صفحہ اول » متفرق » علم کی روشنی پھیلانے میں علامہ اوپن یونیورسٹی کا کردار

علم کی روشنی پھیلانے میں علامہ اوپن یونیورسٹی کا کردار

علم سب سے بڑی دولت ہے‘‘ ۔۔۔یہ کہاوت بہت پرانی ہوچکی ہے اور یہ جملہ نہایت روایتی نظر آتا ہے، لیکن اسے کیا کیجیے کہ بعض باتیں ہر دور میں اورہرطرح کے حالات میں سچی ہوتی ہیں۔ جس طرح یہ سچائی ناقابلِ تردید ہے کہ ’’سورج روشنی اور حرارت بخشتا ہے‘‘ اسی طرح یہ بات بھی بالکل درست ہے کہ ’’علم سب سے بڑی دولت ہے‘‘یہ چھوٹا سا فقرہ کل بھی سچ تھا ،آج بھی سچ ہے اور     ہمیشہ سچ رہے گا۔  جو لوگ وقت پر علم حاصل نہیں کرپاتے وہ زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ وقت گزرنے پر انھیں اس محرومی کا احساس ہوت ہے لیکن اس وقت حالات ایسے نہیں ہوتے کہ وہ اس نقصان کی تلافی کرسکیں۔
اس مضمون میں ایک ایسے ادارے کا تعارف کرایا جارہا ہے جو پاکستان میں اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ان کو اپنے گھر پر تعلیم و تدریس کی خدمات مہیا کرتا ہے۔طالب علم کو داخلہ لینے کے بعد کسی مدرسے یا کالج جانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ درسی کتب، مشقی کاپیاں اوردیگر تمام تعلیمی مواد اس کے گھر پر پہنچ جاتا ہے۔ وہ گھر پر اپنی سہولت کے مطابق مطالعہ کرسکتا ہے ، مشقی کام مکمل کرسکتا ہے اور مقررہ وقت پر جاکر امتحان دے سکتا ہے۔ اس طرح تعلیم حاصل کرنے کے دوران اسے کتابوں اور تعلیمی مواد کے علاوہ ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے ذریعے بھی اپنے اسباق مکمل کرنے کا موقع ملتا ہے۔ اس کی رہنمائی کے لیے ایک اتالیق(استاد) مقرر ہوتا ہے جو ذاتی طور پر یا بہ ذریعہ ڈاک سبق کی تکمیل میں اس کی رہنمائی کرتا ہے، اگر طالب علم چاہے تو اپنے قریبی مرکز پر جاکر کلاس میں بھی شامل ہوسکتا ہے۔ گھربیٹھے تعلیم حاصل کرنے کا یہ طریقہ ’’فاصلاتی نظامِ تعلیم‘‘ کہلاتا ہے اور پاکستان میں جو ادارہ یہ تعلیم مہیا کرتا ہے وہ ’’علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی ‘‘کے نام سے کام کررہا ہے۔ علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی پاکستان کا سب سے بڑا تعلیمی ادارہ ہے۔ ہر سال اوسطاً ایک لاکھ طلبہ اس کے مختلف کورسوں میں داخلہ لیتے ہیں اور اوسطاً 80 ہزارطلبہ امتحانات میں شریک ہوتے ہیں۔ یونی ورسٹی 250مختلف مضامین کی تعلیم دیتی ہے۔

علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی 1974ء میں قائم ہوئی اور 1975ء سے اس نے تجرباتی طور پر کام شروع کیا۔ یونی ورسٹی نے عربی زبان کے عملی نصاب سے اپنی تدریسی سرگرمیوں کا آغاز کیا جس میں شریک طلبہ کی تعداد ایک ہزار سے کم تھی، اس وقت یونی ورسٹی میٹرک سے پی ایچ ڈی کی سطح تک کے دو سو سے زائد مختلف کورس پیش کررہی ہے ۔
علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی کی جاری کردہ تمام اسناد۔۔۔یعنی سرٹیفکیٹ ڈپلوما اور ڈگری۔۔۔ملک کی تمام جامعات اور تعلیمی بورڈز سے منظور شدہ ہیں، اس لیے اگرکوئی طالب علم یاطالبہ اوپن یونی ورسٹی سے ایک کورس کرنے کے بعد باقاعدہ طالب علم کی حیثیت سے تعلیم جاری رکھنا چاہے تو اسے دشواری نہیں ہوتی ۔
یونی ورسٹی کا صدر دفتر،اسلام آباد کے سیکٹر ایچ ۔8 میں واقع ہے، جب کہ ملک کے مختلف حصوں میں 13 علاقائی دفاتر، پانچ ذیلی علاقائی نظامتیں اور نو علاقائی رابطہ دفاتر قائم ہیں۔ یہ تمام دفاتر طلبہ اور یونی ورسٹی کے درمیان رابطے کا کام کرتے ہیں۔
علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی کے تدریسی نظام کے تین کلیات ( فیکلٹیز) اور مجموعی طور پر 36 شعبہ جات ہیں ، ان کلیات اور شعبہ جات کی تفصیل درج ذیل ہے ۔

1- کلیہ تعلیم

-1 شعبہ تعلیمی منصوبہ بندی و انتظام -2 شعبہ تعلیم اساتذہ -3 شعبہ فاصلاتی و غیر رسمی تعلیم -4 شعبہ خصوصی تعلیم -5 شعبہ جاری تعلیم ۔

-2 کلیہ بنیادی و اطلاقی علوم 

-1 شعبہ بنیادی علوم -2 شعبہ زرعی علوم -3 شعبہ فنی و حرفتی تعلیم -4 شعبہ تعلیم خواتین ۔

-3 کلیہ سماجی و معاشرتی علوم 

-1 شعبہ انگریزی -2 شعبہ اقتصادیات -3 شعبہ مطالعہ پاکستان -4 شعبہ تاریخ، سماجیات ، بشریات و جغرافیہ -5 شعبہ تجارت -6 شعبہ مطالعہ آبادی -7 شعبہ ابلاغ عامہ -8شعبہ کاروباری نظمیہ -9 شعبہ کتب خانہ و اطلاعات -10 ادارہ عربی مطالعہ اسلامیات (10الف) شعبہ عربی (10 ب) شعبہ مطالعہ اسلامیات -11 شعبہ اردو -12 اقبالیات -13 ادارہ لسانیات پاکستان ۔

یونی ورسٹی کے تعلیمی پروگرام

علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی سرٹیفکیٹ ، ڈپلوما ، بیچلرز ڈگری، ماسٹرز ڈگری، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی اسناد کے لیے مندرجہ ذیل چار شعبوں میں تعلیمی پروگرام پیش کرتی ہے:

-1 عمومی تعلیم -2 عملی و فنی تعلیم -3 تربیت اساتذہ -4 تعلیمی تحقیق و ترقی اورپیشہ ورانہ علوم

-1 عمومی تعلیم : عمومی تعلیم کے پروگرام کا مقصد ان لوگوں کو تعلیم جاری رکھنے کے مواقع فراہم کرنا ہے جو کسی بھی وجہ سے باقاعدہ طالب علم کے طور پر اپنی تعلیم مکمل نہیں کرسکے ہوں، اس پروگرام کے تحت سائنس اور فنون کے علوم کے مختلف شعبوں میں نصاب کی کامیاب تکمیل پر امیدواروں کو انٹرمیڈیٹ سرٹیفکیٹ ، بیچلرز ڈگری، ماسٹرز ڈگری اور ایم فل و پی ایچ ڈی کی سند پیش کی جاتی ہے۔ ایک خصوصی پروگرام کے تحت میٹرک کے نصاب کیتکمیل پر خواتین کو میٹرک کی سند بھی جاری کی جاتی ہے۔

-2 عملی و فنی تعلیم : پاکستان کی ضروریات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے یونی ورسٹی نے فنی و عملی تعلیم کے ایسے کورس وضع کیے ہیں جو لوگوں کو نہ صرف ان کی ذاتی زندگی میں مدد دے سکتے ہیں بلکہ معاشی سرگرمیوں میں بھی معاون ہوسکتے ہیں۔ ان کورسز کا مقصد بہتر زندگی گزارنے اور پیدواریتبڑھانے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔

-3 تربیتِ اساتذہ : یہ پروگرام خاص طور پر ان اساتذہ کے لیے ہے جو تعلیمی اداروں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ پروگرام کا مقصد اساتذہ کی تعلیمی و تدریسی سطح کو بلند کرنا اور انھیں دورانِ ملازمت ترقی کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ اس پروگرام میں پرائمری ٹیچرز سرٹیفکیٹ (پی ٹی سی) پرائمری ٹیچرز اورینٹیشن کورس( پی ٹی او سی) سرٹیفکیٹ ان ٹیچنگ ( سی ٹی) عربک ٹیچرز اورینٹیشن کورس ( اے ٹی او سی) اور انگلش لینگویج ٹیچنگ ( ای ایل ٹی) میں پوسٹ گریجویٹ، ڈپلومہ کی سطح کے کورس کرائے جاتے ہیں۔
اس شعبے میں گریجویشن اور اس کی سطح سے اوپر کے کورس۔۔۔یعنی بی ایڈ ، ایم اے (ایجوکیشن) ایم فل اور پی ایچ ڈی کے نصابوں کی تدوین ہورہی ہے اور مستقبل قریب میں یہ کورس پیش کیے جائیں گے۔
-4 تعلیمی تحقیق و ترقی : عملی ، عمومی اور تدریسی پروگراموں کے علاوہ علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی بعض پیشہ ورانہ شعبوں میں بیچلر، ماسٹر، ایم فل اور پی ایچ ڈی کے کورس بھی پیش کرتی ہے۔ فی الوقت یہ کورسز ایڈمنسٹریشن، پبلک ایڈمنسٹریشن اور ایجوکیشنل پلاننگ اور مینجمنٹ کے شعبوں میں پیش کیے جارہے ہیں ۔

فاصلاتی نظامِ تعلیم کیا ہے ؟ 

علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی کا طریقہء تدریس ’’فاصلاتی نظامِ تعلیم‘‘، پر مبنی ہے۔ فاصلاتی نظامِ تعلیم کے معنی یہ ہیں کہ طالب علم اپنے گھر یا کام کی جگہ پر رہتے ہوئے ہی تعلیم حاصل کرے۔ اس طریقہء تدریس میں طالب علم پہلے کسی خاص کورس کے لیے مقررہ وقت پراپنا اندراج (انرولمنٹ) کراتا ہے۔ یونی ورسٹی میں اندراج کے بعد طالب علم کو نصابی اور مشقی کتب اور ضروری ہدا یات بہ ذریعہ ڈاک ارسال کردی جاتی ہیں ۔
اس تدریسی مواد کے علاوہ طالب علم کو مطالعاتی مرکز اور اتالیق کی سہولت بھی فراہم کی جاتی ہے۔ طالب علم مطالعاتی مرکز پر آکر اجتماعی اسباق میں شریک ہوسکتا ہے اور اپنے اتالیق سے سبق کے سلسلے میں رہنمائی حاصل کرسکتا ہے۔ کتب خانے سے کتابیں جاری کراسکتا ہے اور سمعی و بصری کیسٹ کے ذریعے تشریحی اسباق سن اور دیکھ سکتا ہے ۔
جس علاقے میں ایک مضمون کے بیس طلبہ ہوں وہاں یونی ورسٹی کی جانب سے مطالعاتی مرکز (اسٹیڈی سینٹر )قائم کردیا جاتا ہے، جہاں سمعی و بصری آلات ، کتب خانے اور دیگر امدادی تدریسی اشیا کے علاوہ اتالیق (ٹیوٹر) کی خدمات بھی مہیا ہوتی ہیں۔ جن علاقوں میں ایک مضمون کے طلبہ کی تعداد بیس سے کم ہوتی ہے وہاں مطالعاتی مرکز تو قائم نہیں کیا جاتا، البتہ ہر طالب علم کو اس کے نزدیک ترین اتالیق کے نام اور پتے سے مطلع کردیا جاتا ہے اور اتالیق کو طالب کے نام اور پتے سے آگاہ کردیا جاتا ہے تاکہ دونوں خط کے ذریعے آپس میں رابطہ رکھیں۔ علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی کا ہر طالب علم کسی نہ کسی اتالیق سے منسلک ہوتا ہے اور یہ اتالیق نصاب کی تدریس وتکمیل میں طالب علم کی ذاتی طور پر، یا خط و کتابت کے ذریعے رہنمائی کرتا ہے۔ پورے ملک میں یونی ورسٹی کی جانب سے تین ہزار سے زائد مطالعاتی مراکز کام کررہے ہیں اور 17 ہزار اتالیق طلبہ کی رہنمائی کے لیے مقرر ہیں ۔
نصاب کی تکمیل میں طلبہ کو اضافی مدد پہنچانے کے لیے بعض کورسوں کے اسباق ریڈیو اور ٹیلی ویژن سے نشر کیے جاتے ہیں۔ یونی ورسٹی کے اپنے اسٹوڈیوز میں بعض اسباق کی تشریح کے لیے صوتی و بصری کیسٹ تیار کیے جاتے ہیں جو یونی ورسٹی کے علاقائی دفاتر اور مطالعاتی مراکز پر دستیاب ہوتے ہیں۔ ہر نصاب میں طالب علم کی ترقی کی باقاعدہ جانچ کی جاتی ہے۔ اس مقصد کے لیے طالب علم کو پابندی کے ساتھ اپنے متعلقہ استاد کے پاس تفویضہ (اسائن منٹس) اور جانچ کی کاپی جمع کرانی ہوتی ہے۔ عملی مضامین (مثلاً الیکٹریکل وائرنگ) میں طلبہ کو عملی امتحانات میں بھی شریک ہونا ہوتا ہے۔ اس مقصد کے لیے قریب ترین جگہوں پر ورک شاپ قائم کیے جاتے ہیں۔ جانچ پڑتال کے اس نظام کا مقصد یہ ہے کہ ایک ششماہی (سمسٹر) کے دوران پورے نصاب کی تقسیم ہوجائے اور طالب علم سہولت کے ساتھ مقررہ وقت میں بتدریج نصاب مکمل کرے۔ اس کا دوسرا مقصد یونی ورسٹی کی جانب سے فراہم کردہ مطالعاتی مواد کا بہ غور مطالعہ ہے۔ جانچ کے اس نظام کے ذریعے طالب علم او ر استاد کے درمیان باقاعدہ رابطہ رہتا ہے۔کیوں کہ استاد۔۔۔ طالب علم سے خاصے فاصلے پر ہوتا ہے اور تمام ہدایات اور جانچ شدہ پرچے بہ ذریعہ ڈاک ترسیل کیے جاتے ہیں اس لیے یہ رابطہ نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ علاوہ ازیں اس جانچ کے ذریعے طالب علم کے سامنے اس کا مقصد نہایت واضح ہو جاتا ہے اور وہ بتدریج اپنی منزل کی طرف پیش قدمی کرتا ہے۔ استاد اپنی ہدایات کے ذریعے طالب علم میں یہ تحریک پیدا کرتا ہے کہ وہ اپنے مطالعے کو فروغ دے اور خامیوں کو دور کرے۔ دوسری طرف استاد کو ہر طالب علم کی کم زوریوں کا علم ہوجاتا ہے اور وہ اپنے مشوروں کے ذریعے اس کی رہنمائی کرسکتا ہے۔
عملی مضامین میں طلبہ کو کارگاہ (ورک شاپ) یا معمل (تجربہ گاہ) میں عملی تجربے بھی کرنے ہوتے ہیں۔ اس کااہتمام یونی ورسٹی کرتی ہے اور ہر متعلقہ طالب علم کو مطلع کیا جاتا ہے کہ وہ مقررہ وقت پر اپنے قریبی کارگاہ یا معمل میں حاضر ہوکر عملی کام میں شریک ہو ۔

سمسٹر اور کریڈٹ سسٹم

علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی جدید سمسٹر سسٹم کی بنیاد پر کام کرتی ہے۔ عمومی تعلیم کے اور بیش ترعملی تعلیم کے کورسز میں سال میں دوبار، بہار اور خزاں کے سمٹسروں میں داخلے دیے جاتے ہیں۔ تدریس اساتذہ کے کورسز میں سال میں ایک بار، موسم گرما میں داخلے ہوتے ہیں۔ جبکہ ماسٹرز ڈگری اوراس سے اوپر کی سطح کے کورسوں میں سال میں ایک بار ، دو سمسٹرز کے لیے داخلہ دیا جاتا ہے۔ یہ سمٹسرز ( ششماہی) بلا کسی تعطل اورتاخیر کے اپنے مقررہ وقت پر شروع اورختم ہوتے ہیں۔ بالعموم سمسٹرز کا آغاز اپریل اور اکتوبر میں ہوتا ہے ۔ ایک سمسٹر بالعموم 18 ہفتوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس کے بعد دو ہفتے سبق کے آموختہ کے لیے ہوتے ہیں ۔
طلبہ کی اہلیت کریڈٹ کی بنیاد پر رکھی جاتی ہے۔ ایک کریڈٹ پر مشتمل نصاب میں 18 یونٹ ہوتے ہیں جو طالب علم کو سمسٹر کے دوران مکمل کرنا ہوتے ہیں۔ مقررہ کورس میں تفویضے مکمل کرنے اور امتحان میں کامیاب ہونے پر طالب علم کو ایک کریڈٹ دے دیا جاتا ہے ۔
مختلف سطحوں کے لیے مطلوبہ کریڈٹ درج ذیل ہیں :
انٹر میڈیٹ : 8 کریڈٹ ، گریجویشن : 8 کریڈٹ ، ماسٹرز ڈگری : 10 کریڈٹ
بعض صورتوں میں ان کی تبدیلی ہوسکتی ہے۔ طالب علم کو کسی کورس میں اپنا اندراج کراتے وقت اس کے مطلوبہ کریڈٹ معلوم کرلینے چاہییں۔ ہر طالب علم ایک سمسٹر میں زیادہ سے زیادہ دو پورے کریڈٹ کے کورس لے سکتا ہے۔ بعض کورس نصف کریڈٹ کے ہوتے ہیں ۔

امتحان 

طالب علم کی کارکردگی جانچنے کے لیے ہر سمسٹر کے اختتام پر امتحان لیا جاتا ہے۔ ہر امتحان کے دو جزو(کمپوننٹس) ہوتیہیں۔ ایک جزو تفویضہ (اسائن منٹس) پر مشتمل ہوتا ہے اور دوسرا تحریری امتحان پر، تحریری امتحان تین گھنٹے کا ہوتا ہے۔ ہر طالب علم کو ششماہی میں دو تفویضے تیار کرنے ہوتے ہیں۔ متعلقہ اتالیق ان کی جانچ کرکے ان پر نشانات (نمبر) دیتا ہے اور ہر طالب علم کے حاصل کردہ نشانات یونی ورسٹی کو بھیج دیتا ہے۔ تفویضے کے 40 نشانات اور تحریری امتحان کے 60 نشانات ہوتے ہیں۔ امتحان میں کامیابی کے لیے طالب علم کو تفویضے میں 40 فیصد اور تحریری امتحان میں 33 فیصد نشانات حاصل کرنا ضروری ہیں ۔ تحریری امتحان ، امتحانی مراکز میں نگراں امتحانات کی نگرانی میں منعقد ہوتے ہیں۔
مجموعی طور پر 40 سے 45 فیصد نشانات حاصل کرنے والوں کو ’’سی گریڈ ‘‘ 55 سے 69 فیصد نشانات حاصل کرنے والوں کو ’’بی گریڈ ‘‘ 70 سے 79 فیصد نشانات حاصل کرنے والوں کو ’’ اے گریڈ ‘‘ اور اس سے زیادہ نشانات حاصل کرنے والوں کو ’’پلس اے گریڈ ‘‘ دیا جاتا ہے۔ جو طالب علم تفویضے میں 40فیصد نشانات حاصل کرسکے اسے تحریری امتحان میں شرکت کی اجازت نہیں ہوتی۔ ایسے طالب علم کو اس مضمون کی ازسرِ نو تیاری کرنی ہوتی ہے۔ تحریری امتحان میں ناکام ہونے والے طالب علم کو آئندہ دو ششماہیوں میں دوبارہ شریک امتحان ہونے کی اجازت ہوتی ہے ۔
بعض کورس ’’نان کریڈٹ‘‘ ہوتے ہیں یعنی ان کا کوئی کریڈٹ نہیں ہوتا۔ ایسے کورسز میں نہ تو تفویضے تیار کرنا ہوتے ہیں اور نہ امتحان دینا ہوتا ہے ۔
پاکستان کے کسی بھی حصے میں رہنے والے دسویں یا بارہویں جماعت کامیاب طلبہ و طالبات، خواہ ان کی عمر کتنی ہی کیوں نہ ہو اور وہ کسی بھی طبقہ زندگی سے تعلق رکھتے ہوں، علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی کے انٹرمیڈیٹ یا بی اے کے گروپوں میں داخلہ لے سکتے ہیں اور اپنے کاروبار یا ملازمت کے ساتھ ساتھ اپنی تعلیمی قابلیت میں اضافہ کرکے اپنے لیے ترقی کی راہیں ہم وار کرسکتے ہیں ۔
علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی پاکستان میں مقیم طلبہ و طالبات کے لیے انٹرمیڈیٹ اور بی اے کی سطح کے مندرجہ ذیل پروگرام پیش کرتی ہے :

انٹر میڈیٹ 

یہ دو سال یا چار سمسٹرز کا کورس ہوتا ہے۔ میٹرک کے کامیاب امیدوار اس میں داخلہ لے سکتے ہیں۔ ہر سمسٹر میں دو مکمل کورسوں کی تکمیل ضروری ہے۔ اس طرح دو سال میں آٹھ مضامین مکمل کرنا ہوتے ہیں ۔ ہر سمسٹر کے لیے علیحدہ داخلہ فارم بھیجا جاتا ہے ۔
انٹرمیڈیٹ کے مخصوص گروپوں میں سات مضامین لازمی اور ایک مضمون اختیاری ہوتا ہے۔ انٹرمیڈیٹ کے عمومی گروپ میں تین مضامین لازمی اور پانچ مضامین اختیاری ہوتے ہیں۔ انٹرمیڈیٹ اوپن گروپ میں صرف ایک مضمون لازمی اور سات مضامین اختیاری ہوتے ہیں۔ اوپن گروپ میں انگریزی کا مضمون شامل نہیں ہوتا جب کہ باقی تمام گروپوں میں انگریزی لازمی مضمون ہے۔ گروپ اور کورسز( مضامین) کا انتخاب ہر طالب علم اپنی استعداد، رجحان، دلچسپی اور آئندہ کی ضرورت کے مطابق کرسکتا ہے ۔

کامرس اور سیکریٹریل گروپ میں ٹائپ اور شارٹ ہینڈکے مضامین میں عملی تربیت کے لیے ہفتے میں پانچ دن، مرکز میں حاضری ضروری ہے اس لیے ان گروپوں میں صرف ان شہروں کے طلبہ داخلہ لے سکتے ہیں جہاںیونی ورسٹی نے یہ مرکز قائم کیے ہوں ۔
انٹرمیڈیٹ کے مختلف گروپ (جن میں سے کسی ایک میں داخلہ لیا جاسکتا ہے) درج ذیل ہیں :
-1 انٹرمیڈیٹ زرعی گروپ -2 انٹرمیڈیٹ ہوم اکنامکس گروپ -3 انٹر میڈیٹ ایجوکیشن گروپ -4 انٹر میڈیٹ کامرس گروپ -5 انٹرمیڈیٹ سیکریٹریل پریکٹس گروپ -6 انٹرمیڈیٹ سوشل سائنسز گروپ -7 انٹر میڈیٹ ٹیکنیکل گروپ -8 انٹر میڈیٹ عمومی گروپ -9 انٹر میڈیٹ اوپن گروپ -10 انٹر میڈیٹ مطالعہ پاکستان گروپ ۔ بی اے

یہ دو سال کا کورس ہے ۔ ہر سمسٹر میں دو مضامین کامیاب کرنے ہوتے ہیں۔ بی۔اے کی سند حاصل کرنے کے لیے اس سطح کے آٹھ مضامین (مکمل کورس) یا اس کے مساوی مضامین کی کامیاب تکمیل لازمی ہوتی ہے ۔ بی اے کے مخصوص گروپوں میں چھ مضامین لازمی اور دو مضامین اختیاری ہوتے ہیں ۔ جبکہ بی اے عمومی گروپ میں دو مضامین لازمی اور چھ مضامین اختیاری اور بی اے اوپن گروپ میں ایک مضمون لازمی اور سات مضامین اختیاری ہوتے ہیں ۔ اوپن گروپ کے علاوہ باقی تمام گروپوں میں انگریزی لازمی مضمون کی حیثیت سے شامل ہے ۔
بی بی اے ، بی کام ، اور بی اے انٹرنیشنل مارکیٹنگ گروپ میں داخلہ لینے والے طلبہ کو اپنے آخری سمسٹر کے تحریری امتحان سے پہلے کسی بھی مالیاتی ، تجارتی ،یا صنعتی ادارے کے افسرِ مجاز سے تین ماہ کی لازمی تربیت (انٹر شپ) کا تصدیق نامہ کنٹرولر امتحانات کے پاس جمع کرنا ہوتا ہے۔ اس کے بغیر سند جاری نہیں کی جاتی ۔

بی اے کے مختلف گروپ درج ذیل ہیں :

بی کام گروپ ، بی اے انٹرنیشنل مارکیٹنگ گروپ، بی اے پاپولیشن اسٹیڈیز گروپ ، بی اے زبان و ادب گروپ ، بی اے اسلامک اسٹڈیز گروپ ، بیچلر آف بزنس ایڈمنسٹریشن گروپ ، بی اے ابلاغِ عامہ گروپ ، بی اے لائبریری انفارمیشن سائنسز گروپ ، بی اے عمومی گروپ ، بی اے اوپن گروپ ، بی اے رورل اینڈکمیونٹی ڈویلپمنٹ گروپ ، بی اے پبلک ایڈمنسٹریشن گروپ ۔
اعلیٰ تعلیم کے پروگرام : علامہ اقبال اوپن یورنی ورسٹی ایم اے ، ایم فل اورپی ایچ ڈی کی سطح کے پروگرام پیش کرتی ہے۔ خواہش مند حضرات ان کی تفصیلات یونی ورسٹی کو خط لکھ کر حاصل کرسکتے ہیں ۔

عملی /ٹیکنیکل کورسز 

نوجوانوں کو ہنر سکھانے کے لیے علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی نے انٹرمیڈیٹ کی سطح کے مضامین کے نصاب میں بھی ٹیکنیکل مضامین رکھے ہیں اور ان مضامین کو علیحدہ سے بھی پڑھایا/ سکھایا جاسکتا ہے۔
جو طلبہ مندرجہ ذیل ٹیکنیکل کورسز میں داخلہ لینے کے خواہش مند ہوں،انھیں صرف لکھنا پڑھنا آنا چاہیے۔ کوئی رسمی تعلیم ضروری نہیں۔ درج ذیل ٹیکنیکل کورس چھ ماہ کی مدت کے ہیں جن کی تکمیل پر سرٹیفکیٹ جاری کیا جاتا ہے ۔
-1 الیکٹریکل وائرنگ -2 الیکٹریشن -3 ریڈیو سروسنگ -4 آٹو مکینک
-5 گھویلو برقی آلات کی مرمت اور دیکھ بھال -6 بنیادی برقیات -7 آٹو سروسنگ
ان کورسوں کی عملی تربیت ’’عملی تربیت کے مراکز‘‘ میں دی جاتی ہے اس لیے ان میں صرف ان شہروں کے طلبہ داخلہ لے سکتے ہیں جہاں عملی تربیت کے مراکز قائم ہیں ۔

عام لوگوں کے لیے تعلیمی پروگرام 

خواتین اورعام لوگوں کی دلچسپی اورفائدے کے لیے علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی بعض ایسے مضامین کی تعلیم بھی دیتی ہے جن کے امتحانات نہیں لیے جاتے۔ ان مضامین میں داخلے کے لیے صرف لکھنا اور پڑھنا جاننا ضروری ہے۔ یہ مضامین عام زندگی کے کاموں کو سہل بناتے ہیں اور متعلقہ شعبے میں امیدوار کو اضافی معلومات بہم پہنچاتے ہیں۔ ان مضامین کی فہرست درج ذیل ہے۔

الف ۔عملی غیر امتحانی مضامین : عام دلچسپی کے مندرجہ ذیل مضامین میں داخلہ لیا جاسکتا ہے۔ ان مضامین کی تکمیل پرامتحان نہیں لیا جاتا۔ داخلے کے لیے لکھنے اور پڑھنے کی اہمیت کافی ہے ۔
-1 سبزیوں کی کاشت (موسم سرما) -2 سبزیوں کی کاشت (موسم گرما) -3 زمین کے مسائل اور ان کے حل -4 پودوں کا تحفظ -5 مرغبانی -6 ٹریکٹر کی دیکھ بھال اور مرمت -7 بنیادی عربی -8دفتری اردو ( برائے وفاقی ملازمین ) -9 گھریلو مصنوعات کی فروخت ۔

ب۔ بنیادی عملی تعلیمی پروجیکٹ : اس منصوبے میں درج ذیل مضامین کی تربیت دی جاتی ہے۔ تربیت کی تکمیل پرامتحان نہیں لیا جاتا۔ داخلے کے لیے پڑھا لکھا ہونا ضروری ہے۔
-1 بچوں کی نگہداشت ، اوّل -2 گھریلو باغبانی -3 مویشیوں کی افزائش، خواتین کی تعلیم -4 کاشتکاروں کے لیے زرعی قرضے ، -5 دیہاتوں میں بجلی -6بچوں کی نگہداشت ، دوم -7 حفظانِ صحت

علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی ان لوگوں کو آگے بڑھنے کا سنہری موقع فراہم کرتی ہے جو صرف تعلیم کی کمی کی وجہ سے زندگی میں پیچھے رہ گئے ہیں ۔ زندگی کے راستے بہت طویل، بہت دشوار اور پیچیدہ ہیں۔ ان راستوں پر کامیابی سے آگے بڑھنے، ترقی کرنے اورکامیاب و سرفرازہونے کے لیے تعلیم بنیادی ضرورت ہے۔ وقت کو ضائع اور مواقع کو نظر انداز کرنے والے خود ہی نقصان نہیں اٹھاتے، ان کی وجہ سے دوسروں کوبھی مسائل و مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ جو لوگ وقت پر تعلیم حاصل نہیں کرسکے وہ اب اس کمی کو دور کرسکتے ہیں بے جھجک آج ہی اس پتے پرخط لکھ کر اپنی ضرورت کے مطابق مناسب کورس میں داخلہ لے سکتے ہیں ۔
شعبہ داخلہ ، علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی ،
سیکٹر ایچ ۔ ۸ اسلام آباد
علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی کے کورسز اور ان کے تعلیمی اخراجات
کورسز مطلوبہ اہلیت دورانیہ کل اخراجات
میٹرک مڈل 4 سمسٹر 1435
ایف اے میٹرک 4 سمسٹر 1920
بی اے انٹر 4 سمسٹر 2360
اللسان العربی عربی کورس 1 سمسٹر 200
دفتری اردو مڈل 1 سمسٹر 190
پی ٹی سی میٹرک 2 سمسٹر 1370
سی ٹی انٹر 2 سمسٹر 1925
بی ایڈ بی اے 3 سمسٹر 2900
ایم بی اے بی اے ، بی کام ، بی ایس سی 6 سمسٹر 15360
ہاسپٹل ڈائی ٹیکس ایم بی بی ایس ، ایم ایس سی، نرسنگ 2 سمسٹر 1350
ٹوفل (Toeffel) بی اے ، بی کام ، بی ایس سی 5 سمسٹر 5400
ایجوکیشن پلاننگ مینجمنٹ بی اے ، بی ایڈ 6 سمسٹر6500
ایم فل، اقبالیات ایم اے 6 سمسٹر 16200
ایم فل ، اسلامیات ایم اے 6 سمسٹر 16200
ایم فل ، اردو ایم اے 6 سمسٹر 16200
ایم فل ، علم التعلیم ایم اے 6 سمسٹر 16200
ایم ایڈ ( خصوصی تعلیم) بی ایڈ 6 سمسٹر5610
ایم ایس سی (معاشیات) بی اے، بی کام ، بی ایس سی 6 سمسٹر 8630
ایم ایس سی ( مطالعہ پاکستان) بی اے ،بی کام ، بی ایس سی 6 سمسٹر 6120
بی بی اے انٹر 4 سمسٹر 2720
بی کام انٹر 4 سمسٹر 2720
نوٹ : اوپر دیے ہوئے مجموعی اخراجات میں داخلہ ، تدریسی کتب ، نصابی مواد تدریس و تعلیم اور امتحانات کے اخراجات شامل ہیں۔ بعض کورسز کی ورک شاپ فیس بھی شامل ہے۔ یہ اخراجات جون 1996 ء تک نافذ رہے ہیں۔ ان میں پیشگی اطلاع کے بغیر تبدیلی ہوسکتی ہے ۔
پاکبانوں کے لیے علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی کی خدمات
علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی نے اپریل 1984 ء سے سمندرپار مقیم پاکستانی طلبہ کے لیے اپنی خدمات پیش کردی ہیں اور اب تک سعودی عرب، کویت، ابوظہبی، دوبئی، شارجہ، عمان،بحرین، قطر، فرانس ، عراق اور مصر میں مقیم پاکستانی علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی کی خدمات سے فائدہ اٹھا چکے ہیں یا اٹھا رہے ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک میں موجود پاکستانیوں کے لیے تعلیمی سہولتوں کے آغاز کا منصوبہ زیرِ غور ہے۔

داخلہ لینے کا طریقہ

 آپ کسی بھی ملک میں رہتے ہوں، کتنی ہی عمر ہو، مرد ہوں یا عورت، کوئی بھی کام کرتے ہوں۔۔۔ ایک سادہ کاغذ پر خط لکھ کر یونی ورسٹی میں داخلے کا فارم ، معلوماتی کتابچہ (پراسپیکٹس) اور تعلیمی پروگرام گھر بیٹھے مفٹ حاصل کرسکتے ہیں ۔
داخلہ فارم پر کرکے، اس کے ساتھ میٹرک یا انٹر کی سند کی مصدقہ نقل اور متعلقہ رقوم کا ’’بینک ڈرافت‘‘ یونی ورسٹی کے شعبہ داخلہ کو بھیجا جاتا ہے۔ یہ فارم اور فیس موصول ہونے پر طالب علم کو متعلقہ کورس میں داخلہ دے دیا جاتا ہے اوراسے تحریری طور پر اس بات کی اطلاع دے دی جاتی ہے ۔ اس کے ساتھ ہی طالب علم کو درسی کتب، گھر سے پر کرکے ارسال کی جانے والی مشقیں اور طالب علم کی رہنمائی کا کتابچہ، دیگر ضروری مواد پر مشتمل بستہ ارسال کردیاجاتا ہے ۔
طالب علم ہر امتحانی مشق مکمل کرکے اسلام آباد بھجوادیتا ہے۔ اور اسلام آباد میں اس مشق کی جانچ اور نشانات (نمبر) لگانے کے بعدیہ مشقی کاپی واپس طالب علم کو بھیج دی جاتی ہے تاکہ وہ اپنی کارکردگی کا اندازہ کرسکے ۔مشقی جانچ کے نمبرآخری امتحان میں شمار کیے جاتے ہیں ۔
اس دوران خط و کتابت کے ذریعے اتالیق، طالب علم کی مشکلات اور الجھنوں کے حل فراہم کرتے رہتے ہیں۔ آخر میں یونی ورسٹی کے کنٹرولر امتحانات، فائنل امتحانات کے لیے رول نمبر اور کسی مقامی پاکستانی اسکول کا پتا ارسال کرتے ہیں، جہاں طالب علم کو مقررہ تاریخ پر جاکر تحریری امتحان دینا ہوتا ہے۔ امتحان کے نتیجے میں طالب علم کو بہ ذریعہ ڈاک مطلع کردیا جاتا ہے ۔
مطلوبہ مضامین میں کامیابی پر طالب علم کو سند جاری کردی جاتی ہے اور اگر کسی ملک میں بیس یا بیس سے زائد طلبہ موجود ہوں تو وہاں ’’مطالعاتی مرکز ،قائم کردیا جاتا ہے۔ جہاں مقررہ اوقات میں جزوقتی اتالیق موجود ہوتے ہیں اور طلبہ کی رہنمائی کرتے ہیں۔ اس طرح امتحانی مشقوں کی ترسیل اورجانچ پڑتال میں تاخیر نہیں ہوتی۔ بعض طلبہ کی ممکنہ مجبوریوں کے پیشِ نظر مطالعاتی مراکز میں حاضری لازمی نہیں، لیکن یہ حاضری مفید بہت ہے۔ یونی ورسٹی کے مقررہ اتالیق سے بہ ذریعہ خط و کتابت رہنمائی حاصل کرنے کی سہولت ہر طالب علم کے لیے موجود ہوتی ہے۔
علامہ اقبال یونی ورسٹی کے تمام کورس اردو میں ہیں جو کورس اردو میں نہیں ہوتے ان کے بارے میں اطلاع دے دی جاتی ہے۔جو طلبہ انگریزی میں تدریسی موادحاصل کرنا چاہتے ہیں انھیں داخلہ فارم پر اس بارے میں ضروری اندراج کرناہوتا ہے۔ اکاؤنٹس ، آڈیٹنگ ، بزنس، میتھے میٹکس ، اسٹے ٹکس کے کورس صرف انگریزی میں ہوتے ہیں ۔

امدادی مواد : تدریسی اسباق کو قابلِ فہم اور مکمل بنانے کے ساتھ ساتھ یونی ورسٹی نے کورس سے مطابقت رکھتے ہوئے ایسے کیسٹ بھی تیار کیے ہیں جنھیں آڈیو کیسٹ پلیئر پر یاویڈیو کیسٹ پلیئر پر سنا/ دیکھا جاسکتا ہے ۔
سمندر پار پاکستانیوں کے لیے علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی کے کورسز
مشرق وسطیٰکے ممالک اور ریاستوں میں مقیم پاکبان علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی کے مندرجہ ذیل کورسوں میں سے کسی ایک میں داخلہ لے سکتےہیں

-1ابتدائی عربی کورس : یہ ایک شمشاہی ( سمسٹر) کا سرٹیفکیٹ کورس ہے، جس میں سال میں دوبار، بہار اور خزاں میں داخلے ہوتے ہیں۔ اس میں داخلے کے لیے اردو پڑھنے اور لکھنے کی صلاحیت اور عربی زبان سیکھنے کا شوق کافی ہے۔ مراسلاتی اسباق کے علاوہ سمعی(آڈیو) کیسٹ بھی فراہم کیے جاتے ہیں ۔

-2 اعلیٰ ثانوی (انٹرمیڈیٹ کورس) : اعلیٰ ثانوی نصاب میں داخلے کے لیے ضروری ہے کہ آپ نے ثانوی درجے (میٹرک) کا امتحان کامیاب کیا ہوا ہو۔ یہ چار ششماہی یا دو سال کا نصاب ہے۔ طالب علم کو مجموعی طور پرآٹھ مکمل کورسز یا اس کے مساوی کورسزکی تکمیل کرنی ہوتی ہے۔ ہر ششماہی (سمسٹر) میں دو مکمل کورس پڑھنے ہوتے ہیں اور ان کا امتحان کامیاب کرنا ہوتا ہے ۔
پاکبانوں کے لیے اعلیٰ ثانوی نصاب کی دو اقسام پیش کی جاتی ہیں۔ پہلی قسم اعلیٰ ثانوی عمومی گروپ ہے جس میں تین مضامین لازمی اور پانچ اختیاری ہوتے ہیں۔ عمومی گروپ میں انگریزی کا مضمون بہ طور لازمی مضمون شامل ہے۔ اعلیٰ ثانوی نصاب کی دوسری قسم اوپن گروپ کہلاتی ہے اس میں ایک مضمون ( اسلامیات) کا لازمی اور سات مضامین اختیاری ہوتے ہیں۔ اس گروپ میں انگریزی کا مضمون شامل نہیں ہوتا۔
-3 بی اے /بی کام گروپ:پاکبان حضرات بی اے کے چھ مختلف گروپوں میں سے کسی ایک میں داخلہ لے سکتے ہیں۔ بی کام، بی اے گروپ کا حصہ ہے لیکن بی کام گروپ میں امتحان کامیاب کرنے والوں کو بی کام کی سند دی جاتی ہے ۔ بی اے /بی کام میں داخلے کے لیے ضروری ہے کہ امیدوار نے اعلیٰ ثانویدرجے کا امتحان کامیاب کیا ہوا ہے ۔

بی اے کی سند حاصل کرنے کے لیے طالب علم کو آٹھ مکمل کورس یا اس کے مساوی کورسز کی کامیاب تکمیل کرنا ہوتی ہے۔ بی اے کے چار مخصوص گروپوں میں چھ مکمل کورس لازمی اور دو اختیاری ہیں جب کہ بی اے عمومی گروپ میں دو مضامین لازمی اور چھ اختیاری اور بی اے اوپن گروپ میں ایک مضمونلازمی اور سات اختیاری ہوتے ہیں ۔

بی کام /بی اے کے مختلف گروپ یہ ہیں

-1 بی کام ، -2 بی اے انٹرنیشنل مارکیٹنگ گروپ -3 بی اے پاپولیشن اسٹیڈیز گروپ -4 بی اے زبان و ادب گروپ -5 بی اے عمومی گروپ -6 بی اے اوپن گروپ ۔ بی اے اوپن گروپ میں انگریزی کا مضمون شامل نہیں ہوتا جب کہ دیگر تمام گروپس میں انگریزی بہ طور لازمی مضمون شامل ہوتا ہے ۔

مشرقی وسطیٰ کے ممالک اور خلیجی ریاستوں میں مقیم ایسے ہم وطن جو معاشی حالات کی وجہ سے دسویں یا بارہویں جماعت کے بعد تعلیم جاری نہیں رکھ سکے اور روزگار کے سلسلے میں بیرونِ ملک چلے گئے، وہ علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی کے ذریعے مزید تعلیم جاری رکھ سکتے ہیں اور بیرونِ ملک قیام کے وقت کا بہترین استعمال کرسکتے ہیں۔ اس طرح جب وہ اپنی مدتِ ملازمت ختم ہونے پر وطن واپس آئیں گے تو ان کی تعلیمی قابلیت پہلے سے زیادہ ہوگی او ر تعلیم کی وجہ سے ان کی شخصیت میں مزیدنکھار پیدا ہوگا، ان کا ذہن پہلے سے زیادہ وسیع ہوگا اور وہ دنیا اور اس کے معاملات کو، زندگی کو، لوگوں کو اور حالا ت و واقعات کو پہلے سے بہتر طور پر سمجھنے اور تجزیہ کرنے کے اہل ہوں گے

یہ بھی دیکھیں

خواتین کے لیے بہتر زندگی کا موقع!

15 ہفتے کی تربیت آپ کی زندگی بدل سکتی ہے! 18 سے 45 سال کی …