صفحہ اول » بلاگ » ذرائع ابلاغ کے تمام دفاتر میں ہمیشہ ہنگامی صورتِ حال میں کام ہوتا ہے

ذرائع ابلاغ کے تمام دفاتر میں ہمیشہ ہنگامی صورتِ حال میں کام ہوتا ہے

اس پیشے کے کارکن دفتر کے اندر بیٹھ کر بھی کام کرتے ہیں اور اپنے دفتر سے باہر پورے شہر اور معاشرے میں گھوم پھر کر بھی دفتروں کے اندر بیٹھنے والے دفتر میں مختلف ذرائع سے موصول ہونے والے پیغامات، اعلانات، مضامین، مسودات، خبروں اور دوسرے موصولہ مواد کی ادارت کرتے ہیں اور اسے فنی اور تکنیکی اعتبار سے قابلِ نشرواشاعت بناتے ہیں۔ قابلِ نشرواشاعت مواد کی کتابت کراکر کمپیوٹر اور دوسرے مشینی وسائل سے اس کی کمپوزنگ کرکے اس پورے مواد کو ایک طے شدہ منصوبے اوراسکیم کے مطابق اخباری صفحات کی صورت میں یک جا کرکے مرتب کرتے ہیں۔ یہ اخبار کی صورت آرائی کا عمل کہلاتا ہے ۔ریڈیو اور ٹیلی وژن میں اس پورے مواد کو نشری ضروریات اور تقاضوں کے مطابق نشریاتی مسوّدوں کی شکل میں ڈھالا جاتا ہے بعد ازاں ان مسوّدوں کو صورت اور تصویر کا آہنگ دیا جاتا ہے ،اسے پروگرام پروڈکشن کہا جاتا ہے ۔اس پورے عمل میں صحافی اور غیر صحافی(تکنیکی خدمات انجام دینے والا عملہ) باہم اشتراک اور تعاون کرتے ہیں۔ دفتروں کے اندر انجام پانے والا یہ پورا کام کچھ بہت زیادہ پرسکون فضا میں نہیں ہوتا کیوں کہ ذرائع ابلاغ کے دفتر سے باہر زندگی کا دھارا ہمیشہ رواں دواں رہتا ہے، انسانی سرگرمیاں کبھی نہیں رکتیں اور ان ہی سرگرمیوں سے وہ واقعات ،حالات اور موضوعات جنم لیتے رہتے ہیں جن پر ریڈیو اور ٹیلی وژن اور اخبارات کے لیے مختلف اصناف کی صورت میں قابلِ نشر واشاعت مواد تیار ہوتا ہے۔ ایسے حالات، واقعات، حادثات اور موضوعات کی رونمائی کا کوئی وقت مقرر نہیں ہوتا جو قابلِ نشرو اشاعت ہوں، انفرادی اور اجتماعی زندگی کے بہاؤ کے ساتھ ساتھ شب و روز کے کسی بھی لمحے میں یہ احوال و حوادث سامنے آسکتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں اخبارات کے چھپنے اور قارئین تک پہنچنے کا عمل اور ریڈیو اور ٹیلی وژن کی نشریات بہرحال ایک طے شدہ نظام الاوقات کی پابند ہوتی ہیں۔ چناں چہ اخبارات، ریڈیو، ٹیلی وژن کے کارکن ایک طرف اپنے اشاعتی اور نشریاتی پروگرام میں پوری دنیا کی اجتماعی زندگی کے حالات و واقعات سے پر منھ زور دھارے سے زیادہ سے زیادہ اور تازہ مواد سمیٹنے کے مقابلے سے دو چار ہوتے ہیں اور دوسری طرف وہ اپنے اشاعتی اور نشریاتی پروگرام کے نظام الاوقات کے معیارات پر پورے اترنے کے لیے وقت کی طنابیں کھینچنے کی کوشش میں مصروف رہتے ہیں اور یہ پورا ماحولِ کار بڑا اعصاب شکن اور تھکا دینے والا ہوتا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے تمام دفاتر میں ہمیشہ ہنگامی صورتِ حال میں کام ہوتا ہے ۔
ذرائع ابلاغ کے دفتروں سے باہر کام کرنے والے کارکن بھی ہنگامی حالات میں کام کرتے ہیں، حادثے کا مقام اور وقت متعین نہیں ہوتا۔ جائے حادثہ دفتر کے قریب ہو کہ دور، حادثہ دن میں ہوا ہو کہ رات میں، رپورٹر کو جائے حادثہ، اسپتال، تھانے اور تمام دوسرے متعلقہ مرکز اطلاعات خود پہنچ کر یا ٹیلی فون سے رابطہ کرکے بکھری ہوئی معلومات کو اکٹھا کرکے خبر بنانی ہوتی ہے۔ ایک حادثے سے نمٹے کہ دوسرا واقعہ پیش آگیا اور دوسرے سے نمٹے تو تیسری ناگہانی ۔ غرض حالات و واقعات کا سلسلہ جاری رہتا ہے جس کے رکنے اور تھمنے کے کوئی مقررہ اوقات نہیں ہیں کہیں فساد ہوگیا، کہیں آگ لگ گئی، کہیں عمارت گر گئی ،کہیں ٹرین الٹ گئی، کہیں رات کے آخری حصے میں کسی بین الاقوامی شخصیت سے ہوائی اڈے پر انٹرویو کرنا ہے ،کہیں جرائم پیشہ افراد کے اڈوں پر پہنچ کر خطرناک لوگوں کے کوائف جمع کرنا ہیں ،کہیں دفاتر میں کسی خفیہ ریکارڈ تک رسائی پا کر بدعنوانیوں کا کھوج لگانا ہے۔ یہ سب مہمات سر کرکے ہی خبر حاصل ہوتی ہے، فیچر بنتے ہیں۔ ایسے فرائض کی ادائیگی کے لیے لگے بندھے دفتری اوقات نہیں ہوتے بلکہ ہر وقت کمر بستہ رہنا ہوتا ہے ۔ غرض یہ کہ دفتر سے باہر بھی ذرائع ابلاغ کے جو کارکن اپنے فرائض منصبی ادا کرتے ہیں وہ یہ کام ہنگامی اور جنگی سطح پر ہی انجام دیتے ہیں۔ کارکن دفتر کے اندر بیٹھ کر کام کریں یا باہر، اوقات کار کبھی ہمیشہ کے لیے متعین نہیں ہوتے، بدلتے رہتے ہیں۔ دفتر میں کام کرنے والوں کو عموماً پوری رات جاگنا بھی پڑتا ہے۔
یہ ہنگامی اور پر آشوب ماحولِ کار چوں کہ اس پورے پیشے اور میدانِ عمل کا معمول ہوتا ہے اس لیے اس پیشے کے کارکن اس کے عادی ہوجاتے ہیں مگر مسلسل ان اعصاب شکن کیفیات میں کام کرتے کرتے ان کے مزاج بھی عام لوگوں سے کچھ بدل جاتے ہیں، مزاج میں کسی حد تک جارحیت آجاتی ہے۔ بیش تر لوگ پوری زندگی اس کیفیت میں گزارنا ممکن نہیں پاتے اور چند سال اس پیشے میں برسرِکار رہ کر کسی دوسرے ضمنی متعلقہ پیشے یا دوسرے کسی اور ہی میدان عمل کی طرف نکل جاتے ہیں تاہم اس پیشے سے وابستہ رہ کر جو اثر ورسوخ ، شہرت اور ہمت ملتی ہے وہ بہت سے لوگوں کے لیے آبِ حیات کا اثر رکھتی ہے۔ اور وہ بہر صورت دل جمعی سے اسی میدانِ عمل میں کارگزار رہتے ہیں ۔اس پیشے میں شہرت، اہمیت اور اثر و رسوخ پانے کے جو مواقع ہوتے ہیں انھیں ایک لفظ میں ’’گلیمر‘‘ کہا جاتا ہے او ریہ گلیمر اس صبر آزما پیشے کی طرف نئے لوگوں کو کھینچ کر لاتا ہے ۔

یہ بھی دیکھیں

کیریر پلاننگ کے اہم نکات

اپنا جائزہ لیں اور خود کو جانیں اپنے اندر کی شخصیت کا جائزہ لیجیے۔ اپنے …