صفحہ اول » بلاگ » پاکستان میں کیمیکل انجینئرنگ کی تعلیم

پاکستان میں کیمیکل انجینئرنگ کی تعلیم

 chemical engیونی ورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، لاہور میں بی ایس سی کے علاوہ ایم ایس سی اور پی ایچ ڈی کی سطح پربھی کیمیکل انجینئرنگ کی تعلیم دی جاتی ہے جب کہ دیگر دو اداروں میں صرف بی ای یا بی ایس سی کی سطح پر داخلے ہوتے ہیں۔
کیمیکل انجینئرنگ میں بی ای یا بی ایس سی کرنے والے طالب علموں کے لیے ضروری ہے کہ انھیں علم کیمیا اور اس کے انجینئرنگ اور پیداوار میں استعمال پر غیر معمولی دسترس حاصل ہوجائے۔ چناں چہ کیمیکل انجینئرنگ کا نصاب انھیں اصولوں کو مدِ نظر رکھ کرمرتب کیا گیا۔ کیمیا پر دسترس کے نقطہء نگاہ سے کیمیکل انجینئروں کو مختلف مادوں اور کیمیاویات کے سیالی بہاؤ، انتقالِ حرارت، عملِ تبخیر، عمل کشید، عملِ تقطیر یا ست کاری اور عملِ جذب کا مطالعہ کرایا جاتا ہے۔ ساتھ ہی طبیعیات اور علم ریاضی میں مہارت پیدا کی جاتی ہے۔ کیمیکل انجینئر جن پانچ اہم شعبوں میں مہارت حاصل کرتے ہیں ان میں ریسرچ، ڈیزائن ، آپریشن، سیلز اور مینجمنٹ شامل ہیں۔
سال اوّل میں طلبہ کو ریاضی ، کیمیا، انگریزی، ورک شاپ پریکٹس، طبیعیات، انڈسٹریل اسنوٹکیومیٹری، انجینئرنگ گرافکس، اسٹرینتھ آف میٹریلز اور الیکٹرو ٹیکنالوجی پڑھائی جاتی ہے۔
سال دوم میں بنیادی سائنسز کے علاوہ کمپیوٹر سائنس، مطالعہء پاکستان، اسلامیات، حرکیات (تھرموڈائنامکس) اور یونٹ پروسیس کی تعلیم دی جاتی ہے۔
سال سوم میں کیمسٹری پروسیس، حرکیات (تھرموڈائنامکس)، مینٹی ننس انجینئرنگ انڈسٹریل ایڈمنسٹریشن، پروڈکشن انجینئرنگ، یونٹ آپریشن، پیٹرولیم ٹیکنالوجی اور ری ایکٹر ڈیزائن نصاب میں داخل ہے۔
سال چہارم میں پلانٹ ڈیزائن، معاشیات، یونٹ آپریشن، پیٹروکیمیکلز، بائیو کیمیکل انجینئرنگ‘ پروسیس انسٹرومینٹیشن کنٹرول، نی وکلیئر انجینئرنگ، انوائر مینٹل انجینئرنگ، فیولز اینڈ فربیسر پڑھائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ دو سونمبر کا ایک پروجیکٹ بھی کرنا ہوتا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

کیریر پلاننگ کے اہم نکات

اپنا جائزہ لیں اور خود کو جانیں اپنے اندر کی شخصیت کا جائزہ لیجیے۔ اپنے …