صفحہ اول » جینے کے ہنر » کسی بھی ملک کی ترقی میں اپرنٹس شپ اسکیم کا کردار

کسی بھی ملک کی ترقی میں اپرنٹس شپ اسکیم کا کردار

اپرنٹس شپ اسکیم 

کسی بھی ملک اور معاشرے کی ترقی اور بقا کا انحصار تعلیم یافتہ، ہنر مند اور باشعور افراد پر ہوتا ہے۔ یہ افراد نہ صرف اپنی ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کے ذریعے کارآمد ایجادات کرتے ہیں بلکہ صنعت و حرفت اور زراعت سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی کو خوبی سے چلانے کے لیے معمول کے کام بھی انجام دیتے ہیں۔ ترقی کے پہّیے کو مسلسل آگے گھمانے میں ایسے ہنر مندوں کا کردار بہت اہم ہے۔ اگرچہ تاریخ کے صفحات میں صرف نام ور سائنس دانوں ، ماہر انجینئروں اور ذہین موجدوں کا ہی تذکرہ موجود ہے لیکن ان تمام لوگوں کی کاوش بے کار ہوجاتیں اگر ان کے منصوبوں پر عمل درآمد اور ان کی تکمیل کے لیے یہ گم نام ہنر مند اور ٹیکنیشن نہ ہوتے۔ مثال کے طور پر گراہم بیل نے ٹیلی فون ایجاد کیا لیکن آج جو ہم دنیا کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پھیلے ہوئے ٹیلی فون کے نظام کو دیکھتے ہیں اور پلک جھپکتے میں ہزاروں میل دور بھی رابطہ قائم کرلیتے ہیں، تو اس میں گراہم بیل کا کوئی کردار نہیں ہے بلکہ یہ لاکھوں، کروڑوں میل پھیلے ہوئے تار، اونچے اونچے ٹرانسمیٹر اور وسیع و عریض ایکسچینج درحقیقت ان ہنر مندوں کا کارنامہ ہیں جو خاموشی سے دن رات اپنے کام میں لگے رہتے ہیں اور پسِ پردہ رہتے ہوئے اپنے حصے کا کام نمٹاکر ماضی کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ہماری اور آپ کی زندگی کو سہل بنانے اور اپنی کاوشوں سے ترقی کے مواقع عطا کرنے میں بھی ان لوگوں کا حصہ بہت اہم ہے۔ ہمارے گھروں میں پہنچنے والی بجلی، گیس، پانی، سڑکیں انھیں لوگوں کی بدولت ہیں۔ یہ گم نام ہنر مند اپنے کارخانوں اور تنصیبات میں مصروف رہتے ہیں اور ہمیں احساس بھی نہیں ہوتا کہ ان کی وجہ سے ہم کتنے عذابوں سے محفو ظ ہیں۔ صرف ایک دن بھی بجلی نہ ہو، نل میں پانی نہ آئے، گیس کی فراہمی بند ہوجانے تو ہم چیخ اٹھتے ہیں اور تب اندازہ ہوتا ہے کہ ایسے ’’خاموش خدمت گاروں‘‘ کی وجہ سے ہم کتنے ٹھاٹ سے زندگی بسر کررہے تھے۔ اگر یہ نہ ہوتے تو ہمارا سارا وقت کنویں سے پانی بھرکر لانے، کھانا پکانے کے لیے لکڑیاں جمع کرنے یا پھر پتھریلے راستوں پر بیل گاڑی میں اچھلتے کودتے میں صرف ہوتا۔
آج کمپیوٹر کے عہد میں داخل ہوتی ہوئی دنیا میں، ایسے ہنر مند اور تربیت یافتہ افراد کی ضرورت اور اہمیت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ اب ہمیں زندگی گزارنے کے لیے ہزاروں ، لاکھوں اشیا کی ضرورت پڑتی ہے۔ ان اشیا کو بنانے کے لیے ہر روز نت نئے قسم کے کارخانے بن رہے ہیں۔ جنھیں کامیابی سے چلانے اور بھرپور پیداوار حاصل کرنے کے لیے تعلیم یافتہ، ہنر مندوں کی بہت بڑی تعداد کی طلب بڑھتی جارہی ہے۔ آج دنیا میں صرف وہی ملک کامیاب ہیں، جنھوں نے سائنسی اور تکنیکی تعلیم کے ساتھ ساتھ صنعتی تربیت کی اہمیت کو بھی پہچانا ہے اور اپنے یہاں وہ نظام ترتیب دیا ہے،جس کی بدولت ایک طرف نت نئے کارخانے قائم ہوں تو دوسری طرف ان کارخانوں کو چلانے کے لیے نوجوان، تعلیم یافتہ اور ضروری تربیت سے لیس کارکن بھی تیار ہوتے رہیں۔ پاکستان میں بھی صنعتی ضروریات پوری کرنے کے لیے سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں تعلیم اور تربیت کا ایک پروگرام جاری ہے جسے ’’اپرنٹس شپ اسکیم ‘‘ کہتے ہیں ۔
ملک میں تیزی سے بڑھتی ہوئی صنعتوں اوران کے لیے ہنر مندوں کی طلب نے پاکستان میں اپرنٹس شپ اسکیم کے باقاعدہ آغاز کے لیے زمین ہم وار کی اور 17 اکتوبر 1962ء کو پہلے اپرنٹس شپ آرڈیننس کا اعلان ہوا۔ اس آرڈیننس کے تحت پہلی مرتبہ صنعتی تربیت کو قانونی تحفظات عطا کیے گئے اور تربیت دینے اورتربیت لینے والے افراد کوآئینی مراعات حاصل ہوئیں۔ بعد ازاں 1966ء میں اپرنٹس شپ رولز نافذ کیے گئے۔ اسی سال پنجاب میں اپرنٹس شپ رولز کا نفاذ ہوا جب کہ 1987ء میں بلوچستان اپرنٹس شپ رولز نافذ ہوئے۔
اپرنٹس شپ رولز مجریہ 1966 ء کے مطابق، پاکستان کا ہر نوجوان جس کی عمر کم سے کم پندرہ سال اور زیادہ سے زیادہ بیس سال ہو اپرنٹس شپ اسکیم سے فائدہ اٹھا سکتا ہے (بلوچستان اپرنٹس شپ رولز کے تحت عمر کی زیادہ سے زیادہ حد پچیس سال ہے)اس ضمن میں فنی تربیت کے مختلف شعبوں کی مناسبت اور ضرورت کے مطابق کم از کم تعلیمی معیار طے کیا جاتا ہے اور متعلقہ ادارے کی جانب سے شائع ہونے والے اشتہار میں کم سے کم تعلیم کی وضاحت کی جاتی ہے۔ اپرنٹس شپ کی مدت کا تعین بھی متعلقہ شعبے اور مہارت کے درجے سے کیا جاتا ہے۔ یہ مدت تین ماہ سے لے کر تین سال تک ہوسکتی ہے (اپرنٹس کے مفاد میں اس مدت میں اضافہ بھی کیا جاسکتا ہے تاہم یہ مدت کسی صورت بھی، ابتدائی طے شدہ مدت کے چوتھائی حصے سے زیادہ نہیں ہوسکتی) قانون کے مطابق، ہر وہ ادارہ، جو اپرنٹس شپ اسکیم کے دائرۂ کار میں آتا ہے، اپرنٹس کی بھرتی کے لیے تمام اہم اخبارات میں اشتہارات کی اشاعت کا پابند ہے۔ بعد ازاں ایک تحریری اور زبانی امتحان ہوتا ہے جب کہ متعلقہ شعبے میں اپرنٹس کی دلچسپی اور رجحان کا اندازہ کرنے کے لیے امتحان لیا جاتا ہے ۔
انتخاب کے بعد، جس شعبے میں بھی آپ ہوں، اگلا مرحلہ تعلیم اور تربیت کے آغاز کا ہے۔ قواعد کے مطابق ہر طالب علم کو 25 فیصد نظری( تھیوری) اور 75 فیصد عملی (پریکٹیکل) تعلیم دی جاتی ہے۔ اپرنٹس شپ کا سب سے بڑا فائدہ یہی ہے کہ آپ کو عملی ماحول میں کام کرنے کا موقع ملتا ہے اور ان مسائل اور مشکلات کا حقیقی اندازہ ہوتا ہے جو کسی بھی شعبے میں پیش آسکتے ہیں۔
ایک مرتبہ تربیت شروع ہونے کے بعد آپ اسے اپنی مرضی سے منقطع نہیں کرسکتے۔ اگر آپ نے ایسا کیا تو قانونی طور پر اس بات کے پابند ہیں کہ اب تک ہونے والے تمام اخراجات سمیت پورے کورس کے ممکنہ اخراجات بہ طور ہرجانہ، تربیت فراہم کرنے والے ادارے کو اداکریں۔ ایک مرتبہ تربیت کا معاہدہ کرنے کے بعد کوئی بھی ایک فریق، چاہے وہ ادارہ ہویا طالب علم اسے ایک طرفہ طور پر منسوخ نہیں کرسکتا ۔
اپرنٹس شپ کے لیے آپ کے ادارے میں ہی امتحان ہوتا ہے جب کہ اس کا نتیجہ اور بعد ازاں سند بھی یہیں سے جاری ہوتی ہے۔ امتحان کے لیے ایک بورڈ بنایا جاتا ہے جس میں انتظامیہ کا کوئی تیکنیکی رکن( چیئرمین) اپرنٹس کا استاد(رکن) اورمتعلقہ شعبے کا فورمین یا سپر وائزر (رکن) شامل ہوتے ہیں۔ یہ بورڈ امتحان سے پندرہ دن قبل امتحانی تاریخ کا اعلان کرتا ہے۔ امتحان بنیادی طورپر تین حصوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ پہلا حصہ عملی امتحان کا ہے جو کم از کم ڈیڑھ گھنٹہ طویل ہوتا ہے۔ عملی امتحام 80 نمبر اور تحریری امتحان 20 نمبر کا ہوتا ہے۔ عملی امتحان میں پاس ہونے کے لیے 50 فیصد اور نظری امتحان کے لیے 33 فیصد نمبر ضروری ہوتے ہیں ۔ کامیابی سے تربیت مکمل کرنے کے بعد، وہ ادارہ جہاں آپ اپرنٹس شپ کرتے ہیں ایک سرٹیفکیٹ جاری کرتا ہے، جو متعلقہ سرکاری محکمے/وزارت سے تصدیق شدہ ہوتا ہے۔ درحقیقت یہ سرٹیفکیٹ ہی آپ کی ساری محنت کا ثمر ہے، جو آئندہ زندگی میں آپ کے لیے کامیابیوں کے دروازے کھولنے والاہے ۔

فوائد: اپرنٹس شپ کا سب سے بڑا فائدہ تعلیم اورتربیت کے ساتھ وظیفے کی فراہمی ہے۔ اپرنٹس شپ رولز 1966ء کے مطابق تربیت فراہم کرنے والا ادارہ، اپرنٹس کو دورانِ تعلیم متعلقہ شعبے کے لیے قانون میں مختص کم از کم شرح کے مطابق وظیفے کی ادائیگی کا پابند ہے یعنی اگر کوئی شخص الیکٹریشن کی تربیت حاصل کررہا ہے تو اسے ایک خاص فارمولے کے مطابق، ادارے کی جانب سے وہ کم از کم تنخواہ لازماً دی جائے گی جو قانون کے تحت کسی ہنر مند ، ڈگری یافتہ الیکٹریشن کوملنی چاہیے۔ وظیفے کی ادائیگیوں کا تناسب کچھ اس طرح سے ہوتا ہے:
*اپرنٹس شپ کی مکمل مدت کا پہلا 20 فیصد عرصہ ۔۔۔سندیافتہ ہنر مند کی تنخواہ کا کم ازکم 40 فیصد
*اپرنٹس شپ کی مکمل مدت کا دوسرا 20 فیصد عرصہ ۔۔۔سند یافتہ ہنر مند کی تنخواہ کا کم از کم 50 فیصد
*اپرنٹس شپ کی مکمل مدت کا تیسرا 20 فیصد عرصہ ۔۔۔سندھ یافتہ ہنر مند کی تنخواہ کا کم از کم60فیصد
*اپرنٹس شپ کی مکمل مدت کا چوتھا 20 فیصد عرصہ ۔۔۔سند یافتہ ہنر مند کی تنخواہ کا کم از کم 70فیصد
*اپرنٹس شپ کی مکمل مدت کا پانچواں 20 فیصد عرصہ ۔۔۔سندھ یافتہ ہنر مند کی تنخواہ کا کم از کم80 فیصد
فرض کیجیے کہ کوئی شخص تین سا ل کی ٹرنر( خراد مشین پر کام کرنے والا) اپرنٹس شپ کررہا ہے اورایک سند یافتہ ٹرنر کی تنخواہ 3000 روپے ہے تو اپرنٹس کو پہلے سات ماہ 1200 ، دوسرے سات ماہ 1500 ، تیسرے سات ماہ 1800 ، چوتھے سات ماہ 2100 اورآخری آٹھ ماہ 2400 روپے ملیں گے ۔
دیکھا گیا ہے کہ بہت سے ادارے اپنے یہاں انھی شعبوں میں تربیت کا اہتمام کرتے ہیں، جن کے لیے انھیں ہنر مندوں کی ضرورت ہوتی ہے، چناں چہ یہ عین ممکن ہے کہ تعلیم اور تربیت کے بعد آپ کواسی ادارے میں ملازمت کی پیش کش کردی جائے۔ تاہم قانونی طور پر تربیت دینے والا ادارہ آپ کو نوکری دینے کا پابند نہیں ہے، نہ ہی آپ پر لازم ہے کہ آپ اسی جگہ نوکری کریں، جہاں سے تعلیم، تربیت اور سند حاصل کی ہے۔ یوں دورانِ تربیت آپ اپنے تعلیمی اخراجات بھی پورے کرسکتے ہیں اور گھریلو کفالت بھی۔ اس کے علاوہ تربیت دینے والا ادارہ آپ کو متعلقہ مواد اورسازوسامان کی فراہمی کا بھی ذمہ دار ہے جس میں یونی فارم ، ڈرائنگ کی اشیا اور دستی اوزار وغیرہ شامل ہیں(تاہم ادارہ ان چیزوں کی ملکیت کا حق رکھتا ہے) ۔

تعلیمی اہلیت

اپرنٹس شپ اسکیم کے تحت تعلیم اور تربیت کے مختلف تعلیمی اہلیت کے نوجوانوں کو طلب کیا جاتا ہے۔ عموماً اس کے لیے آٹھویں جماعت ، دسویں جماعت ، بارہویں جماعت تک تعلیمیقابلیتضروری تصور کی جاتی ہے۔ تاہم ڈپلومہ ہولڈرز بھی اپرنٹس شپ اسکیم سے مستفید ہوسکتے ہیں ۔

وہ ادارے جہاں اپرنٹس شپ کی تربیت دی جاتی ہے

ملک بھر میں بے شمار سرکاری ،نیم سرکاری اور نجی ادارے اپرنٹس شپ اسکیم کے تحت نوجوانوں کو فنی تعلیم و تربیت فراہم کرتے ہیں۔ قانون کے تحت ہروہ جگہ جہاں پانچ یا پانچ سے زائد افراد کام کرتے ہیں وہاں اپرنٹس شپ کی تربیت دی جاسکتی ہے۔ لیکن تمام کاروباری اور صنعتی مقامات پر اپرنٹس شپ ٹریننگ نہیں دی جاتی بلکہ عموماً بڑے صنعتی اداروں میں ہی اس کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔ بالعموم ایسے اداروں کی پیشہ ورانہ ساکھ بہت بہتر ہے اور یہاں کے تربیت یافتہ افراد کو ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر کراچی شپ یارڈ، کراچی آئل ریفائنری، پی آئی اے ، پی این ایس سی ، کراچی پورٹ ٹرسٹ، کے ای ایس سی، فوجی فرٹیلائزر وغیرہ کی تربیت کو قابلِ اعتماد اور اہم تصور کیاجاتا ہے ۔

آپ کن شعبوں میں اپرنٹس شپ کرسکتے ہیں ؟

اپرنٹس شپ کے لیے شعبوں کا شمار مشکل کام ہے۔ آپ کسی بھی کارخانے میں چلے جائیے وہاں دروازے سے لے کر دھواں اگلتی چمنی تک ہزاروں کام ہورہے ہوں گے۔ ترقی یافتہ ممالک میں تو چوں کہ اسپیشلائزیشن کا دور ہے، چناں چہ وہاں شعبوں کا کوئی حساب ہی نہیں ہے۔ ہمارے یہاں صنعت ابھی ترقی کے مراحل میں ہے لہٰذا چند شعبے نسبتاً زیادہ اہمیت اور طلب کے حامل ہیں۔ ان کا ایک سرسری سا جائزہ ذیل میں لیا گیا ہے ۔
(  کار پینٹر  (ترخان l آٹو الیکٹریشن  l
(بلیک اسمتھ ) (لوہار ) l آٹو فٹر  l
مولڈر l ڈیزل میکینک  l
ویلڈر l مشینسٹ  l
پروسیس پلانٹ آپریٹر l اسٹیل فیبریکیٹر  l
( ٹیکنیشن (انسٹرومنٹ، الیکٹرونکس ، الیکٹریکل، میکینکل ٹیکنیشن  l بوائلر اٹینڈنٹ  l
پائٹ فٹر l( فٹر ( جنرل  l
پینٹ کیمس l ( ٹرنر(خرادی)  l

مستقبل کے امکانات 

یہ بات طے شدہ ہے کہ صنعت اور حرفت کے حوالے سے آئندہ صدی میں دنیا ایسی منزلیں سر کرنے والی ہے جن کے بارے میں انسان نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد مشین یا ٹیکنالوجی نے جس برق رفتاری سے سفر طے کیا ہے، اس کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتاہے کہ مستقبل صرف اور صرف مشین کا ہے۔ اب جو انسان بھی مشین سے ناواقفیت اورفاصلے پر ہوگا، تہذیب کے دائرے سے خارج ہوجائے گا ۔
مستقبل کے حوالے سے اس تمہید کا مقصد، آپ کے ذہن میں تکنیکیتعلیم و تربیت کی زبردست قدر ومنزلت کو واضح کرنا ہے۔ خصوصاً پاکستان میں ہنر مند افراد کی مانگ میں کئی گنا اضافہ متوقع ہے ۔گزشتہ چندبرس ہی اس بات کا ثبوت ہیں۔ پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے باعث، مختلف چھوٹی بڑی صنعتوں نے ترقی کی ہے اوراس وقت بھی اچھے، باصلاحیت اور ذہین تربیت یافتہ افراد کی قّلت ہے۔ لہٰذا آئے دن ٹرنر، فٹر، الیکٹریشن، انسٹرومنٹ میکینک اور ایسے ہی دوسرے شعبوں کے لیے بڑے بڑے اداروں کی جانب سے ’’ضرورت‘‘ ہے کے اشتہارات اخبارات میں نظر آتے ہیں۔ فنی اور تکنیکی تعلیم کے سرکاری اداروں کی قلّت کے باعث، امکان ہے کہ یہ صورتِ حال برقرار رہے گی۔ چناں چہ اپرنٹس شپ اسکیم سے مستفید ہونے والے نوجوانوں کے لیے اپنے شعبوں میں کھپت کے خاصے دروازے کھلے رہیں گے۔ دوسری طرف تربیت یافتہ افراد کے لیے بیرونِ ملک روزگار کے امکانات بھی کئی گنا زیادہ ہوتے ہیں۔ چناں چہ اپرنٹس شپ کے ذریعے تربیت لینے والے نوجوانوں کو باہر جانے میں بہت آسانی رہتی ہے اور وہ ابتدا میں ہی ایک اوسط درجے کی ملازمت حاصل کرسکتے ہیں۔ خصوصاً مشرقِ وسطیٰ (سعودی عرب، متحدہ عرب امارات وغیرہ) میں پاکستان کے تربیت یافتہ افراد کی بڑی قدر کی جاتی ہے اور اس وقت بھی ایسے لاکھوں پاکستانی وہاں ملازمتیں کررہے ہیں۔ اگرچہ آغاز میں تنخواہوں کا تناسب قدرے کم ہوتا ہے تاہم اگر کوئی شخص محنت اور ذہانت کا مظاہرہ کرے تو تھوڑے عرصے میں ہی معاشی استحکام حاصل کرسکتا ہے۔ یہ صورتِ حا ل آئندہ بھی برقرار رہے گی اور پاکستان سے ہنر مندوں کی ترسیل کا سلسلہ جاری رہے گا، چناں چہ امید کی جاسکتی ہے کہ اپرنٹس شپ سے مستفید ہونے والے افرادبہتر مستقبل حاصل کرسکیں گے ۔

یہ بھی دیکھیں

زندگی کے راستے

رفیع الزمان زبیری بچپن میں جب قائد اعظم کے اسکول جانے کا وقت آیا تو …