صفحہ اول » بلاگ » الیکٹرونکس انجینئرنگ- ٹیلی فون سے لے کر ٹیلی وژن تک

الیکٹرونکس انجینئرنگ- ٹیلی فون سے لے کر ٹیلی وژن تک

imagesبرقیات (الیکٹرونکس) ہماری زندگی میں انتہائی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ٹیلی فون سے لے کر ٹیلی وژن تک اور ٹیپ ریکارڈ سے لے کر وی سی آر تک یہ تمام برقیاتی آلات ہیں۔ زندگی کا کون سا شعبہ ایسا ہے جہاں برقیات کی حکمرانی نہیں۔ گھروں سے لے کر بازاروں تک، دفتروں سے لے کر اسپتالوں تک، زمینی سفر سے لے کر فضائی اور بحری سفر تک، ہر جگہ برقیات کا دوردورہ ہے۔
برقیاتی آلات سائنسی و تحقیقی کاموں میں وسیع پیمانے پر استعمال ہوتے ہیں۔ ماہرین طبیعیات جن طاقت ور برقیاتی مشینوں سے جوہر کی ساخت کا مشاہدہ کرتے ہیں وہ ذرّاتی سرعت گر کہلاتی ہیں اور برقیات کی صنعت سے تعلق رکھتی ہیں۔ برقیاتی خورد بین انتہائی باریک اور عام آنکھ سے نظر نہ آنے والے ذروں اور جراثیم کو کئی لاکھ گنا بڑا کرکے دکھاتی ہے۔ برقیاتی کمپیوٹر، مشکل سے مشکل مسائل کو منٹوں میں حل کر دیتا ہے حالاںکہ یہی کام کاغذ اور پنسل سے کرنے سے سالوں درکار ہوں گے۔

برقیات کیا ہے

بجلی برقیوں (یا الیکٹرونز) کی نقل و حرکت سے بحث کرتی ہے۔ یہ برقیے یا الیکٹرون دوسرے ذرّات کے ساتھ مل کر جوہر کی تکمیل کرتے ہیں۔ برقیوں کی نقل و حرکت برقی رو پیدا کرتی ہے۔ یہ برقی رو قمقمے کو روشن کرتی ہے،ہیٹر میں حرارت پیدا کرتی ہے یا کسی انجن کو چلانے کا سبب بنتی ہے۔
برقیات کا علم بھی برقیوں کی نقل و حرکت ہی سے بحث کرتا ہے۔ لیکن یہاں برقیوں کی نقل و حرکت کونہایت موءثر اور درست کارکردگی والے برقیاتی آلات کی مدد سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔ابتدائی برقیاتی آلات ویکیوم یا الیکٹرون ٹیوب تھے۔ لیکن آج ٹھوس جسمی حالت والے یا سالڈ اسٹیٹ آلات یہ تمامخدمات انجام دیتے ہیں۔ ان آلات میں ٹرانسٹرز اور تکمیل حلقے یا انیٹگریٹڈ سرکٹس (آئی سی) شامل ہیں۔ ان کے علاوہ برقیات میں کنڈکٹرز(موصل)، انسولیٹرز (حاجز)، کیتھوڈیا فیرے، اینوڈ یا بیئرے، سیمی کنڈکٹر یا نیم موصل، ایمیٹر یا خارج کنندہ، کلکٹریا جمع کنندہ،دی ڈائیڈیا یا دو قیرے، دی ٹرائیڈ یا سہ قیرے، اور لیٹرز یا اہتزازیے وغیرہ اہم کردار ادا کرتے ہیں، جن کی تفصیل میں جانا ممکن نہیں۔ مختصر یہ کہ برقیاتی آلات نے انتہائی مشکل کاموں کو نہایت آسان اور سہل بنا دیا ہے۔ کاموں کی سہولت کے ساتھ ساتھ کام کی درستی کی جو آسانی برقیات نے پیدا کر دی ہے اس نے ٹیکنالوجی کو کامیابی کی انتہائی منازل تک پہنچا دیا ہے۔

پیشے کا تعارف

الیکٹرونکس انجینئر کو سالڈ اسٹیٹ برقیاتی آلات،الیکٹرونک سرکٹس، انفارمیشن ٹرانسمیشن، تاب کاری، الیکٹرومیگنیٹک بیک فیلڈ، مائیکرو ویو، ہائی فریکوئنسی کمیونی کیشن اور کمپیوٹر سائنس کے شعبوں میں مہارت حاصل کرنا ہوتی ہے۔ چناںچہ پاکستان کے مختلف اداروں میں انڈسٹریل الیکٹرونکس، انیٹگریٹڈ سرکٹ راڈار، لیزر ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونی کیشن اور میڈیکل الیکٹرونکس کے شعبوں میں ماہرین کی ضرورت رہتی ہے۔ اس کے علاوہ ڈیجیٹل الیکٹرونکس کے شعبے میں بھی الیکٹرونک انجینئرز کے لیے بیش بہا مواقع موجود ہیں۔ درحقیقت ہمارے ملک میں برقیات کی صنعت بالکل ابتدائی مرحلے میں ہے اور کسی اچھے الیکٹرونک انجینئر کے لیے ترقی کے مراحل طے کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔
پاکستان میں برقیات کی تعلیم بیچلرز (بی ای) اور ماسٹرز (ایم ای)ڈگری کی سطح تک ان اداروں میں دی جاتی ہے:
1۔داﺅد کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، کراچی
2۔مہران یونی ورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، جام شورو
3۔یونی ورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی،لاہور
4۔انسٹی ٹیوٹ آف انڈسٹریل الیکٹرونکس انجینئرنگ، کراچی

نصابِ تعلیم

بی ای برقیات کا نصاب چار سال پر مشتمل ہے جس کی تفصیل یہ ہے۔ پہلے سال میں طلبہ کو ریاضیات، انجینئرنگ گرافکس، طبیعیات ، الیکٹرو میکینکس، نیٹ ورک انا لیسس، بنیادی الیکٹرونکس، الیکٹرونکس کمپوننٹس، انگریزی اور ورک شاپ پریکٹس کے کورسز کرنے ہوتے ہیں۔ دوسرے سال میں ریاضیات، برقیاتی آلات، انسٹرو مینٹیشن، فیڈ بیک اینڈ کنٹرول، ایمپلی فائر اور آکسی لیٹرز، ڈیجیٹل الیکٹرونکس، کمپیوٹر پروگرامنگ، اسلامیات اور مطالعہء پاکستان، الیکٹریکل مشینیں، تیسرے سال میں شماریات، مائیکرو پروسیسرز، ایڈوانس الیکٹرونکس، انڈسٹریل ایڈمنسٹریشن اور پروڈکشن انجینئرنگ، ماڈرن الیکٹرونک آلات، نی ومیریکل انالیسر، کمپیوٹر پروگرامنگ، ریڈی ایٹنگ سسٹم، فیڈ بیک اینڈ کنٹرول اور چوتھے سال میں کمیونی کیشن سسٹم، ایکٹو سرکٹ انالیسر اور ٹیلی کمیونی کیشن، کمپیوٹر پروگرامنگ، برقیاتی ڈیزائن،نی وی کیشنل ایڈز،انڈسٹریل الیکٹرونکس، سگنل پروسیسنگ شامل ہیں۔ طلبہ کو سال آخر میں 200نمبروں کا ایک پروجیکٹ بھی مکمل کرنا ہوتا ہے۔
نصاب کی جو تفصیل اوپر بیان کی گئی ہے وہ داﺅد کالج کے بی ای پروگرام سے تعلق رکھتی ہے جب کہ مہران یونی ورسٹی میں مندرجہ بالا مضامین کے علاوہ بھی چند مضامین الیکٹرونکس کے طلبہ کو پڑھنے ہوتے ہیں، ان میں تھرموڈائنامکس اور اسٹرنتھ آف میٹریلز، سال دوم میں، سگنل انالیسر سال سوم میں اور مائیکرو ویو انجینئرنگ، آپٹیکل کمیونی کیشن، رینڈم سگنل نوائز اور اسپیکٹرل انالیسر سال چہارم میں شامل ہیں۔
مندرجہ بالا کورسز کے علاوہ پی سی ایس آئی آر کے پاک سوئس ٹریننگ سینٹر میں ایک چار سالہ کورس ”انڈسٹریل الیکٹرونکس“ شروع کیا گیا ہے۔ 1989ءمیں پہلے بیج میں 38طلبہ کو داخلہ دیا گیا تھا۔ اس چار سالہ ڈگری کورس کو این ای ڈی انجینئرنگ یونی ورسٹی سے منظور کرانے کے لیے خاصی پیش رفت ہوئی ہے اور امید ہے کہ اس ادارے کا این ای ڈی سے الحاق ہوجائے گا تو اس کی سند بے حد اہمیت اختیار کرجائے گی۔

ڈپلوما کورس

میٹرک سائنس (پری انجینئرنگ + انڈسٹریل آرٹس) کامیاب امیدوار، کالج آف ٹیکنالوجی یا پولی ٹیکنک انسٹی ٹیوٹ میں برقیات کے تین سالہ ڈپلوما کورس میں داخلہ لے سکتے ہیں۔ یہاں انٹرمیڈیٹ (پری انجینئرنگ) کامیاب امیدواروں کے لیے بھی نشستیں ہوتی ہیں۔ تین سالہ کورس کامیابی سے مکمل کرنے پر ڈپلوما آف ایسوسی ایٹ انجینئرکی سند دی جاتی ہے۔ اس سند کے حامل امیدوار اگر چاہیں تو آگے بی ٹیک (بیچلر آف ٹیکنالوجی) کے امتحان میں شریک ہوسکتے ہیں۔
الیکٹرونکس ٹیکنالوجی میں ڈپلوما کامیاب امیدواروں کی صنعتی شعبے میں خاصی مانگ ہے  اور پاکستان میں صنعتی ترقی کے روشن امکانات کے ساتھ ان کی طلب میں اضافے کے مواقع پائے جاتے ہیں۔
بی ای اور ڈپلوما کے علاوہ الیکٹرونکس میں سرٹیفکیٹ کورس بھی مکمل کیے جاسکتے ہیں۔ سرکاری شعبےمیں پورے ملک میں ٹیکنیکل ٹریننگ سینٹرز اور نجی شعبے میں اسی نوعیت کے منظور شدہ ادارے ایک سال اور ڈیڑھ سال کے تربیتی کورس کراتے ہیں۔ جن کی تکمیل پر برقیاتی آلات کی مرمت اور دیگر متعلقہ شعبوں میں ملازمت بھی مل سکتی ہے اور اپنا کام بھی کیا جاسکتا ہے۔

حالاتِ کار اور مواقع

موجودہ صدی کا پہلا نصف بجلی کی ترقی کا دور کہا جاتا تھا اور آخری نصف برقیات کی ترقی کا دور ہے۔ زمین سے لے کر خلا تک اور ہوا سے لے کر پانی تک ہر جگہ برقیاتی آلات کی حکمرانی ہے۔ جنگ ہو یا امن کوئی شعبہ برقیاتی آلات کے بغیر کام نہیں کرسکتا۔ سچی بات یہ ہے کہ برقیات نے ابلاغ اور مواصلات کو غیر معمولی رفتار اور درستی کی صلاحیت دے کر انسانی معمولات میں ایک انقلاب برپا کر دیا ہے۔
1957ءمیں دنیا بھر میں برقیاتی آلات کی پیداواری مالیت صرف12 ہزار 800 ملین ڈالر تھی۔ 1987ءمیں برقیاتی آلات کی پیداوار ی مالیت 5 لاکھ 60ہزار ملین ڈالر تک پہنچ گئی۔
پاکستان میںبرقیات کی صنعت بالکل ابتدائی مرحلے میں ہے۔ اس وقت پانچ ادارے الیکٹرونکس کی ترقی اور تحقیق کے لیے خدمات انجام دے رہے ہیں ان میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الیکٹرونکس اسلام آباد، سلی کون ٹیکنالوجی ڈیولپمنٹ سینٹر، اکوئپمنٹ پروڈکشن یونٹ آف ریڈیو پاکستان، سپارکو، اور اخلاق حسین انسٹی ٹیوٹ آف الیکٹرونکس لاہور شامل ہیں۔
الیکٹرونکس انجینئرز کی مانگ اور کھپت سرکاری اور غیر سرکاری ہر شعبے میں ہے۔ الیکٹرونکس انجینئرپرائیویٹ فرموں بالخصوص کمپیوٹرز، ورڈ پروسیسرز، ٹیلی کمیونی کیشن، ٹی وی اسمبلی، وی سی آر اسمبلی کے شعبوں میں آسانی سے ملازمت حاصل کرسکتے ہیں۔ سرکاری شعبے میں کے ای ایس سی سے لے کر واپڈا تک اور سپار کو سے لے کر پی سی ایس آئی آر تک ہر قسم کے اداروں میں الیکٹرونکس انجینئرز کے لیے ہر قسم کی اسامیاں فراہم ہیں۔ ریڈیو اور ٹیلی وژن کارپوریشن، ٹی اینڈ ٹی اور ٹی آئی پی بنیادی طور پر الیکٹرونکس انجینئرنگ ہی کے ادارے ہیں۔ اسی طرح نجی شعبے میں بھی مواصلات، ذرائع ابلاغ، برقیاتی ابلاغ اور کمپیوٹر کی صنعت میں بالخصوص الیکٹرونکس انجینئرز کی ہزاروں اسامیاں نکلتی رہتی ہیں۔ کمپیوٹر کی صنعت بالخصوص اتنی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے کہ کہا جاتا ہے کہ کچھ عرصے میں یہ ہر شعبہءزندگی پر چھا جائے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ ملک میں مانگ کے مقابلے میں الیکٹرونکس انجینئرز کی پیداوار کم ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس اہم شعبے میں تربیت اور تعلیم کی محدود سہولتیں ہماری جدید ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔

تنخواہیں

ایک اچھے الیکٹرونکس انجینئر کو ابتدا ہی میں کم از کم پانچ ہزار روپے ماہانہ مشاہرہ مل جاتا ہے جو تجربہ حاصل کرنے کے بعد پچاس ہزار روپے تک پہنچ جاتا ہے۔ مختلف اداروں میں تنخواہوں کی شرحیں مختلف ہیں۔ سرکاری شعبے میں تازہ سند یافتہ بی ای انجینئرکو گریڈ 17میں ملازمت دی جاتی ہے۔
نجی کاروبار کے مواقع
الیکٹرونکس انجینئرنگ اتنی تیزی سے ترقی کرنے والا پیشہ ہے کہ اس میں نجی کاروبار کے بڑے روشن مواقع ہیں۔ سند یافتہ الیکٹرونکس انجینئر چند سال کا عملی تجربہ حاصل کرنے کے بعد بطور مشیر یا کنسل ٹینٹ بھی خدمات انجام دے سکتے ہیں اور اگر سرمایہ ہو تو اپنی فرم بھی قائم کرسکتے ہیں۔ پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے اور برقیات کی صنعت میں تیزی سے ترقی ہو رہی ہے۔ یوں بھی الیکٹرونکس ایسی فنیات ہے جس کے بغیر انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کے کسی شعبے میں جدیدیت کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ اب خواہ وہ میکینیکل انجینئرنگ ہو یا میٹالرجی، ماحولیات ہو یا کان کنی، ٹیکنالوجی کے ہر صیغے میں برقیات ایک بنیادی لازمہ اور ضرورت ہے اور الیکٹرونکس انجینئرکے لیے ہر جگہ بیش بہا مواقع ہیں۔
جو نوجوان انجینئرز اپنی ٹنگ فرم یا کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں ان کو آسان شرائط پر قرضے اور سرمائے کی فراہمی کے لیے متعدد سرکاری یا نیم سرکاری اور نجی ادارے کام کر رہے ہیں۔ ان میں اسمال بزنس فنانس کارپوریشن، نیشنل ڈیولپمنٹ فنانس کارپوریشن، ادارئہ فروغ سرمایہ کاری برائے نوجوانان شامل ہیں۔

رجسٹریشن

پاکستان اور الیکٹرونکس انجینئروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ پاکستان انجینئرنگ کونسل سے خود کو رجسٹر ڈکروائیں۔ اس کے بعد ہی وہ بہ طور انجینئر کوئی کام کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ الیکٹرونکس انجینئرز دوسرے پیشہ ور اداروں اور انجمنوں کی رکنیت بھی حاصل کرسکتے ہیں ان میں انسٹی ٹیوشن آف الیکٹریکل انجینئرز خاص طور پر قابل ذکر ہے۔

مزید معلومات

الیکٹرونکس انجینئرنگ کے پیشے کے بارے میں مزید معلومات کے لیے ان اداروں سے رابطہقائم کیا جاسکتا ہے۔
1۔ صدر دفتر انسٹیٹیوٹ آف الیکٹریکل انجینئرز پاکستان 4۔لارنس روڈ، لاہور
2۔صدر دفتر انسٹیٹیوشن آف انجینئرز، کراچی سینٹر 177/2، شارع فیصل، کراچی
3۔صدر دفتر پاکستان انجینئرنگ کونسل 52۔ مارگلہ روڈ، اسلام آباد۔
4۔انسٹی ٹیوشن آف الیکٹریکل انجینئرز، کراچی سینٹر، 1۔اے یونی آرکیڈ، بلاک نمبر 3 گلشن اقبال، کراچی

یہ بھی دیکھیں

خواتین کے لیے بہتر زندگی کا موقع!

15 ہفتے کی تربیت آپ کی زندگی بدل سکتی ہے! 18 سے 45 سال کی …