نرسنگ


پنجاب میں سرکاری شعبے میں27مسلح افواج کے سات اور مشن اور نجی شعبے کے 11نرسنگ اسکول کام کر رہے ہیں۔
سندھ میں کل 28 نرسنگ اسکول ہیں۔ جن میں 18 کراچی میں، پانچ حیدرآباد میں، دو لاڑکانہ میں، نواب شاہ، سکھر اور میر پور خاص میں ایک ایک نرسنگ اسکول ہے۔
صوبہ سرحد میں نرسنگ اسکولوں کی تعداددس ہے۔
بلوچستان میں پانچ نرسنگ اسکول موجود ہیں۔
کسی بھی صوبے، شہر میں موجود نرسنگ اسکولوں کے پتے پاکستان نرسنگ کونسل کو خط لکھ کر حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ اس کا پتا مضمون کے آخر میں درج ہے۔
داخلے کے لیے اہلیت
نرسنگ کی تربیت حاصل کرنے کی خواہش مند طالبات کے لیے ضروری ہے کہ ان کی عمر 15 سے35 سال کے درمیان ہو۔ خاص صورتوں میں عمر کی حد میں40سال تک کی رعایت دی جاسکتی ہے۔ اسی طرح ایسی مطلقہ یا بیوہ خاتون کو بھی داخلہ دیا جاسکتا ہے جن کے بچے نہ ہوں۔
تعلیمی اہلیت کے اعتبار سے بارہویں جماعت سائنس میں کامیاب امیدواروں کو ترجیح دی جاتی ہے اس کے بعد بارہویں جماعت آرٹس، دسویں جماعت (سائنس گروپ) اوّل درجے اور دوم درجے میں کامیاب، دسویں جماعت (آرٹس گروپ) اوّل درجے اور دوم درجے میں کامیاب امیدوار منتخب کی جاتی ہے۔
اگرکسی جگہ مندرجہ بالا اہلیت کی امیدوار دستیاب نہ ہوں تو میٹرک (سائنس) درجہ سوم میں کامیاب امیدواروں کو بھی داخلہ دے دیا جاتا ہے۔
نصاب
نرسنگ اسکولوں میں طالبات کو چار سال کے عرصے میں نظری و عملی مضامین کی تعلیم و تربیت دی جاتی ہے۔
داخلے کے بعد ابتدا میں تین ماہ کا مختصر نصاب مکمل کرنا ہوتا ہے جس میں (1) تشریح الابدان (ایناٹومی) اور علم الاعضا (فزیولوجی) (2) نرسنگ کی تاریخ (3)اخلاقیات، (4) نرسنگ آرٹس اور (5)انگریزی کے مضامین پڑھائے جاتے ہیں۔ اس نصاب کی کامیاب تکمیل پر طالبات کو پہلے سال میں ترقی دے دی جاتی ہے جہاں انھیں مندرجہ ذیل مضامین پڑھنے ہوتے ہیں۔
1۔تشریح الابدان اور علم الاعضا 2۔نرسنگ 3۔حفظانِ صحت
4۔طبیعیات 5۔اسلامیات
دوسرے اور تیسرے سال کے دوران درجِ ذیل مضامین پڑھائے جاتے ہیں۔
1۔میڈیکل نرسنگ 2۔سرجیکل نرسنگ
3۔نرسنگ آرٹس 4۔گائنا کالوجی
5۔مطالعہء پاکستان 6۔انسانی تعلقات
اس تین سالہ نصاب کی تکمیل پر نرسنگ کی تعلیم و تربیت مکمل ہوجاتی ہے اور کامیاب نرسوں کو سند (ڈپلوما) کا اہل قرار دیا جاتا ہے۔
سند یافتہ نرسیں اب اس بات کی اہل ہوتی ہیں کہ وہ دایہ گیری (مڈوائفری) کا ایک سال کا نصاب مکمل کرکے مڈوائفری کا ڈپلوما بھی حاصل کرلیں۔
ہر صوبے میں نرسنگ ایگزامنیشن بورڈ موجود ہے جو ہر سال کے نصاب کی تکمیل پر امتحان لیتا ہے اور کامیاب امیدواروں کو ڈپلوما جاری کرتا ہے۔
اخراجات ،ظائف اور سہولتیں
پاکستان میں نرسنگ کی تعلیم تقریباً مفت ہے۔ جو طالبات داخلے میں کامیابی حاصل کرلیتی ہیں انھیں سرکاری اسکولوں میں گیارہ سو روپے ماہانہ وظیفہ دیا جاتا ہے۔ ہاسٹل میں مفت آراستہ رہائش فراہم کی جاتی ہے۔ کھانے کے اخراجات کے لیے پانچ سو روپے ماہانہ اور یونی فارم کے لیے ایک سو پچاس روپے ماہانہ الاؤنس دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ گیس، بجلی اور خادمہ کی بلا معاوضہ خدمات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔
مسلح افواج کے اسکولوں میں بھی کم و بیش یہی سہولتیں حاصل ہیں۔ نجی نرسنگ اسکولوں میں بھی تعلیم، رہائش اور کھانا وغیرہ مفت ہے۔ بعض نجی اسکولوں میں نقد وظیفہ نہیں دیا جاتا لیکن اس کے بجائے درسی کتابیں، اسٹیشنری اور ضرورت کی دیگر اشیا بلا معاوضہ فراہم کی جاتی ہیں۔
مسلح افواج مین نرسنگ کی تربیت کے لیے غیر شادی شدہ طالبات امیدواروں کو بہ طور نرسنگ کیڈٹ داخلہ دیا جاتا ہے۔ مسلح افواج میں نرسنگ کا کورس تین سال کا ہے۔ داخلے کی خواہش مند امید واروں کے لیے ضروری ہے کہ انھوں نے میٹرک کا امتحان سائنس گروپ کے ساتھ درجہ اوّل ، درجہ دوم میں کامیاب کیا ہو یا بارہویں جماعت کا امتحان پری میڈیکل کے ساتھ کامیاب کیا ہو۔ نرسنگ کیڈٹ کو تین سالہ تربیت کے دوران مفت رہائش کے ساتھ 830روپے ماہانہ وظیفہ وردی کے لیے 75 روپے سے 585 روپے تک الاؤنس اور کھانے کے لیے 450 روپے ماہانہ الاؤنس دیا جاتا ہے۔ کامیاب کیڈٹس کے لیے ضروری ہے کہ وہ تربیت کے اختتام پر کم سے کم تین سال مسلح افواج کے اسپتالوں میں خدمت انجام دیں۔
مسلح افواج کی نرسنگ کیڈٹس کو راول پنڈی، کھاریاں، جہلم، لاہور، ملتان اور کوئٹہ کے کمبائینڈ ملٹری اسپتالوں (سی ایم ایچ) اور کراچی میں بحریہ کے اسپتال ’’الشفا‘‘ میں تربیت دی جاتی ہے۔
ماحول کار
عملی زندگی میں نرس کو اسپتالوں میں ڈاکٹروں، طبی ماہرین اور نیم طبی عملے (پیرا میڈیکل اسٹاف) کے ساتھ مریضوں کی دیکھ بھال کا کام کرنا ہوتا ہے۔ وارڈ میں مریضوں کا درجہء حرارت، فشار خون (بلڈ پریشر) اور تنفس کی رفتار ناپنا اور ان کا ریکارڈ رکھنا، مریض کے زخموں کی صفائی کرنا اور پٹی باندھنا ضرورت ہو تو ان کی مالش کرنا، خون دینے کے انتظام کی نگرانی کرنا، پیپ پڑے زخموں سے مواد نکالنا، ڈرپ لگانا اور اس کی دیکھ بھال کرنا، بستر کی چادر تبدیل کرنا، مریض کا لباس بدلوانا، غرض ہر وہ کام نرس کی ذمہ داری ہوتا ہے جس سے مریض کو آرام پہنچے اور اس کی تکلیف میں کمی ہو۔
جن مریضوں کو آپریشن کی ضرورت ہوتی ہے نرس انھیں آپریشن کے لیے تیار کرتی ہے۔ آپریشن تھیٹر میں کام کرنے والی نرس آپریشن کے انتظامات کی دیکھ بھال کرتی ہے تاکہ آپریشن کے وقت سرجن کو کوئی پریشانی یا رکاوٹ نہ ہو۔ انتہائی نگہداشت کے یونٹ (آئی سی یو) میں کام کرنے والی نرس کے لیے ان پیچیدہ آلات اور مشینوں سے واقف ہونا ضروری ہے جو مریض کی مختلف کیفیات کی نگرانی کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان میں زندگی کو مدد پہنچانے والے آلات، نگارشِ قلب کی مشین(ای سی جی) دماغ کی کیفیت جانچنے والے آلے، نظامِ خون اور درجہء حرارت برقرار رکھنے والی مشینیں، مصنوعی تنفس کے نظام کی مشین اور گردوں کے ناکارہ ہونے کی صورت میں خون کی صفائی کی مشین شامل ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

خواتین کے لیے بہتر زندگی کا موقع!

15 ہفتے کی تربیت آپ کی زندگی بدل سکتی ہے! 18 سے 45 سال کی …