صفحہ اول » بلاگ » خوراک کے علاوہ انسان کی ایک اوربنیادی ضرورت

خوراک کے علاوہ انسان کی ایک اوربنیادی ضرورت

اداروں، تنظیموں اور محکموں….اوررائے عامہ میں مفاہمت کی اس ضرورت اور اس کی تکمیل کے لیے پیشہ ورانہ مہارت کو اب روز افزوں طور پر تسلیم کیا جانے لگا ہے اور ہرتنظیم ،ادارہ یا محکمہ اپنی اپنی بساط کے مطابق تعلقاتِ عامہ کے لیے درجنوں افراد پر مشتمل ایک وسیع شعبے سے لے کر ایک فرد تک عملہ ضرور رکھتا ہے، جسے تعلقاتِ عامہ کی ذمہ داری تفویض کی جاتی ہے ۔

تعلقاتِ عامہ کے شعبے میں کارگزار لوگوں کا بنیادی کام ابلاغ ہی ہے۔ ابلاغ کے اس عمل کے لیے تعلقاتِ عامہ کا کارکن ویسے ہی ذرائع اور وسیلے اختیار کرتا ہے جو ابلاغ کے دوسرے میدانوں میں استعمال ہوتے ہیں مثلاً مطبوعہ مواد مہیا کرنے کے لیے وہ تصویروں سے مزین خبری اعلامیے جاری کرسکتا ہے، اپنے ادارے کی طرف معلوماتی کتابچے، تعارف نامے، ہینڈبل، فولڈر، کیٹلاگ، ڈائریاں، کیلنڈر اور مطبوعہ خبرنامے یا خانگی رسائل و جرائد اور رپورتاژ وغیرہ تیار کرتا ہے۔ سمعی مواد کے طور پر ریڈیو پروگرام ، تقریروں، مذاکروں، جلسوںاور مباحثوں کا اہتمام کرتا ہے۔ بصری مواد مہیا کرنے کے لیے مظاہروں ، نمائش ، فلموں، سلائیڈوں، دستاویزی فلموں، ثقافتی تقریبوں، پریڈوں وغیرہ کے انعقاد کاانتظام کرتا ہے۔ غرض ابلاغ کا ہر حربہ استعمال میں لاتا ہے۔ تعلقاتِ عامہ اورتشہیر مترادف اصطلاحات نہیں ہے۔ تشہیر ،تعلقات عامہ کا ایک وسیلہ ہوسکتی ہے، بجائے خود اسے تعلقات عامہ کا عمل نہیں سمجھنا چاہیے ۔

پیشے میںداخلے کی اہلیت اور پیشہ ورانہ تربیت کے ادارے

چوں کہ تعّلقاتِ عامہ کے شعبے کا بنیادی کام ابلاغ ہے، اوراس شعبے کے کارکن بھی خبری مواد کی تحریر، رائے عامہ کی تشکیل اور اخبار و رسائل کے اجرا جیسے کام کرتے ہیں، اس لیے اس پیشے میں تربیت یافتہ صحافی عام خواندہ لوگوںکے مقابلے میں زیادہ کامیاب رہتے ہیں اور بالعموم اس پیشے میں ذرائع ابلاغ میں کارگزار رہنے والے لوگ ہی کام کرتے نظر آتے ہیں۔ پاکستان کی ان سب جامعات میں جہاںابلاغِ عامہ یا صحافت کا شعبہ موجود ہے وہاںابلاغِ عامہ کے نصاب کے جزو کے طور پر تعلقاتِ عامہ کی پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت کا اہتمام بھی ہوتا ہے۔ چناں چہ سرکاری محکموں میں تعلقاتِ عامہ کے افسروں اورکارکنوں کی تقرری کے لیے ابلاغِ عامہ کی ڈگری کی شرط اب عمومی طور پر اُن اسامیوں کے اشتہارات میں نظر آنے لگی ہے۔ نجی شعبے کے اداروں اور تنظیموں میں افسران تعلقاتِ عامہ کی اسامیوں پرترجیحی طور پر تجربہ کار صحافیوںہی کا تقرر عمل میں آتا ہے ۔

علمِ کتب خانہ و اطلاعات

کتاب اور کتب خانے اس دنیا کی تہذیب و ترقی کا ایک بنیادی جزو ہیں۔ دنیا کی یہ رونق و رنگینی، خلا کی پنہائیوں اور سمندر کی گہرائیوں میں انسان کا سفر، کائنات کے پوشیدہ اسرار کی جستجو اور خود انسان کی اپنی ذات و صفات سے آگہی….یہ سب کچھ اس کی بہ دولت ہے کہ جو بھی جو کچھ دریافت کرتا رہا، وہ اسے آنے والی نسل کے لیے کتابوں میں محفوظ کرتا رہا اور بعد کے لوگوں نے پچھلے لوگوں کے تجربے، مشاہدے اور علم کو سمجھ کر جستجو کے سفرکو آگے بڑھایا۔ کتاب اور کتب خانے نہ ہوتے تو ہم سقراط کے مکالمات کی دانش و بصیرت سے فیض یاب نہ ہوپاتے، نیوٹن کے قوانین یادداشتوں سے محو ہوجاتے، علم کا سلسلہ تیز رفتاری سے آگے نہ بڑھتا اور دنیا نہ جانے کتنی پس ماندہ ہوتی۔

کتابوں کی ضرورت و اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے، لوگوں نے انھیں محفوظ کرنے اور ان سے بھرپور طریقے سے استفادے کے لیے کتب خانوں کو رواج دیا۔ کتب خانے علم کی روشنی بنے تو ان کی افادیت اور فعالیت کو زیادہ موءثر بنانے کے لیے کتب خانوں کے نظام کو باقاعدہ علم کی شکل دی گئی اور آج اس علم کی بہ دولت کتب خانے نہ صرف کتابوں کی ذخیرہ گاہ بن گئے ہیں بلکہ اطلاعات کی فراہمی کے ایسے مراکز کی حیثیت اختیار کر گئے ہیں جہاں تحقیق و جستجو میں مصروف لوگوں کو فوری طور پر ان کی مطلوبہ معلومات دستیاب ہوجاتی ہیں۔

سماجی و فطری علوم کی ترقی کے ساتھ کتب خانوں کے علم نے بھی ترقی کی ہے، اب کتب خانے کا مطلب صرف کتابوں کی ذخیرہ گاہ نہیں رہا، بلکہ کتب خانوں کے جدید خودکار نظام میں مختلف آلات اوراشیا استعمال ہونے لگی ہیں۔ ان آلات و اشیا میں فوٹو کاپی مشین، الیکٹرونک ٹائپ رائٹر ، بک لفٹ، سمعی و بصری آلات اور کمپیوٹر شامل ہیں۔ علاوہ ازیں کتب خانوں میں کتابوں کے ساتھ ساتھ اطلاعات ذخیرہ کرنے والی دیگر اشیا بھی دستیاب ہونے لگی ہیں۔ جس میں مائکرو فلم، مائکرو فش، مائکرو کارڈ ، آڈیووڈیو کیسٹ اور ڈسک شامل ہیں ۔اب وہ ہر چیز جس میں کوئی ”اطلاع “محفوظ ہو علم کتب خانہ و اطلاعات کی اصطلاح میں ”کتاب“ کے زمرے میں آتی ہے ۔ کتب خانے کے مقاصد میں یہ بھی شامل ہے کہ ”مطلوبہ مواد بروقت طلب کرنے والے کو فراہم کیا جائے“۔ اچھے کتب خانے کا انحصار زیادہ کتب سے نہیں بلکہ بہتر، بروقت اور زیادہ سے زیادہ خدمات پر ہوتا ہے۔ ایک ایسا کتب خانہ جہاں کتب کابہت بڑا ذخیرہ ہو لیکن وہاں پڑھنے والوں کو تسلی بخش خدمات حاصل نہ ہوں….اچھا کتب خانہ نہیں کہا جاسکتا۔ اس کے برعکس کم کتب پر مشتمل کتب خانے کو اس کی خدمات کی وجہ سے اچھا کتب خانہ تسلیم کیا جاتا ہے ۔ ،

یہ بھی دیکھیں

خواتین کے لیے بہتر زندگی کا موقع!

15 ہفتے کی تربیت آپ کی زندگی بدل سکتی ہے! 18 سے 45 سال کی …