صفحہ اول » بلاگ » وکالت

وکالت

ہر مہذب معاشرے میں لوگوں کی آزادی ، جان و مال اور ان کے حقوق کے تحفّظ کے لیے ایک نظامِ قانون نافذ ہوتاہے۔ نظامِ قانون کو کامیابی سے چلانے کے لیے ایسے تربیت یافتہ افراد کی ضرورت ہوتی ہے جو قوانین کو سمجھ سکیں ،ان کی تشریح کرسکیں اور ایک عام آدمی کو سمجھا سکھیں۔
قانون سازی کا عمل پارلیمنٹ میں ہوتا ہے اور عدالتوں کے ذریعے عام افراد نظامِ قانون سے انصاف کے طلب گار ہوتے ہیں۔ عدالتو ںمیں عام افراد کی طرف سے جو لوگ ان کے دعوے ، یا جواب دعویٰ کی پیروی کرتے ہیں وہ وکلا کہلاتے ہیں۔
ایک وکیل، قانون کی تعلیم حاصل کیا ہوا وہ شخص ہوتا ہے جسے متعلقہ اور مجاز ادارے نے عوام کی طرف سے عدالت سے پیروی کرنے کی اجازت دی ہوئی ہوتی ہے۔
پس منظر
برصغیر میں آزادی سے قبل عدلیہ کا نظام 1861ءمیں قائم ہوا۔ باہمی تنازعات اور قانون شکنی کے مقدمات کے لیے دو علیحدہ علیحدہ عدالتیں….دیوانی اور فوج داری قائم کی گئیں۔ قیام پاکستان کے بعد دیوانی عدالتوں کو تین درجوں میں تقسیم کردیا گیا جو ضلعی جج ،اضافی ضلعی جج اور سول جج کی عدالت کے ناموں سے کام کرتی ہیں۔ جب کہ فوج داری عدالتوں کی درجہ بندی حسبِ ذیل کی گئی ہے۔
-1 عدالت ہائے سیشن     -2 مجسٹریٹ درجہ اوّل
-3 مجسٹریٹ درجہ دوم     -4 مجسٹریٹ درجہ سوم
-5 مجسٹریٹ دفعہ 30
علاوہ ازیں ضلعی مجسٹریٹ اور سب ڈویژنل سطح پرانتظامی افسران کو بھی فوج داری مقدمات نمٹانے کے لیے مجسٹریٹ کے اختیارات تفویض کیے گئے ہیں۔
دیوانی اور فوج داری عدالتوں کے علاوہ پاکستان میں مختلف اوقات میں خصوصی عدالتیں بھی قائم کی جاتی رہی ہیں جو خاص امور کے بارے میں مقدمات کی سماعت کرتی ہیں۔ صنعتی کارکنوں اور آجروں کے لیے لیبر کورٹس موجود ہیں۔ 1980ءمیں وفاقی شرعی عدالت قائم کی گئی۔

یہ بھی دیکھیں

کیریر پلاننگ کے اہم نکات

اپنا جائزہ لیں اور خود کو جانیں اپنے اندر کی شخصیت کا جائزہ لیجیے۔ اپنے …