صفحہ اول » بلاگ » ہراساں کئے جانے والے بچوں کے نفسیاتی مسائل

ہراساں کئے جانے والے بچوں کے نفسیاتی مسائل

child-harasment-career-pakistanبچپن عمر کا ایک خوبصورت دور ہے۔ اس دور کو بے فکری سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ تاہم بچوں کو بھی کچھ مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔ کبھی اسکول میں، کبھی گلے محلے میں تو کبھی کھیل کے میدان میں۔ انہیں ہم عمر ساتھی تنگ کرتے ہیں، ان کا مذاق اڑایا جاتا ہے یا پھر تذلیل کی جاتی ہے۔ ان سب منفی روئیوں کو  کہتے ہیں اور کچھ بچے مسلسل اس طرح کے برتاؤ کا نشانہ بنتے ہیں۔برطانوی محققین نے اپنی ایک حالیہ تحقیق میں کہا ہے کہ ایسی صورت حال کا سامنا کرنے والے بچوں کو اپنی نوعمری کے دور میں وہم، وسوسوں اور ذہنی انتشار کا سبب بننے والے دیگر مسائل کا شکار ہو جانے کا دوگنا خطرہ لاحق رہتا ہے۔ برطانیہ میں واروک یونیورسٹی کی آندریا شریئر اور ان کے ساتھیوں نے اپنی تحقیق میں لکھا ہے کہ بچوں کو متواتر ہراساں کیا جائے تو اس کے اثرات شدید تر ہوتے ہیں جو بڑے لمبے عرصے تک باقی رہتے ہیں۔ بیشتر تحقیقی مکالوں سے یہ امر پہلے ہی ظاہر ہو چکا ہے کہ بچپن میں رونما ہونے والے واقعات، مثلا مارپیٹ یا جنسی زیادتی سے نوعمری میں نفسیاتی مسائل جنم لیتے ہیں اور جن لوگوں میں نفسیاتی مسائل نوعمری میں ہی ظاہر ہونے لگتے ہیں، انہیں مختلف طرح کے ذہنی عارضوں کا شکار ہوجانے کا خطرہ بلوغت کی عمر تک پہنچنے کے بعد بھی لاحق رہتا ہے۔شرئیر اور ان کے ساتھی اپنی تحقیق سے یہ جاننا چاہتے تھے کہ بچوں کو اگر bullying یا ہراساں کئے جانے کے عمل کا سامنا ہو تو کیا اس وجہ سے دماغی بیماریوں کی بعض علامات نوعمری میں بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے 12 برس کی عمر کے چھ ہزار سے زائد بچوں کے روئیوں کا جائزہ لیا۔ یہ وہ بچے تھے جن کی جسمانی اور ذہنی صحت کو سات سال کی عمر سے سالانہ بنیادوں پر جانچا گیا تھا اور ان کے والدین باقاعدگی سے ان کے روئیوں سے متعلق سوال وجواب کے مرحلوں میں حصہ لیتے رہے تھے۔ ان بچوں کے روئیوں کا مشاہدہ کرنے کے لئے تربیت یافتہ افراد کو متعین کیا گیا جو ہر جائزے کے دوران اس بات کو جاننے کی کوشش کرتے کہ پچھلے چھ ماہ کے دوران ان بچوں میں کسی ایسے نفسیاتی مسئلے کی علامت ظاہر ہوئی ہے جس سے وہ وہم یا وسوسوں کے شکار ہوئے ہوں۔ اس حوالےسے بچوں، ان کےو الدین اور اساتذہ سے یہ بھی معلوم کیا جاتا رہا کہ آیا اس عرصے میں ان بچوں کو ہراساں کیا گیا تھا یا کوئی ایسا واقعہ رونما ہوا تھا جس سے ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہو؟اس تحقیق میں شامل 46 فیصد سے زائد بچوں کو آٹھ سے 10 سال کی عمر کے دوران ہراساں کئے جانے کا شکار پایا گیا۔ ان بچوں میں ذہانت کی سطح اور خاندانی مسائل سے قطع نظر نفسیاتی امراض کی علامتیں دیگر بچوں کی نسبت دوگنا تھیں۔ ہراساں کئے جانے کا عمل شدید ہونے پر یہ صورت حال اور بھی پیچیدہ تھی۔ اس تحقیق سے تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ  سے نوعمری میں نفسیاتی مسائل کا خطرہ کس طرح زیادہ ہو جاتا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ ہراساں کئے جانے سے ایسے افراد میں یہ علامتیں ابھر کر سامنے آ جاتی ہوں جو کسی نہ کسی مسئلے کا پہلے سے ہی شکار ہوں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ متاثرہ بچے کی ذہنی دباؤ پر رد عمل کی صلاحیت متاثر ہوتی ہو۔محقیقن کا کہنا ہے کہ اس بات کو وضاحت سے جاننے کے لئے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ تاہم ہراساں کئے جانے کے عمل کو روکنے سے بعد ازاں پیدا ہونے والے نفسیاتی مسائل سے بچا جا سکتا ہے

یہ بھی دیکھیں

خواتین کے لیے بہتر زندگی کا موقع!

15 ہفتے کی تربیت آپ کی زندگی بدل سکتی ہے! 18 سے 45 سال کی …