صفحہ اول » افواج » (ہوا باز (کمرشل پائلٹ

(ہوا باز (کمرشل پائلٹ

ہوا بازی ایک پر شوق اور سنسنی خیز پیشہ ہے۔ پاکستان میں ہوا بازوں کی اکثریت اس پیشہ
کو ہطور شوق اپناتی ہے اور اسی شوق کو زندگی گزارنے کا ذریعہ بناتی ہے۔ کھلی اور بے کراں فضاؤں میں پرندوں کی طرح پرواز کرنا واقعی ایک سنسنی خیز تجربہ ہوتا ہے اور کہتے ہیں کہ جو ایک مرتبہ فضا میں پرواز کرلے وہ اس تجربے کو بار بار دوہرانا چاہتا ہے اور اس مشغلے سے کبھی بھی بیزار نہیں ہوتا۔
فضا میں طیاروں کو اڑانا نہایت ذمہ داری کا کام ہے۔ اگر ہوا باز سے کوئی چوک ہوجائے یا طیارے کا کوئی پرزہ یا نظام صحیح کام کرنا چھوڑ دے تو نہ صرف طیارے اور ہوا باز کو خطرہ لاحق ہوتا ہے بلکہ طیارے میں سوار مسافروں کی زندگی بھی خطرے میں پڑجاتی ہے، اس لیے اس کی تربیت نہایت کڑی ہوتی ہے جو نوجوان اس پیشے کو اپنانا چاہتے ہیں انھیں ذہنی طور پر اس بات کے لیے تیار رہنا چاہیے کہ کمرشل پائلٹ کے لائسنس کےحصول کے لیے انھیں سخت محنت کرنا ہوگی۔

(کمرشل پائلٹ لائسنس (سی پی ایل

ہوا باز بننے کا پہلا مرحلہ یہ ہے کہ آپ کمرشل پائلٹ لائسنس حاصل کریں۔ یہ لائسنس سول ایوی ایشن اتھارٹی، ان افراد کو جاری کرتی ہے جو مقررہ طبی امتحان، ہوا بازی کا مقررہ عملی امتحان اور نظریاتی امتحان (تھیوری ایگزامی نیشن) کامیاب کریں اور انھوں نے مجموعی طور پر ۰۰۲ گھنٹوں کی پرواز مکمل کرلی ہو۔

اہلیت

ہوا بازی کی ابتدائی تربیت (سی پی ایل) کے لیے امیدوار کا انٹر میڈیٹ سائنس میں (طبیعیات، کیمیا اور ریاضی کے مضامین کے ساتھ) کامیاب ہونا ضروری ہے۔ عمر کی کم سے کم حد18سال ہے اور جسمانی و ذہنی طور پر ہر لحاظ سے تندرست ہونا ضروری ہے

تربیت کے ادارے

ہوا بازی کی تربیت کے لیے کسی فلائنگ اسکول میں داخلہ لینا ہوتا ہے۔ پاکستان میں اس وقت کراچی، لاہور، راول پنڈی، ملتان، کوئٹہ اور پشاور میں ایرو کلب موجود ہیں جو ہوا بازی کے خواہش مند نوجوانوں کو عملی اور نظریاتی تربیت فراہم کرتے ہیں۔ ایرو کلب میں داخلے سے پہلے سول ایوی ایشن اتھارٹی سے جسمانی اور طبی موزونیت کا امتحان (میڈیکل ٹیسٹ) کامیاب کرنا ضروری ہے۔ اس امتحان کی فیس تقریباً 900 روپے ہے۔
طبی موزونیت کی سندحاصل کرنے کے بعد ایرو کلب کی عارضی رکنیت حاصل کرنا ہوتی ہے۔ کراچی ایرو کلب کی عارضی رکنیت کی داخلہ فیس ایک ہزار روپے اور 50 روپے ماہانہ فیس ہے۔ داخلے کے وقت چھ ماہ کی رکنیت فیس یک مشت جمع کرنا ہوتی ہے۔
v3prap
ایرو کلب کی رکنیت لیتے ہی امیدوار کی تربیت کا آغاز ہوجاتا ہے۔ اس وقت عملی تربیت کے لیے تربیتی طیارے کی فیس 1500 روپے فی گھنٹہ ہے۔ امیدوار کو اپنی سہولت کے لحاظ سے 10 گھنٹوں کی فیس پیشگی جمع کرنا ہوتی ہے۔
ابتدائی 3 گھنٹوں کی پرواز کے تجربے کے بعد امیدوار کو ایک امتحان دینا ہوتا ہے جو ایس پی ایل یعنی اسٹوڈنٹ پائلٹ لائسنس کہلاتا ہے۔ جب پرواز کے 40 گھنٹے مکمل ہوجاتے ہیں تو امیدوار پرائیویٹ پائلٹ لائسنس (پی پی ایل) کا امتحان دے سکتا ہے۔ پی پی ایل حاصل کرنے کے بعد امیدوار اس بات کا اہل ہوجاتا ہے کہ وہ مسافروں کے طیارے کو اڑا سکے۔ اس کا یہ تجربہ اگلے امتحان میں شامل کیا جاتا ہے۔ مزید 160گھنٹے (مجموعی طور پر 200گھنٹے) کی پرواز کے تجربے کے بعد امیدوار کمرشل پائلٹ لائسنس کا امتحان دے سکتا ہے جو سی پی ایل کہلاتا ہے۔
پاکستان میں 200 گھنٹوں کی پرواز مکمل کرنے میں عام طور پر ڈیڑھ سے دو سال کا عرصہ لگتا ہے۔ عملی پرواز کے 200 گھنٹوں کے تجربے میں درج ذیل نوعیت کا تجربہ شامل ہونا چاہیے۔
اندرون ملک طویل پرواز (کراس کنٹری) 40گھنٹے یا 300 میل
آلات کی مدد سے پرواز (انسٹرومنٹ ریٹنگ) 30گھنٹے
تنہا پرواز (سولوفلائنگ) 20 گھنٹے
پرواز کی عملی تربیت میں طلبہ کو جو باتیں سکھائی جاتی ہیں ان میں درجِ ذیل نکات شامل ہیں
1۔کاک پٹ سے واقفیت 2۔پرواز کی تیاری3۔ہوا بازی کا تجربہ4۔کنٹرول کے اثرات 5۔ٹیکسی کرنا 6۔سیدھی اور ہموار پرواز 7۔فضا میں بلند ہونا 8۔اترنا 9۔اسٹالنگ 10۔درمیانہ موڑ 11۔ گلائیڈنگ اور کلامینگ 12۔ہوا میں زمین سے طیارہ بلند کرنا 13۔اپروچ اینڈ لینڈنگ 14۔اسپننگ 15۔پہلی تنہا پرواز 16۔ سائیڈلینڈنگ 17۔اسٹیپ ٹرن18۔آلات کی مدد سے پرواز19۔ کم بلندی پر پرواز20۔پیکنگ آف اینڈ لینڈنگ آؤٹ آف ونڈ۔
عملی تربیت کے ساتھ امیدواروں کو مندرجہ ذیل نظری مضامین کی تیاری کرنا ہوتی ہے اور ان کے امتحانات کامیاب کرنا ہوتے ہیں
1فلائٹ پلاننگ 2۔میٹرولوجی (موسمیات) 3۔نیوی گیشن4۔ایوی ایشن لا 5۔ریڈیو ایڈز 6۔ایئر کرافٹ انجن 7۔ایئر کرافٹ فریم۔
تھیوری کے امتحانات سول ایوی ایشن اتھارٹی سال میں چار مرتبہ منعقد کرتی ہے۔ ہر مضمون کا امتحان الگ ہوتا ہے اور پرچہ ملٹی پل چوائس انداز کا ہوتا ہے۔

تربیت کے اخراجات

کمرشل پائلٹ لائسنس حاصل کرنے کی تربیت پر مجموعی طور پر اوسطاً سوا چار لاکھ سے پانچ لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں۔ اس میں عملی پرواز کے 200گھنٹے مکمل کرنے پر 2200روپے فی گھنٹہ کی شرح سے ساڑھے 4لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں۔ تھیوری کے مضامین کی تیاری پر 20 ہزار روپے فیس ادا کرنا ہوتی ہے۔ کلب کی فیس ، کتابوں کی خریداری، سول ایوی ایشن کے طبی امتحان اور دیگر امتحانات کی فیسیں اس کے علاوہ ہیں۔

(فیسیں 1996ء کی شرح کے مطابق ہیں)

بیرونِ ملک کمرشل پائلٹ لائسنس کی تربیت پر 10 سے 12 ہزار ڈالر کے اخراجات آتے ہیں۔

مواقع

پاکستان میں ہوا بازوں کے لیے ملازمت کے سب سے زیادہ مواقع فی الحال صرف پی آئی اے میں ہوتے ہیں۔ حال میں نجی شعبے میں فضائی کمپنیوں کے قیام کی اجازت دی گئی ہے۔ مال برداری کے لیے شاہین ایئر لائنز نے کام شروع کر دیا ہے جب کہ شمالی علاقوں اور ممکنہ طور پر ایک بین الاقوامی روٹ پر آغا خان ایئر لائنز کام کرے گی۔ توقع کی جاسکتی ہے کہ مستقبل میں ملک میں نجی شعبے میں دیگر فضائی کمپنیاں اس میدان میں آجائیں گی اور ہوا بازوں کے لیے ملازمت کے مواقع بڑھ جائیں گے۔
پی آئی اے کی ملازمت اور تربیت کے بارے میں تفصیلات درج ذیل ہیں

کام کی نوعیت

ہوا باز کو پرواز کے مقررہ وقت سے ایک گھنٹہ پہلے ڈیوٹی کے لیے رپورٹ کرنا ہوتا ہے تاکہ وہ پرواز کے منصوبے (فلائٹ پلان) کے بارے میں ہدایات وصول کرسکے۔ پرواز کے منصوبے میں جو اہم باتیں شامل ہیں ان میں پرواز کا راستہ، پرواز کے آغاز اور اختتام کے وقت طیارے کا وزن اور پرواز کے دوران مختلف مرحلوں پر طیارے کی بلندی شامل ہے۔ پرواز کا منصوبہ، موسم کی حالت، درجہء حرارت، ہوا کے دباؤ اور رفتار، منزل کا فاصلہ، ایندھن کی ضروریات اور پرواز کے راستے کے سیاسی حالات کو پیشِ نظر رکھ کر مرتب کیا جاتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں ماحولیات کے قوانین بھی اس پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
بالعموم تمام حسابات کمپیوٹر کی مدد سے کیے جاتے ہیں لیکن ہوا باز کے لیے ضروری ہے کہ وہ تمام اعداد و شمار اور معلومات کو سمجھنے کا اہل ہو اور دورانِ پرواز موسم یا دیگر امور میں کسی فوری رد و بدل کے نتیجے میں پرواز کے منصوبے میں حالات کے مطابق ترمیم کرسکے۔ ہوائی اڈے سے طیارے کے پرواز کرنے کے بعد فیصلے کرنے کی ذمہ داری ہوا باز کی ہوتی ہے۔
پرواز کے آغاز (ٹیک آف) سے پہلے ہوا باز اور اس کا معاون، طیارے کے تمام آلات اور پرواز کے نظام کی جانچ کرتے ہیں۔ پرواز کے نازک مرحلے دو ہوتے ہیں۔ ایک رن وے سے ہوا میں بلند ہونا (ٹیک آف) اور دوسرا ہوائی اڈے پر اترنا۔ ہوا باز ان دونوں مواقع پر اپنے تجربے اور مہارت سے کام لیتے ہیں۔جدید طیاروں میں بعض پروازوں میں نیوی گیٹر اور فلائٹ انجینئر نہیں ہوتے اس لیے ہوا باز کو ہر وقت مستعد رہنا ہوتا ہے اور طیارے کو خود کار نظام (آٹو پائلٹ) پر رکھنے کے باوجود تمام آلات کی درست کارکردگی کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ دورانِ پرواز کوئی معمولی خرابی پیدا ہونے پر اس کی مرمت بھی کرسکے۔ پرواز کے دوران ہوا باز کا کسی نہ کسی ایئر ٹریفک کنٹرولر سے ریڈ یائی رابطہ رہتا ہے جو انھیں موسمی کیفیات سے باخبر رکھتا ہے اور اطلاعات فراہم کرتا ہے۔ ہوا باز ان اطلاعات کی بنیاد پر پرواز کے منصوبے میں رد و بدل کرتا ہے لیکن اسے ہر صورت میں ایئر ٹریفک کنٹرولر کی ہدایات کی پابندی کرنی ہوتی ہے۔
عام طور پر طیارے کے فلائٹ ڈیک پر دو ہوا بازوں کی گنجائش ہوتی ہے لیکن بعض بڑے طیاروں میں تین ہوا بازوں کی گنجائش بھی ہوتی ہے۔ کپتان طیارے کا مکمل طور پر ذمہ دار ہوتا ہے اور پرواز کے دوران عملے کے ہر فرد اور مسافروں کو کپتان کے احکامات اور ہدایات کی پابندی کرنا ہوتی ہے۔ معاون ہوا باز، کپتان کی مدد کرتا ہے۔ پرواز کے دوران طیارے کے مواصلاتی نظام کے ذریعے کپتان یا معاون ہوا باز طیارے کے دوسرے عملے (کیبن کریو) سے رابطہ رکھتا ہے اور پرواز کے بارے میں مسافروں کو بھی اطلاعات فراہم کرتا ہے، کبھی کبھی کپتان یا ہوا باز مسافروں کے حصے میں بھی چکر لگاتا ہے۔
پرواز کے اختتام پر طیارے کے انجن بند کر دیے جاتے ہیں اور پرواز کے بارے میں ایک تفصیلی رپورٹ تحریر کی جاتی ہے جس میں دورانِ پرواز پیش آنے والے مسائل یا دشواری مثلاً کسی آلے کی ناقص کار کردگی کا احوال ہوتا ہے۔

ماحول کار

ہوا باز کو فرائض کی ادائیگی کے دوران طویل عرصے تک فلائٹ ڈیک کی محدود اور تنگ جگہ میں ایک ہی نشست پر بیٹھنا ہوتا ہے۔ پروازوں کے نظام (فلائٹ شیڈول) سفر کی طوالت یا ناگزیر حالات کی وجہ سے ہوا بازوں کو اکثر اوقات بیرونِ ملک کسی ہوٹل میں یا واپسی کی پرواز کی صورت میں ہوائی اڈے پر ہی قیام کرنا ہوتا ہے۔ ہوا باز واپسی کے سفر میں ایک مسافر کی حیثیت سے بھی سفر کرسکتا ہے اور ہوا باز کی حیثیت سے بھی۔ بعض ہوائی کمپنیاں ہوا بازوں پر پابند ی عائد کرتی ہیں کہ وہ اپنے وطن میں ہوائی اڈے سے ایک مقررہ فاصلے کے اندر رہائش اختیار کریں۔

ذاتی خصوصیات

ہوا بازی ۔۔۔نہایت ذمہ داری کا پیشہ ہے۔ طیارے اور مسافروں کی سلامتی کا دار و مدار ہوا باز کی مہارت اور قوتِ فیصلہ پرہوتا ہے۔ ہوا باز کے لیے اوّلین ذاتی خصوصیت۔۔۔ خود اعتمادی ہے۔ اسے قائدانہ صلاحیتوں کا مالک ہونا چاہیے۔ دوسروں کے ساتھ مل کر کام کرنا اور حکم دینا اور احکام پر عمل کرانا اس کے کام کا حصہ ہوتا ہے۔
ہوا باز کو پرسکون مزاج اور ہنگامی حالت میں صورتِ حال کو اپنے ہاتھوں میں لے کر اِس سے سلیقے سے نمٹنے کا اہل ہونا چاہیے۔ ہنگامی حالات کبھی کبھی پیش آتے ہیں اور متوقع ہنگامی صورتِ حال کے لیے ہوائی کمپنیوں نے قاعدے اور ضابطے مقرر کر رکھے ہیں لیکن ایسی کسی بھی صورتِ حال میں آخری فیصلہ کپتان کو کرنا ہوتا ہے۔
ابلاغ کی مہارت نہایت ضروری ہے۔ دورانِ پرواز ہوا باز کا زیادہ وقت ایئر ٹریفک کنٹرولر سے ریڈیو پر گفتگو اور ہدا یات لینے میں صرف ہوتا ہے۔ کسی ہدایت کو درست طورپر نہ سمجھنے کے نتیجے میں تباہ کن حادثے کا خطرہ ہوسکتا ہے۔ غیر معمولی حالات میں مسافروں کے ساتھ معاملات میں بھی ہوا باز۔۔۔خصوصاً کپتان میں یہ صلاحیت ہونی چاہیے کہ وہ مسافروں میں خود اعتمادی بحال کرے۔ ہر پرواز کے اختتام پرتحریر کی گئی رپورٹ واضح اور جامع ہونی چاہیے۔

پیشہ ورانہ ٹیکنیکی مہارت

آنکھوں اور ہاتھوں اور آنکھوں اور پاؤں کی حرکتوں کے درمیان درست تعلق ضروری ہے۔ اچھی صحت اور جسمانی موزونیت لازمی ہیں۔ داخلے کے وقت اور ملازمت کے دوران مقررہ وقفوں سے ہوا باز کی طبی اور جسمانی موزونیت کی جانچ ہوتی رہتی ہے۔طبی اور جسمانی طور پر کسی بھی نقص کی صورت میں ہوا باز کو پرواز سے روک دیا جاتا ہے۔

تربیت

پاکستان میں ہوا بازوں کے لیے کام کے سب سے زیادہ مواقع قومی ایئر لائن پی آئی اے فراہم کرتی ہے۔ پی آئی اے کو جب بھی ضرورت ہوتی ہے، اخبارات میں اشتہار کے ذریعے ’’کیڈٹ پائلٹ‘‘ کے لیے درخواستیں طلب کی جاتی ہیں۔ صرف وہ امیدوار درخواستیں دینے کے اہل ہوتے ہیں جن کی تعلیمی قابلیت انٹرمیڈیٹ ہو اور جو کمرشل پائلٹ کا لائسنس یا انسٹرومنٹ ریٹنگ کی قابلیت رکھتے ہوں۔ عمر کی حد بالعموم 30سال اور کبھی 35سال ہوتی ہے۔ زیادہ عمر کے امیدواروں کے لیے پرواز کے مجموعی گھنٹوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔

دوران تربیت وظیفہ

دورانِ تربیت بیرونِ کراچی امیدواروں کو مفت رہائش اور کھانے کے ساتھ ایک ہزار روپے ماہانہ اور کراچی میں مقیم امیدواروں کو 2500روپے ماہانہ وظیفہ دیا جاتا ہے۔ تربیت کی کامیاب تکمیل کے بعد پی آئی اے کے قواعد ملازمت کے تحت تنخواہ مقرر کی جاتی ہے۔

انتخاب کا طریقہ

کیڈٹ پائلٹ کے لیے اہل امیدواروں کو درج ذیل امتحانات سے گزرنا ہوتا ہے
کمرشل پائلٹ لائسنس/انسٹرومنٹ ریٹنگ کے لیے مقررہ نصاب میں سے تحریری ٹیکنیکی امتحان
امیدواروں کا انٹرویو
نفسیاتی موزونیت کا امتحان
پی آئی اے کے میڈیکل بورڈ سے کامیابی

شرائط

تربیت مکمل کرنے کے بعد منتخب امیدواروں کو ایک سال کی آزمائشی مدت پر ملازم رکھا جاتا ہے۔ اس دوران اگر امیدوار سول ایوی ایشن اتھارٹی اور پی آئی اے کے مطلوبہ معیارات، کامیابی سے حاصل کرلے تو اس کی ملازمت مستقل کردی جاتی ہے۔ امیدواروں کو دورانِ ملازمت پی آئی اے کی ضرورت کے مطابق کسی بھی جگہ تعینات کیا جاسکتا ہے۔ تربیت مکمل کرنے کے بعد منتخب امیدواروں کو یہ ضمانت دینی ہوتی ہے کہ اگر وہ دس سال کے عرصے سے پہلے پی آئی اے کی ملازمت ترک کریں گے تو انھیں تربیت کے تمام اخراجات ادا کرنے ہوں گے (مزید تفصیلات کے لیے پی آئی اے کے منیجر ایمپلائمنٹ سے رجوع کیجیے۔ پتا مضمون کے آخر میں دیکھیے)۔

تنخواہیں

پی آئی اے میں کیڈٹ پائلٹ کی حیثیت سے تربیت مکمل کرنے کے بعد جب ایک ہوا باز باقاعدہ ملازمت اختیار کرتا ہے تو ابتدا ہی میں اسے مجموعی طور پر تقریباً 15 ہزار روپے تنخواہ ملتی ہے۔ تنخواہ میں سالانہ اضافے کی شرح 750روپے ہے۔ اس کے علاوہ ہر پرواز پر ’’فلائنگ الاؤنس‘‘ ملتا ہے۔جو بیرونِ ملک پرواز کی صورت میں ایک سے تین ڈالر فی گھنٹہ ہوتا ہے۔ چھ سال کی ملازمت کے بعد اگلے گروپ میں ترقی ملنے پر مجموعی تنخواہ تقریباً 20ہزار روپے ماہانہ ہوجاتی ہے اور سالانہ اضافے کی شرح 12 سو روپے ہوتی ہے۔
30`25 سالہ تجربے کے حامل ہوا باز 70سے 80ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پاتے ہیں۔ پی آئی اے میں ہوا بازوں اور ان کے اہلِ خانہ کو علاج معالجے کی مفت سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ رہائش سے ایئر پورٹ تک آمدورفت کی سہولت بھی مہیا کی جاتی ہے۔
جب ایک ہوا باز پرواز لے کر کسی دوسرے مقام پر جاتا ہے تو یہ بھی ممکن ہے کہ وہی اس پرواز کو واپس لے کر آئے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس کا فرض اس مقام تک پرواز کے پہنچنے پر پورا ہوگیا ہو، اس صورت میں اس دوسرے شہر(ملک) میں طعام اور قیام کی سہولت اور واپسی کا ٹکٹ فضائی کمپنی کی طرف سے فراہم کیا جاتا ہے۔ پائلٹ کی باوقار یونی فارم میں آستینوں پر چار سنہری پٹیاں ہوا باز کی شناخت ہوتی ہیں۔
ہوا بازی کے پیشے میں ایک سب سے بڑی دلچسپی یہ ہوتی ہے کہ ہوا باز اپنے فرائض کی ادائیگی کے ساتھ پوری دنیا گھوم لیتے ہیں، نئے نئے شہروں میں قیام کرتے ہیں، شاپنگ کرتے ہیں اور ایک طرح سے بین الاقوامی شہری بن جاتے ہیں، کیوں کہ ہر اس شہر میں جہاں ان کا طیارہ قیام کرتا ہے ،ان کے دوست موجود ہوتے ہیں۔

حالاتِ کار

ہوا بازی نہایت ذمہ داری کا پیشہ ہے۔ ذمہ داری کے ساتھ ساتھ ہوا بازوں کو نہایت پرکشش تنخواہیں اور دیگر مراعات اور سہولتیں فراہم کی جاتی ہے۔ ماہر اور تجربہ کار ہوا بازوں کے لیے نہ صرف اپنے ملک کے اندر بلکہ غیر ملکی فضائی کمپنیوں میں بھی ملازمت کے مواقع موجود ہوتے ہیں۔
ہوا بازوں کو وقتاً فوقتاً اپنا طبی معائنہ کرانا ہوتا ہے اور معیاد ختم ہونے پر اپنے لائسنس کی تجدید کرانا ہوتی ہے۔ بیرون ملک پروازوں میں انھیں اعلیٰ درجے کے ہوٹلوں میں قیام کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ گھر سے ایئر پورٹ اورا یئر پورٹ سے گھر تک ٹرانسپورٹ کی سہولت مہیا ہوتی ہے۔
طیاروں کی مختلف اقسام اور ان کی گنجائش کے لحاظ سے ہر قسم کے طیارے کے ہوا باز مختلف ہوتے ہیں۔ ایک چھوٹے طیارے کے بعد بڑے طیارے کو اڑانے کے لیے ہوا باز کو اس خاص طیارے کے اڑانے کا امتحان کامیاب کرنا ہوتا ہے۔ فوکر طیارے کے بعد بوئنگ 707 اس کے بعد 737، پھر اے ۔۔۔300 اور اس کے بعدبوئنگ 747 پی آئی اے کے ہوا بازوں کی ترقی کے مدارج ہیں۔
1۔ایرو کلب، کراچی 3۔لاہور فلائنگ کلب
301، جنرل ایوی ایشن ایریا پی او والٹن، لاہور
قائد اعظم انٹرنیشنل ایئرپورٹ، کراچی ۴۔راولپنڈی فلائنگ کلب
2۔شون فلائنگ کلب۔ شون ایئر لمیٹڈ پی او بکس 74،راول پنڈی
جنرل ایوی ایشن ایریا، 5۔ملتان فلائنگ کلب
قائد اعظم انٹرنیشنل ایئر پورٹ، کراچی سول ایرو ڈرم، ملتان

یہ بھی دیکھیں

کیریر پلاننگ کے اہم نکات

اپنا جائزہ لیں اور خود کو جانیں اپنے اندر کی شخصیت کا جائزہ لیجیے۔ اپنے …