صفحہ اول » متفرق » گھریلو معاشیات کیا ہے؟

گھریلو معاشیات کیا ہے؟

ہمارے معاشرے میں لڑکیوں کو عام طور پر بچپن ہی سے گھر کے مختلف کام سکھا دیے جاتے ہیں۔ سینا پرونا، سلائی کڑھائی، صفائی ستھرائی، کھانا پکانا، ماں باپ اور بہن بھائیوں کی ضروریات کا خیال رکھنا اور اسی طرح کے دوسرے کام لڑکی کی ذمہ داریوں میں شامل ہوتے ہیں۔ گھر اوراپنی ذات کو سجانا اورسنوارنا دنیا کی تقریباً تمام خواتین کا بنیادی اور پیدائشی شوق ہوتا ہے۔ یہی شوق جب تعلیم کی شکل میں پورا ہو تو خواتین کی دلچسپی اس میں مزید بڑھ جاتی ہے۔ گھریلو معاشیات جیسا کہ نام سے ظاہر ہے گھر اور اہل خانہ کے درمیان تعلقات کی معاشیات کا علم ہے۔ گھریلو معاشیات کی تعلیم فرد کا طرز زندگی پر آسائش، آرام دہ او رپرسکون بنانا اس کا نصب العین ہے۔ گھریلو معاشیات جدید سائنس کے تمام تر ذرائع کو بروئے کار لاتے ہوئے انفرادی، معاشرتی، ملکی اور عالمی سطح پر آسائشیں مہیا کرنے کا نام ہے۔
گھریلو معاشیات کا علم لڑکیوں میں غذا، لباس، رہائش او رتعلیم کے بارے میں عمدہ سوچ کی استعداد پیدا کرتا ہے، اور لڑکیوں کے لیے نہ صرف شان دار پیشے اور ملازمتیں بلکہ کامیاب عائلی زندگی بھی فراہم کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گھریلو معاشیات کے علم کو جدید سائنسی مضامین میں سے ایک کہا گیا ہے۔

کچھ عرصہ قبل تک ہماری معاشرتی روایات میں خواتین کا ملازمت کرنا ناپسندیدہ اور معیوب سمجھا جاتا تھا لیکن اب آہستہ آہستہ لوگوں کی سوچ اور فکر کا انداز مثبت ہوتا جارہا ہے اور خواتین بھی زندگی کے مختلف شعبوں میں ملازمتیں کرنے لگی ہیں۔ اس ضمن میں گھریلو معاشیات ان کے لیے پسندیدہ اور معیاری ملازمتیں پیش کرتی ہے۔

تعلیم و تربیت 

پاکستان میں گھریلو معاشیات کا مضمون چھٹی جماعت سے ایک لازمی مضمون کے طور پرطالبات کو پڑھایا جاتا ہے۔ لیکن اس کی مزید تعلیم کے لیے طالبات نویں جماعت میں گھریلو معاشیات گروپ لے سکتی ہیں۔ ہمارے ملک میں گھریلو معاشیات کی تعلیم ایف ایس سی (انٹرمیڈیٹ) بی ایس سی، ایم ایس سی اور پی ایچ ڈی کی سطح تک دی جاتی ہے۔ جب کہ انٹرمیڈیٹ (ہیومینیٹیز) اور بی اے کے نصابوں میں گھریلو معاشیات بہ طور اختیاری مضمون پڑھایا جاتا ہے۔

گھریلو معاشیات گروپ کی نویں اور دسویں جماعت کی طالبہ کو دو لازمی مضامین پڑھائے جاتے ہیں۔ میٹرک کے بعد کالج برائے گھریلو معاشیات میں طالبہ داخلہ لے سکتی ہیں لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ میٹرک میں اور خاص طور پر ان دو لازمی مضامین میں امتیازی نمبروں سے کامیابی حاصل کریں۔ پاکستان میں گھریلو معاشیات کی تعلیم کے لیے کل سات ادارے ہیں اور طالبات کی ایک بڑی تعداد ان میں داخلے کی خواہش مند ہوتی ہے۔ لہٰذا میٹرک میں امتیازی نمبر لانا ضروری ہے۔

تعلیم و تربیت کے ادارے

قیامِ پاکستان کے بعد لڑکیوں کی تعلیم پر بھی خصوصی توجہ دی گئی تاکہ ان تمام امور کو وہ قدرے بہتر اندازمیں سر انجام دے سکیں جن سے گھر میں انھیں سابقہ پڑتا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے گھریلو معاشیات کا لازمی مضمون چھٹی جماعت سے کورس میں شامل کیا گیا۔ جب کہ نویں جماعت سے سائنس اور ہیومینیٹیز گروپ کے ساتھ گھریلو معاشیات کا گروپ بھی رکھا گیا۔آٹھ سال بعد یعنی 1955ء میں کراچی اور لاہور میں طالبات کے لیے گھریلو معاشیات کے دو کالج قائم کیے گئے۔ اس وقت ملک میں گھریلو معاشیات کی اعلیٰ تعلیم کے لیے سات ادارے کام کررہے ہیں۔
-1 رعنا لیاقت علی خان گورنمنٹ کالج برائے گھریلو معاشیات، کراچی
-2 کالج برائے گھریلو معاشیات ،لاہور
-3 کالج برائے گھریلو معاشیات ،پشاور
-4 ڈاکٹر آئی ایچ زبیری کالج برائے گھریلو معاشیات، حیدر آباد
-5 کالج برائے گھریلو معاشیات ،خیر پور
-6 کلیہ برائے گھریلو معاشیات فیڈرل گورنمنٹ کالج، اسلام آباد
-7 شعبہ گھریلو معاشیات ،جامعہ آزاد کشمیر

داخلے کی اہلیت

کالج برائے گھریلو معاشیات میں داخلے کے لیے لازمی ہے کہ طالبات نے میٹرک یا سینیئر کیمبرج کا امتحان امتیازی نمبروں سے کامیاب کیا ہو۔ یہاں داخلے کے لیے ترجیح ان طالبات کو دی جاتی ہے جن کے پاس میٹرک میں گھریلو معاشیات کے دو مضامین ہوں۔ دوسرے نمبر پر ان طالبات کو داخلہ دیا جاتا ہے جن کے پاس سائنس کے مضامین ہوں، کیوں کہ گھریلو معاشیات میں سائنس کے مضامین بھی پڑھائے جاتے ہیں۔ تیسرے نمبر پر ان طالبات کو داخلہ دیا جاتا ہے جو ہیومینیٹیز گروپ سے تعلق رکھتی ہوں۔ یہاں یہ وضاحت لازمی ہے کہ اگر سائنس یا ہیومینیٹیز گروپ کی طالبات اوّل ، دوم یا سوم پوزیشن سے کامیاب ہوں تو داخلے کے لیے انھیں ترجیح دی جاتی ہے۔ تمام داخلے قابلیت کی بنیاد وں پر ہوتے ہیں۔ لاہور کالج میں پورے پنجاب سے داخلے لیے جاتے ہیں۔ یہ داخلے ضلعے کے لحاظ سے کوٹہ سسٹم کے تحت ہوتے ہیں لیکن قابلیت کی بنیاد پر بھی داخلے دیے جاتے ہیں۔ گھریلو معاشیات کے تمام اداروں میں غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لینے والی طالبات کے لیے بھی نشستیں مختص کی جاتی ہیں۔ اس طرح مجموعی طور پر پورے پاکستان میں ایف ایس سی سال اوّل میں تقریباً نو سو طالبات کو داخلہ دیا جاتا ہے۔

نصابِ تعلیم 

گھریلو معاشیات میں تمام مضامین خواتین کی دلچسپی سے متعلق ہوتے ہیں۔ تاہم سندھ، سرحد اورپنجاب کے اداروں کے نصاب میں معمولی فرق ہے، سندھ میں کراچی، حیدر آباد اور خیر پور کے کالج برائے گھریلو معاشیات کا نصاب یکساں ہے۔ یہاں ایف ایس سی سال اوّل اور دوم میں مندرجہ ذیل مضامین پڑھائے جاتے ہیں۔

اردو، انگریزی، غذا اور غذائیت، پارچہ بافی اور لباس، اطلاقی فنون، طبیعیات، کیمیا، انتظام طعام وتحفظ غذا، گھریلو ملبوسات کے مسائل، گھریلو انتظام،بچوں کی نشوونما، خاندانی تعلقات، معارفِ اسلامیہ، مطالعہء پاکستان۔

بی ایس سی میں پڑھائے جانے والے مضامین کی تفصیل یہ ہے:
انگریزی، اسلامک آئیڈیا لوجی یا تحریکِ پاکستان، متعلقہ فنون، غذائیت ، نامیاتی و حیاتی کیمیا، سوشل سائنسز ، بچپن و بلوغت ، گھریلو معاشیات، لباس اور پارچہ بافی( اعلیٰ) گھریلو انتظام (رہائش اور مکان) خاندانی و طبقاتی ترقی، فنون اور تاریخ سماجیات پڑھائے جاتے ہیں۔
ان مضامین کے علاوہ طالبات کو مندرجہ ذیل مضامین میں سے دو کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔
فنون و دست کاری، تجرباتی غذائیں، بچوں کی دیکھ بھال، مدرسہء اطفال کا انتظام، زبان و ادب، تعلیم برائے گھریلو معاشیات، انتظامِ ادارہ، پارچہ بافی اور

ملبوسات میں تخلیقی اثرات۔ 

پنجاب، سرحد اور آزاد کشمیر کا نصاب تقریباً یکساں ہے۔ یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ لاہور اور پشاور کے کالجوں میں ایف ایس سی کا سرٹیفکیٹ نہیں دیا جاتا بلکہ میٹرک کے بعد بی ایس سی کا چار سالہ کورس کرایا جاتا ہے۔ لاہور کالج کے بی ایس سی سال اوّل اور دوم میں پڑھائے جانے والے مضامین میں غذا اور غذائیت ، کیمیا، لباس اور پارچہ بافی، گھریلو انتظام، انگریزی، اردو، اسلامک اسٹیڈیز، انتظام طعام اور تحفظِ غذا، حیاتیات وعلمِ جراثیم، متعلقہ فنون، بچے کی نشوونما، گھریلو لباس اور گھریلو پاچہ بافی، انگریزی ،مطالعہء پاکستان، اور اردو شامل ہیں۔ سال سوم میں انگریزی، گھریلو معاشیات اور گھریلو انتظام، گھریلو طبیعیات، معارفِ اسلامیہ، عمومی نفسیات، لباس(اعلیٰ) اور حیاتی کیمیا، لازمی مضامین ہیں اور متعلقہ فنون، تجرباتی غذا، بچوں کی دیکھ بھال اور نرسری اسکول کے مسائل میں سے کسی ایک مضمون کو منتخب کرسکتے ہیں۔ سال آخر میں انگریزی، گھر اور گھر کی رہائش، خاندان و برادری، غذا اور غذائیت(اعلیٰ) متعلقہ فنون(اعلیٰ) غذائیت میں سے ایک مضمون منتخب کیا جاسکتا ہے۔ جب کہ انتظامِ ادارہ یا تعلیم برائے گھریلو معاشیات میں سے ایک مضمون کا انتخاب کرسکتے ہیں۔ یہ نصاب لاہور کالج برائے گھریلو معاشیات اور کلیہ برائے گھریلو معاشیات کالج اسلام آباد کے لیے ہے۔ لاہور کالج کے بی ایس سی سال اوّل ، دوم ،سوم او ر چہارم کا نصاب اسلام آباد کالج میں ایف ایس سی سال اوّل دوم اور بی ایس سی سال اوّل دوم کے نصاب میں پڑھایا جاتا ہے۔

لاہور اور پشاور کے کالجوں میں جن مضامین میں ایم ایس سی کرایا جاتا ہے ان میں غذا اور غذائیت، لباس اورپارچہ بافی،نشوونما ئے اطفال اور خاندانی تعلقات، متعلقہ فنون، اورانتظامِ خانہ قابلِ ذکر ہیں۔ ایم ایس سی سال اوّل میں انٹرمیڈیٹ کی طالبات کو تعلیم دینی ہوتی ہے۔ مضمون سے متعلق کسی عام دلچسپی کے موضوع پر مقالہ تحریر کرنا ہوتا ہے۔ لیکن اگر کوئی طالبہ مقالہ تحریر نہ کرنا چاہے تو اسے اپنے مضمون سے متعلق اضافی پرچہ دیناہوتا ہے۔

فیس اوردیگر اخراجات 

گھریلو معاشیات ایف ایس سی سال اوّل میں داخلے کے لیے طالبات کو اندازاً دو سو روپے کے سالانہ تعلیمی اخراجات برداشت کرنے ہوتے ہیں۔ یہ رقم صرف کالج کے تدریسی اور غیر نصابی اخراجات کے لیے ہے۔ گھریلو معاشیات میں طالبات کوچوں کہ زیادہ تر تجرباتی کام کرنے ہوتے ہیں لہٰذا تجربوں کے لیے سامان کی خریداری پراچھی خاصی رقم خرچ کرنی ہوتی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ایف ایس سی سال اّول میں تقریباً ساڑھے تین ہزار، سال دوم میں تقریباً دو ہزار بی ایس سی سال اوّل میں تقریباً تین ہزار،سال دوم میں تقریباً ساڑھے تین ہزار روپے ایک طالبہ کو خرچ کرنے پڑتے ہیں۔

پیشے اور ملازمتیں 

گھریلو معاشیات کی تعلیم حاصل کرنے والی خواتین کے لیے باعزت معزز اورمحترم پیشے اور ملازمتوں کے لا محدود مواقع ہیں۔ گھریلو معاشیات کے مختلف مضامین میں گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن کرنے والی خواتین کے لیے نہایت موزوں ملازمتیں ہیں جن میں اہم یہ ہیں:
ڈائی ٹیشن، فوڈسائنٹسٹ وٹیکنالوجسٹ، ٹیکسٹائل ڈیزائنر و ٹیکنالوجسٹ، کیٹرنگ منیجر، انٹیریئر ڈیزائنر، ٹیچر،نرسری اسکول کی منتظمہ، کمیونٹی ورکر،ڈریس ڈیزائنر، فنون اور اس سے متعلقہ شعبے وغیرہ ۔

ذاتی صلاحیتیں 

گھریلو معاشیات کا شعبہ ان لڑکیوں کے لیے نہایت سود مند ہے جن میں تخلیقی صلاحیتیں بہ درجہ اتم موجود ہوں۔ نفاست پسند،باریک بین اور دوراندیش، خاندان اور معاشرے میں مل جل کر رہنے کی صلاحیت ہو ،پرکشش شخصیت کی مالک ہوں۔ اپنے حلقہء احباب میں پسند کی جاتی ہوں ، ذمہ داری اورفرض شناسی کا احساس ہو، خانہ داری میں خصوصی رجحان اور دلچسپی خاص اہمیت کی حامل صلاحیتیں ہیں ،ہر کام منظم اور احسن طریقے سے کرسکتی ہوں، تدریس کے شعبے میں دلچسپی رکھنے والی خواتین کے لیے ضروری ہے کہ ان میں خود اعتمادی، صبرو تحمل ہو، شفیق ہوں اور بچوں کی نفسیات سے واقف ہوں۔ جب کہ پارچہ بافی، ڈریس ڈیزائنر اور انٹیریئر ڈیزائنر میں دلچسپی رکھنے والی خواتین کے لیے لازمی ہے کہ ان کا ذہن منطقی اورتخلیقی صلاحیتوں کا حامل ہو۔ اپنے شعبے سے گہری وابستگی، عمدہ ذوق، حاضر دماغی،ذہانت بھی لازمی شرائط ہیں۔ سماجی، رفاہی اداروں کمیونٹی سینٹر میں کام کرنے کی خواہش مند خواتین کو مضبوط اعصاب کا حامل، بے خوف، غیر جانب دار، معتدل مزاج، خوش گفتار اورجراء ت مند ہونا چاہیے۔

عملی زندگی میں کام کی نوعیت

عملی زندگی میں گھریلو معاشیات کی تعلیم حاصل کرنے والی خواتین کو جن مختلف پیشوں میں کام کرنا ہوتا ہے ان میں زیادہ تر دفتر میں بیٹھ کر کیے جانے والے کام ہوتے ہیں۔
ڈائی ٹیشن اور نیو ٹریشنسٹ۔ ڈائی ٹیشن کوبالعموم اسپتالوں میں کام کرنا ہوتا ہے۔ گریجویٹس اور پوسٹ گریجویٹس کو یہ ملازمت مل جاتی ہے۔ ڈائی ٹیشن کا بنیادی کام مریضوں کے لیے ان کے مرض کو مدِنظر رکھتے ہوئے غذا کا تعین کرنا ہوتا ہے۔
نیوٹریشن : اس سے متعلق خواتین کومنسٹری آف فوڈ، پبلک ہیلتھ سینٹر ، ریسرچ سینٹرز، ہوٹلوں اور ایئر لائنز وغیرہ کی کیٹرنگ سروس میں کام کرنا ہوتا ہے۔ غذاؤں کو کافی عرصے تک محفوظ کرنے والے اداروں میں بھی یہ خواتین کام کرتی ہیں۔

شعبہء تدریس 

گھریلومعاشیات کی تعلیم حاصل کرنے والی بیش تر خواتین اسی شعبے کا رخ کرتی ہیں۔ اس شعبے کی خواتین کو اسکولوں اور کالجوں میں درس و تدریس کا کام سر انجام دینا ہوتا ہے۔ جو خواتین پرنسپل اور ہیڈمسٹریس بنتی ہیں،انھیں اپنے تدریسی ادارے کا پورا انتظام نہایت احسن طریقے سے منظم کرنا ہوتا ہے۔

ڈریس ڈیزائنر : ٹیکسٹائل ڈیزائننگ کے شعبے میں کام کرنے والی خواتین کو کپڑوں کی ملوں میں کپڑوں کے نت نئے ڈیزائن تخلیق کرناہوتے ہیں، ساتھ ہی کپڑے کی کوالٹی کا معیار برقراررکھنا بھی ان کی ذمہ داری ہوتا ہے۔

آرٹس اینڈکرافٹس اور متعلقہ شعبے : اس شعبے میں رجحان رکھنے والی خواتین کو مختلف نوعیت کے کام کرنے ہوتے ہیں انٹریئرڈیزائنر کو گھر، دفاتر، دکانیں، اسپتال، ہوٹل وغیرہ کی آرائش کرنا ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ دوسرے پیشوں میں قالین سازی ، مجسمہ سازی، مصوری، مٹی کے برتن وغیرہ بنانا، تانبے اور پیتل کے برتنوں پر نقش و نگار ، گھریلو دست کاری وغیرہ شامل ہیں۔
مینجمنٹ : اس شعبے کے تحت خواتین کو دفاتر، سرکاری نیم سرکاری اور نجی اداروں، ہوٹلوں اور اسپتالوں وغیرہ کا مکمل انتظام سنبھالنا ہوتا ہے۔

ماحول اور حالاتِ کار 

عملی زندگی میں گھریلو معاشیات کی تعلیم یافتہ خواتین کو جس ماحول اور حالات میں کام کرنا ہوتا ہے ان کا ہم سرسری جائزہ پیش کررہے ہیں:
ڈائی ٹیشن کو اسپتالوں میں ایک ڈاکٹر کی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ ان کے ماتحت عملے میں اسسٹنٹ ڈائی ٹیشن، باورچی ، اسسٹنٹ باورچی، مددگاراور اسٹورکیپر وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔ اس عملے سے احسن طریقے سے کام لینا ڈائی ٹیشن کی ذمہ داری ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اسپتال کا راؤنڈ لگا کر معائنہ کرنا ہوتا ہے کہ تمام مریضوں کو جراثیم سے پاک صاف ستھرا کھانا مل رہا ہے یا نہیں۔ مریضوں کے امراض کنٹرول کرنے میں ڈائی ٹیشن کوبہت اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ اس لیے انھیں بہت محتاط رہ کرکام کرنا ہوتا ہے۔ مریض پرہیزی اور پھیکی غذائیں پسند نہیں کرتے انھیں یہ باور کرانا کہ یہ غذا ان کے صحت مند ہونے میں اہمیت رکھتی ہے ڈائی ٹیشن ہی کا کام ہے۔

انٹیریئر ڈیزائنر کو دفاتر، گھر، ہوٹل، اسپتالوں اوردکانوں وغیرہ کی اندرونی وبیرونی آرائش کرنا ہوتی ہے۔ انٹیریئر ڈیزائنر کوسب سے پہلے یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ موء کل کا بجٹ کتنا ہے، یعنی وہ آرائش پر کتنی رقم خرچ کرسکتے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ کس جگہ کی آرائش کرنی چاہیے مثلاً اگر گھر کی آرائش کرنی ہے تو وہاں رہائش پذیر لوگوں کی تعداد کے مطابق گھرکے سامان کی تربیت و تزئین اور اس کی مناسبت سے دیواروں اور پردوں وغیرہ کا رنگ منتخب کرنا انٹیریئر ڈیزائنر کی ذمہ داری ہوتا ہے۔ بعض اوقات کلائنٹس کوآرائش پسند نہیںآتی۔ لہٰذا انٹیریئر ڈیزائنر کو چاہیے کہ کلائنٹس کے نقطہء نظر کو اچھی طرح سمجھ لیں تاکہ اختلاف کی گنجائش نہ ہو اس کے بعد آرائش کریں۔

سلے سلائے ملبوسات کے اداروں میں کام کرنے والی خواتین کوموجودہ فیشن، ملبوسات کی سلائی وغیرہ کے معیار کا خاص خیال رکھنا ہوتا ہے۔ ان اداروں میں عام طور سے ڈیزائنر کی حیثیت سے یہ خواتین کام کرتی ہیں۔ انھیں اپنا تیار کردہ ڈیزائن درزی کواچھی طرح سمجھانا ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں بہتر طریقہ یہ ہے کہ اسکیچ یا خاکے کے ذریعے ڈیزائن بنا کر درزی کو دیا جائے۔ تاکہ کسی غلطی کاامکان نہ رہے۔ اکثرایسا ہوتا ہے کہ ادارے کو ملبوسات کے بڑے آرڈر ملتے ہیں۔ لہٰذا ڈیزائنر کو کم وقت میں زیادہ ملبوسات، مختلف ڈیزائن کے تیار کرنے ہوتے ہیں۔ کام کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ ایسے میں ملبوسات کا معیار برقرار رکھنا بھی ڈیزائنر کے فرائض میں شامل ہوتا ہے۔

ہوٹلوں، ایئر لائنز اور دوسرے بڑے اداروں کی کیٹرنگ سروس میں کام کرنے والی خواتین کو چند احتیاطی تقاضوں کا خاص خیال رکھنا ہوتا ہے مثلاً صفائی، ذائقہ غذائیت پر مبنی کھانے کی تیاری، اس میں نہایت اہم ہے۔ جن افراد سے ان کا تعلق ہے(مثال کے طورپرباورچی) ان تک اپنی بات واضح انداز میںپہنچانا بھی ان کی ذمہ داری ہے۔

درس و تدریس کے شعبے میں جانے والی خواتین کو اسکولوں اور کالجوں کے طالب علموں کو تعلیم دینی ہوتی ہے۔ یہاں انھیں مختلف نوعیت کے حالات سے سابقہ پڑتا ہے۔ چھوٹے بچوں کو پڑھائی کی جانب مائل کرنا کافی مشکل مرحلہ ہے۔ اس مرحلے سے بہ خوبی نکلنا ٹیچر ہی کا کام ہے، طالب علموں کومتعلقہ مضامین کے بارے میں وضاحت سے بتانا بھی ٹیچر کے فرائض میں شامل ہے۔ اس سلسلے میں اسے اپنے مضمون پر مکمل عبور ہو۔ انتظامیہ میں کام کرنے والی خواتین کوبہت ذمہ داری سے اپنی فرائض نبھانے ہوتے ہیں۔ ایک اچھی منتظمہ خواہ بڑے ادارے کی ہوں یا چھوٹے کی، ان کا اصل کام غیر جانب دار انداز میں اپنے ماتحت عملے سے منظم اندازمیں کام لینا ہوتا ہے۔
بہرحال خواتین جن پیشوں میں جاتی ہیں انھیں مختلف نوعیت کے حالاتِ کار سے واسطہ پڑتا ہے، انھیں ہر قسم کے حالات و واقعات سے نبٹنے کے لیے ہر وقت تیار رہناچاہیے۔ ملازمت کے لیے نکلنے والی خواتین کو اپنے اندر خود اعتمادی پیدا کرنی چاہیے۔ یہ صلاحیت ہر پیشے میں ان کے کام آتی ہے۔

تنخواہیں اور مشاہرے 

چوں کہ گھریلو معاشیات کی تعلیم حاصل کرنے والی خواتین کو مختلف اداروں میں مختلف نوعیت کے پیشوں میں کام کرنا ہوتا ہے، لہٰذا ان کی تنخواہیں بھی مختلف ہوتی ہیں۔اچھی پوزیشن میں گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن کرنے والی خواتین کو اچھے مشاہرے کی تنخواہیں مل سکتی ہیں۔ لیکن نئے گریجویٹس کوسرکاری ملازمت میں گریڈ 16 اورنجی اداروں میں اندازاً دو ہزار اور اس سے زیادہ ماہانہ تنخواہ مل سکتی ہے۔ جب کہ نئے پوسٹ گریجویٹس کی سرکاری اداروں میں گریڈ 17 اور نجی اداروں میں اندازاً تین ہزار اور اس سے زائد ماہانہ تنخواہ مل سکتی ہے۔ تاہم ابتدائی تنخواہ کا تعین صلاحیت اور تجربے کی بنیاد پر ہوتا ہے۔

مواقع

پاکستان کے سات گھریلو معاشیات کے اداروں سے تقریباً 600 گریجویٹس اورتقریباً 100 پوسٹ گریجویٹس طالبات ہر سال فارغ التحصیل ہوتی ہیں۔ جو خواتین ملازمت کرنا چاہتی ہیں، ان کے لیے بے شمار مواقع ہوتے ہیں۔ اپنے متعلقہ شعبہ جات میں سے جس شعبے میں بھی جائیں انھیں فوراً ملازمت مل سکتی ہے جب کہ منتظمہ کی حیثیت سے انھیں تقریباً تمام نجی اور سرکاری اداروں میں ملازمت کے مواقع مل سکتے ہیں۔

ذاتی کاروبار کے موقع

گھریلو معاشیات کے پیشے سے متعلق خواتین کے لیے ذاتی کاروبار کے مواقع بھی ہیں۔ نرسری اسکول، اسکول، بوتیک، گھریلو دست کاری، کونسلنگ اینڈ گائیڈنس وغیرہ نجی طور پر شروع کرسکتی ہیں۔ مناسب سرمائے اور عملے سے وہ کاروبار کرسکتی ہیں۔ لیکن ان شعبوں کو شروع کرنے سے پہلے ان سے متعلق مکمل امکانی خاکہ بنالیں تاکہ کسی قسم کی غلطی اورنقصان کا اندیشہ نہ رہے۔

مزید معلومات

مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے ان تعلیمی اداروں سے رابطہ کیا جاسکتا ہے جن کا تذکرہ اس مضمون میں کیا گیا ہے۔ o

یہ بھی دیکھیں

خواتین کے لیے بہتر زندگی کا موقع!

15 ہفتے کی تربیت آپ کی زندگی بدل سکتی ہے! 18 سے 45 سال کی …