صفحہ اول » بلاگ » بیمہ حادثات کا شکار ہونے والے لوگوں کو مالی امداد فراہم کرتا ہے

بیمہ حادثات کا شکار ہونے والے لوگوں کو مالی امداد فراہم کرتا ہے

بیمہ کاری

بیمہ حادثات اور نقصانات کا شکار ہونے والے لوگوں کو مالی امداد فراہم کرنے کا ذریعہ ہے۔ بیمہ ۔۔۔ انسانی معاشرے میں امدادِ باہمی کا ایک ایسا طریقہ ہے جس میں بہت سے افراد (بیمہ کرانے والے) ایک مشترکہ فنڈ میں رقم جمع کرتے رہتے ہیں اور ان میں سے جو چند افراد حادثے یا نقصان کا شکار ہوتے ہیں، وہ اپنا نقصان پورا کرنے کے لیے فنڈ سے رقم وصول کرتے ہیں۔
جب کوئی شخص بیمہ خریدنا چاہتا ہے تو وہ کسی بیمہ بروکر یا ایجنٹ یا براہِ راست بیمہ کمپنی سے رابطہ کرتا ہے۔ بیمہ کارکن اس شخص کی ضرورت اور مالی وسائل کو سامنے رکھتے ہوئے یہ تجویز کرتا ہے کہ اس کے لیے کس قسم کی بیمہ پالیسی مناسب ہوگی۔ جب دونوں افراد (بیمہ کرانے والا اور بیمہ کارکن) کسی باہمی نتیجے پر پہنچ جاتے ہیں تو بیمہ کرانے والا ایک فارم پر کرتاہے جسے پروپوزل فارم کہتے ہیں۔ یہ فارم بیمہ کمپنی کو بھیجا جاتا ہے جہاں انڈر رائٹر اس فارم کی معلومات کا تجزیہ کرتا ہے اور اس پالیسی میں نقصان کے اندیشے کاتخمینہ لگاتا ہے۔ اس بنیاد پر وہ یہ طے کرتا ہے کہ پالیسی کا پریمیم کتنا ہونا چاہیے؟ پریمیم ، پالیسی کی وہ قیمت ہے جو بیمہ دار میعادی قسطوں میں کمپنی کو ادا کرتا ہے۔
اگر زندگی کا بیمہ کرایا جاتا ہے تو بیمہ کمپنی کا ڈاکٹر بیمہ کرانے والے کا طبی معائنہ کرتا ہے اور اگر کسی جائیداد یا مشین کا بیمہ مطلوب ہے تو کمپنی کا سرویئر متعلقہ جائیداد یا مشین کا معائنہ کرکے اس کی حالت کے بارے میں رپورٹ دیتا ہے۔ انڈر ائٹر پالیسی کی قیمت کا تعین کرتے وقت طبی رپورٹ یا سروے رپورٹ بھی پیشِ نظر رکھتا ہے۔
کسی حادثے یا نقصان کی صورت میں بیمہ دار، بیمہ کمپنی کو نقصان کا معاوضہ ادا کرنے کا دعویٰ کرتا ہے۔ کلیم آفیسر اس کلیم کا جائزہ لیتا ہے، اگر کلیم بڑا ہو تو کمپنی کا تحقیقاتی افسر حادثے یا نقصان کا جائزہ لے کر اپنی رپورٹ پیش کرتا ہے۔
بیمہ کے پیشے سے متعلق افراد دفتر میں یا دفتر سے باہر کام کرتے ہیں۔ دفتر کے اندر کام کرنے والوں میں انڈر رائٹر، اکچویئریز، کلیم ادا کرنے والے اور کلرک شامل ہیں، جب کہ دفتر کے باہر کام کرنے والوں میں بیمہ فروخت کرنے والے اور کلیم انسپکٹر شامل ہوتے ہیں۔
بیمہ کی سات بڑی اقسام ہیں: بحری بیمہ یا میرین انشورنس، ہوائی بیمہ یا ایوی ایشن انشورنس، بیمہ زندگی یا لائف انشورنس اور پنشن انشورنس، جائیداد کا بیمہ یا پراپرٹی انشورنس، گاڑیوں کا بیمہ یا موٹر انشورنس اور واجبات کا بیمہ یا لابیلٹی انشورنس۔
بیمہ کے موجودہ کاروبار میں ہر چیز کا بیمہ کیا جاسکتا ہے جس میں ایک عام گاڑی سے خلائی سیارہ اور خلائی شٹل تک شامل ہے۔ یہاں دو اصطلاحوں کا فرق سمجھنا ضروری ہے جو اس پیشے میں استعمال ہوتی ہیں۔ ’’انشورنس‘‘ کی اصطلاح ایسے نقصان کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو بالعموم واقع نہیں ہوتا مثلاً چوری، آتش زدگی، سیلاب وغیرہ۔ ’’ایشورنس‘‘ کی اصطلاح یقینی حادثات / واقعات کے لیے استعمال ہوتی ہے جیسے موت یا ریٹائرمنٹ وغیرہ۔
انشورنس اور ایشورنس کمپنیاں چھوٹی یا بڑی ہوسکتی ہیں۔ بعض کمپنیاں کئی اقسام کے بیموں کا کاروبار کرتی ہیں مثلاً زندگی کا بیمہ، گاڑیوں کا بیمہ اور جائیداد کا بیمہ وغیرہ۔ اس کے بر خلاف بعض کمپنیوں کا کاروبار کسی ایک خاص قسم کے بیمہ کے لیے ہوتا ہے مثلاً صرف بحری بیمہ یا صرف گاڑیوں کا بیمہ۔
لائیڈز آف لندن دنیا میں انشورنس کا سب سے بڑا ادارہ ہے جو بیمہ کے موجودہ کاروبار کا بانی بھی ہے۔ اس کے تحت بیمہ کی متعدد کمپنیاں کام کرتی ہیں۔ مختلف اقسام کے بیمہ کے علاوہ یہ غیر معمولی نوعیت کے بیمہ بھی کرتا ہے، مثلاً کسی مشہور فٹ بالر کی ٹانگوں کا بیمہ یا کسی اداکارہ کی انگلیوں کا بیمہ ، اس ادارے نے 300سال پرانی شراب کی ایک بوتل کا بیمہ بھی کیا ہے۔
آزادی کے بعد پاکستان میں تین چار بیمہ کمپنیاں تھیں جو بیمہء زندگی اور عام بیمہ ۔۔۔دونوں کا کاروبار کرتی تھیں۔ 1972ء میں حکومت نے زندگی کے بیمہ کے کاروبار کو قومی ملکیت میں لے لیا اور بیمہ زندگی سے متعلق تمام نجی اداروں کو قومیا کر ’’اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن آف پاکستان‘‘ کے نام سے ایک نیا ادارہ قائم کر دیا گیا۔ 1988ء میں حکومت نے نجی شعبے کو دوبارہ زندگی کے بیمہ کے کاروبار کی اجازت دے دی اور اب سرکاری شعبے میں اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن اور پوسٹل لائف انشورنس کے ساتھ ساتھ نجی ادارے بھی بیمہء زندگی کا کاروبار کر رہے ہیں۔ اس وقت ملک میں بیمہ سے متعلق چار سرکاری ادارے اور تقریباً ۰۵ نجی کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔
بیمہ کا کاروبار چوں کہ بہت وسیع ہے اور اس میں کام کرنے کے مختلف مواقع پائے جاتے ہیں اس لیے بیمہ کے پیشے سے متعلق اس مضمون کو دو حصوں میں پیش کیا جا رہا ہے۔ پہلے حصے میں بیمہ کی فروخت کے پیشے سے متعلق معلومات دی جارہی ہیں جس میں ملازمت کے مواقع سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔ دوسرے حصے میں بیمہ کے کاروبار سے متعلق دوسرے پیشوں کی تفصیلات دی جائیں گی۔

بیمہ کی فروخت کا پیشہ

انشورنس سیلز مین/ویمن

بیمہ کی فروخت کاپیشہ ایک دلچسپ اور اس لحاظ سے پرکشش پیشہ ہے کہ اس میں آمدنی کی کوئی حد مقرر نہیں ہوتی۔ متعلقہ کارکن جتنی محنت کرتا ہے ، اس کی آمدنی میں اتنا ہی اضافہ ہوتا ہے۔ مرد اور خواتین دونوں یہ کام آزادانہ طور پر کرسکتے ہیں۔

کام کی نوعیت

بیمہ کی فروخت کے کارکن، افراد اور اداروں کو بیمہ پالیسی فروخت کرتے ہیں۔ یہ بیمہ زندگی کا بھی ہوسکتا ہے اور کاروبار، دکان ، مکان ٹرانسپورٹ اور صنعتی کارخانوں کا بھی، لیکن پاکستان میں بیمہ کی فروخت کے کارکن زیادہ تر زندگی کا بیمہ فروخت کرتے ہیں۔ ہرکارکن کے پاس اپنے ادارے کی ایک رہنما کتاب ہوتی ہے جس میں مختلف اقسام کی بیمہ پالیسیوں ، ان کے پریمیم کی ادائیگی کے طریقے اور میعاد، بونس اور دیگر تفصیلات درج ہوتی ہیں۔ بیمہ کارکن متوقع بیمہ داروں سے ملاقات کرکے پہلے ان کی بیمہ کی ضروریات معلوم کرتا ہے اور پھر متوقع بیمہ دار کے مالی وسائل اور مستقبل کی ضروریات کے مطابق اسے تجویز کرتا ہے کہ اس کے لیے کون سی بیمہ پالیسی موزوں رہے گی۔ بیمہ کارکن متوقع بیمہ دار کو ترغیب دیتے ہیں کہ بیمہ کرالینے سے انھیں کیا کیا فوائد حاصل ہوں گے اور کسی حادثے یا ناگہاں آفت کی صورت میں ان کے اہلِ خانہ کو کیا تحفظات فراہم ہوسکیں گے۔
بعض مخلص اور اپنے پیشے اور موء کلوں کے ساتھ مکمل دیانت داری سے کام کرنے والے بیمہ کارکن صرف بیمہ ہی فروخت نہیں کرتے بلکہ یہ اپنے موء کلوں کے لیے ایک ایسے مشیر کی حیثیت اختیار کر جاتے ہیں جو انھیں بچتوں کو محفوظ اور منافع بخش بچت اسکیموں میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے مفید مشورے بھی دیتے ہیں۔ اپنے موء کلوں سے ان کا تعلق محض کاروبار کی سطح تک نہیں رہتا، یہ ان کے خاندان کا فرد بن جاتے ہیں۔

اہلیت

فروخت بیمہ کے پیشے میں داخل ہونے کے لیے بنیادی اہلیت کم سے کم میٹرک ہے۔ انٹرمیڈیٹ اور گریجویٹ امیدوار بھی اسے اپنا سکتے ہیں۔

پیشے میں داخلے کا طریقہ کار

بیمہ کے کارکن لائف انشورنس کے میدان میں سیلز ریپریز ینٹیٹو کی حیثیت سے کام کا آغاز کرتے ہیں، جب کہ جنرل انشورنس کے میدان میں وہ فیلڈ آفیسر کہلاتے ہیں۔ کام شروع کرنے کے لیے بیمہ زندگی یا عام بیمہ کے کسی ادارے سے وابستہ ہونا ہوگا۔ بالعموم اپنے قریبی سیلز منیجر، ایریا منیجر یا برانچ منیجر سے رابطہ قائم کیا جاسکتا ہے جو ایک انٹرویو کے ذریعے امیدوار کی گفتگو کی صلاحیت، تعلیمی قابلیت اور شخصیت کا جائزہ لے کر اسے اپنے کارکنوں میں شامل کرلیتا ہے اور آزمائشی طور پر فیلڈ میں کام کرنے کے لیے بھیج دیا جاتا ہے۔ جوں ہی کوئی بیمہ کارکن پہلی پالیسی فروخت کرتا ہے اسے باقاعدہ فروخت بیمہ کا لائسنس یعنی ایجنسی اور کاروباری کوڈ نمبر جاری کر دیا جاتا ہے۔ اس لائسنس کی مدت ایک سال ہوتی ہے اور اختتام سال پر اس کی تجدید کرانی ہوتی ہے۔ تجدید کی فیس 30 روپے ہے۔

تربیت کے ادارے اور تربیتی نصاب

1۔بیمہ کے پیشے میں قدم رکھنے والے نوجوان جس فیلڈ آفیسر برانچ مینجر، سیلز مینجر یا ایریا مینجر کے ساتھ کا م کا آغاز کرتے ہیں، وہی ان کی پیشہ ورانہ تربیت کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ بیمہ زندگی میں بعض کامیاب ایریا مینجرز نے اپنے کاروبار کو وسیع اور جدید انداز میں منظم کر رکھا ہے۔ ان کے اپنے تربیتی شعبہ جات ہیں جو اس پیشے کے نوواردوں کو ابتدائی تربیت مہیا کرتے ہیں۔
2۔ابتدائی تربیت اور ایک یا دو بیمہ پالیسیوں کی فروخت کے بعد نئے کارکن کو اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کے ابتدائی کورس میں شرکت کے لیے بھیج دیا جاتا ہے جو ’’بنیادی نصاب برائے نمائندگان‘‘ کہلاتا ہے۔ یہ تربیتی کورس ایک ہفتے کا ہے اور اس میں ’’بیمہ کیا ہے‘‘، بیمہء زندگی کے مختلف منصوبے اور پریمیم کے حساب کتاب کا طریقہ، پرپوزل فارم پر کرنے کا طریقہ بتایا جاتا ہے۔

         1(نمائندے کا ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی کورس

بنیادی کورس برائے نمائندگان کی تکمیل کے بعد نمائندے کے ترقیاتی پروگرام کا کورس کروایا جاتا ہے۔ یہ کورس 27 یونٹ پر مشتمل ہے اور یہ چار ہفتوں میں مکمل ہوتا ہے۔ یہ کورس بنیادی طور پر فروخت کے موضوع پر ہے اور اس میں درج ذیل موضوعات پر معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔ بیمہ زندگی کیا ہے؟ بیمہ کی تنظیم، متوقع گاہک کی تلاش، علم میں مہارت پیدا کرنا، بنیادی پالیسیاں، اضافی معاہدے (رائیڈرز) پالیسی دستاویز، فروختِ بیمہ کا طریقہ، اجتماعی بیمہ (گروپ انشورنس) ، کلیدی بیمہ اور کاروباری بیمہ۔

2(۔مینجمنٹ اورینٹیشن پروگرام(ایم او پی
یہ انتظامی امور کا کورس ہے جو سیلز آفیسرز، سیلز مینجرز کو کروایا جاتا ہے۔ یہ 17یونٹوں پر مشتمل ہے اور یہ تین ہفتوں میں مکمل ہوتا ہے۔ اس کورس میں نئے کارکنوں کی بھرتی ، انتخاب، مارکیٹنگ، نگہداشت، تربیت اور ترغیب، بنیادی موضوعات ہوتے ہیں۔ یہ کورس سیلز منیجر کے عہدے سے ایریا منیجر کے عہدے پر ترقی پانے کے لیے لازمی ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ ایسوسی اینڈ کسٹومر سروس اور مارکیٹنگ مینجمنٹ کے کورسز بھی کروائے جاتے ہیں۔ ان تمام کورسز کا اہتمام اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کا شعبہ تعلیم و تربیت کرتا ہے اور یہ تمام کورسز لائف انشورنس کی فروخت میں مفید و معاون ثابت ہوتے ہیں۔ اسٹیٹ لائف ان کورسز میں شمولیت کی کوئی فیس نہیں لیتی اور کورسز کی تکمیل پر انعامات اور سرٹیفکیٹ دیتی ہے۔
3۔پاکستان انشورنس انسٹی ٹیوٹ کے کورس
پاکستان انشورنس انسٹی ٹیوٹ نے حال ہی میں عمومی بیمہ (جنرل انشورنس) کے شعبے میں تربیت دینے کا کام شروع کیا ہے۔ فی الوقت درج ذیل کورسز کروائے جا رہے ہیں

سرٹیفکیٹ آف پروفیشینسی

یہ کورس جنرل انشورنس کمپنیوں کے جونیئر لیول کے افسران کے لیے ہے۔ 22 ہفتے کے اس کورس میں انشورنس کے عناصر، آگ کا بیمہ، انشورنس کے قانونی پہلو، حادثاتی اور طبی بیمہ اور ری انشورنس کے موضوعات پڑھائے جاتے ہیں۔ اس کورس کی فیس 12 سو روپے ہے اور ہفتے میں 2 بار کلاسیں منعقد ہوتی ہیں۔ ہر کورس میں نشستوں کی تعداد 25 ہوتی ہے۔ یہ کورس جنرل انشورنس کی فروخت اور کمپنیوں کے جونیئر لیول کے افسران کو ان کے فرائض کی ادائیگی میں معاونت فراہم کرتا ہے۔
عمومی بیمہ (جنرل انشورنس) میں نئے کارکنوں کو ابتدائی ترغیب فراہم کرنا، فیلڈ آفیسر کی ذمہ داری ہے۔ فروختِ بیمہ کی عملی تربیت کے دوران اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کارکنان کو مختلف تربیتی کورسز میں شریک کروایا جاتا ہے۔ جنرل انشورنس کی بڑی کمپنیاں ایسے تربیتی کورسز خود منعقد کرتی ہیں، جب کہ کراچی انشورنس انسٹی ٹیوٹ بھی ایسے تربیتی کورسز کا انعقاد کرتا ہے۔

ترقی کے مدارج

بیمہ زندگی میں اس وقت اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن سب سے بڑا ادارہ ہے۔ یہاں فروختِ بیمہ کے کارکن کو سیلز ریپریزینیٹیٹو کی حیثیت سے داخلہ دیا جاتا ہے۔ ہر کارکن کو ابتدائی تربیت کے بعد سال بھر کے لیے ایک مالی ہدف دیا جاتا ہے کہ وہ اس مالیت کی بیمہ پالیسیاں فروخت کرے گا۔ ایک سال کی مدت اور مقررہ ہدف کامیابی سے پورا کرنے والوں کو سیلز آفیسر کے عہدے پر ترقی دے دی جاتی ہے۔ اب اسے اسٹیٹ لائف کے مرکزی دفتر کے تربیتی پروگرام میں شرکت کے لیے بھیجا جاتا ہے جسے ’’ایجنٹ کا ترقیاتی پروگرام‘‘ کہتے ہیں۔ سیلز آفیسر کے طور پر دو سال کام کرنے اور پالیسیوں کے مقررہ ہدف حاصل کرنے والے امیدواروں کو سیلز منیجر کے عہدے پر ترقی دے دی جاتی ہے۔ اس عہدے پر کم سے کم تین سال کام کرنے اور مقررہ مالی اہداف حاصل کرنے پر اگلے عہدے پر ترقی ملتی ہے جو ایریا منیجر کہلاتا ہے۔ ایریا منیجر کو اس کی کارکردگی اور اہلیت کی بنیاد پر کارپوریشن کے انتظامی افسروں کے عملے میں ڈویلپمنٹ منیجر کی حیثیت سے باقاعدہ ملازمت پیش کی جاتی ہے جس کی ابتدائی مجموعی تنخواہ پانچ ہزار روپے ہوتی ہے اور دیگر سہولتوں میں میڈیکل، گروپ انشورنس، پراویڈنٹ فنڈ، پنشن کی سہولتیں شامل ہوتی ہیں۔ ترقی کا یہ سلسلہ کارپوریشن میں اعلیٰ انتظامی عہدوں یعنی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر اور چیئرمین کے عہدے تک جاری رہتا ہے۔

حالات کار

پاکستان میں فروختِ بیمہ کے کارکن بالعموم گھوم پھر کر کام کرتے ہیں۔ وہ جس فیلڈ آفیسر / سیلز منیجر/ایریا مینجر سے وابستہ ہوتے ہیں، اسی کے دفتر کو اپنے دفتری مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں ورنہ ان کا زیادہ تر کام ایک بریف کیس کے ذریعے ہوتا ہے جو ان کے ہاتھوں میں رہتا ہے۔ اس بریف کیس میں بیمہ سے متعلق بنیادی لٹریچر، پروپوزل فارم، بیمہ کی رہنما کتاب اور دیگر اسٹیشنری ہوتی ہے۔ جوں جوں وہ ترقی کرتے ہیں، انھیں دفتری سہولیات یعنی دفتر کی جگہ، دفتری عملہ اور دیگر دفتر کا سامان مہیا کیا جاتا ہے۔ کاروباری اہداف کی تکمیل پر انھیں گاڑی، ایئر کنڈیشنراور دیگر آسائشیں بھی مہیا کی جاتی ہیں۔بیمہء کارکن بالعموم اپنے متوقع بیمہ داروں سے پہلے سے وقت طے کرکے، ان کے گھر یادفتر پر ملاقات کرتے ہیں اور انھیں بیمہ کی ترغیب دیتے ہیں۔ ان کا زیادہ تر وقت دفتر سے باہر لوگوں سے ملاقات میں صرف ہوتا ہے۔

ذاتی خصوصیات

بیمہ کے پیشے میں وہ حضرات کامیاب رہتے ہیں جو خوش گفتار، خوش اخلاق اور خوش لباس ہوں اور لوگوں میں گھل مل کر رہنے اور ہر ایک سے جلد تعلقات استوار کرنے کی خداداد صلاحیت رکھتے ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ نہ صرف پاکستان میں بلکہ دنیا بھر میں بیمہ کمپنیاں، فروختِ بیمہ کے کارکن کے لیے اس کی تعلیمی قابلیت سے زیادہ ذاتی خصوصیات کو ترجیح دیتی ہیں۔ خود اعتمادی اور اچھی گفتگو کی صلاحیت، وسیع حلقہء احباب، سیلز اور مارکیٹنگ کے ہر شعبے کے لیے بنیادی خصوصیات ہیں۔ شناسائی کا وسیع حلقہ رکھنے والے کامیاب ثابت ہوتے ہیں۔
ایک اچھے بیمہ کارکن کے لیے ضروری ہے کہ وہ بیمہ کی ان تمام پالیسیوں سے اچھی طرح واقف ہو جو اس کی کمپنی کی طرف سے پیش کی جاتی ہیں اور وہ اپنے بیمہ داروں کو ہمہ وقت سہولت فراہم کرتا ہو۔ بیمہ داروں کا اعتماد ہی اس کے کاروبار کو آگے بڑھاتا ہے۔
اسکول یا کالج سے فارغ ہوکر فوراً فروخت بیمہ کے پیشے میں داخل ہونے سے بہتر ہے کہ پہلے انشورنس کلرک کی حیثیت سے تجربہ حاصل کرلیا جائے یا سیلز کے کسی اور شعبے میں چند برس کام کرلیا جائے، کیوں کہ بیمہ کی فروخت میں بالکل نو آمیز کی حیثیت سے داخل ہونا زیادہ مفید نہیں رہتا۔ اس پیشے میں داخل ہونے کے لیے قدرے پختہ کار اور زندگی کے تجربے کا حامل ہونا سود مند ہوتا ہے۔ اس پیشے کے تجربہ کار افراد کے مطابق 20سال کی عمر سے پہلے بیمہ کی فروخت کا کام شروع نہیں کرنا چاہیے اور اس سے پہلے کسی نہ کسی کام (ترجیحات سیلز) کا تجربہ ہونا چاہیے۔

متعلقہ پیشے

پاکستان انشورنس ایکٹ کے تحت کوئی ایسا شخص جو کسی ادارے میں ملازم ہو، انشورنس ایجنٹ کے طور پر ایجنسی حاصل نہیں کرسکتا، البتہ اپنا کاروبار کرنے والے افراد مثلاً پراپرٹی ایجنٹ، اسٹاک بروکر، آزادانہ سیلز کا کام کرنے والے اپنی کاروباری سرگرمیوں کے ساتھ فروختِ بیمہ کا کام بھی کرسکتے ہیں۔

تنخواہیں

فروخت بیمہ کے پیشے میں کوئی باقاعدہ تنخواہ نہیں ہوتی۔ یہ کمیشن کا کام ہے یعنی جو پالیسی فروخت ہوتی ہیں اس کا مقررہ کمیشن بیمہ کارکن کو ادا کر دیا جاتا ہے۔ فروختِ بیمہ زندگی کے میدان میں ایک ذہین، محنتی اور تن دہی سے کام کرنے والے کارکن کی کامیابی کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ وہ اس قدر آمدنی حاصل کرسکتا ہے جتنی کہ وہ سوچ سکتا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک بیمہ کارکن جو دو تین برس اس فیلڈ میں کام کا تجربہ رکھتا ہو ایک انجینئر، ڈاکٹر، اکاؤنٹینٹ یا اچھے وکیل کے ہم پلہ آمدنی حاصل کرسکتا ہے۔ ایک اچھے بیمہ کارکن کی آمدنی 5 ہزار روپے سے 50ہزار روپے ماہانہ تک ہوسکتی ہے۔

مواقع

پاکستان میں سیلز مین شپ کے لیے سب سے زیادہ مواقع اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن میں ہیں جو بیمہء زندگی کی فروخت کا قومی ادارہ ہے۔ پاکستان کی کل آبادی میں سے گروپ اور انفرادی بیمہ پالیسیوں کے تحت بیمہ پالیسی کرانے والوں کی تعداد صرف 65 لاکھ ہے جو ہماری آبادی کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ اس لیے بیمہ میں سیلز مین شپ کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ اس کے علاوہ حال ہی میں حکومت نے نجی کمپنیوں کو بھی فروختِ بیمہء زندگی کی اجازت دی ہے جس سے ان کمپنیوں میں بھی سیلز مینوں کی بڑی تعداد کی ضرورت ہوگی۔ اس وقت ملک میں بیمہ کارکنوں کی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہے۔ آئندہ اس میدان میں بیمہ کارکنوں کے لیے مزید مواقع بڑھ جائیں گے۔
مزید معلومات کے لیے مندرجہ ذیل پتوں پر خط لکھیے:
1۔پاکستان انشورنس انسٹی ٹیوٹ
پانچویں منزل شفیع کورٹ میری ویدر روڈ
کراچی

2۔کنٹرولر انشورنس
تیسری منزل ہاجرہ مینشن
زیب النسا اسٹریٹ صدر، کراچی

3۔اینڈ سیلز ڈویلپمنٹ ڈویژن
اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن آف پاکستان
فرسٹ فلور،بلڈنگ نمبر 9 ،ڈاکٹر ضیاء الدین احمد روڈ، کراچی

ایف سی آئی آئی اور اے سی آئی آئی

چارٹرڈ انشورنس انسٹی ٹیوٹ لندن ان دونوں کورسز کا اہتمام کرتا ہے۔ یہ کورسز جنرل اور لائف انشورنس کے مضامین پر مشتمل ہوتے ہیں۔ ان کورسز کے لیے باقاعدہ رجسٹریشن کرانی ہوتی ہے۔ کراچی انشورنس انسٹیٹیوٹ ان کورسز کے لیے ٹیوشن کلاسزکا اہتمام کرتا ہے اور رجسٹریشن کے لیے بھی معاونت فراہم کرتا ہے۔ ابتدائی 7 کورسز مکمل کرنے پر ایسوسی ایٹ آف چارٹرڈ انشورنس انسٹی ٹیوٹ (اے سی آئی آئی) کی سند اور مکمل 10 پرچے پاس کرنے پر فیلوشپ آف چارٹرڈ انشورنس انسٹی ٹیوٹ (ایف سی آئی آئی) کی سند دی جاتی ہے۔ کورس کی فیس 50امریکی ڈالرز ہے، جب کہ آخری کورس کی فیس 125 امریکی ڈالرز ہے۔

ایف ایم ایل آئی اور اے سی ایس

امریکی ادارہ لائف آفس مینجمنٹ ایسوسی ایشن امریکا (ایل او ایم اے) ان کورسز کا اہتمام کرتا ہے۔ امتحانات سال میں دوبار منعقد ہوتے ہیں۔ مجموعی طور پر یہ 15مضامین کا امتحان ہوتا ہے اور ۵۱ مضامین میں کامیاب ہونے والوں کو ماسٹرز کی ڈگری دی جاتی ہے، جبکہ 2 پرچوں میں کامیابی پر ایف ایل ایم آئی سرٹیفکیٹ ، 5 پرچے پاس کرنے پر ایسوسی ایٹ کسٹومر سروس(اے سی ایس) سرٹیفکیٹ اور ۰۱ پرچے پاس کرنے پر فیلوشپ آف لائف انشورنس مینجمنٹ کی ڈگری دی جاتی ہے۔ ان کورسز میں بنیادی طور پر بیمہ زندگی، صحت کا بیمہ، اکاؤنٹس، معاشیات، سرمایہ کاری اور انڈر رائیٹنگ کے مضامین ہوتے ہیں۔ ان کورسز میں ابتدائی 9 کورسز کی فیس 50 امریکی ڈالرز فی کورس ہے، چوں کہ یہ کورسز فروخت بیمہ زندگی میں مفید اور معاون ہیں اس لیے اسٹیٹ لائف انشورنس نے اپنے ملازمین افسران اور فیلڈ فورس کو اس سلسلے میں خصوصی ترغیبات دی ہیں۔

ایک سالہ ڈپلومہ کورس

یہ دو سمسٹر کا کورس ہے اور ان تازہ گریجویٹس کے لیے ہے جو بیمہ میں کیریئر بنانا چاہتے ہیں۔ اسی لیے اس کی اہلیت صرف گریجویشن ہے، تجربہ ضروری نہیں ہے۔ کورس کی فیس 3 ہزار روپے ہے۔ ہر کورس میں 50 امیدواروں کو داخلہ دیا جاتا ہے۔ پہلے سمسٹر میں تقریباً وہی مضامین پڑھائے جاتے ہیں جو پروفیشینسی سرٹیفکیٹ کورس کے ہیں۔ دوسرے سمسٹر میں کسی ایک مضمون میں تخصیص (اسپیشلائزیشن) کی اہلیت پیدا کی جاتی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

خواتین کے لیے بہتر زندگی کا موقع!

15 ہفتے کی تربیت آپ کی زندگی بدل سکتی ہے! 18 سے 45 سال کی …