صفحہ اول » متفرق » اعلیٰ سرکاری ملازمت کی خواہش بیش تر ایسے نوجوان کرتے ہیں جو اپنی تعلیمی ترقی کی رفتارسے مطمئن ہوتے ہیں

اعلیٰ سرکاری ملازمت کی خواہش بیش تر ایسے نوجوان کرتے ہیں جو اپنی تعلیمی ترقی کی رفتارسے مطمئن ہوتے ہیں

اعلیٰ سرکاری ملازمت ۔۔۔ ملازمت کی ان چند اقسام میں سے ایک ہے جس کی خواہش بیش تر ایسے ذہین نوجوان کرتے ہیں جو اپنی تعلیمی ترقی کی رفتارسے مطمئن ہوتے ہیں اور قومی زندگی کے ایک اہم شعبے میں شریک ہوکر ملک اور قوم کی خدمت کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔جمہوری معاشروں میں عام انتخابات کے ذریعے حکومت کی تشکیل ہوتی ہے اور کوئی ایک سیاسی جماعت یا چند سیاسی جماعتیں مل کر، حکومت بناتی ہیں۔ یہ حکومتیں ایک مخصوص مدت(چار سال ، یا پانچ سال) کے لیے ہوتی ہیں ، اور مقررہ وقت پر پھر انتخابات ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں یا تو تھوڑے بہت ردّوبدل کے بعد سابقہ سیاسی جماعت ہی حکومت بنانے کا اختیار حاصل کرلیتی ہے یا کوئی دوسری جماعت برسرِاقتدار آکر حکومت تشکیل دیتی ہے۔
سیاسی حکومتیں آنی جانی ہوتی ہیں لیکن مملکت کے انتظامی تسلسل کو جو لوگ دوام بخشتے ہیں اور مختلف وزارتوں، سرکاری محکموں اور اہم قومی اداروں میں خاموشی کے ساتھ امورِ مملکت انجام دیتے رہتے ہیں، وہ سرکاری ملازمین ہوتے ہیں، جن کی وفاداری اور وابستگی صرف اپنی قوم، ملک اور سلطنت کے ساتھ ہوتی ہے۔ سیاسی حکومتوں اور ان حکومتوں کے سیاسی عہدے داروں کا عرصہ اقتدار ناپائیدار ہوتا ہے۔ تاہم یہ جمہوری نظام کا حصّہ ہے۔ ملکی انتظامیہ کا وہ بنیادی ڈھانچہ جس پر ان حکومتوں کی کارکردگی کا انحصار ہوتا ہے، یہی سرکاری ملازمین ہیں جو چھوٹے بڑے شہروں، دیہات اور قصبوں، دور افتادہ اور دشوار گزار علاقوں کی مختصر آبادیوں سے دارالحکومت کے مرکزی ایوانوں تک مملکت کے نظم و نسق کی دیکھ بھال کرتے ہیں، تحصیل، ضلع ، ڈویژن اور صوبے کے معاملات کو چلاتے ہیں، امن عامہ قائم رکھنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں، ٹیکس دہندگان سے وصولی یابی کرکے قومی خزانے کو فعال رکھتے ہیں، کاروباری اور تجارتی سرگرمیوں اور قومی خزانے کی نگرانی کرتے ہیں، نشرواشاعت کے اداروں کے ذریعے سرکاری احکامات و ہدایات کو لوگوں تک پہنچاتےہیں، رسل و رسائل کے ذمہ دار ہوتے ہیں اور بیرون ملک سفارتی فرائض انجام دیتے ہیں۔

درحقیقت کسی بھی ملک کی ترقی اس کے قومی مزاج کی تشکیل اور کردار کی تعمیر میں اعلیٰ سرکاری ملازمین پس پردہ رہتے ہوئے نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ قومی ضروریات کا اندازہ لگانے، ان کے مطابق پالیسیاں تشکیل دینے اور ان پالیسیوں پر عمل درآمد کرانے والے لوگ مخلص، دیانت دار ، باصلاحیت اور وفادار ہوں تو قوم دنیا میں سرفراز ہوتی ہے ورنہ ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتی ہے۔ کسی ضلعی انتظامیہ کا دیانت دار سربراہ پورے ضلعے میں امن و امان برقرار رکھ سکتا ہے، انصاف کی فراہمی کو یقینی بنا سکتا ہے، عوام کی جان و مال کی حفاظت کرسکتا ہے اور اگر چاہے تو اس ضلعے میں مثالی معاشرہ قائم کرسکتا ہے۔ اسی طرح ایک مخلص ،وفادار اور باصلاحیت سفارت کار، بیرونِ ملک اپنی قوم کا وقار قائم رکھ سکتا ہے اور ملک کی نیک نامی کو بڑھاوا دے سکتاہے۔

تحریک پاکستان کی تاریخ کے مطالعے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ تقسیمِ ہند کے اعلان کے بعد بعض مسلمان سرکاری ملازمین کی معاملہ فہمی اور اپنے ملک کے ساتھ وفاداری کی وجہ سے مخالفین اپنی کوششوں کے باوجود کئی نقصانات پہنچانے میں ناکام رہے۔

سرکاری ملازمین آبادی کے تناسب کے لحاظ سے تعداد میں کم ہوتے ہیں لیکن انھیں جو وسیع اختیارات حاصل ہوتے ہیں ان کی وجہ سے ان کا اثر و نفوذ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ ایک فعال ڈپٹی کمشنر لاکھوں کی آبادی والے ضلعے کی ایک جانی پہچانی شخصیت ہوتا ہے۔ ان اختیارات کو عوام کی فلاح و بہبود اور قومیمفادات کے لیے استعمال کرنا سرکاری ملازم کی دیانت کا اوّلین تقاضا ہوتا ہے۔

پاکستان میں سرکاری ملازمین کی درجہ بندی( بہ لحاظ ذمہ داری و عہدہ) گریڈ 1 سے 22 تک کی گئی ہے۔ گریڈ 1 سے 16تک کے ملازمین ،عام ملازمین کہلاتے ہیں جن کی تقرری و ترقی کا اعلان سرکاری اعلامیے(گزٹ نوٹیفکیشن) میں نہیں کیا جاتا۔ گریڈ 17 سے 22 تک کے ملازمین اعلیٰ افسران ( گزیٹڈآفیسرز) کہلاتے ہیں۔ جن کی تقرری و ترقی کا اعلان سرکاری اعلامیے میں کیا جاتا ہے۔

عام سرکاری ملازمین (گریڈ 1 سے 16 ) کا تقرر امیدوار کی عمومی تعلیمی اور پیشہ ورانہ اسامی کی صورت میں متعلقہ شعبے کی پیشہ ورانہ اہلیت کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ لیکن اعلیٰ سرکاری ملازمین (گریڈ 17 اور اس کے بعد) کی تقرری کے لیے گریجویشن کی سطح کی تعلیمی قابلیت کے ساتھ ایک خصوصی امتحان کامیاب کرناضروری ہوتا ہے جسے مقابلے کا امتحان کہتے ہیں۔ اس امتحان میں کامیاب ہونے والے نوجوانوں کو پاکستان کی وفاقی حکومتکی ’’سینٹرل سپیریئر سروسز‘‘ ( سی ایس سی) میں شامل کیا جاتا ہے۔

مقابلے کا امتحان، فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے زیرِ اہتمام منعقد ہوتا ہے۔ ہر سال عموماً اپریل کے مہینے میں اخبارات کے ذریعے امتحان کے انعقاد کا اعلان کیا جاتا ہے۔ مئی میں درخواستیں وصول کی جاتی ہیں، اکتوبر میں تحریری امتحان ہوتا ہے جس کے نتیجے کا اعلان آئندہ برس مارچ یا اپریل میں ہوتا ہے۔ تحریری امتحان میں کامیاب ہونے والوں کا نفسیاتی امتحان اور طبی معائنہ ہوتا ہے۔ جس کے بعد انٹرویو ہوتے ہیں اور اکتوبر میں حتمی طور پر کامیاب ہونےوالوں کے ناموں کا اعلان کردیا جاتا ہے۔

ہر سال پورے ملک میں ہزاروں نوجوان مقابلے کے امتحان میں شریک ہوتے ہیں جن میں سے ضرورت کے مطابق سو سے ڈیڑھ سو امیدوار منتخب کیے جاتےہیں۔

امتحان میں شرکت کی اہلیت

مقابلے کے امتحان میں شرکت کی اہلیت اور امتحان کے قواعد کی فہرست درخواست فارم کے ساتھ فراہم کی جاتی ہے۔ بالعموم بنیادی شرائط میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں ہوتی۔ امتحان میں شریک امیدوار کے لیے ضروری ہے کہ وہ پاکستان کا شہری ہو، مقرہ تاریخ تک عمر 21 سال سے کم اور 28 سال سے زیادہ نہ ہو۔ کسی پاکستانی درس گاہ سے کم سے کم سیکنڈ ڈویژن میں گریجویشن کیا ہو یا کسی غیر ملکی یونی ورسٹی سے مساوی قابلیت کی سند حاصل کی ہو۔ پوسٹ گریجویشن امتحان میں اعلیٰ ڈویژن کے حامل تھرڈ ڈویژن گریجویٹ بھی شرکت کے اہل ہوسکتے ہیں۔ پس ماندہ علاقوں کے تھرڈ ڈویژن گریجویٹامیدواروں کے لیے خصوصی رعایت دی جاتی ہے۔

امیدوار نے کسی غیر ملکی خاتون سے شادی نہ کر رکھی ہو جسمانی و ذہنی طور پر مستعدد اور اچھی صحت کا حامل ہو۔ تین سے زیادہ مرتبہ اس امتحان میں شرکت کی اجازت نہیں ہے۔

درخواست فارم

امتحان میں شرکت کا درخواست فارم فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے دفاتر، ڈپٹی کمشنر اور پولیٹکل ایجنٹ کے دفاتر، ملکی جامعات اور بیرون ملک پاکستانی سفارت خانوں پر دستاب ہوتے ہیں۔ فارم حاصل کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک یا نیشنل بینک کے ذریعے مقررہ فیس سرکاری خزانے میں جمع کرنی ہوتی ہے۔ ( 1993ء کے امتحان کے لیے یہ فیس 200 روپے اور قبائلی علاقوں، اقلیتوں، شمالی علاقوں اور آزاد کشمیر کے امیدواروں کے لیے 75 روپے تھی) جمع کردہ فیس کی رسید دکھانے پر درخواست فارم جاری کیا جاتا ہے اور فارم پر کرکے جمع کرتے وقت یہ رسید فارم کے ساتھ منسلک کرنا ہوتی ہے۔
درخواست فارم پر کرنے سے پہلے متعلقہ ہدایات بہ غور پڑھ لینی چاہییں اور ان پر عمل کرنا چاہیے۔ ورنہ کسی غلطی کی صورت میں پہلے ہی مرحلے پردرخواست فارم مسترد کیا جاسکتا ہے اور امتحان میں شرکت کا ایک موقع ضائع ہوسکتا ہے۔

تحریری امتحان

مقابلے کے امتحان کے کل نشانات (نمبر) 1400 ہوتے ہیں جن میں سے 1100 نشانات تحریری امتحان کے اور 300 نشانات نفسیاتی امتحان اور زبانی امتحان ( انٹرویو) کے لیے مخصوص ہوتے ہیں۔ گویا کامیابی کے لیے 78فیصد تحریری اور 22 فیصدگفتگو کی صلاحیت درکاری ہوتی ہے۔ اس طرح تحریری امتحان کو زیادہاہمیت دینی چاہیے۔

تحریری امتحان کے 1100 نشانات میں سے 500 نشانات لازمی مضامین کے لیے اور 600 اختیاری مضامین کے لیے ہوتے ہیں۔ لازمی مضامین اور ان کےنشانات درج ذیل ہیں :

لازمی مضامین
-1 انگریزی مضمون نگاری 50
-2 انگریزی (خلاصہ و انشائیہ ) 100
-3 اسلامیات 100
-4 معلومات عامہ
پہلا پرچہ : روز مرہ سائنس 50
دوسرا پرچہ : حالاتِ حاضرہ 100
تیسرا پرچہ : امورِ پاکستان 100
کل نشانات 500
(غیر مسلم امیدوار اگر چاہیں تو اسلامیات کے بجائے امورِ پاکستان ہی کا پرچہ 200 نشانات کے لیے رکھ سکتے ہیں) ۔

اختیاری مضامین

درخواست فارم کے ساتھ اختیاری مضامین کی فہرست دی جاتی ہے۔ اس میں اکاؤنٹینسی اور آڈٹنگ ، سیاسیات ، معاشیات ، زراعت ، اطلاقی سائنس ، فلسفہ ، انگریزی ادب، تاریخ، قانون، صحافت، نظمِ عامہ اور لسانیات وغیرہ کے مضامین شامل ہوتے ہیں۔ فہرست کے ساتھ ہی مضامین کے انتخاب کے بارے میں ہدایات، طریقہ ء کار اور بنیادی اصول بھی دیے جاتے ہیں۔ ان مضامین کو مختلف گروپس میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ہر مضمون کے نمبر بھی دیے جاتے ہیں جو 200 یا 100 ہوسکتے ہیں۔ جو مضامین 200 نمبروں کے ہوں، ان کے دو تحریری پرچے ہوتے ہیں اور جن مضامین کے نمبر 100 ہوں ان کا صرف ایک تحریری پرچہہوتا ہے۔

امیدوار کو فارم میں دیے گئے اصولوں کے مطابق اختیاری مضامین کی اس طویل فہرست میں سے کل 200 نمبروں کے پرچوں کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ یہ 200 نمبروں کے تین مضامین بھی ہوسکتے ہیں اور 200 نمبروں کے دو اور 100 نمبروں کے دو مضامین بھی ہوسکتے ہیں۔ اسی طرح 100 نمبروں والے چار اور 200 نمبروں والا ایک مضمون کو بھی لیا جاسکتا ہے اور 100 نمبروں والے چھ مضامین بھی منتخب کیے جاسکتے ہیں۔
اختیاری مضامین کا انتخاب اس بات پر منحصر ہے کہ امیدوار نے یونی ورسٹی سے گریجویشن یا گریجویشن کی سطح پر کون کون سے مضامین پڑھے ہیں۔ وہ امیدوار جنھوں نے اطلاقی یا عملی سائنسی مضامین مثلاً فزکس ، کیمسٹری ، باٹنی، زولوجی وغیرہ میں ایم ایس سی کیا ہو، انھی مضامین کو اختیار کرتے ہیں اور ساتھ میں 100 نمبروں کے کوئی سے دو پرچے لے کر کل 600 نمبر برابر کرلیتے ہیں۔ سماجی علوم ، پبلک اور بزنس ایڈمنسٹریشن اور سیاسیات میں ایم اے یا قانون کی ڈگری لینے والے حضرات اپنے متعلقہ مضامین کے علاوہ تاریخ اسلام ، تاریخ پاک و ہند اور امریکن ہسٹری کو ترجیح دیتے ہیں۔
اختیاری مضامین میں ایک گروپ پاکستانی لسانیات کا ہوتا ہے جس میں قومی زبان اردو اور چاروں علاقائی زبانیں یعنی سندھی ، پشتو ، پنجابی اور بلوچی شامل ہیں۔ ان میں سے اردو کا پرچہ 200 نمبروں کا اور باقی چاروں پرچے ایک ایک سو نمبروں کے ہوتے ہیں ۔ان پانچوں زبانوں میں سے کسی ایک ہی کا انتخاب کیا جاسکتا ہے۔ لسانیات کے سلسلے میں ایک گروپ تیرہ غیر ملکی یا بین الاقوامی زبانوں کا ہے جس میں انگریزی شامل نہیں ہے۔ ان زبانوں میں امتحان دینے کے لیے متعلقہ زبان میں کم از کم آنرز کے معیار کی استعداد کا سرٹیفکیٹ پیش کرنا لازمی ہوتا ہے۔

پیشہ ورانہ گروپ کا ترجیح وار انتخاب

درخواست فارم کے تیسرے حصے میں حروف تہجی کے اعتبار سے ان بارہ پیشہ ورانہ گروپوں کی تفصیل دی گئی ہوتی ہے جن کے لیے اس امتحان کے ذریعے موزوں امیدواروں کا انتخاب کیا جانا ہوتا ہے۔ امیدواروں کے حتمی انتخاب اور ان کو مخصوص گروپ کی ایلوکیشن میں میرٹ کے علاوہ امیدواروں کی اپنی ترجیحی کو بھی مدِنظر رکھا جاتا ہے اور ایک مرتبہ ایلوکیشن کے بعد پھر گروپ تبدیل نہیں کیا جاتا۔ تحریری امتحان میں کامیاب ہونے والے امیدواروں کو ان گروپوں کی ترجیحی تربیت پر نظرِ ثانی کرنے کے لیے وائیوا یا زبانی امتحان کے وقت ایک موقع دیا جاتا ہے۔ عمومی طور پر مختلف وجوہات کی بنا پر ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ ( ڈی ایم جی) پولیس، انکم ٹیکس ، فارن سروس اور کسٹمز کو پہلی چند ترجیحات میں شمار کیا جاتا ہے اور باقی گروپوں کو ثانوی ترجیح دی جاتی ہے۔

انگریزی مضمون نویسی و خلاصہ نویسی

مجموعی طور پر سی ایس ایس کے تحریری اور زبانی امتحان میں کامیابی کے لیے انگریزی زبان میں تحریر پر کافی سے زیادہ دسترس ہونا بہت ضروری ہے۔ لازمی پرچہ جات میں سے انگریزی مضمون نویسی اور خلاصہ نویسی کے پرچے کچھ اس طور سے مرتب کیے جاتے ہیں کہ امیدوار کی انگریزی کی صلاحیت کھل کر ظاہر ہوجاتی ہے۔ انگریزی مضمون نویسی کے پرچے میں عمومی عنوانات دیے جاتے ہیں جن میں سے کسی ایک یا دو پر مضمون لکھنا ہوتا ہے۔ اس پرچے کی تیاری کے لیے مختلف مضامین پر مشتمل تیار کتابیں بازار میں مل جاتی ہیں۔ تاہم بہتر تیاری کے لیے ملکی و غیر ملکی انگریزی ، اخبارات و جرائد میں چھپنے والا مواد ہی وہ سرمایہ ہے جو ان پرچوں میں کامیابی کو یقینی بناسکتا ہے۔

معلومات عامہ۔ پہلا پرچہ : روزمرہ سائنس

وہ لوگ جو اپنے تعلیمی کیریئر میں فزکس، کیمسٹری یا بیالوجی جیسے مضامین کے قریب بھی نہ گئے ہوں ان کی آسانی کے لیے مختلف اداروں کی طرف سے شائع کردہ مختصر سوالات و جوابات پر مشتمل کتابیں عام کتب فروشوں کے ہاں مل جاتی ہیں۔
میٹرک کی سطح پر پڑھائی جانے والی جنرل سائنس ، فزکس ، کیمسٹری اور بیالوجی کی درسی کتب، سائنس سے ناواقفیت رکھنے والے امیدواروں کے لیے بہت مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ سائنس کے کسی طالبِ علم یا ٹیچر سے چند اسباق پڑھ لیے جائیں اور گفتگو کرلی جائے تو خاصی مدد مل جاتی ہے۔

معلومات عامہ۔ دوسرا پرچہ : حالاتِ حاضرہ

اس پرچے میں پاکستان اور اسلامی دنیا کے حوالے سے واقعاتِ عالم اور ان کے ممکنہ اثرات، عالمی و علاقائی طاقتوں کے باہمی تعلقات، بین الاقوامی معاہدات، عالمی سیاسی، اقتصادی اور سماجی مسائل کے بارے میں پوچھا جاتا ہے۔ اقوامِ متحدہ، غیر جانب دار تحریک، عرب لیگ، اُمّہء اسلامی کانفرنس، آسیان اور سارک جیسے بین الاقوامی اداروں کے کردار اور ماضی، حال یا مستقبل کو زیرِ بحث لایا جاتا ہے۔ اہم بین الاقوامی شخصیات و مقامات کے بارے میںبھی سوالات پوچھے جاتے ہیں۔

معلومات عامہ۔ تیسرا پرچہ : امورِ پاکستان

اس پرچے میں تحریکِ پاکستان اور اس کے پس منظر، نظریہء پاکستان کی تفسیر، ہندوستان میں مسلمان معاشرے کی تشکیل و ترویج اور مختلف ادوار میں برصغیر میں اٹھنے والی سیاسی، اصلاحی، سماجی اور تعلیمی تحریکوں اور شخصیات کے بارے میں پوچھا جاتا ہے۔ علی گڑھ اور خلافت کی تحریکیں اس پرچے کا لازمی جزو ہیں۔ تحریکِ پاکستان میں مسلمانوں کے مختلف طبقوں کا کردار بھی زیرِ بحث لایا جاتا ہے۔ قائد اعظم ؒ اور علامہ اقبال ؒ کے علاوہ تحریکِ پاکستان کے دیگر قائدین کے بارے میں بھی پوچھا جاسکتا ہے۔ آزادی سے پہلے اور بعد کے اہم واقعات، مسلمانوں اور انگریزوں کے دستوری اقدامات و اصلاحات اور ان کے اثرات کے بارے میں اکثر سوال ہوتے ہیں۔ آزادی کے بعد دستور سازی، مختلف دساتیر کی اسلامی شقوں، قرار دادِ مقاصد اور 1973ء کا آئین بھی اس پرچے کے اہم مباحث میں شامل ہیں۔ پاکستان کے جغرافیائی محل وقوع کی مناسبت سے خطے میں اس کے سیاسی کردار کے بارے میں بھی پوچھا جاتا ہے۔ ایک اور اہم بحث، تجارت، صنعت ، زراعت، قدرتی وسائل، افرادی قوت اور سماجی مسائل اور حکومت کے اسلامی اقدامات کے حوالے سے پاکستان کیموجودہ صورتِ حال کے بارے میں ہوتا ہے۔

اس مضمون کی تیاری کے لیے مطالعہ پاکستان کی بی اے کی سطح کی مختلف کتابوں سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ اشاعتی اداروں کی کتابیں بھی مل جاتی ہیں۔ دوسرے پرچوں کی طرح تازہ ترین امور پاکستان کے لیے اہم ذریعہ اخبارات و رسائل ہیں ’’پاکستان ایئربک‘‘ اس مضمون کی تیاری کے لیے اہم کتاب ہے۔ اس پرچے کی تیاری کرتے وقت تحریک پاکستان کے اہم واقعات، ایام، تاریخوں اور مقامات کو ذہن نشین کرنا بہت ضروری ہے۔ کیوں کہ لازمی سوال جو معروضی نوعیت ( آبجیکٹو ٹائپ) کا ہوتا ہے، عموماً انھی چھوٹی چھوٹی جزئیات کے بارے میں ہوتا ہے۔ ان نکات کو دوران مطالعہ علیحدہ سے نوٹ کرلیا جائے تو دوبارہ مطالعہ بہت آسان رہتا ہے۔

اسلامیات

تین گھنٹے کے اس پرچے کے کل نشانات ایک سو ہوتے ہیں۔ اس میں اسلام کی مبادیات، بنیادی عقائد، عبادات، اسلامی معاشرے کے خدوخال اور اسلامی نظامِ زندگی کے بارے میں سوالات ہوتے ہیں۔ شریعت ، قرآن و حدیث، نظام قانون و عدل، تعلیم اور اسلام کے معاشی تصورات بھی اس کے اہم مباحث ہیں۔ تاریخ و تحریک پاکستان اور اس کا پس منظر و محرکات اور آزادی کے بعد پاکستان کے قانون و دستور کو اسلامی بنانے کے لیے مختلف ادوار میں حکومتی و غیر حکومتی سطح پرکیے گئے اقدامات اس پرچے کا لازمی حصہ ہیں، اُمتِ مسلمہ کی موجودہ صورتِ حال کے بارے میں بھی سوال ہوسکتا ہے۔ اکثر لوگ اسلامیات کو ہلکے پھلکے اندازمیں لیتے ہیں اور اس پرچے کے لیے خاطر خواہ تیاری نہیں کر پاتے۔ یہی وجہ ہے کہ سی ایس ایس کے تحریری مقابلے میں امیدواروں کی کثیر تعداد صرف اسلامیات کے پرچے میں ناکام ہونے کی وجہ سے پہلے مرحلے میں ہی مقابلے سے باہر ہوجاتی ہے۔ پرچہ اردو یا انگریزی دونوں میں سے کسی ایک زبان میں دیا جاسکتا ہے۔

اختیاری مضامین کی تیاری

اختیاری مضامین کے پرچوں میں جو سوالات پوچھے جاتے ہیں ان کا معیار آنر ڈگری کی سطح کے نصاب کا ہوتا ہے۔ ان مضامین کی تیاری کا انداز لازمی مضامین کی تیاری سے تھوڑا سا مختلف یوں ہے کہ ان کے بارے میں امیدوار گریجویشن یا ایم اے ، ایم ایس سی لیول پر بہت کچھ پڑھ چکا ہوتا ہے۔ ان کے بارے میں درسی کتب بھی اچھی خاصی تعداد میں مل جاتی ہیں اور کلاس نوٹس بھی۔ صرف کلاس نوٹس پر تکیہ کرنا مقابلے کے امتحان میں کامیابی کی ضمانت نہیں بن سکتا۔ تاہم ان سے مدد ضرور مل سکتی ہے۔ تقریباً ہر اختیاری مضمون میں ایک لازمی سوال آبجیکٹو قسم کا ہوتا ہے۔ اس لیے ان مضامین کی ابتدائی جزئیات سے صرفِ نظر نہیں کرنا چاہیے۔ دیکھا گیا ہے کہ پہلی دفعہ مقابلے کے امتحان کی تیاری کرنے والے حضرات ان مضامین کے اہم مباحث کی تیاری اچھے انداز میں کرلیتے ہیں اورجزئیات کو چھوڑ دیتے ہیں۔ جس وجہ سے آبجیکٹو کے لازمی سوالات کا جواب نہیں دے پاتے حالاں کہ ایسے سوالات کے ٹھوس نمبر ہوتے ہیں۔
تیاری شروع کرنے سے قبل اور تیاری کے دوران بھی وقتاً فوقتاً سلیبس پر نظر دوڑاتے رہنا چاہیے تاکہ اندازہ ہوسکے کہ تیاری کا رخ کیاہے۔

امتحان

مقابلے کے امتحان کے پرچوں کا نظام الاوقات کچھ اس طرح سے ہوتا ہے کہ پہلے لازمی پرچے ہوتے ہیں اور پھر اختیاری مضامین کے، ہر روز صبح و شام کے اوقات میں دو پرچے ہوتے ہیں۔ پہلے اور دوسرے پرچے کے دوران صرف دو گھنٹے کا وقفہ ہوتا ہے۔ اس امتحا ن کے وقار اور احترام کو مدِنظر رکھتے ہوئے ہال میںجانچ پڑتال اور نگرانی کا نظام بہت سخت ہوتا ہے۔

جوابات مختصر ، جامع ، منطقی انداز اور خوب صورت و خوش خط تحریر میں ہونے چاہییں۔ غیر متعلقہ جوابات دینے پر نمبر کم ہوسکتے ہیں، جب کہ جامع جواب ہونے پر اضافی نمبر بھی مل سکتے ہیں۔

طبی معائنہ

تحریری امتحان کامیاب کرنے والے امیدواروں کو فیڈرل پبلک سروس کمیشن کی جانب سے طبی معائنہ اورنفسیاتی جانچ کے نظام الاوقات روانہ کیا جاتا ہے۔ مرکزی طبی بورڈ کے معائنے سے قبل کسی سول سرجن سے از خود اپنا طبی معائنہ کرانا بہتر ہوتا ہے تاکہ کوئی معمولی خامی ہو تو اسے دور کرلیا جائے۔ نظر کی شدید کم زوری ، فشار خون (بلڈ پریشر) کم زور سماعت، ذیابیطس یا کسی جسمانی معذوری کی صورت میں امیدوار کو اعلیٰ سرکاری ملازمت کے لیے ’’ناموزوں‘‘ قرار دے دیا جاتا ہے۔ امیدوار کی آسانی کے لیے طبی معائنے سے متعلق قواعد اور طبی معیار کی تفصیل درخواست فارم کے ساتھ منسلک معلوماتی کتابچے میں دی ہوتی ہے۔ امیدوار کے حتمی انتخاب کے لیے لازمی ہے کہ وہ مقررہ معیار پر ہر اعتبار سے پورا ترتا ہو۔ امیدوار کو کمیشن کے مقرر کردہ میڈیکل بورڈ کو مطمئن کرنا ہوتا ہے کہ وہ کسی ایسی جسمانی یا ذہنی معذوری کا شکار نہیں ہے جو تقرر کے بعد سرکاری ذمہ داریوں کے احسن طریقے سے ادا کرنے میں رکاوٹ پیدا کرسکتی ہو۔
مرد امیدواروں کے لیے کم از کم 1524 ملی میٹر اور خواتین کے لیے 1473 ملی میٹر قد اور 43.5 کلو گرام وزن کا ہونا ضروری ہے۔ بصری ٹیسٹ ( آنکھوں کا معائنہ) کے لیے پولیس، ریلوے اور دیگر محکموں کے لیے علیحدہ علیحدہ معیار ہیں۔ اس کے علاوہ امیدوار کی میڈیکل ہسٹری، جسم کی ساخت، نشوونما، سماعت اور زبان کی لکنت کو بھی طبی معائنے میں اہمیت دی جاتی ہے۔ طبی طور پر ناموزوں امیدواروں کوفیڈرل پبلک سروس کمیشن کی طرف سے تحریری طور پر مطلع کیا جاتا ہے۔ میڈیکل بورڈ کے فیصلے کے خلاف اپیل کی جاسکتی ہے، جس کی منظوری یا استرداد کا فیصلہ حکومت کرتی ہے۔

نفسیاتی امتحان

نفسیاتی امتحان، گروپ کی شکل میں لیے جاتے ہیں۔ ہر گروپ میں دس سے پندرہ امیدوار شامل ہوتے ہیں۔ یہ ٹیسٹ جو کمیشن کے ماہرین نفسیات لیتے ہیں ،دو مرحلوں میں ہوتا ہے۔ پہلے مرحلے میں تحریری ٹیسٹ ہوتے ہیں جنھیں پینسل اینڈ سلیٹ ٹیسٹ کہتے ہیں۔ اس میں سب سے پہلے امیدوار اپنے کوائف سے متعلق کمپیوٹرائزڈ فارم پر کرتے ہیں۔ اگلے مرحلے میں امیدواروں کو اردو میں کم و بیش 20 تحریری جملے دیے جاتے ہیں اورامیدوار کو ان کا تجزیہ کرکے منطقی نتائج اخذ کرنا ہوتے ہیں۔ تصویری کہانیاں بھی نفسیاتی ٹیسٹ کا حصہ ہوتی ہیں۔ اس مرحلے میں ایک مخصوص ترتیب سے چند تصاویر دکھائیجاتی ہیں اور امیدوار سے مختصر وقت میں ان پرانگریزی میں کہانیاں لکھنے کے لیے کہا جاتا ہے۔

نفسیاتی آزمائش کا ایک اور مرحلہ تقریباً 400 مختصر اور معروضی انداز کے سوال و جواب کا ہوتا ہے۔ یہ سوالات ایک کتابچے کی صورت میں ہوتے ہیں اور کاغذ پر ان کے تحریری جواب ’’ہاں‘‘ یا ’’نا‘‘ کی صورت میں دینے ہوتے ہیں۔ ان میں سے بعض سوالات ( ملٹی پل چوائس کوئسچن) کی طرح کے بھی ہوتے ہیں جن کا مناسب جواب، سوالات کے ساتھ ہی دیے گئے مختلف جوابات میں سے منتخب کرکے لکھنا ہوتا ہے۔ ان 400 سوالوں کے لیے دیا گیا وقت کم محسوس ہوتا ہے۔ ہر سوال پر سوچنے اور غور کرنے کی مہلت زیادہ نہیں ہوتی۔ کوشش کرنی چاہیے کہ 400 میں سے زیادہ سے زیادہ سوالات کے جواب دیے جاسکیں۔
حسابی اور جیومیٹریکل اشکال اور الجبرا کی مساوات بھی نفسیاتی آزمائش میں شامل ہیں۔ اس مرحلے میں مختلف اشکال دی جاتی ہیں جن کی منطقیترتیب کے بارے میں دریافت کیا جاتا ہے۔ اسی طرح حساب /الجبرا کے مختلف فارمولے یا مساوات دی ہوتی ہیں اورانھیں حل کرنا ہوتا ہے۔

نفسیاتی آزمائش کے مختلف مراحل مسلح افواج میں بھرتی کے لیے آئی ایس ایس بی میں لیے جانے والے نفسیاتی ٹیسٹوں سے ملتے جلتے ہوتے ہیں اور ان کی تیاری کے لیے کتابیں بھی بازار میں مل جاتی ہیں۔ جن کی مدد سے امیدوار اس آزمائش کی مشق کرسکتا ہے۔ مشق کے ساتھ ساتھ امیدوار کی اپنی عقل سلیم ( کامن سینس) کا استعمال اور حاضر دماغی اس مرحلے میں کامیابی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس ضمن میں کتابی مواد کی مشق کے علاوہ مقابلے کے امتحان کے سابقہ امیدواروں اور نفسیات کا مضمون پڑھانے والے اساتذہ سے ماہرانہ رہنمائی حاصل کرلی جائے تو اس ٹیسٹ کی تیاری اور اسمیں کامیابی کے امکانات روشن ہوجاتے ہیں۔

پینسل اینڈ سلیٹ ٹیسٹ کے بعد گروہی مباحثہ(گروپ ڈسکشن) اور گروپ ٹاسک کے مراحل آتے ہیں۔ ان دونوں مراحل کی کارروائی انگریزی میں ہوتی ہے۔ گروہی مباحثے میں گروپ کو ایک موضوع دیا جاتا ہے اور محدود وقت کے اندر گروپ کو اس موضوع کے تمام پہلوؤں پر سیر حاصل بحث کرنی ہوتی ہے۔ کمیشن کے ماہرین نفسیات اس بحث کی نگرانی کرتے ہیں۔ ان کی طرف سے بحث کے دوران مداخلت نہیں کی جاتی۔ وہ صرف یہ دیکھتے ہیں کہ کون ساامیدوار اس مباحثے میں کتنا حصہ لیتا ہے ، کتنے اور کیسے دلائل کس اندازمیں پیش کرتا ہے۔ اور یہ کہ دورانِ بحث دوسرے شرکا کو گفتگو کے لیے کتنا موقع فراہم کرتا ہے۔ یا یہ کہ دوسروں کے دلائل کو رد کرنے کے لیے کیا انداز اپناتا ہے۔ اس بات کو خاص طور پر نوٹ کیا جاتا ہے کہ امیدوار نے بحث و مباحثہ کے آداب اور اصولوں کا کس حد تک خیال رکھا ہے۔

گروپ ٹاسک میں تمام گروپس کو ایک کمیٹی کی صورت دے کر ہر امیدوار کو باری باری اس کمیٹی کا صدر مقرر کیا جاتا ہے اور اسے ایک مخصوص مسئلہ یا موضوع دے کر کمیٹی میں بحث کروائی جاتی ہے۔ یوں گروپ کے جتنے ارکان ہوں اتنے ہی موضوعات پر بحث کروائی جاتی ہے۔ دورانِ بحث کمیٹی کی شکل میں امیدواران کا یہ گروپ مسئلے کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہیں، اس کے مرحلے کے لیے اپنی سفارشات پیش کرتا ہے۔ بحث کے آخر میں کمیٹی کا صدربحث کو سمیٹتے ہوئے اس کا خلاصہ پیش کرتا ہے۔

گروپ یا کمانڈ ٹاسک میں بحث کے لیے جو موضوع دیے جاتے ہیں ان کا تعلق معاشی، سماجی، یا روزمرہ کے انتظامی امور و مسائل سے ہوتا ہے جو مختلف اوقات اور حالات میں حکومتی اہل کاروں کو اپنے فرائضِ منصبی کی ادائیگی کے دوران پیش آتے ہیں۔ بحث کے آغاز سے پہلے ہی ان موضوعات یا مسائل کے بارے میں ایک نوٹ ہر امیدوار کو دے دیا جاتا ہے جسے وہ کمیٹی کی صدارت کے دوران بحث کے آغاز کے وقت گروپ کے باقی ارکان کے سامنے رکھتا ہے۔ اس مشق کے دوران یہ دیکھا جاتا ہے کہ ہر امیدوار گروپ کا سربراہ بن کر اپنے دیگر شرکائے کار کے ساتھ کیسا رویہ اختیار کرتا ہے۔ نیز وہ تمام گروپ کو ساتھ لے کر چلنے میں کس حد تک کامیاب ہوتا ہے۔ یہ مشن دراصل ہر امیدوار کی ایک طرف قائدانہ صلاحیتوں کا امتحان ہوتا ہے، جس میں اپنے رویے سے اس نے ثابت کرنا ہوتا ہے کہ وہ بہترین قائد ہے۔ دوسری طرف کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے اس نے یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ وہ گروپ کی صورت میں کسی دوسرے فرد کے ماتحت کام کرنے کے لیے کس حد تک کارآمد ہے اور اس ضمن میں اپنی ذمہ داری محسوس کرنے اور اس کو نبھانے میں سرگرمی دکھاتا ہے یا نہیں۔
نفسیاتی آزمائش یا جانچ کا مقصد مختلف حالات اور معاملات میں امیدوار کے ذہنی و جسمانی ردّ عمل اور دیگر افرادِ کار کے ساتھ اس کے تعلق اور رویے کامطالعہ کرنا ہے۔ دوسرے الفاظ میں امیدوار کی شخصیت کا مطالعہ اور تجزیہ کرنامقصود ہوتا ہے۔

نفسیاتی جانچ کے تمام مراحل کے دوران امیدوار کی تحریری اور زبانی کارکردگی کے مشاہدے سے کمیشن کے ماہرین نفسیات، اس کی شخصیت کے بارے میں جو تاثر قائم کرتے ہیں، اس کی روشنی میں امیدوار کو مثبت، معتدل رویے کی حامل شخصیت قرار دیتے ہوئے اسے کسی مخصوص سروس یا گروپ کے لیے موزوں یا ناموزوں ہونے کی سفارش کرتے ہیں۔ اس طرح یہ مرحلہ امیدوار کے کسی مخصوص محکمے کے لیے حتمی انتخاب میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
مجموعی طور پر نفسیاتی آزمائش کے مختلف مراحل بڑے صبر آزما اور محنت طلب ہوتے ہیں۔ ان کا مقصد امیدوار کی ذاتی اورشخصی صلاحیتوں، رویوں اور رجحانات کی جانچ کرنا ہوتا ہے اور ان تمام مراحل میں مثبت رویہ اختیار کرنے والے امیدوار کے زیادہ موزوں ہونے کی سفارش کی جاتی ہے۔ عدم دلچسپی اور بودی گفتگو منفی تاثر قائم کرتی ہے۔ ہر امیدوار کی اپنی فطری شخصیت اور رویوں سے قطع نظر مشورہ یہی ہے کہ نفسیاتی آزمائش کے تمام مراحل میں دلچسپی، حاضر دماغی، مثبت رویہ و ردّعمل، منطقی استدلال اور مدلل گفتگو کے ساتھ حصہ لیا جائے اور ان تمام انفرادی شخصی خاصیتوں کا اپنے مثبت رویے سے عملی اظہار کیا جائے تاکہ وہ کسی بھی مخصوص سروس کے لیے ناموزونیت کا شکار نہ ہوپائے۔

زبانی امتحان

تحریری امتحان اور اس کے نتائج کے درمیان کم و بیش چار ماہ کا وقفہ ہوتا ہے۔ وہ امیدوار جنھیں اپنی کامیابی کا یقین ہوتا ہے وہ اس درمیانی وقفے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے مطالعے کو جاری رکھتے ہیں۔ کیوں کہ زبانی امتحان لیتے وقت امیدوار کے تحریری امتحان کی کاپیاں انٹرویو بورڈ کے سامنے ہوتی ہیں اور ان کاپیوں پر ایگزامنر حضرات کے تبصرے کی روشنی میں انٹرویو بورڈ کے ممبران سوالات کرتے ہیں۔ انٹرویو میں حالاتِ حاضرہ کے بارے میں بھی پوچھا جاتا ہے۔
تحریری امتحان ، نفسیاتی و طبی جانچ پڑتال ، گروہی مباحث اور زبانی امتحان کے اختتام پر فیڈرل پبلک سروس کمیشن امیدواروں کی مجموعی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے میرٹ لسٹ بناتا ہے اور حکومت اور کوٹے کی ضروریات اور مشتہر شدہ اسامیوں کی تعداد کے مطابق میرٹ لسٹ تیار کرکے وفاقی حکومت کے اسٹیبلش منٹ ڈویژن کو اپنی سفارشات کے ساتھ بھجوادیتا ہے۔ وہاں سے حتمی انتخاب کے بعد یہ لیسٹ مختلف محکموں کو روانہ کی جاتی ہے جو ان افراد کی تعیناتی کا پروانہ جاری کرتے ہیں۔

تربیت

مقابلے کے امتحان کے نتیجے میں منتخب شدہ نوجوان افسروں کو تربیت کے پہلے مرحلے میں ابتدائی مشترکہ تربیت (Common Training) کے لیے سول سروسز اکیڈمی والٹن، لاہور بھیج دیا جاتا ہے۔ سول سروسز اکیڈمی سے فارغ ہونے پر تربیت کے دوسرے مرحلے میں ان افسروں کو اپنے اپنے محکموں کے تربیتی اداروں میں مخصوص پیشہ ورانہ یا تخصیصی تربیت دی جاتی ہے۔ اس دوران انھیں محکماتی قوانین پڑھائے جاتے ہیں اور قواعد و ضوابط سکھائے جاتے ہیں۔

تعیناتی

محکماتی تربیت کے اختتام پر ان افسران کو ملک کے مختلف شہروں میں مختلف دفاتر میں تعینات کردیا جاتا ہے جہاں وہ روز مرہ کے حکومتی امور نبٹانے اور کاروبارِ حکومت چلانے میں مصروف ہوجاتے ہیں جو ان کی صلاحیتوں کا اصل اور سی ایس ایس سے بھی بڑا امتحان ہوتا ہے۔
سی ایس ایس کے امتحان کے سلسلے میں یہ بات مدِنظر رہنی چاہیے کہ امتحان میں پاس ہونا ہی ملازمت ملنے کی ضمانت نہیں ہے۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ میرٹ لسٹ میں پہلے ایک سو کامیاب امیداوروں میں نام آنا چاہیے، میرٹ لسٹ میں نام جتنا اوپر ہوگا، حسبِ توقع اچھے محکمے یا پسندیدہ گروپ

میں سروس ملنے کے امکانات اتنے ہی زیادہ ہوں گے۔

یاد رہے کہ تحریری امتحان اگر کامیابی کی بنیاد فراہم کرتا ہے تو نفسیاتی اور زبانی امتحان اس بنیاد پر ایک اچھی عمارت کھڑی کرنے کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ اس عمارت کی تعمیر کے لیے ابتدائی مرحلے ہی سے عرق ریزی اور دماغ سوزی کرنی پڑتی ہے۔ عزمِ کامل اور عقلِ صادق سے اگر کام لیا جائے تو سی ایس ایس کے خواب کی عملی تعبیر حاصل کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔مزید معلومات کے لیے مندرجہ ذیل پتوں پر رابطہ کیجیے۔

-1 صدر دفتر
فیڈرل پبلک سروس کمیشن
چغتائی پلازہ، بلیو ایریا ، اسلام آباد
-2 علاقائی دفتر۔ کراچی
ایچ۔ ایم۔ 2 ، باتھ آئی لینڈ ، کراچی
-3 علاقائی دفتر۔ لاہور
321 اپر مال، بالمقابل لاہور جیم خانہ۔ لاہور
-4 علاقائی دفتر۔ پشاور
54 گل بہار کالونی نمبر 1 ، پشاور
-5 علاقائی دفتر۔ کوئٹہ

عقب کنٹرولر آفس ، سریاب روڈ۔ کوئٹہ

درج ذیل شہروں کی جامعات میں فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے مراکز معلومات قائم ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان ، ملتان، مظفر آباد، بہاول پور ، جام شورو اور کوئٹہ۔ لندن میں سفارت خانہ پاکستان۔ o
سرکاری ملازمین کی تنخواہیں
تنخواہوں کی یہ شرح 1994ء سے نافذ ہے
گریڈ
ابتدائی تنخواہ
سالانہ اضافہ
انتہائی تنخواہ
گریڈ
ابتدائی تنخواہ
سالانہ اضافہ
انتہائی تنخواہ

جدول میں صرف بنیادی تنخواہ ظاہر کی گئی ہے کرایہ مکان، طبی الاؤنس ، کرایہ آمدورفت اور دیگر الاؤنسز اس کے علاوہ ہوتے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

خواتین کے لیے بہتر زندگی کا موقع!

15 ہفتے کی تربیت آپ کی زندگی بدل سکتی ہے! 18 سے 45 سال کی …