صفحہ اول » بلاگ » کمرشل پائلٹ

کمرشل پائلٹ

ماحول کار
ہوا باز کو فرائض کی ادائیگی کے دوران طویل عرصے تک فلائٹ ڈیک کی محدود اور تنگ جگہ میں ایک ہی نشست پر بیٹھنا ہوتا ہے۔ پروازوں کے نظام (فلائٹ شیڈول) سفر کی طوالت یا ناگزیر حالات کی وجہ سے ہوا بازوں کو اکثر اوقات بیرونِ ملک کسی ہوٹل میں یا واپسی کی پرواز کی صورت میں ہوائی اڈے پر ہی قیام کرنا ہوتا ہے۔ ہوا باز واپسی کے سفر میں ایک مسافر کی حیثیت سے بھی سفر کرسکتا ہے اور ہوا باز کی حیثیت سے بھی۔ بعض ہوائی کمپنیاں ہوا بازوں پر پابند ی عائد کرتی ہیں کہ وہ اپنے وطن میں ہوائی اڈے سے ایک مقررہ فاصلے کے اندر رہائش اختیار کریں۔
ذاتی خصوصیات
ہوا بازی ۔۔۔نہایت ذمہ داری کا پیشہ ہے۔ طیارے اور مسافروں کی سلامتی کا دار و مدار ہوا باز کی مہارت اور قوتِ فیصلہ پرہوتا ہے۔ ہوا باز کے لیے اوّلین ذاتی خصوصیت۔۔۔ خود اعتمادی ہے۔ اسے قائدانہ صلاحیتوں کا مالک ہونا چاہیے۔ دوسروں کے ساتھ مل کر کام کرنا اور حکم دینا اور احکام پر عمل کرانا اس کے کام کا حصہ ہوتا ہے۔
ہوا باز کو پرسکون مزاج اور ہنگامی حالت میں صورتِ حال کو اپنے ہاتھوں میں لے کر اِس سے سلیقے سے نمٹنے کا اہل ہونا چاہیے۔ ہنگامی حالات کبھی کبھی پیش آتے ہیں اور متوقع ہنگامی صورتِ حال کے لیے ہوائی کمپنیوں نے قاعدے اور ضابطے مقرر کر رکھے ہیں لیکن ایسی کسی بھی صورتِ حال میں آخری فیصلہ کپتان کو کرنا ہوتا ہے۔
ابلاغ کی مہارت نہایت ضروری ہے۔ دورانِ پرواز ہوا باز کا زیادہ وقت ایئر ٹریفک کنٹرولر سے ریڈیو پر گفتگو اور ہدا یات لینے میں صرف ہوتا ہے۔ کسی ہدایت کو درست طورپر نہ سمجھنے کے نتیجے میں تباہ کن حادثے کا خطرہ ہوسکتا ہے۔ غیر معمولی حالات میں مسافروں کے ساتھ معاملات میں بھی ہوا باز۔۔۔خصوصاً کپتان میں یہ صلاحیت ہونی چاہیے کہ وہ مسافروں میں خود اعتمادی بحال کرے۔ ہر پرواز کے اختتام پرتحریر کی گئی رپورٹ واضح اور جامع ہونی چاہیے۔
پیشہ ورانہ ٹیکنیکی مہارت
آنکھوں اور ہاتھوں اور آنکھوں اور پاؤں کی حرکتوں کے درمیان درست تعلق ضروری ہے۔ اچھی صحت اور جسمانی موزونیت لازمی ہیں۔ داخلے کے وقت اور ملازمت کے دوران مقررہ وقفوں سے ہوا باز کی طبی اور جسمانی موزونیت کی جانچ ہوتی رہتی ہے۔طبی اور جسمانی طور پر کسی بھی نقص کی صورت میں ہوا باز کو پرواز سے روک دیا جاتا ہے۔
تربیت
پاکستان میں ہوا بازوں کے لیے کام کے سب سے زیادہ مواقع قومی ایئر لائن پی آئی اے فراہم کرتی ہے۔ پی آئی اے کو جب بھی ضرورت ہوتی ہے، اخبارات میں اشتہار کے ذریعے ’’کیڈٹ پائلٹ‘‘ کے لیے درخواستیں طلب کی جاتی ہیں۔ صرف وہ امیدوار درخواستیں دینے کے اہل ہوتے ہیں جن کی تعلیمی قابلیت انٹرمیڈیٹ ہو اور جو کمرشل پائلٹ کا لائسنس یا انسٹرومنٹ ریٹنگ کی قابلیت رکھتے ہوں۔ عمر کی حد بالعموم 30سال اور کبھی 35سال ہوتی ہے۔ زیادہ عمر کے امیدواروں کے لیے پرواز کے مجموعی گھنٹوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔
دوران تربیت وظیفہ
دورانِ تربیت بیرونِ کراچی امیدواروں کو مفت رہائش اور کھانے کے ساتھ ایک ہزار روپے ماہانہ اور کراچی میں مقیم امیدواروں کو 2500روپے ماہانہ وظیفہ دیا جاتا ہے۔ تربیت کی کامیاب تکمیل کے بعد پی آئی اے کے قواعد ملازمت کے تحت تنخواہ مقرر کی جاتی ہے۔
انتخاب کا طریقہ
کیڈٹ پائلٹ کے لیے اہل امیدواروں کو درج ذیل امتحانات سے گزرنا ہوتا ہے:
1۔کمرشل پائلٹ لائسنس/انسٹرومنٹ ریٹنگ کے لیے مقررہ نصاب میں سے تحریری ٹیکنیکی امتحان
2۔امیدواروں کا انٹرویو
3۔نفسیاتی موزونیت کا امتحان
4۔پی آئی اے کے میڈیکل بورڈ سے کامیابی
شرائط
تربیت مکمل کرنے کے بعد منتخب امیدواروں کو ایک سال کی آزمائشی مدت پر ملازم رکھا جاتا ہے۔ اس دوران اگر امیدوار سول ایوی ایشن اتھارٹی اور پی آئی اے کے مطلوبہ معیارات، کامیابی سے حاصل کرلے تو اس کی ملازمت مستقل کردی جاتی ہے۔ امیدواروں کو دورانِ ملازمت پی آئی اے کی ضرورت کے مطابق کسی بھی جگہ تعینات کیا جاسکتا ہے۔ تربیت مکمل کرنے کے بعد منتخب امیدواروں کو یہ ضمانت دینی ہوتی ہے کہ اگر وہ دس سال کے عرصے سے پہلے پی آئی اے کی ملازمت ترک کریں گے تو انھیں تربیت کے تمام اخراجات ادا کرنے ہوں گے (مزید تفصیلات کے لیے پی آئی اے کے منیجر ایمپلائمنٹ سے رجوع کیجیے۔ پتا مضمون کے آخر میں دیکھیے)۔
تنخواہیں
پی آئی اے میں کیڈٹ پائلٹ کی حیثیت سے تربیت مکمل کرنے کے بعد جب ایک ہوا باز باقاعدہ ملازمت اختیار کرتا ہے تو ابتدا ہی میں اسے مجموعی طور پر تقریباً 15 ہزار روپے تنخواہ ملتی ہے۔ تنخواہ میں سالانہ اضافے کی شرح 750روپے ہے۔ اس کے علاوہ ہر پرواز پر ’’فلائنگ الاؤنس‘‘ ملتا ہے۔جو بیرونِ ملک پرواز کی صورت میں ایک سے تین ڈالر فی گھنٹہ ہوتا ہے۔ چھ سال کی ملازمت کے بعد اگلے گروپ میں ترقی ملنے پر مجموعی تنخواہ تقریباً 20ہزار روپے ماہانہ ہوجاتی ہے اور سالانہ اضافے کی شرح 12 سو روپے ہوتی ہے۔
30`25 سالہ تجربے کے حامل ہوا باز 70سے 80ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پاتے ہیں۔ پی آئی اے میں ہوا بازوں اور ان کے اہلِ خانہ کو علاج معالجے کی مفت سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ رہائش سے ایئر پورٹ تک آمدورفت کی سہولت بھی مہیا کی جاتی ہے۔
جب ایک ہوا باز پرواز لے کر کسی دوسرے مقام پر جاتا ہے تو یہ بھی ممکن ہے کہ وہی اس پرواز کو واپس لے کر آئے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس کا فرض اس مقام تک پرواز کے پہنچنے پر پورا ہوگیا ہو، اس صورت میں اس دوسرے شہر(ملک) میں طعام اور قیام کی سہولت اور واپسی کا ٹکٹ فضائی کمپنی کی طرف سے فراہم کیا جاتا ہے۔ پائلٹ کی باوقار یونی فارم میں آستینوں پر چار سنہری پٹیاں ہوا باز کی شناخت ہوتی ہیں۔
ہوا بازی کے پیشے میں ایک سب سے بڑی دلچسپی یہ ہوتی ہے کہ ہوا باز اپنے فرائض کی ادائیگی کے ساتھ پوری دنیا گھوم لیتے ہیں، نئے نئے شہروں میں قیام کرتے ہیں، شاپنگ کرتے ہیں اور ایک طرح سے بین الاقوامی شہری بن جاتے ہیں، کیوں کہ ہر اس شہر میں جہاں ان کا طیارہ قیام کرتا ہے ،ان کے دوست موجود ہوتے ہیں۔
حالاتِ کار
ہوا بازی نہایت ذمہ داری کا پیشہ ہے۔ ذمہ داری کے ساتھ ساتھ ہوا بازوں کو نہایت پرکشش تنخواہیں اور دیگر مراعات اور سہولتیں فراہم کی جاتی ہے۔ ماہر اور تجربہ کار ہوا بازوں کے لیے نہ صرف اپنے ملک کے اندر بلکہ غیر ملکی فضائی کمپنیوں میں بھی ملازمت کے مواقع موجود ہوتے ہیں۔
ہوا بازوں کو وقتاً فوقتاً اپنا طبی معائنہ کرانا ہوتا ہے اور معیاد ختم ہونے پر اپنے لائسنس کی تجدید کرانا ہوتی ہے۔ بیرون ملک پروازوں میں انھیں اعلیٰ درجے کے ہوٹلوں میں قیام کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ گھر سے ایئر پورٹ اورا یئر پورٹ سے گھر تک ٹرانسپورٹ کی سہولت مہیا ہوتی ہے۔
طیاروں کی مختلف اقسام اور ان کی گنجائش کے لحاظ سے ہر قسم کے طیارے کے ہوا باز مختلف ہوتے ہیں۔ ایک چھوٹے طیارے کے بعد بڑے طیارے کو اڑانے کے لیے ہوا باز کو اس خاص طیارے کے اڑانے کا امتحان کامیاب کرنا ہوتا ہے۔ فوکر طیارے کے بعد بوئنگ 707 اس کے بعد 737، پھر اے ۔۔۔300 اور اس کے بعدبوئنگ 747 پی آئی اے کے ہوا بازوں کی ترقی کے مدارج ہیں۔
1۔ایرو کلب، کراچی 3۔لاہور فلائنگ کلب
301، جنرل ایوی ایشن ایریا پی او والٹن، لاہور
قائد اعظم انٹرنیشنل ایئرپورٹ، کراچی ۴۔راولپنڈی فلائنگ کلب
2۔شون فلائنگ کلب۔ شون ایئر لمیٹڈ پی او بکس 74،راول پنڈی
جنرل ایوی ایشن ایریا، 5۔ملتان فلائنگ کلب
قائد اعظم انٹرنیشنل ایئر پورٹ، کراچی سول ایرو ڈرم، ملتان

یہ بھی دیکھیں

کیریر پلاننگ کے اہم نکات

اپنا جائزہ لیں اور خود کو جانیں اپنے اندر کی شخصیت کا جائزہ لیجیے۔ اپنے …