نرسنگ


اسپتالوں میں مختلف نوعیت کے امراض کے لیے مختلف وارڈ ہوتے ہیں۔اور نرس کو ان مختلف وارڈوں میں سے کسیمیں بھی کام کرنا ہوتاہے۔ان وارڈوں میں طبی (میڈیکل) جراحی (سرجیکل) آرتھو پیڈک، امراض گردہ، ہنگامی امداد، نفسیاتی امراض، ذہنی امراض، زچگی اور بچوں کے وارڈ شامل ہیں۔۔۔ان مخصوص نوعیت کے وارڈوں میں عام نرسیں بھی کام کرتی ہیں لیکن ایسے ہر وارڈ میں کم سے کم ایک نرس ایسی ہوتی ہے جس نے اس شعبے کے مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے خصوصی تربیت حاصل کی ہوتی ہے۔ اس تربیت کی وجہ سے وہ زیادہ خود اعتمادی کے ساتھ ان مریضوں کی دیکھ بھال کرسکتی ہے۔ نرس کو نہ صرف مریضوں کو یہ مشورہ دینا ہوتا ہے کہ وہ اسپتال میں اور اسپتال سے فارغ ہونے کے بعد اپنے علاج کے سلسلے میں کیا کیا احتیاطیں رکھیں بلکہ انھیں مریضوں کے عزیزوں کی بھی رہنمائی کرنی ہوتی ہے اور گھر پر مریض کی دیکھ بھال کے بارے میں انھیں مشورے دینے ہوتے ہیں۔
غرض اسپتال میں ایک نرس کا واسطہ ڈاکٹر، مریض، پیرا میڈیکل اسٹاف اور مریض کے رشتہ داروں سے رہتا ہے اور ان سب کی ضروریات کا خیال رکھنا ہوتا ہے۔
حالاتِ کار
پاکستان میں تربیت یافتہ نرسوں کی شدید کمی ہے۔ اس لیے سرکاری شفا خانوں میں نرسوں پر کام کا بوجھ بہت زیادہ ہے۔ پاکستان نرسنگ کونسل کے مقرر کردہ معیار کے مطابق ایک نرس کو 4 بستروں کی دیکھ بھال کرنا چاہیے لیکن عملاً ایک نرس دس سے پندرہ مریضوں کی دیکھ بھال کرتی ہے۔
سرکاری شفا خانوں میں علاج معالجے کے لیے بہت اچھی سہولتوں کی عام طور پر کمی ہے۔ شفا خانے کم ہونے کی وجہ سے ہر شفا خانے سے مریضوں کی بہت تعداد رجوع کرتی ہے، جن مریضوں کو شفا خانے کے اندر علاج کی ضرورت ہوتی ہے وہ بستر خالی نہ ہونے کی وجہ سے کئی کئی دن انتظار کرتے ہیں۔
ان تمام حالات میں سرکاری شعبے میں کام کرنے والی نرس کو کام کے شدید دباؤ میں اپنے فرائض ادا کرنے ہوتے ہیں مریضوں کی دیکھ بھال ایک نازک اور حسّاس کام ہے۔ بیماری کی وجہ سے مریض چڑچڑا، اور بدمزاج ہوجاتا ہے اور ذرا سی بھی تکلیف ہوتی ہے تو شکایت کرتا ہے، دوسری طرف مریض کے رشتے دار اپنے عزیز کی حالت سے پریشان ہوتے ہیں۔ نرس کو ان سب لوگوں سے خوش دلی، خوش مزاجی اور وسیع القلبی کے ساتھ پیش آنا ہوتا ہے، یہ سب باتیں نرس کے فرائض کا حصہ ہوتی ہیں۔
نجی شعبے میں حالاتِ کار مختلف جگہوں پر مختلف ہوتے ہیں۔۔۔ بعض اچھے شفا خانوں میں نرس کے ذمے اتنا ہی کام ہے جتنا ہونا چاہیے۔ ان شفا خانوں میں علاج معالجے کی مقابلتاً بہتر۔۔۔اور بعض جگہ بہترین سہولتیں دستیاب ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسی جگہ کام کرنے والی نرس قدرے اطمینان اور سہولت کے ساتھ اپنے فرائض بہتر طور پر ادا کرسکتی ہے۔
سرکاری نرسنگ اسکولوں میں تربیت حاصل کرنے والی نرسوں کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ4 سال تک متعلقہ صوبے کے شفا خانوں میں خدمات انجام دیں۔
تنخواہیں
نرسنگ اسکول میں چار سال کی تعلیم اور تربیت حاصل کرنے اور امتحان کامیاب کرنے کے بعد ایک نرس کا تقرر سرکاری شعبے میں اسٹاف نرس کے عہدے پر گریڈ 14میں دو پیشگی ترقیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ پاکستان نرسنگ فیڈریشن کی کوشش ہے کہ اسٹاف نرس کا گریڈ 16مقرر کیا جانا چاہیے۔
چار سال تک بہ طور اسٹاف نرس کام کرنے کے بعد اسسٹنٹ نرسنگ سپرنٹنڈنٹ کے عہدے پر ترقی دی جاتی ہے۔ جن کا گریڈ اس وقت 16ہے اور 17گریڈ کے لیے کوشش کی جا رہی ہے۔
سرکاری شعبے میں نرس اپنے تجربے اور مزید تعلیم کی بنیاد پر گریڈ 19 اور 20تک ترقی کرسکتی ہے۔
نجی شعبے میں اسٹاف نرس کو عام طور پر گریڈ 14 اور16کے مساوی تنخواہیں اور بعض شفا خانوں میں ان سے زیادہ مشاہرہ دیا جاتا ہے۔
مسلح افواج کی نرسنگ سروس میں سند یافتہ، رجسٹرڈ نرسوں کو شارٹ سروس ریگولر کمیشن دیا جاتا ہے جس کی کم سے کم مدت پانچ سال ہے۔ منتخب نرسوں کا بری فوج میں لیفٹیننٹ ، بحریہ میں سب لیفٹیننٹ اور فضائیہ میں فلائنگ آفیسر کے عہدوں پر تقرر کیا جاتا ہے، اور بریگیڈیئر یا اس کے مساوی عہدے تک ترقی کے مواقع ہوتے ہیں۔
مسلح افواج میں ان ابتدائی عہدوں کی بنیادی تنخواہ 1250روپے، 350روپے ماہانہ کٹ الاؤنس اور تقرر کے1500 روپے آؤٹ فٹ الاؤنس دیا جاتا ہے۔
مواقع,/b>
چوں کہ ملک میں تربیت یافتہ نرسوں کی شدید کمی ہے اس لیے نرسنگ اسکول میں چار سالہ تربیت کے اختتام اور پاکستان نرسنگ کونسل سے رجسٹریشن کے بعد ہر نرس کو فوراً ہی ملازمت مل جاتی ہے۔
1994-95ء کے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ملک میں اس وقت 21419رجسٹرڈ نرسیں موجود تھیں۔ اس شرح کے مطابق ہر سات ہزار نو سو افراد پر ایک نرس دستیاب تھی۔ ملک کے 633 سرکاری شفا خانوں میں 55807بستر موجود تھے اور ہر نرس کے سپرد4.6 بستروں کی دیکھ بھال ہونی چاہیے تھی۔
پاکستان کے سو کے قریب نجی و سرکاری نرسنگ اسکولوں سے ہر سال تقریباً بارہ سو نرسیں تعلیم و تربیت حاصل کرکے سند پاتی ہیں۔ سندھ میں ہر سال تقریباً تین سو نرسیں فارغ التحصیل ہوتی ہیں لیکن بیرونِ ملک تربیت یافتہ نرسوں کی طلب اور وہاں پرکشش معاوضوں کی وجہ سے بیش تر نرسیں تربیت پانے کے بعد مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے شفا خانوں میں ملازمت اختیار کرلیتی ہیں۔ اس طرح نرسنگ کا پیشہ اس وقت ایک ایسا پیشہ ہے جس میں تربیت یافتہ افرادکی اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک شدید مانگ ہے اور معقول معاوضے دیے جا رہے ہیں۔
نجی طور پر کام کرنے کے مواقع
تربیت یافتہ نرسیں شفا خانوں کے علاوہ نجی طور پر بھی گھروں میں مریضوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں۔ یہ ایک طرح سے نرسنگ کی پرائیویٹ پریکٹس ہے۔ نجی طور پر مریضوں کی دیکھ بھال کرنے والی نرسوں کو بارہ گھنٹے کام کرنا ہوتا ہے۔ معاوضے کا کوئی تعین نہیں ہے۔ بالعموم تین ہزار سے چھ ہزار تک معاوضہ طے ہوسکتا ہے تاہم معاوضے کا انحصار مریض کی جسمانی و ذہنی کیفیت اور بیماری کی شدت وغیرہ پر بھی ہوتا ہے۔
رجسٹریشن
نرسنگ اسکول میں تعلیم اور تربیت کا چار سالہ نصاب مکمل کرنے اور نرسنگ بورڈ کا امتحان کامیاب کرنے کے بعد ہر نرس کو ڈپلوما حاصل کرنے کے لیے ایک سال کے اندر اندر پاکستان نرسنگ کونسل میں خود کو رجسٹرڈ کرانا ہوتا ہے۔ صرف رجسٹرڈ نرس ہی کو ملازمت دی جاتی ہے خواہ وہ اندرون ملک ہو یا بیرون ملک رجسٹریشن فیس دو سو روپے ہے۔ یہ رجسٹریشن پانچ سال کے لیے ہوتا ہے۔ پانچ سال بعد 40روپے ادا کرکے رجسٹریشن کی تجدید کرانی ہوتی ہے۔
متعلقہ پیشے
دایہ اور صحتِ عامہ کی خاتون کارکن، نرسنگ کے متعلقہ پیشے ہیں۔ نرسنگ اسکولوں میں سے بعض میں ایک سال کے دایہ گیری (مڈوائفری) کے نصاب اور ایک سال کے صحت عامہ کی خاتون کارکن (لیڈی ہیلتھ وزیٹر) کے نصاب کی تکمیل پر متعلقہ شعبے کا سرٹیفکیٹ دیا جاتا ہے ان دونوں پیشوں کی ملک میں اور بیرونِ ملک طلب موجود ہے۔
نرسنگ کے پیشے کے بارے میں مزید معلومات کے لیے براہِ راست خط لکھا جاسکتا ہے۔
1۔رجسٹرار/سیکریٹری
پاکستان نرسنگ کونسل
نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ
اسلام آباد

یہ بھی دیکھیں

خواتین کے لیے بہتر زندگی کا موقع!

15 ہفتے کی تربیت آپ کی زندگی بدل سکتی ہے! 18 سے 45 سال کی …