صفحہ اول » تجارت » بینکاری ایک دلچسپ، ہمہ جہت اور نہایت سرگرم شعبہ ہے

بینکاری ایک دلچسپ، ہمہ جہت اور نہایت سرگرم شعبہ ہے

بینکاری یا بینکنگ ایک دلچسپ، ہمہ جہت اور نہایت سرگرم شعبہ ہے، جو مالیاتی امور اور لین دین سے دلچسپی رکھنے والے نوجوان کے لیے د لچسپی کا باعث ہے۔
بینک کا سب سے اہم کام کھاتے داروں کی رقوم کی دیکھ بھال کرنا، اس کا حساب رکھنا، رقوم کے تبادلے کرنا ،سکے اور نوٹ فراہم کرنا اور لوگوں کو ان کی ضرورت پر قرضے مہیا کرنا ہے۔ ان خدمات کے علاوہ بینک شہریوں کو زرِمبادلہ فراہم کرتے ہیں، ٹریول چیکس مہیا کرتے ہیں، رہن کے انتظامات کرتے ہیں ،اپنے کھاتے داروں کی طرف سے وصیتوں کے منتظم اور امانت دار کے فرائض انجام دیتے ہیں ہر نوعیت کے مالیاتی امور پر مشورے فراہم کرتے ہیں پاکستان میں بینک ، بجلی گیس ٹیلی فون وغیرہ کے بل بھی جمع کرتے ہیں۔
پورے ملک میں بینکوں کی شاخوں کا جال بچھا ہوتا ہے۔ بینک کی ہر شاخ اپنی جگہ ایک مکمل یونٹ ہوتی ہے جو اپنے عملے کی مدد سے مقامی کھاتے داروں کی ضروریات پوری کرتی ہے۔ بینک کے کھاتے داروں میں فرد، شرکا اور صنعتی اور کاروباری ادارے، د کان دارشامل ہوتے ہیں۔
مقامی شاخوں کے علاوہ بینکوں کے بین الاقوامی ڈویژن اور شاخیں بھی ہوتی ہیں جو دنیا ک ے بڑے مالیاتی/کاروباری شہروں کی کمپنیوں اور اداروں سے متعلق ہوتی ہیں۔ یہ غیر ملکی شاخیں بین الاقوامی نوعیت کی تجارت میں سرمایہ کاری کرتی ہیں زرمبادلہ کی مارکیٹ میں معاملات طے کرتی ہیں، ایک ملک سے دوسرے ملک میں رقوم کا تبادلہ کرتی ہیں اور دنیا کی مختلف کرنسیوں میں ادائیگیاں کرتی ہیں۔
پاکستانی بینکوں کی بیرونِ ملک شاخیں، سمندر پار مقیم پاکستانیوں کی رقومات کی ترسیل کا اہم ذریعہ ہیں۔
تجارتی بینک، کاروباری ادارو ں کو ان کی ضرورت کی خدمات مہیا کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ یہ بینک تجارتی/کاروباری اداروں کو مختلف مالیاتی امور پر مشورہ فراہم کرتے ہیں جن میں سرمائے کا اجرا، مالیاتی ڈھانچہ، حصول زر، ٹیک اوور اور انضمام کے معاملات شامل ہیں۔
تجارتی بینکوں کی دیگر سرگرمیوں میں سونے کے معاملات، جہاز رانی، انشورنس بروکنگ، تجارتی اشیا کی خرید و فروخت اور حصص کی رجسٹریشن کے امور شامل ہیں۔

کام کی نوعیت

بینک کی ایک چھوٹی سی شاخ سے صدر دفتر تک، ہر بینک کا ایک انتظامی ڈھانچہ ہوتا ہے جس میں محافظ (گن مین) سے بینک کے سربراہ تک ہر سطح اور ہر صلاحیت کے افرادمل جل کر کام کرتے ہیں۔
بینک کی شاخ یا برانچ، کسی بھی بینک کا سب سے اہم اور عملی یونٹ ہے اور بینکاری کے ڈھانچے کابنیادی عنصر ہے۔ بینک کی ایک شاخ میں برانچ منیجر، شاخ کا سربراہ ہوتا ہے جو اپنے افسروں اور دوسرے ماتحت عملے کی ٹیم کے ساتھ اپنے کھاتے داروں اور اپنے بینک کے مفادات کا خیال رکھتا اور بینکاری کی خدمات مہیا کرتا ہے۔

بینک منیجر/برانچ منیجر

برانچ منیجر اپنے کھاتے داروں کی مالیاتی ضرورت سے واقف رہتے ہوئے انھیں حسبِ ضرورت مشاورت اور مدد فراہم کرتا ہے۔ ایک اچھا اور سرگرم منیجر ہر وقت اپنی برانچ میں موجود نہیں رہتا بلکہ اس کا آدھا وقت کاروباری/تجارتی شعبے کے لوگوں سے ملاقاتوں میں اور ان سے مالیاتی معاملوں پر گفتگو میں صرف ہوتا ہے۔
برانچ منیجر کا بنیادی کام اپنی برانچ کو بلا کسی رکاوٹ کے ، منافع بخش طور پر چلانا اور قرضے مہیا کرنے کے بارے میں اہم فیصلے کرنا ہے۔ بینک کی مین برانچ شہر کے اہم اور بڑے کھاتے داروں کی دیکھ بھال کرتی ہے۔ بڑی برانچوں میں، ان کے کھاتے داروں کی تعداد اور مالی حیثیت کے مطابق زیادہ عملہ ہوتا ہے، جس میں انتظامی شعبے کے ماہرین بھی شامل ہوتے ہیں۔ یہ افسران بڑے قرضوں کے بارے میں فیصلے کرتے ہیں، بینک کے کاروبار کو بڑھانے کے نئے طریقے دریافت کرتے ہیں اور اپنے کھاتے داروں کے مالیاتی امور پر ماہرانہ مشورہ فراہم کرتے ہیں۔
چھوٹے شہروں اور قصبوں کی شاخوں میں کام کی نوعیت قدرے مختلف ہوتی ہے۔ ان شاخوں میں عملہ بھی کم ہوتا ہے اور کھاتے داروں کو مہیا کی جانے والی خدمات بھی محدود نوعیت کی ہوتی ہیں۔
قرضہ مہیا کرنا بینک کا ایک اہم کام ہے،خواہ قرضے کی رقم چھوٹی ہو یا بڑی، بینک منیجر قرضہ طلب کرنے والے کی ضروریات کا جائزہ لیتا ہے، نقصان کے امکانات کو پیشِ نظر رکھتا ہے اور کاروبار کی قدر و قیمت کو مدِنظر رکھ کر، معقول ضمانتیں حاصل کرتا ہے۔
برانچ منیجروں کے علاوہ بینکوں میں اسپیشلسٹ منیجر بھی ہوتے ہیں، جو صدر دفتر یا زونل دفاتر میں رہتے ہوئے، مخصوص کھاتے داروں کو کسی خاص انتظامی یا مالیاتی شعبے میں، ان کی ضرورت کی ماہرانہ خدمات مہیا کرتے ہیں۔ ان میں امانتوں کی دیکھ بھال (ٹرسٹی ورک) سرمایہ کاری کے انتظامات اور ٹیکس کے معاملے خاص ہوتے ہیں۔

ذاتی خصوصیات

دیانت داری اور ذمہ داری کا احساس۔۔۔بینکاری کے پیشے کی بنیادی خصوصیات ہیں۔ حسابی ذہن اور اعداد و شمار سے دلچسپی ضروری ہے۔ چوں کہ اس پیشے میں ہر سطح اور ہر طبقے کے افراد سے واسطہ پڑتا ہے، اس لیے گفتگو کی صلاحیت اور اپنی بات واضح طور پر بیان کرنے کا سلیقہ آنا چاہیے۔ خوش مزاجی ، خوش گفتاری اور حسنِ اخلاق، بینکاری کو کھاتے داروں اور رفقائے کار میں مقبول اور پسندیدہ بناسکتی ہیں۔
مجلسی آداب سے واقف، خوش ذوق اور خوش لباس حضرات بینک منیجر، اہم شاخوں اور صدر دفتر میں بڑے کھاتے داروں سے معاملات میں کامیاب رہتے ہیں۔

ماحولِ کار

بینک کی شاخیں مختلف نوعیت کی ہوتی ہیں جہاں کام کا مختلف ماحول ملتا ہے۔ بڑے شہروں کے اہم تجارتی، کاروباری مراکز میں واقع شاخیں کشادہ، صاف ستھری، کمپیوٹر ، خود کار مشینوں اور آلات سے لیس ہوتی ہیں۔ کھاتے داروں کے لیے کاؤنٹر بنے ہوتے ہیں اور شیشے کی دیوار کے پیچھے رہتے ہوئے عملہ انھیں خدمات مہیا کرتا ہے۔ حفاظتی انتظامات کے لیے خود کار کیمرے، الارم اور دیگر آلات نصب ہوتے ہیں۔ چھوٹے شہروں یا قصبوں میں برانچ کا رقبہ بھی کم ہوتا ہے اور عملہ بھی آٹھ دس افراد پر مشتمل ہوتا ہے جب کہ دور دراز علاقوں میں بینک کی شاخ کا عملہ تین یا چار افراد تک محدود ہوتا ہے اور اسی اعتبار سے شاخ بھی مختصر ہوتی ہے جہاں بڑے شہروں کی سی آسائش اور سہولت کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔
بینکوں کی شاخیں اندرونِ ملک اور بیرون ملک ہر جگہ ہوتی ہیں، اس لیے افسروں اور ملازمین کو گھر سے دور بھی متعین کیا جاسکتا ہے۔
بینک کی شاخ کو کامیابی سے چلانے کے لیے شاخ کے افسروں اور کارکنوں کے درمیان ہم آہنگی بہت ضروری ہوتی ہے۔ چوں کہ بینکاری ایک ایسا شعبہ ہے، جو لوگوں کو خدمت فراہم کرتا ہے اس لیے خوش مزاجی اور خوش گفتاری کی ضرورت پیش آتی ہے۔

داخلے کے لیے اہلیت اور تعلیمی ادارے

بینکاری کے شعبے میں بہ طور افسر داخل ہونے کے لیے بنیادی قابلیت گریجویشن ہے۔ کامرس کالجوں سے بی کام کی سند حاصل کرکے فارغ ہونے والے نوجوانوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔ دوسرے پیشوں میں مسابقت کے بڑھتے ہوئے رجحان کی طرح بینکاری میں بھی مقابلہ روزبہ روز سخت ہوتا جا رہا ہے۔ پورے تعلیمی کیریئر میں فرسٹ ڈویژن حاصل کرنے والوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔ بینکاری کے شعبے میں آنے والے نوجوان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی تعلیمی زندگی کے کسی بھی مرحلے میں فیل نہ ہوا ہو۔
پاکستان میں کامرس کی تعلیم کے 25 سے زیادہ کالج موجود ہیں۔
1۔ہیلی کالج آف کامرس، لاہور 2۔اسلامیہ کامرس کالج ، لاہور
3۔ہاشمی میموریل کالج آف کامرس، لاہور 4۔میونسپل کمیٹی کالج آف کامرس،
5۔سچل سرمست کالج آف کامرس، حیدر آباد 6۔سندھ گورنمنٹ کامرس کالج، حیدرآباد
7۔ پیپلز گورنمنٹ کامرس کالج، کراچی 8۔گورنمنٹ کالج آف کامرس اینڈ اکنامکس،
9۔اسلامیہ کامرس کالج، کراچی ،کراچی
10۔اسلامیہ کامرس کالج، سکھر 11۔سندھ مسلم کامرس کالج، کراچی
12۔گورنمنٹ کالج آف کامرس،پشاور 13۔قائد اعظم کامرس کالج، پشاور
14۔گورنمنٹ کالج آف کامرس، ایبٹ آباد 15۔گورنمنٹ کالج آف کامرس ڈیرہ
16۔وفاقی گورنمنٹ کالج آف کامرس، اسلام آباد اسماعیل خان،
18۔گورنمنٹ کالج آف کامرس، ملتان 17۔گورنمنٹ کالج آف کامرس، سرگودھا
19۔گورنمنٹ کالج آف کامرس، بہاولپور 20۔گورنمنٹ کالج آف کامرس، کوہاٹ
21۔گورنمنٹ کالج آف کامرس، راولپنڈی 22۔گورنمنٹ کمرشیل کالج، بنوں
23۔گورنمنٹ کالج آف کامرس تھانا 24۔گورنمٹ کامرس کالج، چترال
25۔گورنمنٹ کامرس کالج، مردان

تربیتی پروگرام

بینکاری کے شعبے میں نوجوانوں کو بہ طور ٹرینی افسر لیا جاتا ہے۔ ٹرینی آفیسر کی حیثیت سے منتخب ہونے کے بعد افسران کو بینکوں کے قائم کردہ تربیتی مراکز میں کم از کم ۱ سال کی تربیت سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہ تربیت مختلف مراحل میں ہوتی ہے۔ یہاں ان کو اکاؤنٹنگ، بینکاری کے قوانین معاشیات اور زرِمبادلہ کے قوانین جیسے اہم مضامین پڑھائے جاتے ہیں۔ یہ تربیت عام کالجوں کی پڑھائی سے قدرے مختلف ہوتی ہے اور اس میں طریقہء تدریس، زیادہ تر شمولیت کا ہوتا ہے یعنی تربیت یافتہ اور زیر تربیت افراد مل جل کر ایک دوسرے سے سیکھتے اور سکھاتے ہیں، اس طرح صرف کتابوں میں لکھی ہوئی باتوں سے ہٹ کر نئے رجحانات اور نئے خیالات کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔
اس تربیتی پروگرام میں عملی تربیت کا بھی اہتمام ہوتا ہے جس میں بینکوں کی مختلف برانچوں اور آفسز میں عملی تربیت دی جاتی ہے۔ یہاں بھی کوشش یہی ہوتی ہے کہ زیر تربیت افسر خود کسی چیز کا مشاہدہ کرے اور عملی میدان میں پیش کرنے والی مشکلات کا براہِ راست سامنا کرے گا کہ وہ اس سے نبرد آزما ہونے کی بھی تربیت حاصل کرسکے۔ تربیت کے اس پروگرام میں معمولی معمولی کام مثلاً ٹوکن جاری کرنا، دستاویزات فائل کرنا اور مختلف نوعیت کے کلریکل کام شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تربیت مکمل ہونے کے بعد جب ایک افسر باقاعدہ برانچ میں متعین ہوتا ہے تو خود کو اس قابل سمجھتا ہے کہ وہ اپنے سینئرز کے ساتھ مل کر ترقی کی شاہراہ پر اپنا سفر بہ خیر و خوبی طے کرسکے گا۔

سہولتیں اور تنخواہیں

پاکستان میں بینکاری کی صنعت قومی تحویل میں لیے جانے کے بعد سے سرکاری شعبے کے تحت کام کر رہی ہے۔ ملازمت کے تحفظ کے ساتھ اس پیشے کے افراد کو مکان اور دیگر ذاتی ضرورت کے لیے آسان اقساط کے نرم قرضے، خاندان کے لیے علاج کی سہولت، سالانہ اور دیگر عام چھٹیاں اور ملازمت سے سبک دوش ہونے پر پینشن کی سہولت حاصل ہے۔

ترقی کے امکانات

بینکاری فنی نوعیت کا پیشہ ہے۔ اس پیشے کو اختیار کرنے کے بعد ترقی کے چند مرحلے تو اطمینان بخش کارکردگی اور تجربے کے ساتھ طے ہوجاتے ہیں لیکن مزید آگے بڑھنے کے لیے بینکاری کے شعبے کے خصوصی امتحانات کامیاب کرنے ضروری ہیں۔
پاکستان میں بینکاری کی صنعت کو جنوری 1974ء میں قومی تحویل میں لے لیا گیا تھا لیکن اب نج کاری پالیسی کے تحت بینکوں کو نجی شعبے کے سپرد کیا جا رہا ہے جو بینک سرکاری شعبے میں ہیں، وہاں ملازمت کے تحفظ کے ساتھ ملازمین کو مکان اور دیگرذاتی ضروریات کے لیے آسان اقساط پر قرضے ، خاندان کے لیے علاج کی سہولت، سالانہ اور دیگر عام چھٹیاں اور ملازمت سے سبک دوشی پر پینشن کی سہولت حاصل ہے۔ نجی اور غیر ملکی بینکوں میں اور دیگر مالیاتی اداروں میں بھی پرکشش تنخواہیں اور مراعات دی جاتی ہیں۔

مواقع

پاکستان میں اس وقت متعدد تجارتی بینک کام کر رہے ہیں۔ جن میں1۔حبیب بینک لمیٹڈ2۔نیشنل بینک آف پاکستان3۔یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ4۔مسلم کمرشل بینک 5۔الائیڈ بینک آف پاکستان 6۔بینک آف پنجاب لمیٹڈ 7۔فرسٹ ویمن بینک 8۔پرائم بینک 9۔انڈس بینک 10۔ مہران بینک 11۔ بولان بینک12 ۔ بینک الحبیب لمیٹڈ 13۔ سونیری بینک 14۔عسکری کمرشل بینک 15۔ بینک آف خیبر16۔ یونین بینک 17۔التوفیق بینک۔
ان تجارتی بینکوں کے علاوہ زرعی ترقیاتی بینک اور صنعتی ترقیاتی بینک بھی قومی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں ۔ بینکوں کے علاوہ مالیاتی ادارے مثلاً این ڈی ایف سی، این آئی ٹی، ادارہ قومی بچت، پک اک، آئی سی پی، آر ڈی ایف سی وغیرہ میں بھی بینکنگ کے شعبے کے افراد فرائض انجام دیتے ہیں۔
ان بینکوں میں حساب ضرورت پروبیشنریآفیسرز کیلیے نوجوان گریجویٹس سے درخواستیں طلب کی جاتی ہیں۔
قومی بینکوں کے علاوہ پاکستان میں مختلف غیر ملکی بینکوں کی متعدد شاخیں مصروفِ عمل ہیں۔ یہ بینک بھی چند اہم انتظامی عہدوں کے علاوہ اپنے عملے کی ضرورت مقامی طور پر پوری کرتے ہیں لیکن بالعموم ان بینکوں میں بینکاری کا اچھا تجربہ رکھنے والے افراد کو ملازمت کی پیش کش کی جاتی ہے۔
بینکاری کے پیشے کے بارے میں مزید معلومات کے لیے درج ذیل اداروں سے رابطہ کیجئے:
1۔انسٹی ٹیوٹ آف بینکرز اِن پاکستان 5۔ یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ
مولوی تمیز الدین خان روڈ کراچی آئی آئی چندریگر روڈ۔ کراچی
2۔پاکستان بینکنگ کونسل 6۔مسلم کمرشل بینک
حبیب بینک پلازہ آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی آدم جی ہاؤس آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی
3۔نیشنل بینک آف پاکستان 7۔الائیڈ بینک آف پاکستان
آئی آئی چندریگر روڈ کراچی آئی آئی چندریگر روڈ ،کراچی
4۔حبیب بینک لمیٹڈ 8۔ویمن بینک
حبیب بینک پلازہ، آئی آئی چندریگر روڈ ،کراچی مولوی تمیز الدین خان روڈ، کراچی
9۔بینک آف پنجاب، لاہور

یہ بھی دیکھیں

کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاؤنٹینٹ کا پیشہ اچھے مستقبل کی ضمانت

حالیہ تجارتی ترقی نے زندگی کے ہر شعبے کو وسعت دی ہے۔ اس سے کاروباری …