صفحہ اول » بلاگ » بیرون ملک مسائل و مشکلات

بیرون ملک مسائل و مشکلات

غير ملکی طرز معاشرت اور ثقافت، بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے والے طالب علموں کے لیے بالکل مختلف تجربہ ثابت ہوتی ہے۔ علیحدہ معاشرت،علیحدہ زبان، علیحدہ مذہب اور علیحدہ خدوخال ایک طالب علم کو کسی بھی نئے معاشرے میں اجنبی بنا دیتے ہیں۔ طرزمعاشرت ہی نہیں ، اٹھنا بیٹھنا ، کھانا پینا، غرض ہر چیز ، کلچرل شاک کا حصہ ہوتی ہے۔ یہ شاک اپنے ہم جماعتوں سے آگے نکلنے کی آرزو رکھنے والے طالب علم کے لیے گویا ایک ’’سیٹ بیک‘‘ ہوتا ہے اور اس کے نقصانات سے بچنے کے لیے اسے حصول علم کے شعبے میں اور زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے۔ یہی صورتِ حال اس وقت بھی درپیش ہوتی ہے جب دورانِ تعلیم، طالب علم کے سرپرست یا خود طالب علم کا ہاتھ ذراتنگ ہوجائے۔غیر ملکی تعلیمی اداروں کے قوانین، طالب علم کو کوئی منفعت بخش کامیاب ملازمت کرنے سے روکتے ہیں۔ یہ وہ پابندی ہے جس سے اسغیر ملکی تعلیمی ادارے کے مقامی طالب علم مستثنیٰ ہوتے ہیں۔ اسی طرح بعض ترقی یافتہ مغربی ممالک میں پسماندہ یا ترقی پذیر ممالک کے طالب علموں کے لیے جو نسلی امتیازی رویہ پایا جاتا ہے وہ بھی طالب علم کو پوری آزادی کے ساتھ تعلیم کے شعبے میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے سے روکتا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

Three-Types-of-Learners

سیکھنے کے تین انداز

معلومات حاصل کرنے، حاصل ہونے والی معلومات کو سمجھنے اور اس کی مدد سے مسئلے …