صفحہ اول » بلاگ » کمرشل پائلٹ

کمرشل پائلٹ


پرواز کی عملی تربیت میں طلبہ کو جو باتیں سکھائی جاتی ہیں ان میں درجِ ذیل نکات شامل ہیں:
1۔کاک پٹ سے واقفیت 2۔پرواز کی تیاری3۔ہوا بازی کا تجربہ4۔کنٹرول کے اثرات 5۔ٹیکسی کرنا 6۔سیدھی اور ہموار پرواز 7۔فضا میں بلند ہونا 8۔اترنا 9۔اسٹالنگ 10۔درمیانہ موڑ 11۔ گلائیڈنگ اور کلامینگ 12۔ہوا میں زمین سے طیارہ بلند کرنا 13۔اپروچ اینڈ لینڈنگ 14۔اسپننگ 15۔پہلی تنہا پرواز 16۔ سائیڈلینڈنگ 17۔اسٹیپ ٹرن18۔آلات کی مدد سے پرواز19۔ کم بلندی پر پرواز20۔پیکنگ آف اینڈ لینڈنگ آؤٹ آف ونڈ۔
عملی تربیت کے ساتھ امیدواروں کو مندرجہ ذیل نظری مضامین کی تیاری کرنا ہوتی ہے اور ان کے امتحانات کامیاب کرنا ہوتے ہیں:
1۔فلائٹ پلاننگ 2۔میٹرولوجی (موسمیات) 3۔نیوی گیشن4۔ایوی ایشن لا 5۔ریڈیو ایڈز 6۔ایئر کرافٹ انجن 7۔ایئر کرافٹ فریم۔
تھیوری کے امتحانات سول ایوی ایشن اتھارٹی سال میں چار مرتبہ منعقد کرتی ہے۔ ہر مضمون کا امتحان الگ ہوتا ہے اور پرچہ ملٹی پل چوائس انداز کا ہوتا ہے۔
تربیت کے اخراجات
کمرشل پائلٹ لائسنس حاصل کرنے کی تربیت پر مجموعی طور پر اوسطاً سوا چار لاکھ سے پانچ لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں۔ اس میں عملی پرواز کے 200گھنٹے مکمل کرنے پر 2200روپے فی گھنٹہ کی شرح سے ساڑھے 4لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں۔ تھیوری کے مضامین کی تیاری پر 20 ہزار روپے فیس ادا کرنا ہوتی ہے۔ کلب کی فیس ، کتابوں کی خریداری، سول ایوی ایشن کے طبی امتحان اور دیگر امتحانات کی فیسیں اس کے علاوہ ہیں۔(فیسیں 1996ء کی شرح کے مطابق ہیں)
بیرونِ ملک کمرشل پائلٹ لائسنس کی تربیت پر 10 سے 12 ہزار ڈالر کے اخراجات آتے ہیں۔
مواقع
پاکستان میں ہوا بازوں کے لیے ملازمت کے سب سے زیادہ مواقع فی الحال صرف پی آئی اے میں ہوتے ہیں۔ حال میں نجی شعبے میں فضائی کمپنیوں کے قیام کی اجازت دی گئی ہے۔ مال برداری کے لیے شاہین ایئر لائنز نے کام شروع کر دیا ہے جب کہ شمالی علاقوں اور ممکنہ طور پر ایک بین الاقوامی روٹ پر آغا خان ایئر لائنز کام کرے گی۔ توقع کی جاسکتی ہے کہ مستقبل میں ملک میں نجی شعبے میں دیگر فضائی کمپنیاں اس میدان میں آجائیں گی اور ہوا بازوں کے لیے ملازمت کے مواقع بڑھ جائیں گے۔
پی آئی اے کی ملازمت اور تربیت کے بارے میں تفصیلات درج ذیل ہیں:
کام کی نوعیت
ہوا باز کو پرواز کے مقررہ وقت سے ایک گھنٹہ پہلے ڈیوٹی کے لیے رپورٹ کرنا ہوتا ہے تاکہ وہ پرواز کے منصوبے (فلائٹ پلان) کے بارے میں ہدایات وصول کرسکے۔ پرواز کے منصوبے میں جو اہم باتیں شامل ہیں ان میں پرواز کا راستہ، پرواز کے آغاز اور اختتام کے وقت طیارے کا وزن اور پرواز کے دوران مختلف مرحلوں پر طیارے کی بلندی شامل ہے۔ پرواز کا منصوبہ، موسم کی حالت، درجہء حرارت، ہوا کے دباؤ اور رفتار، منزل کا فاصلہ، ایندھن کی ضروریات اور پرواز کے راستے کے سیاسی حالات کو پیشِ نظر رکھ کر مرتب کیا جاتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں ماحولیات کے قوانین بھی اس پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
بالعموم تمام حسابات کمپیوٹر کی مدد سے کیے جاتے ہیں لیکن ہوا باز کے لیے ضروری ہے کہ وہ تمام اعداد و شمار اور معلومات کو سمجھنے کا اہل ہو اور دورانِ پرواز موسم یا دیگر امور میں کسی فوری رد و بدل کے نتیجے میں پرواز کے منصوبے میں حالات کے مطابق ترمیم کرسکے۔ ہوائی اڈے سے طیارے کے پرواز کرنے کے بعد فیصلے کرنے کی ذمہ داری ہوا باز کی ہوتی ہے۔
پرواز کے آغاز (ٹیک آف) سے پہلے ہوا باز اور اس کا معاون، طیارے کے تمام آلات اور پرواز کے نظام کی جانچ کرتے ہیں۔ پرواز کے نازک مرحلے دو ہوتے ہیں۔ ایک رن وے سے ہوا میں بلند ہونا (ٹیک آف) اور دوسرا ہوائی اڈے پر اترنا۔ ہوا باز ان دونوں مواقع پر اپنے تجربے اور مہارت سے کام لیتے ہیں۔جدید طیاروں میں بعض پروازوں میں نیوی گیٹر اور فلائٹ انجینئر نہیں ہوتے اس لیے ہوا باز کو ہر وقت مستعد رہنا ہوتا ہے اور طیارے کو خود کار نظام (آٹو پائلٹ) پر رکھنے کے باوجود تمام آلات کی درست کارکردگی کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ دورانِ پرواز کوئی معمولی خرابی پیدا ہونے پر اس کی مرمت بھی کرسکے۔ پرواز کے دوران ہوا باز کا کسی نہ کسی ایئر ٹریفک کنٹرولر سے ریڈ یائی رابطہ رہتا ہے جو انھیں موسمی کیفیات سے باخبر رکھتا ہے اور اطلاعات فراہم کرتا ہے۔ ہوا باز ان اطلاعات کی بنیاد پر پرواز کے منصوبے میں رد و بدل کرتا ہے لیکن اسے ہر صورت میں ایئر ٹریفک کنٹرولر کی ہدایات کی پابندی کرنی ہوتی ہے۔
عام طور پر طیارے کے فلائٹ ڈیک پر دو ہوا بازوں کی گنجائش ہوتی ہے لیکن بعض بڑے طیاروں میں تین ہوا بازوں کی گنجائش بھی ہوتی ہے۔ کپتان طیارے کا مکمل طور پر ذمہ دار ہوتا ہے اور پرواز کے دوران عملے کے ہر فرد اور مسافروں کو کپتان کے احکامات اور ہدایات کی پابندی کرنا ہوتی ہے۔ معاون ہوا باز، کپتان کی مدد کرتا ہے۔ پرواز کے دوران طیارے کے مواصلاتی نظام کے ذریعے کپتان یا معاون ہوا باز طیارے کے دوسرے عملے (کیبن کریو) سے رابطہ رکھتا ہے اور پرواز کے بارے میں مسافروں کو بھی اطلاعات فراہم کرتا ہے، کبھی کبھی کپتان یا ہوا باز مسافروں کے حصے میں بھی چکر لگاتا ہے۔
پرواز کے اختتام پر طیارے کے انجن بند کر دیے جاتے ہیں اور پرواز کے بارے میں ایک تفصیلی رپورٹ تحریر کی جاتی ہے جس میں دورانِ پرواز پیش آنے والے مسائل یا دشواری مثلاً کسی آلے کی ناقص کار کردگی کا احوال ہوتا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

کیریر پلاننگ کے اہم نکات

اپنا جائزہ لیں اور خود کو جانیں اپنے اندر کی شخصیت کا جائزہ لیجیے۔ اپنے …