صفحہ اول » اسکول کے دور کی اہمیت » اسکول کی تعلیم اور آپ کا مستقبل

اسکول کی تعلیم اور آپ کا مستقبل

پانچویں جماعت کا امتحان کامیاب کرکے جب طالب علم مڈل یا سیکنڈری اسکول میں داخل ہوتا ہے تو اس کی زندگی کا نہایت اہم مرحلہ شروع ہو جاتا ہے۔

پرائمری اسکول میں آپ نے جو کچھ سیکھا ہوتا ہے۔ مڈل یا سیکنڈری اسکول میں، علم حاصل کرنے اور سیکھنے کا یہ کام جاری رہتا اور آگے بڑھتا ہے۔ 12سے 16 سال کی عمر کا انسان، بچپن سے نکل کر لڑکپن اور نوعمری کے دور میں داخل ہورہا ہوتا ہے۔ اس کے ذہن اور جسم میں آہستہ آہستہ تبدیلیاں آرہی ہوتی ہیں اور بلوغت کے آغاز کے ساتھ جذباتی مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔ (نوعمری کے دور کے بارے میں مضامین کے لیے صفحہ 137دیکھیے)۔
مڈل اور سیکنڈی اسکول کی تعلیم کے دوران آپ کو اس بات پر توجہ دینی چاہیے کہ یہاں آپ جو کچھ پڑھیں گے اور سیکھیں گے اس کا اثر آپ کی مستقبل کی زندگی پر پڑے گا۔ سادہ الفاظ میں یوں سمجھیے کہ سکنڈری اسکول میں آپ جن مضامین کا انتخاب کریں گے وہ آگے چل کر آپ کی پیشہ ورانہ زندگی اور آپ کے پیشے کا تعین کریں گے۔ مڈل اور سیکنڈری اسکول کی تعلیم کے دوران نوعمر طلبہ و طالبات، علم کے ساتھ کچھ ہنر اور مہارتیں بھی سیکھ رہے ہوتے ہیں۔ یہاں ان میں خوداعتمادی اور ذاتی وقار کا احساس پیدا ہوتا ہے اور ان کے رویے مستقبل کی شخصیت بنا رہے ہوتے ہیں۔

بارہ سے سولہ سال کی عمر کے دوران بچے اسکول میں جو کچھ پڑھ اور سیکھ رہے ہوتے ہیں اس سے ان کی سوچ اور خیالات میں تبدیلی آرہی ہوتی ہے۔ اب وہ اپنی اہمیت کو جان رہے ہوتے ہیں اور زندگی کی سماجی مہارتیں سیکھنے کے ساتھ ایسے روّیے اپنا رہے ہوتے ہیں جو عملی زندگی میں کام کرنے اور بڑے ہوکر اچھی قدریں اختیار کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ اب وہ اپنی تعلیم کی ذمے داری خود لینے پر تیار ہوتے ہیں۔

مستقبل کے لیے تیار؟

اسکول کی تعلیم اور آپcareer-education-images-1 کا مستقبل مڈل اور سیکنڈری اسکول میں آپ کو مستقبل کی عملی زندگی__ یعنی ’’کام کی دنیا‘‘ کے لیے تیاری شروع کر دینی چاہیے۔ اسکول میں تعلیم کے دوران آپ جو کچھ سیکھ رہے ہوتے ہیں اس سے آپ میں خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ اب آپ کو یہ فیصلہ کرنے کے بارے میں سوچنا چاہیے کہ اپنی خوبیوں، شوق، دلچسپی اور تعلیم کی بنیاد پر آپ مستقبل میں کیا بنیں گے؟ کون سا روزگار اختیار کریں گے جو آپ کی آمدنی کا ذریعہ بھی بنے ، شوق کی تکمیل بھی ہوتی رہے اور آپ ترقی بھی کرتے رہیں۔ اس مرحلے پر آپ کو والدین، خاندان کے دوسرے بزرگوں اور اپنے دوستوں کے والدین یا کیریر کونسلر سے مشورہ کرنا چاہیے اور مدد لینی چاہیے، تاکہ آپ اپنے لیے ایسے پیشے یا پیشوں کے گروپ کا انتخاب کرسکیں جو آپ کی صلاحیت، تعلیمی قابلیت اور شوق و دلچسپی کے مطابق ہو۔
بعض بچوں کو اس کام میں مشکل پیش آسکتی ہے کہ وہ اسکول میں جو کچھ سیکھ رہے ہیں، یہاں جو رویے اور عادتیں اپنا رہے ہیں اس کا تعلق اپنے مستقبل کے کیریر سے جوڑ سکیں۔ یہ مرحلہ اس لیے اور مشکل ہو جاتا ہے کہ ہمارے یہاں اکثر اسکولوں میں کیریر گائیڈینس کی سہولتیں نہیں ہیں۔ جن بچوں کے والدین تعلیم یافتہ نہیں ہوتے انہیں اس معاملے میں گھر سے بھی کوئی خاص مدد نہیں ملتی۔ آٹھویں جماعت کے بعد صحیح مضامین کا انتخاب نہ کیا جائے توآگے جا کرپسند کا پیشہ اختیار کرنے کے مواقع کم ہو جاتے ہیں۔ صحیح معلومات نہ ملنے سے بعض طلبہ کو جو غلط فہمیاں ہوتی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ بعض پیشوں کے بارے میں یہ تعین کر لیتے ہیں کہ چونکہ وہ لڑکا یا لڑکی ہیں اس لیے یہ پیشہ ان کے لیے نہیں ہے۔ مثلاً نرسنگ کا پیشہ صرف لڑکیوں کے لیے ہوتا ہے، یا کمرشل پائلٹ تو صرف مرد ہوتے ہیں۔

آپ کیا کریں؟

1۔ مڈل اسکول (آٹھویں جماعت) کی تعلیم کے دوران اپنے خاندان، رشتے داروں، محلے، دوستوں کے خاندان میں، اسکول میں اور عام زندگی میں مختلف لوگوں کو کام کرتے ہوئے دیکھیں تو ان پر توجہ دیں اور غور کریں کہ کون سا کام آپ کو اچھا لگتا ہے، آسان نظر آتا ہے اور آپ کو کچھ یقین سا ہوتا ہے کہ ’’یہ کام کرنے میں مزا آئے گا، میں یہ کام اچھی طرح کرلوں گا۔‘‘ یہ بھی غور کریں کہ اسکول میں آپ کو کون سے مضامین پسند ہیں اور آسان لگتے ہیں ان مضامین میں جو کچھ پڑھا ہے اس کا مختلف لوگوں کے کام یا پیشے سے کوئی تعلق ہے؟

ایسے چند کاموں (پیشوں) کی فہرست بنا لیں جو آپ کو اچھے لگتے ہیں اور آپ سمجھتے ہیں کہ آپ یہ کام کرسکتے ہیں۔ ان پیشوں کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔
اس کا طریقہ یہ ہے کہ جو لوگ وہ کام کرتے ہیں ان سے سوالات پوچھیں کہ:
(الف) یہ کام کیا ہے؟
(ب) اس کے لیے کیسی تعلیم حاصل کرنی چاہیے؟
(ج) کن حالات میں کس طرح کے کام کرنے ہوتے ہیں؟
(د) اس پیشے کو اپنانے کے لیے انسان میں کیا خوبیاں، صلاحیتیں اور تعلیمی قابلیت ہونی چاہیے؟
(ہ) تنخواہیں، معاوضے کیا ہیں؟
(و) مستقبل میں اس پیشہ کی ترقی اور اس میں آگے بڑھنے کے کیا مواقع ہیں؟

یہ بھی دیکھیں

Three-Types-of-Learners

سیکھنے کے تین انداز

معلومات حاصل کرنے، حاصل ہونے والی معلومات کو سمجھنے اور اس کی مدد سے مسئلے …