صفحہ اول » بلاگ » گٹکے کی عادت منہ کے کینسر کی وجہ بن رہی ہے

گٹکے کی عادت منہ کے کینسر کی وجہ بن رہی ہے

16 سے 20 سال کے نو عمر نوجوانوں میں چھالیہ اور گٹکے کا استعمال ان کے مستقبل کو تباہ کر رہا ہے
16 سے 20 سال کے نو عمر نوجوانوں میں چھالیہ اور گٹکے کا استعمال ان کے مستقبل کو تباہ کر رہا ہے

پاکستان میں منہ کا کینسر انسانوں کو لاحق ہونے والا دوسرا بڑا مرض ہے جو بدقسمتی سے پاکستان میں بہت تیزی سے پھیل رہا ہے جس میں نوجوان نسل اور بچے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ منہ کے کینسر کی اہم وجہ پان، چھالیہ، گٹکا، سپاری اور نسوار کا عام استعمال ہے۔ ان خیالات کا اظہار اسسٹنٹ پروفیسر ڈاؤ یونیورسٹی ڈاکٹر اسماعیل ہیرانی نے ڈاکٹر عیسیٰ لیبارٹری برانچ نزد سول اسپتال کے زیر اہتمام سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پروفیسر ڈاکٹر اسماعیل ہیرانی نے کہا کہ آج کل نوجوانوں سمیت بچوں اور دیگر افراد میں گٹکے کا استعمال بہت زیادہ ہوگیا ہے۔ گٹکے کی تیاری میں مضر صحت کیمیکل و شیشے کا پاؤڈر اور گلی سڑی چھالیہ کا استعمال ہوتا ہے جس سے منہ کے کینسر سمیت دیگر امراض میں بے تحاشہ اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے منہ کے کینسر کی ابتدائی علامات کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ بیماری کی ابتداء میں منہ میں چھالے، منہ کا کم کھلنا، کھانے میں مشکل پیش آنا، منہ میں ٹھنڈی اورگرم اشیاء کا لگنا شامل ہے تاہم اگر اس کا بروقت علاج کروا لیا جائے تو اس مرض پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے بچوں میں اس بیماری کا ہونا خطرے کی گھنٹی ہے۔ 16 سے 20 سال کے نو عمر نوجوانوں میں چھالیہ اور گٹکے کا استعمال ان کے مستقبل کو تباہ کر رہا ہے۔ ڈاکٹر سید اقبال حسن نے کہا کہ شیشہ نوشی کے شوق میں ڈاکٹر طلباء و طالبات کی بڑی تعداد اس کی عادی ہوتی جا رہی ہے۔ ڈاکٹر، طلباء اورطالبات کے علاوہ کم عمر لڑکے اور لڑکیاں بھی اپنے والدین سے چھپ کر شیشہ پارلز کا رخ کرتے ہیں مسلسل شیشہ نوشی کے باعث گردوں، پھیپھڑوں اور سانس کی نالی کے کینسر کا شدید خطرہ لاحق ہے

یہ بھی دیکھیں

زندگی کے راستے

رفیع الزمان زبیری بچپن میں جب قائد اعظم کے اسکول جانے کا وقت آیا تو …