنگ ٹیکنالوجی، فیولز اینڈ ریفرکشنر،شماریات ، آئرن اینڈ اسٹیل میکنگ فاﺅنڈری، فیبری کیشن بھی شاملِ نصاب کیے گئے ہیں۔

اخراجات، وظائف اور سہولتیں

پاکستان کی جامعات میں ٹیوشن فیس میں گزشتہ ایک سال سے اضافے کا رجحان ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے جامعات کو دی جانے والی گرانٹ میں کافی کمی ہوگئی ہے اور جامعات کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اب خود اپنے ہی وسائل سے اپنے اخراجات پورے کرنے کی کوشش کریں۔چناںچہ اس سال بہت سی جامعات میں داخلہ فیس اور ٹیوشن فیس میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ جامعہ این ای ڈی، داﺅد کالج، جامعہ مہران میں اوسطاً فیسوں کی مد میں اخراجات ایک ہزار سے ڈیڑھ ہزار روپے سالانہ اور جامعہ انجینئرنگ لاہور میں دو سے ڈھائی ہزار روپے سالانہ ہوگئے ہیں۔ چوںکہ اضافے کا عمل جاری ہے اس لیے کہا نہیں جاسکتا کہ یہ سلسلہ کہاں جاکر رکے گا؟
مہران یونی ورسٹی نے چند نشستیں سیلف فائنانسنگ اسکیم کے تحت متعارف کرائی ہیں۔ اس اسکیم کے تحت ڈیڑھ لاکھ روپے فیس ادا کرنے والے طالب علموں کو داخلہ دیا جائے گا۔ داﺅد کالج نے بھی اس سال تیس نشستیں ڈیڑھ لاکھ روپے فیس ادا کرنے والے طالب علموں کے لیے مخصوص کر دی ہیں۔ جامعہ این ای ڈی اور لاہور انجینئرنگ یونی ورسٹی میں بھی ” سیلف فائنانسنگ اسکیم“ جاری ہے۔
فیسوں میں اضافے سے قطعِ نظر تمام جامعات اور انجینئرنگ کالجوں میں طلبہ کو وظائف دیے جاتے ہیں۔

حالات کار

دھات کار انجینئر درجِ ذیل شعبوں میں کام کرتے ہیں۔
1۔تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ):
مادوں اور دھاتوں کے بارے میں دو طرح کی تحقیق ہوتی ہے، ایک بنیاد ی نوعیت کی جو طویل المیعاد ہوتی ہے اور بالعموم سرکاری اداروں، یونی ورسٹیوں اور ریسرچ لیبارٹریز میں ممکن ہوتی ہے اور دوسری صنعتی تحقیق ، جو کم مدت کی ہوتی ہے اور کسی خاص منصوبے تک محدود ہوتی ہے۔

2۔کوالٹی کنٹرول

صنعتی پیدوار کو تیاری کے بعد جانچ پڑتال کے مرحلے سے گزارا جاتا ہے تاکہ یہ یقین کیا جاسکے کہ یہ مقررہ معیار کے مطابق بنی ہے اور قابلِ اعتماد اور محفوظ ہے اور کم لاگت کے ساتھ بہتر معیار کی حامل ہے۔ اس شعبے میں ماہرین، مصنوعات کی خرابیوں کی شکایت پر خصوصی توجہ دیتے ہیں اور یہ معلوم کرتے ہیں کہ پیداوار کے کس مرحلے میں خرابی پیدا ہوئی تاکہ اسے دور کیا جاسکے۔

3۔پروڈکشن مینجمنٹ

یہ ایک طرح کا انتظامی شعبہ ہے جس میں کام کرنے والوں کو منصوبہ بندی، بجٹ سازی اور پیدواری رپورٹ جیسے امور سے واسطہ ہوتا ہے۔

ماحول کار

دھات کار انجینئروں کو اسٹیل ملز، دھاتی مصنوعات کے کارخانوں، لیبارٹری یا دفتر میں کسی بھی جگہ….اپنے کام کی نوعیت کے اعتبار سے کام کرنا ہوتا ہے۔

ذاتی خصوصیات

میٹالرجی کے شعبے میں کام کرنے کے خواہش مند نوجوانوں کو سائنس اور ٹیکنالوجی کے رجحان کا حامل ہونا چاہیے جو نوجوان سائنس کے عملی پہلوﺅں میں دلچسپی رکھتے ہیں وہ زیادہ کامیاب ہوسکتے ہیں۔ ریسرچ اور ڈیولپمنٹ کے شعبے میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ معاملات اور مسائل کی جزویات تک پر غور و فکر کرنے کے عادی ہوں۔ پروڈکشن مینجمنٹ میں کام کرنے کی خواہش رکھنے والوں کے لیے اچھے منتظم کی صلاحیت کا حامل ہونا ضروری ہے۔

کام کے مواقع

میٹالرجیکل انجینئرنگ کسی بھی ملک کی صنعتی ترقی میں صنعتی پیداوار کے شعبے کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس وقت ملک میں پاکستان اسٹیل اور پاکستان شپ یارڈ جیسے بڑے بڑے صنعتی اداروں سے لے کر ہزاروں کی تعداد میں ایسے چھوٹے کارخانے اور فیکٹریاں قائم ہیں جہاں میٹالرجیکل انجینئرز کے لیے ترقی کے مواقع موجود ہیں۔ دوسرے قابلِ ذکر اداروں میں ہیوی فاﺅنڈری اینڈ فورج ٹیکسلا، پاکستان آٹو موبائیل کارپوریشن کے مختلف یونٹ ، بولان کا سینگڑ، ہیوی میکینیکل کمپلکس ٹیکسلا، پاکستان مشین ٹول فیکٹری، آرما منٹ فیکٹریز، ریلوے اور پی آئی اے کی ورک شاپس اور ایسے ہی درجنوں قومی اور نجی ادارے شامل ہیں۔
موجود ہ حکومت نے صنعتی ترقی کے لیے نج کاری سے لے کر کارخانوں اور درمیانے درجے کی صنعتوں کے قیام میں امداد و اعانت جیسے نئے اقدامات کیے ہیں۔ یہ اقدامات نئی نئی صنعتوں کے قیام میں مدد دیں گے۔ اب سرکاری سے زیادہ نجی شعبے میں نئی صنعتیں قائم ہو رہی ہیں۔ چناںچہ ایک اچھے اور اہل انجینئر کے لیے ترقی کے بے انتہا مواقع موجود ہیں۔ درحقیقت انجینئرنگ میں بے روزگاروں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے اور جو لوگ بھی بے روزگار ہیں وہ زیادہ تر رضا کارانہ طور پر اپنی پسند کی جگہ یا مقام پر ملازمت نہ ملنے کی وجہ سے بے روزگار ہیں۔ نجی شعبے میں مسابقت کی کیفیت ہے اور اہل نوجوانوں کے بے روزگار رہنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ درحقیقت اس شعبے میں اصل معیار اعلیٰ تعلیمی قابلیت، غیر معمولی صلاحیت کار اور سخت محنت ہے یہی وجہ ہے کہ ذہین طلبہ کو ڈگری ملنے سے پہلے ہی ملازمت مل جاتی ہے۔

تنخواہیں

سرکاری اداروں میں تنخواہوں کا قومی اسکیل نافذ ہے اور بی ای کی ڈگری رکھنے والے انجینئر کو گریڈ 17 دیا جاتا ہے۔ کارپوریشنوں کے اپنے اپنے اسکیل ہیں جو قومی پے اسکیل سے زیادہ بہتر ہیں۔ نجی شعبے میں تنخواہیں سب سے زیادہ ہیں۔ ایک نئے انجینئر کو ابتدا ہی میں چار پانچ ہزار روپے ماہانہ ملتے ہیں جو معتدبہ تجربہ حاصل کرنے کے بعد چالیس پچاس ہزار روپے تک جاپہنچتے ہیں۔ درحقیقت نجی شعبہ ڈگریوں سے زیادہ کام کرنے کی صلاحیت اور قابلیت کو اہمیت دیتا ہے۔

نجی کاروبار کے مواقع

پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے۔ حکومت کی جانب سے نجی چھوٹی صنعتوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ بہت سے سرکاری ادارے انجینئروں کو چھوٹے چھوٹے انجینئرنگ یونٹ لگانے اور چلانے کے لیے قرضے فراہم کرتے ہیں۔ ان اداروں میں اسمال بزنس فنانس کارپوریشن، نیشنل ڈیولپمنٹ فنانس کارپوریشن اور یوتھ انوسٹمنٹ پروموشن سوسائٹی شامل ہیں۔

رجسٹریشن

پاکستان میں بی ای یا بی ایس سی کی سندحاصل کرنے کے بعدبہ طور انجینئر آزادانہ پریکٹس کرنے یا ملازمت کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان انجینئرنگ کونسل سے رجسٹریشن کرایا جائے۔مزید معلومات
میٹالرجیکل انجینئرنگ کے پیشے کے بارے میں مزید معلومات کے درجِ ذیل اداروں سے رابطہ قائم کیا جاسکتا ہے:
1۔ صدر دفتر
پاکستان انجینئرنگ کونسل
52۔مارگلہ روڈ اسلام آباد
پوسٹ بکس نمبر 1296۔اسلام آباد
2۔انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرز پاکستان
177/2شارع فیصل کراچی
3۔پاکستان انجینئرنگ کونسل
کمرہ نمبر 102۔پہلی منزل سوک سینٹر
یونی ورسٹی روڈ کراچی
4۔صدر شعبہ میٹالرجیکل انجینئرنگ
یونی ورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، لاہور
5۔ داﺅد کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی
ایم اے جناح روڈ کراچی۔74800
6۔صدر شعبہ میٹالر جیکل انجینئرنگ
مہران یونی ورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی
جام شوروسندھ

یہ بھی دیکھیں

Three-Types-of-Learners

سیکھنے کے تین انداز

معلومات حاصل کرنے، حاصل ہونے والی معلومات کو سمجھنے اور اس کی مدد سے مسئلے …