صفحہ اول » بلاگ » خوراک کے علاوہ انسان کی ایک اوربنیادی ضرورت

خوراک کے علاوہ انسان کی ایک اوربنیادی ضرورت

برصغیر میں صحافت کی تعلیم و تربیت کے سلسلے میں جامعات کے کردار کی ادائیگی کی ضرورت کو اب سے تقریباً آدھی صدی پہلے ہی تسلیم کرلیا گیا تھا۔ قیامِ پاکستان سے قبل 1941ءمیں جامعہ پنجاب میں شعبہ صحافت قائم ہوا۔ آزادی کے بعد ہمارے یہاں جب صحافت نے باقاعدہ ایک صنعت کی شکل میں ڈھلنا شروع کیا تو نئے کارکنوں کی پیشہ ورانہ تربیت کی ضرورت کو بھی نسبتاً زیادہ اہمیت کے ساتھ محسوس کیا گیا۔ 1955ءمیں کراچی اور حیدر آباد کی جامعات میں تدریسی شعبے قائم ہوئے ۔اس زمانےمیںپنجاب، کراچی اور سندھ کی تینوں جامعات میں ایم اے نہیں بلکہ محض ڈپلوما کورسز کی کلاسیں ہوتی تھیں۔ 1959ءمیں پاکستان پریس کمیشن نے اور 1960ءمیں قومی تعلیمی کمیشن نے مختلف جامعات میں صحافت کے تدریسی شعبے قائم کرنے اور پہلے سے موجود شعبوں کو ترقی دینے کی سفارشات کیں۔ جامعہ سندھ میں صحافت کی تدریس کا تجربہ۔ 1958ءمیں ہی ناکام ہوچکا تھا اور شعبہ بند کردیا گیا تھا تاہم ان کمیشنوں کی سفارشات کی روشنی میں پنجاب اور کراچی کی جامعات میں بالترتیب 1960ءاور 1964ءسے ایم اے کی کلاسوں کا اجرا ہوا۔ سقوط ِمشرقی پاکستان کے بعد جامعہ سندھ میں صحافت کا شعبہ از سرِ نو قائم ہوا۔ پھر صوبہ سرحد کی جامعہ گومل اور جامعہ پشاور میں شعبے قائم ہوئے۔ پچھلے دو تین برسوں میں جامعہ بلوچستان اورجامعہ اسلامیہ بہاول پور میں بھی صحافت کے شعبے قائم ہوچکے ہیں ۔

جامعات کے علاوہ پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن نے اپنی مخصوص ضرورتوں کے لیے 1984ءمیں اسلام آباد میں اپنا الگ تربیتی ادارہ ”پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن اکیڈیمی“ بھی قائم کیا ہے جس میں اداکاری، مسودہ نگاری، پیش کش کاری، کیمرہ کاری اور صورت آرائی کی فنی تربیت دی جاتی ہے یہ وہ شعبے ہیں جن کی تربیت کے لیے جامعاتی سطح کے تدریسی پروگراموںمیں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ریڈیو پاکستان نے بھی ایسی ہی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے اپنا ایک الگ تربیتی ادارہ قائم کیا ہے۔ 1987ءمیں آل پاکستان نیوز پیپر سوسائٹی اور کونسل آف پاکستان نیوز پیپرزایڈیٹرز نے تحقیقی اور تخصیصی نوعیت کے تربیتی مقاصد کے لیے نجی شعبے میں پہلا تربیتی ادارہ پاکستان پریس انسٹی ٹیوٹ قائم کیا ہے۔

تعلّقات عامہ اور اشتہار سازی

تعّلقات عامہ کا پیشہ کیا ہے ؟

تعّلقات عامہ کو فن سمجھیے، سائنس جانیے یا کاروبار تسلیم کیجیے اس کی درجہ بندی خواہ کیسے ہی کیجیے ایک بات طے ہے کہ اس میدانِ عمل کا بنیادی کام خادم و مخدوم یعنی خدمت کرنے والوں اور خدمت کرانے والوں کے درمیان باہمی مفاہمت کا پل تعمیر کرنا ہے تاکہ دونوں طبقات کے مابین خوش گوارتعلق سے کاروبارِ حیات ہمواری کے ساتھ چلتا رہے۔ خادم و مخدوم کی ان دو اصطلاحات کی ذیل میں حکومتیں، نیم سرکاری ادارے، سیاسی جماعتیں، معاشرتی فلاح کا کام کرنے والی تنظیمیں اور ادارے، درس گاہیں ، مراکز صحت، تجارتی و صنعتی ادارے اور ان کی خدمت و مصنوعات سے مستفید ہونے والے سب شامل ہیں۔ خدمات و مصنوعات مہیا کرنے والے، خدّام کے طبقے میں آتے ہیں اور ان خدمات و مصنوعات سے فائدہ اٹھانے والے عامتہ النّاس، مخدوم کے طبقے میں آتے ہیں۔ تمام تنظیموں، اداروںاور محکموں کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ عوام سے ان کے تعّلقات خوش گوار رہیں بہ الفاظِ دیگر رائے عامہ ان کے حق میں ہموار رہے۔ کیوں کہ رائے عامہ کی ہمواری کے بغیر کسی ادارے، محکمے یا تنظیم کا ہمواری سے چلنا ممکن نہیں ہوتا۔ اسی غرض سے مفاہمت کے پل کی ضرورت پیش آتی ہے اور یہ ضرورت پوری کرنا اب ایک فن، ایک پیشہ اور ایک خصوصی مہارت بن چکی ہے، اسی فن اور پیشے کا میدانِ عمل، تعلقات عامہ کا شعبہ کہلاتا ہے۔

تعلقات عامہ میں کیا کرنا ہوتا ہے؟ کرنا یہ ہوتا ہے کہ محکموں، اداروں یا تنظیموں کی طرف سے عوام کویہ بتایا جائے کہ وہ انھیں اپنی کیا خدمات، اشیا اور مصنوعات پیش کرتے ہیں۔ ان خدمات، اشیا، مصنوعات کی نوعیت، معیار اورافادیت کیا ہے وغیرہ وغیرہ ….دوسری طرف خود خدمات، اشیا اورمصنوعات پیش کرنے والے ادارے اورتنظیموں کو یہ بتانا ہوتا ہے کہ وہ جو خدمات و مصنوعات اوراشیاعوام کے سامنے پیش کررہے ہیں ان کے بارے میں صارفین کا ردِ عمل کیا ہے۔ اس طرح دو طرفہ ابلاغ سے مفاہمت کا وہ پل تعمیر ہوتا ہے جس سے اداروں کو اپنی خدمات و مصنوعات کو رائے عامہ کی پسند کے سانچوں میں ڈھالنے کا موقع ملتا ہے اور ان کی کار گزاری میں بہتری اور پیش رفت آتی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

خواتین کے لیے بہتر زندگی کا موقع!

15 ہفتے کی تربیت آپ کی زندگی بدل سکتی ہے! 18 سے 45 سال کی …