صفحہ اول » بلاگ » کمرشل پائلٹ

کمرشل پائلٹ


ہوا بازی ایک پر شوق اور سنسنی خیز پیشہ ہے۔ پاکستان میں ہوا بازوں کی اکثریت اس پیشہ کو بہ طور شوق اپناتی ہے اور اسی شوق کو زندگی گزارنے کا ذریعہ بناتی ہے۔ کھلی اور بے کراں فضاؤں میں پرندوں کی طرح پرواز کرنا واقعی ایک سنسنی خیز تجربہ ہوتا ہے اور کہتے ہیں کہ جو ایک مرتبہ فضا میں پرواز کرلے وہ اس تجربے کو بار بار دوہرانا چاہتا ہے اور اس مشغلے سے کبھی بھی بیزار نہیں ہوتا۔

فضا میں طیاروں کو اڑانا نہایت ذمہ داری کا کام ہے۔ اگر ہوا باز سے کوئی چوک ہوجائے یا طیارے کا کوئی پرزہ یا نظام صحیح کام کرنا چھوڑ دے تو نہ صرف طیارے اور ہوا باز کو خطرہ لاحق ہوتا ہے بلکہ طیارے میں سوار مسافروں کی زندگی بھی خطرے میں پڑجاتی ہے، اس لیے اس کی تربیت نہایت کڑی ہوتی ہے جو نوجوان اس پیشے کو اپنانا چاہتے ہیں انھیں ذہنی طور پر اس بات کے لیے تیار رہنا چاہیے کہ کمرشل پائلٹ کے لائسنس کے حصول کے لیے انھیں سخت محنت کرنا ہوگی۔
(کمرشل پائلٹ لائسنس (سی پی ایل
ہوا باز بننے کا پہلا مرحلہ یہ ہے کہ آپ کمرشل پائلٹ لائسنس حاصل کریں۔ یہ لائسنس سول ایوی ایشن اتھارٹی، ان افراد کو جاری کرتی ہے جو مقررہ طبی امتحان، ہوا بازی کا مقررہ عملی امتحان اور نظریاتی امتحان (تھیوری ایگزامی نیشن) کامیاب کریں اور انھوں نے مجموعی طور پر ۰۰۲ گھنٹوں کی پرواز مکمل کرلی ہو۔
اہلیت
ہوا بازی کی ابتدائی تربیت (سی پی ایل) کے لیے امیدوار کا انٹر میڈیٹ سائنس میں (طبیعیات، کیمیا اور ریاضی کے مضامین کے ساتھ) کامیاب ہونا ضروری ہے۔ عمر کی کم سے کم حد 18سال ہے اور جسمانی و ذہنی طور پر ہر لحاظ سے تندرست ہونا ضروری ہے۔
تربیت کے ادارے
ہوا بازی کی تربیت کے لیے کسی فلائنگ اسکول میں داخلہ لینا ہوتا ہے۔ پاکستان میں اس وقت کراچی، لاہور، راول پنڈی، ملتان، کوئٹہ اور پشاور میں ایرو کلب موجود ہیں جو ہوا بازی کے خواہش مند نوجوانوں کو عملی اور نظریاتی تربیت فراہم کرتے ہیں۔ ایرو کلب میں داخلے سے پہلے سول ایوی ایشن اتھارٹی سے جسمانی اور طبی موزونیت کا امتحان (میڈیکل ٹیسٹ) کامیاب کرنا ضروری ہے۔ اس امتحان کی فیس تقریباً 900 روپے ہے۔
طبی موزونیت کی سندحاصل کرنے کے بعد ایرو کلب کی عارضی رکنیت حاصل کرنا ہوتی ہے۔ کراچی ایرو کلب کی عارضی رکنیت کی داخلہ فیس ایک ہزار روپے اور 50 روپے ماہانہ فیس ہے۔ داخلے کے وقت چھ ماہ کی رکنیت فیس یک مشت جمع کرنا ہوتی ہے۔
ایرو کلب کی رکنیت لیتے ہی امیدوار کی تربیت کا آغاز ہوجاتا ہے۔ اس وقت عملی تربیت کے لیے تربیتی طیارے کی فیس 1500 روپے فی گھنٹہ ہے۔ امیدوار کو اپنی سہولت کے لحاظ سے 10 گھنٹوں کی فیس پیشگی جمع کرنا ہوتی ہے۔
ابتدائی 3 گھنٹوں کی پرواز کے تجربے کے بعد امیدوار کو ایک امتحان دینا ہوتا ہے جو ایس پی ایل یعنی اسٹوڈنٹ پائلٹ لائسنس کہلاتا ہے۔ جب پرواز کے 40 گھنٹے مکمل ہوجاتے ہیں تو امیدوار پرائیویٹ پائلٹ لائسنس (پی پی ایل) کا امتحان دے سکتا ہے۔ پی پی ایل حاصل کرنے کے بعد امیدوار اس بات کا اہل ہوجاتا ہے کہ وہ مسافروں کے طیارے کو اڑا سکے۔ اس کا یہ تجربہ اگلے امتحان میں شامل کیا جاتا ہے۔ مزید 160گھنٹے (مجموعی طور پر 200گھنٹے) کی پرواز کے تجربے کے بعد امیدوار کمرشل پائلٹ لائسنس کا امتحان دے سکتا ہے جو سی پی ایل کہلاتا ہے۔
پاکستان میں 200 گھنٹوں کی پرواز مکمل کرنے میں عام طور پر ڈیڑھ سے دو سال کا عرصہ لگتا ہے۔ عملی پرواز کے 200 گھنٹوں کے تجربے میں درج ذیل نوعیت کا تجربہ شامل ہونا چاہیے۔
اندرون ملک طویل پرواز (کراس کنٹری) 40گھنٹے یا 300 میل
آلات کی مدد سے پرواز (انسٹرومنٹ ریٹنگ) 30گھنٹے
.تنہا پرواز (سولوفلائنگ) 20 گھنٹے

یہ بھی دیکھیں

کیریر پلاننگ کے اہم نکات

اپنا جائزہ لیں اور خود کو جانیں اپنے اندر کی شخصیت کا جائزہ لیجیے۔ اپنے …