صفحہ اول » بلاگ » اکاﺅنٹینٹ – اس کی اہمیت روز بہ روز بڑھتی جا رہی ہے

اکاﺅنٹینٹ – اس کی اہمیت روز بہ روز بڑھتی جا رہی ہے

accountant-istockکاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاﺅنٹینٹ

حالیہ تجارتی ترقی نے زندگی کے ہر شعبے کو وسعت دی ہے۔ اس سے کاروباری اداروں کی ضروریات میں بھی اضافہ ہوا ہے اور مختلف شعبوں کے آپس میں گھل مل جانے کے نتیجے میں ایسے نت نئے شعبہ جات بھی وجود میں آئے ہیں جہاں ایک فرد کے ذمے مختلف النوع امور کی انجام دہی ہوتی ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کسی نئے منصوبے کے قابلِ عمل ہونے، انتظام و انصرام کو چلانے، وسائل کی نشان دہی کرنے، پیدوار کو قائم رکھنے اور دوسرے متعدد کاموں کی منصوبہ بندی کا بوجھ ایک ہی شخص کے کاندھوں پر آن پڑتا ہے۔ ایسے حالات کا خوش اسلوبی اور کامیابی کے ساتھ سامنا کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس فرد کو ان تمام متنوع شعبہ جات پر دسترس حاصل ہوتا کہ وہ اپنے ادارے کے مفاد میں بہتر نتائج کی ضمانت فراہم کرسکے۔
کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاﺅنٹنگ ایسا ہی ایک شعبہ ہے جس سے تعلق رکھنے والے افراد ان پیچیدہ مواقع کے لیے تربیت حاصل کرتے ہیں۔ یہ ایک نیا شعبہ ہے جس کے قیام کو کم و بیش نصف صدی کا عرصہ ہواہے۔ البتہ اس کی اہمیت روز بہ روز بڑھتی جا رہی ہے۔

آج کے دور میں جو چند پیشے ”یقینی روزگار“ بہترین مراعات اور بہتر مستقبل کی ضمانت سمجھے جاتے ہیں ”کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاﺅنٹینٹ“ ان میں سے ایک ہے، لیکن جو نوجوان طلبہ و طالبات تعلیم کے بعد ایک اچھی ملازمت اور شان دار کیریئر کی ضمانت چاہتے ہیں انھیں اس پیشے میں داخل ہونے کے بعد اس کے تعلیمی مراحل کو کامیابی سے عبور کرنے کے لیے، ان تھک محنت کے ساتھ اپنی ذہنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرنا ہوتا ہے۔ پانچ چھ برسوں کی اس مشقت کا صلہ یوں ملتا ہے کہ مستقبل ان کے لیے نہ صرف محفوظ ہو جاتا ہے بلکہ ان کی ذہنی ترقی اور مادی خوش حالی ان کی آئندہ نسل کے لیے بھی روشنکاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاﺅنٹنگ کیا ہے؟
کبھی آپ نے اپنے قلم کو غور سے دیکھاہے؟ یہ کس طرح تیار ہوا؟ اس میں کتنا خام مال لگا؟ کتنے کارکنوں اور انجینئروں نے اس کے بنانے میں حصہ لیا؟ اس کے بنانے میں کتنی مشینوں کی کارگزاری شامل رہی؟ پھر یہ کہ اس قلم کی قیمت بیس روپے ہے تو کیوں ہے؟ اس کی ایک مخصوص ساخت ہے، لیکن دوسری کمپنی کا تیار کر دہ قلم جو تھوڑا سا مختلف ہے، پندرہ روپے میں کیوں فروخت ہوتا ہے؟ اس قلم پر لاگت کتنی آئی ہوگی؟ اور فروخت پر منافع کتنا ہوگا؟ کیا اس قلم کی قیمت کم نہیں ہوسکتی؟ کمپنی اسے کہاں کہاں فروخت کرکے کتنا منافع کما رہی ہے؟ کیا اس منافعے کو بڑھایا جاسکتا ہے؟ یہ تمام اور اسی نوعیت کے دیگر سوالات کے جوابات تلاش کرنا کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاﺅنٹنگ کہلاتا ہے اور جو لوگ یہ کام کرتے ہیں انھیں کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاﺅنٹینٹ کہا جاتا ہے۔
تجارت میں مقابلے کے رجحان اورکم یاب وسائل کے تحفظ کی ضرورت میں جوں جوں اضافہ ہو رہا ہے کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاﺅنٹینٹس کی مانگ بھی اسی قدر بڑھ رہی ہے۔ اپنی ماہرانہ تربیت اور معلومات کے باعث یہ افراد عوامی اور نجی دونوں طرح کے اداروں کی ایک لازمی ضرورت بنتے جا رہے ہیں۔
کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاﺅنٹینٹ کا کام بالعموم ان قومی اور نجی اداروں میں ہوتا ہے جن کا تعلق کسی صنعت سے ہو۔ وہ اپنے آجروں یا موءکلوں کو کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاﺅنٹنگ کی خدمات فراہم کرتے ہیں۔ ان کے فرائض میں ادارے کی انتظامیہ کا کنٹرول، آئندہ کی منصوبہ بندی، بجٹ کی تیاری، پیداواری اشیا، مصنوعات یا خدمات کی قیمتوں کی پالیسی سازی اور کمپنی کی کارکردگی و کار گزاری کا جائزہ شامل ہے۔ یہ حضرات نقد رقوم کی آمد پر نظر رکھتے ہیں، نفع و نقصان کے گوشوارے تیار کرتے ہیں، حسابات کی درونِ خانہ تنقیح (انٹرنل آڈٹ) کرتے ہیں اور کمپنی کے حصے داروں کے مالیات کے حسابات تیار کرتے ہیں۔ کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاﺅنٹینٹ مالیاتی پیش گوئیاں، بجٹ کے جائزے اور مالیاتی اطلاعات اور مشورے فراہم کرتے ہوئے، انتظامی فیصلوں میں بھی حصہ لیتے ہیں۔
کمپنیز آرڈیننس 1984ءکے اجرا کے بعد سی ایم اے کے کام اور شعبوں کا دائرہ وسیع ہوگیا ہے۔
اس شعبے کی مسلسل وسعت پذیری اور یہاں ملنے والے مالی استحکام کو دیکھ کر اب بہت سے افراد اس میدان کا رخ کر رہے ہیں۔ اس شعبے میں اب بھی نئے افراد کے لیے بے انتہا گنجائش ہے۔

تعارف

کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاﺅنٹنگ کی ضروریات پوری کرنے اور اس شعبے میں تربیت یافتہ افرادی قوت فراہم کرنے کے لیے انسٹی ٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاﺅنٹینٹس پاکستان (آئی سی ایم اے پی) 1851ءمیں قائم کیا گیا ہے۔ اپنے میدان میں یہ پاکستان کا واحد اور وسیع ادارہ ہے۔ اس کے مراکز کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ، ایبٹ آباد فیصل آباد، حیدر آباد، ملتان، اور الخبر (سعودی عرب )میں قائم ہیں۔ ان مراکز پر براہ راست تدریس کے علاوہ خط و کتابت کے ذریعے بھی کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاﺅنٹنگ کی تعلیم دی جاتی ہے۔ الخبر کے مرکز کے ذریعے یہ سہولت سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ممالک تک بھی پھیل چکی ہے۔
پاکستان کے مختلف ادارے مثلاً پی آئی اے، کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ، انویسٹمنٹ کارپوریشن آف پاکستان اور این ڈی ایف سی وغیرہ بھی انسٹی ٹیوٹ سے استفادہ کرتے ہیں اور اپنے افسران کو مختصر المیعاد اور نصاب کی تکمیل کے لیے وقتاً فوقتاً یہاں بھیجتے رہتے ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ اس وقت پورے پاکستان میں مجموعی طور پر بیس ہزار طالب علموں کو رہنمائی فراہم کر رہا ہے۔ یہاں سے اب تک فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ کی تعداد تقریباً بارہ سو ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان میں سے کم و بیش تمام ہی افراد متعلقہ شعبوں میں بر سرِ روزگار ہیں، جو اس ادارے کی کامیابی کا منھ بولتا ثبوت ہے۔

داخلے کی شرائط

انسٹی ٹیوٹ میں داخلے کے لیے کم از کم گریجویٹ (بی اے، بی ایس سی، بی کام )یا مساوی درجے کی کوئی تعلیم ہونا یا اے لیول تک تعلیمی قابلیت ہونا پہلی شرط ہے۔ داخلے کی درخواست دینے والے افراد صرف اہلیت کی بنیاد پر منتخب کیے جاتے ہیں اور اہلیت کا تعین داخلہ امتحان کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ یہ امتحان انگریزی، حساب، معلوماتِ عامہ اور ذہانت کے سوالات پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس امتحان میں مطلوبہ نمبروں سے کامیاب ہونے والے تمام طالب علموں کو انسٹی ٹیوٹ میں داخلہ دے دیا جاتا ہے، اس سلسلے میں طلبہ کی تعداد کی کوئی حد مقرر نہیں کی گئی ہے نہ ہی طلبہ و طالبات کے درمیان کوئی امتیاز برتا جاتا ہے، یہ امتحان ہر چھ ماہ بعد سال میں دو مرتبہ منعقد ہوتا ہے۔ اس کی موجودہ تاریخیں جون اور دسمبر کے مہینوں میں ہیں البتہ ان میں کسی وجہ سے تبدیلی بھی ہوسکتی ہے۔

مطلوبہ رجحانات

یوں تو کسی بھی شعبے میں گریجویشن کرلینے والے طالب علم یہاں پر داخلے کا امتحان دے سکتے ہیں، تاہم ذاتی رجحانات کی اہمیت سے رو گردانی نہیں کی جاسکتی۔ اگر آپ آئی سی ایم اے میں داخلے کے خواہش مند ہیں تو انگریزی پر مناسب عبور کے علاوہ ریاضی میں مہارت بھی آپ کی بہت مدد کرے گی۔ اس کے علاوہ ہر کام کے چھوٹے بڑے پہلوﺅں پر گہری نظر رکھنا اور منظم انداز میں اپنا کام سرانجام دینا، ایسی اضافی خصوصیات ہیں جن کی یہاں پر زیادہ ضرورت پڑتی ہے۔

تدریسی سہولتیں اور نصاب

انسٹی ٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاﺅنٹینٹس کا نصاب ڈھائی سے تین سال پر محیط ہے، البتہ نصاب کی بروقت یا بعد از وقت تکمیل کا انحصار طالب علموں کی ذاتی صلاحیتوں اور دلچسپی پر ہوتا ہے۔ انسٹی ٹیوٹ میں یہ سہولت بھی رکھی گئی ہے کہ طالب علم اپنا نصاب اضافی وقت میں بھی مکمل کرلیں۔ لہٰذا عام طور پر ملازمت کرنے والے وہ افراد جو مزید تعلیم کے خواہش مند ہیں یہاں ،داخلہ لے کر جستہ جستہ اپنی قابلیت میں اضافہ کرتے ہیں اور کل وقتی ملازمت بھی جاری رکھتے ہیں۔
تدریس کا عمل ایک سے دو شفٹوں میں جاری رہتا ہے۔ کراچی اور لاہور جیسے گنجان آباد شہروں میں انسٹی ٹیوٹ کے طالب علموں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے چناںچہ ان دو شہروں کے مراکز صبح نو بجے سے رات نوبجے تک کھلے رہتے ہیں، تعلیم کی غرض سے یہاں پر جدید ترین صوتی بصری اور کمپیوٹرائزڈ طریقے اختیار کیے جاتے ہیں، خط و کتابت کے ذریعے بھی درسی مواد کی ترسیل، وصولیابی اور جانچ پڑتال جاری رہتی ہے۔
یہاں پر سمسٹر سسٹم رائج ہے، ہر سال میں دو سمسٹر ہوتے ہیں جن کی مدت چھ ماہ ہوتی ہے، سمسٹر کے دوران ہفتہ وار اور ماہانہ ٹیسٹ اور اسائن منٹس کے ذریعے طالب علموں کی صلاحیتیں آزمائی جاتی ہیں۔
چھ سمسٹرز میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد انسٹی ٹیوٹ کامیاب طالب علم کو ”کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاﺅنٹینٹ“ کی سند جاری کر دیتا ہے۔
اسی مستعد نظام تعلیم کی وجہ سے یہاں کے طلبہ و طالبات سارا سال پڑھائی میں مصروف رہتے ہیں۔ ان کی تعلیمی ضروریات کے پیشِ نظر ہر مرکز میں ایک موزوں لائبریری موجود ہے جہاں پر نصاب کے حوالے سے جدید ترین کتب اور دیگر مطبوعات مطالعے کے لیے فراہم کی جاتی ہیں۔ یہ لائبریریاں، انسٹی ٹیوٹ کے باقاعدہ طالب علموں کو بازار سے مہنگی کتب خریدنے اور زیر بار ہونے سے بھی بچاتی ہیں۔
یہاں کے نصاب میں نئے متعارف کروائے گئے ”فاﺅنڈیشن کورس“ کے علاوہ کاسٹ اینڈ مینجمنٹ کا احاطہ کرنے والے یہ مضامین شامل ہیں۔ معاشیات، صنعتی و تجارتی قوانین، بزنس کمیونی کیشن ، رپورٹ رائٹنگ ، بزنس، میتھ میٹکس ، شماریات، پروڈکشن، ٹیکنالوجی، مینجمنٹ، ٹیکسیشن، ایم آئی ایس، ڈیٹاپروسیسنگ، معیاریاتی فنیات، کارپوریٹ لا اینڈ سیکریٹریل پریکٹس، آڈیٹنگ ، فنانشل، مینجمنٹ آرگنائزیشن اور مارکیٹنگ، مینجمنٹ کاسٹ اکاﺅنٹنگ، مینجمنٹ اکاﺅنٹنگ ایڈوانس ، اکاﺅنٹنگ۔
کمپیوٹر کی تعلیم بھی عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق ان کے نصاب میں شامل کی گئی ہے۔ کراچی، لاہور، اسلام آباد اور پشاور کے مراکز میں منظم کمپیوٹر لیبارٹریز موجود ہیں، جہاں طالب علموں کو ڈوس،لوٹس اور فوکس پرو جیسے کار آمد کمپیوٹر پروگرامز کی تربیت فراہم کی جاتی ہے، یہ سہولت بہت جلد دیگر مراکز پر بھی فراہم کر دی جائے گی۔ انسٹی ٹیوٹ کا تمام نصاب گاہے گاہے نظرِثانی کے بعد جدید ضروریات سے ہم آہنگ کیا جاتا رہتا ہے۔

دورانِ تعلیم تبادلہ

اگر آپ آئی سی اے کے طالب علم ہیں اور دورانِ تعلیم آپ نے رہائش کا مقام تبدیل کیا ہے تو انسٹی ٹیوٹ آپ کو یہ سہولت بھی فراہم کرتا ہے کہ آپ بقیہ کورس اپنی رہائش کے ممکنہ قریب ترین مرکز سے مکمل کرلیں۔ اس مقصد کے لیے آپ مرکز تبدیل کرنے کی درخواست بھی دے سکتے ہیں۔ درخواست کی منظوری کے ساتھ یہ انسٹی ٹیوٹ آپ کا تبادلہ، آپ کے مطلوبہ مرکز پر کر دے گا اور یوں آپ بغیر کسی رکاوٹ کے اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں گے۔
اگر آپ تعلیم کے دوران سعودی عرب یا کسی نزدیک مقام پر تھے، اور اسی دوران آپ پاکستان منتقل ہوگئے تب بھی اس سہولت سے پوری طرح مستفید ہوسکتے ہیں کیوںکہ انسٹی ٹیوٹ کا سارا تعلیمی ڈھانچہ ایک جیسی بنیادوں پر قائم ہے، اس لیے آپ انسٹی ٹیوٹ کے کسی بھی مرکزمیں چلے جائیں، آپ کو تعلیم کا یکساں معیار اور ماحول نظر آئے گا۔

ملازمت کے مواقع

کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاﺅنٹنگ ایک ایسا شعبہ ہے جو ہر ادارے کی لازمی ضرورت بنتا جا رہا ہے۔ خواہ وہ تجارتی ادارہ ہو یا عوامی خدمت کی کوئی تنظیم، کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاﺅنٹینٹس کے لیے ہر جگہ پنپنے کے روشن مواقع موجود ہیں، یہاں نصاب کی کامیاب تکمیل کے بعد 10 ہزار سے 12 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ ملازمت مل سکتی ہے۔ اس تنخواہ میں بھی تجربے اور مہارت کے ساتھ اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ ترقی کا انحصار کارکنان کی ذاتی دلچسپی اور رجحان پر بہت زیادہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صرف پانچ سالہ تجربے والے کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاﺅنٹینٹس بھی 25ہزار سے 30ہزار روپے ماہانہ آمدنی حاصل کرسکتے ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ بھی اپنے طالب علموں اور زیر تربیت افراد کے بارے میں مختلف تفصیلات مرتب کرتا رہتا ہے جو ملازمتیں فراہم کرنے والے اداروں کو وقتاً فوقتاً فراہم کی جاتی رہتی ہیں تاکہ ادارے کے طلبہ و طالبات کو اپنے شعبے سے متعلق ملازمت تلاش کرنے میں زیادہ دشواری کا سامنا کرنا نہ پڑے۔

تعلیمی اخراجات

انسٹیٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاﺅنٹینٹس میں داخلے، رجسٹریشن اور امتحانی فیس وغیرہ شامل کرکے مجموعی اخراجات تقریباً 5ہزار سے 6 ہزار روپے فی سمسٹر بن جاتے ہیں۔ یعنی تین سالہ نصاب کی تکمیل کے لیے اندازاً 36ہزار روپے کی ضرورت پڑتی ہے۔ لیکن یہ ضرورت یک مشت کی بجائے چھوٹی چھوٹی قسطوں کی شکل میں پڑتی ہے، لہٰذا زیادہ بار محسوس نہیں ہوتا۔ تعلیمی اخراجات، قیمتوں اور تنخواہ میں سالانہ اضافے کے پیشِ نظر بڑھ بھی سکتے ہیں، اس لیے تازہ ترین معلومات کے لیے انسٹی ٹیوٹ کے مراکز سے رابطہ قائم کیا جاسکتا ہے۔

مزید تعلیم کے مواقع

انسٹی ٹیوٹ نے اپنے ارکان کو حصول سند کے بعد بھی اس میدان میں ہونے والی تازترین پیش رفت اور ترقی سے آگاہ رکھنے کے لیے مسلسل پیشہ ورانہ تعلیم (سی پی ای) کے عنوان سے ایک پروگرام شروع کیا ہوا ہے۔ اس پروگرام کے تحت مختلف موضوعات پر سیمینار کانفرنسیں اور ورک شاپس کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ارکان اور سینئر طالب علموں کی شرکت ان مواقع پر یقینی بنانے کے لیے فی طالب علم (یا رکن ) کم سے کم گھنٹوں کا تعین کر دیا جاتا ہے۔ اگر کوئی رکن ایسے مواقع پر مخصوص گھنٹوں (کریڈٹ آورز) سے کم وقت کے لیے شریک رہے ہوں تو انسٹی ٹیوٹ ان کی سالانہ رکنیت کی تجدید بھی نہیں کرتا۔
ان سیمینار ز یا ورک شاپس میں شرکت کو اضافی تعلیم کے زمرے میں لیا جاتا ہے۔ سندحاصل کرنے والے طلبہ و طالبات، متعلقہ میدان میں تین سالہ تجربے کے بعد انسٹی ٹیوٹ کے ایسوسی ایٹ کے ممبر بن سکتے ہیں۔ تجربے میں اضافے اور اعلیٰ عہدے پر کم از کم پانچ سال گزارنے کے بعد ایسوسی ایٹ ممبران ”فیلو ممبر“ کے لیے درخواست دینے کے اہل ہوجاتے ہیں۔ عملی تجربے کو اضافی تعلیم کے مساوی تصور کرتے ہوئے برابر کی اہمیت دی جاتی ہے، جو ارکان کے لیے بہت سود مند ثابت ہوتی ہے۔

سی ایم اے بہ طور متبادل آئی سی ایم اے پی
پاکستان میں کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاﺅنٹنگ کا کورس ICMAP کے علاوہ CIMA(UK) یعنی چارٹرڈ انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ اکاﺅنٹنگ (برطانیہ) سے بھی کیا جاسکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے CIMA کے پاکستان میں نمائندے جناب جاوید اقبال سے رابطہ کیا جاسکتا ہے جو آج کل فلپس کمپنی کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔
سی آئی ایم اے کا نصاب اور امتحان کا طریقہءکار بالکل آئی سی ایم اے پی کی طرح ہے  البتہ تحریری امتحان کے سوال کا معیار آئی سی ایم اے پی سے کہیں بلند ہے، داخلے کے لیے کسی قسم کا امتحان نہیں ہوتا جبکہ امتحان کے لیے کسی قسم کی کوچنگ کلاسوں یا مراسلاتی نصاب وغیرہ  کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کا امتحان ہر چھ ماہ بعد کراچی میں انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ آف اکاﺅنٹینٹس میں ہوتا ہے، کامیابی کی شرح تقریباً چالیس فی صد ہے جو آئی سی ایم اے پی کے امتحانات کی کامیابی کی شرح سے تقریباً آٹھ فی صد سے کہیں زیادہ ہے۔ سی آئی ایم اے پاکستان کے علاوہ تقریباً تمام دنیا، اور خاص طور پر دولتِ مشترکہ ممالک سے تسلیم شدہ ہے، فیس چوںکہ پاﺅنڈ میں دینی ہوتی ہے لہٰذا آئی سی ایم اے پی سے دگنا مہنگا پڑتا ہے۔ پاکستان میں اس وقت اس کے تقریباً ایک سو طلبہ ہیں۔

مزید معلومات

مزید معلومات کے لیے درج ذیل پتے سے رجوع کیجیے
کراچی (ہیڈ آفس) ایس ٹی۔18/سی، بلاک 6 نیپا چورنگی۔
گلشن اقبال، کراچی 75300۔ فون: 4993251-5۔ فیکس : 4983390
کراچی (سٹی کیمپس) حسین شاہ شہیدروڈ، سولجر بازار، کراچی
حیدر آباد: پرنسپل، گورنمنٹ سندھ کالج آف کامرس، فقیر کاپڑ پروفیسر ایس قوی احمد،
لاہور: آئی سی ایم اے پی، 42فیروز پورروڈ
اسلام آباد: آئی سی ایم اے پی، پلاٹ نمبر 12۔سیکٹر ایچ/9 ریجنل ڈائریکٹر
فیصل آباد: پرنسپل گورنمنٹ کمرشل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ، دی گراﺅنڈ پیپلز کالونی نمبر ۱
کوئٹہ : ریلوے اکاﺅنٹس اکیڈمی، زرغون روڈ، کوئٹہ مسٹر ریاض احمد، برانچ سیکریٹری
ملتان: ایڈمنسٹریٹر نیو آفیسر انٹرنیشنل ڈگری کالج آف کامرس بالمقابل حلیم اسکوائر کچہری روڈ ملتان
پشاور: آئی سی ایم اے اپارٹمنٹ نمبر 307/303 سٹی ٹاﺅن، یونی ورسٹی روڈ پی او بکس نمبر 632پشاور
الخبر:(سعودی عرب) مسٹر شیر افگن ملک، پی او بکس نمبر 764 الخبر 31952، سعودی عرب

یہ بھی دیکھیں

خواتین کے لیے بہتر زندگی کا موقع!

15 ہفتے کی تربیت آپ کی زندگی بدل سکتی ہے! 18 سے 45 سال کی …