صفحہ اول » بلاگ » زراعت کا مستقبل پاکستان میں نہایت روشن ہے۔

زراعت کا مستقبل پاکستان میں نہایت روشن ہے۔

زراعت اور اس سے متعلّق پیشے، محض روزگار کا ذریعہ نہیں ہیں بلکہ یہ ایک بھرپور طرزِ زندگی ہیں۔ کھیت کھلیانوں سے واسطہ ہوں، جانوروں کی دیکھ بھال کے فرائض پورے کرنے ہوں یا پھولوں اور پودوں سے تعلق ہو، ہر شعبہ اپنی جگہ ایک دنیا ہے جہاں وہی لوگ کامیاب ہوسکتے ہیں جو صبح نو بجے سے شام پانچ بجے تک کے اوقاتِ کار کے بجائے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں دن اور رات کے کسی بھی سمے اور کسی بھی موسم میں شوق اور د لچسپی سے انجام دینے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔
زراعت اور اس کے متعلقہ پیشوں کا مستقبل پاکستان میں نہایت روشن ہے۔ پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے۔ ملک کا مجموعی رقبہ 12کروڑ 85لاکھ 78ہزار3سو 8 ہیکٹر ہے۔ جس میں سے 7 کروڑ96 لاکھ 10ہزار ہیکٹر رقبہ زرعی اراضی اور جنگلات پر مشتمل ہے۔ جنگلات کا رقبہ28 لاکھ 90ہزار ہیکٹر ہے۔ 5 کروڑ ۴۹ لاکھ 60ہزار ہیکٹر زرعی اراضی وہ ہے جس پر اس وقت کاشت ہوسکتی ہے لیکن اس میں سے صرف 4 کروڑایک لاکھ ہیکٹر رقبے پر کاشت ہو رہی ہے۔ 3 کروڑ48 لاکھ60 ہزار ہیکٹر سے زائد زرعی اراضی ایسی ہے جسے زرعی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس جائزے سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان میں زراعت کا مستقبل امکانات سے کس حد تک بھرپور ہے۔
1980ء کی زراعت شماری کے مطابق اس وقت ملک میں 42لاکھ60ہزار سے زائد خاندان، جن کی کل افرادی قوت 2کروڑ 97لاکھ 50ہزار سے زائد تھی، 2کروڑ 6لاکھ30ہزار ہیکٹر رقبے پر کاشت کی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔ اس عرصے میں ایک کروڑ27 لاکھ 60 ہزار افراد پر مشتمل 19 لاکھ 60ہزار خاندان مویشیوں کی افزائش کا کام کر رہے تھے۔ یہ افرادی قوت ملک کی مجموعی آبادی کا 70فی صد ہے۔ براہ راست اور بالواسطہ طور پر ملک کی 80فیصد سے زائد آبادی زرعی سرگرمیوں سے روزی کمات ہے۔
قومی زندگی میں زراعت کی اس غیر معمولی اہمیت کے پیشِ نظر اس شعبے کو خاطرخواہ ترقی دینے کی کوشش کی گئی ہے اور تعلیم یافتہ زرعی ماہرین کی ضرورت پوری کرنے کے لیے ثانوی مدارس کی سطح سے یونی ورسٹی کی سطح تک پی ایچ ڈی تک کی تعلیم و تدریس کے انتظامات کیے گئے ہیں۔
ملک کے منتخب مدارس میں ثانوی سطح پر ایگروٹیکنیکل نصاب پڑھایا جاتا ہے تاکہ ثانوی درجوں میں ہی طالب علم زراعت کی بنیادی باتوں سے واقف ہوجائیں اور جو طلبہ اس شعبے میں دلچسپی رکھتے ہوں وہ اپنے مستقبل کے لیے ابھی سے ذہنی تیاری شروع کر دیں۔ یونی ورسٹی اور کالج کی سطح پر زراعت کے شعبے میں بی ایس سی (آنرز) ایم ایس سی اور پی ایچ ڈی تک کی تعلیم کی سہولتیں موجود ہیں۔ اندرونِ ملک تین زرعی جامعات، ایک کلیہ زراعت ، چار زرعی کالج اور ایک جنگلات کا انسٹی ٹیوٹ تعلیمی ضروریات پوری کر رہے ہیں۔
زراعت اور اس کے متعلقہ پیشوں کو ہم درجِ ذیل شعبوں میں تقسیم کرسکتے ہیں:
1۔زراعت: زرعی زمینوں کے مسائل،فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار بڑھانے، کاشت کے جدید طریقے اختیار کرنے ، زرعی آلات، مشینوں کے معاملات، اچھے بیجوں کی تیاری، فصلوں کو نقصان پہنچانے والے کیڑوں کے خلاف اقدامات، پودوں کی بیماریوں کا علاج، پیداوار کو بازار تک پہنچانے اور اس کی اچھی قیمت حاصل کرنے اور اس طرح کے دیگر معاملات سے متعلق امور زراعت کے شعبے میں آتے ہیں۔
2۔جانوروں کی دیکھ بھال: اس شعبے میں جانوروں کی افزائش نسل، ان کی بیماریاں، مویشیوں کی افزائش کے طریقے اور ان کی دیکھ بھال، جانوروں کی خوراک اور بیمار یا زخمی جانوروں کی جراحی کے امور شامل ہیں۔
3۔پودوں کی افزائش و آرائش: اس شعبے میں آرائشی پھولوں، پودوں، درختوں، سبزیوں، پھلوں کھمبیوں (مش رومز) اور لینڈا اسکیپنگ اور ٹشو کلچرل کے معاملاتک کی تعلیم دی جاتی ہے۔
4۔ جنگلاٹ (فارسٹری): اس میں چراگاہوں اور جنگلات کے امور مثلاً پودوں اور درختوں کی خصوصیات سے متعلق امور اور جنگلات کی دیکھ بھال اورشکار کے علاقوں کے انتظامی معاملے شامل ہیں۔ جنگلات کے علاوہ زراعت کے تین بڑے شعبوں کے متعدد ذیلی شعبے بھی ہیں جن کی تفصیل درجِ ذیل ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس شعبے میں پاکستان میں کس درجے تک تعلیم دی جاتی ہے۔

اور کم سے کم زمین سے زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے طریقوں کی تعلیم دی جاتی ہے۔خواہش مند امیدوار بی ایس سی (آنرز) سے پی ایچ ڈی تک تعلیم حاصل کرسکتے ہیں۔
2۔انٹامالوجی: اس شعبے میں پودوں اور پھلوں کو نقصان پہنچانے والے حشرات کا تعارف اور ان کے خاتمے کے لیے مختلف زرعی ادویات کے متعلق پڑھایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ شہد کی مکھیوں،لاکھ کے کیڑوں اور ریشم کے کیڑوں کی پرورش کی بھی تعلیم دی جاتی ہے۔ اس میں بی ایس سی آنرز سے پی ایچ ڈی تک تعلیم حاصل کی جاسکتی ہے۔
3۔پلانٹ پیتھالوجی: زراعت کا وہ شعبہ ہے جس میں تمام قسم کے پودوں کی بیماریوں اور ان کے تدارک کے لیے تعلیم دی جاتی ہے۔ اس میں پی ایچ ڈی تک تعلیم کی سہولت ہے۔
4۔ سوائل سائنس: یہ شعبہ کلر، شور اور سیم زدہ علاقوں کو زرخیز بنانے، مختلف فیلڈز کی مٹی کا لیبارٹریز میں تجزیہ کرنے، آب پاشی کے لیے پانی کا تجزیہ اور پودوں کی ضروریات کے مطابق نامیاتی اور غیر نامیاتی اجزا کے متعلق پی ایچ ڈی تک تعلیم دیتا ہے۔
5۔پلانٹ بریڈنگ اینڈ جینیٹکس: زراعت کا وہ شعبہ جس میں پودوں (آرائشی پودوں، نقد آور فصلوں وغیرہ) کی موروثی خصوصیات کا مطالعہ کیا جاتا ہے اور نئی نئی اقسام متعارف کروائی جاتی ہیں، کوئی زیادہ پیداوار دیتی ہے اور کوئی بیماریوں اور خشک سالی کے خلاف قوتِ مدافعت رکھتی ہے۔ اس میں بھی پی ایچ ڈی تک تعلیم دی جاتی ہے۔
6۔ایگری کلچرل اکنامکس: اس شعبے میں زراعت کے مسائل، معاشی مسائل، ان کو سمجھنے اور حل کرنے کے متعلق تعلیم دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ زرعی قرضہ جات کے حصول، فراہمی، استعمال اور زراعت کے منصوبے اورمعاشی جائزے اور پالیسی وغیرہ زرعی اقتصادی ماہر ہی بناتا ہے۔ اس میں چار شعبہ جات ہیں جن میں پی ایچ ڈی تک تعلیم دی جاتی ہے۔ ۱۔ایگری کلچرل اکنامکس ۲۔ ایگری کلچرل مارکیٹنگ ۳۔کوآپریشن اینڈ کریڈٹ ۴۔فارم مینجمنٹ۔
7۔ایگری ایکسٹینشن: اس شعبے میں زرعی میدان میں ہونے والی تحقیق کو کاشت کاروں تک پہنچانے کے متعلق تعلیم دی جاتی ہے۔ تاکہ وہ جدید علوم کو اپنا کر زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کرسکیں۔ اس شعبے میں ایم ایس سی (آنرز) تکتعلیم دی جاتی ہے۔
8۔ایگری کلچرل انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی: اس میں انجینئرنگ کی بنیادی تعلیم ،جدید ترین زرعی آلات کی دیکھ بھال اور ان کے استعمال کے متعلق پڑھانے کے ساتھ ساتھ آب پاشی کے پانی کو ضائع ہونے سے بچانے اور زیادہ سے زیادہ استعمال میں لانے کے متعلق تعلیم دی جاتی ہے۔ اس میں (i)شعبہ بنیادی انجینئرنگ (ii)شعبہ زرعی مشینری اورتعلیم دی جاتی ہے۔

9۔فائبر ٹیکنالوجی: اس شعبے میں اون، کپاس، مصنوعی ریشوں کی خصوصیات، ریشے دار پودے اور ان کی کوالٹی کے متعلق ایم ایس سی (آنرز) تک تعلیم دی جاتی ہے۔
10۔فوڈ ٹیکنالوجی: اس شعبے میں سبزیوں اور پھلوں کو محفوظ کرنے، پھلوں کی مصنوعات (شربت، اسکوائش، اچار، چٹنی، جام جیلی) ، دودھ اور دودھ کی مصنوعات، گوشت کو محفوظ کرنے اور خوراک سے متعلق دیگر امور کے بارے میں پی ایچ ڈی تک تعلیم دی جاتی ہے۔
جانوروں کی دیکھ بھال کے ذیلی شعبے
جانوروں کی دیکھ بھال سے متعلق شعبے درج ذیل ہیں۔ ان تمام شعبوں میں بی ایس سی (آنرز) سے پی ایچ ڈی تک کی تعلیم دی جاتی ہے۔
1۔اینمل بریڈنگ اینڈ جینیٹکس: اس شعبے میں جانوروں کی نسل کشی، جانوروں کی وراثت اور وراثتی بیماریوں کے متعلق تعلیم دی جاتی ہے۔ اس کی بدولت اعلیٰ نسل کے جانور پیدا کیے جاتے ہیں۔
2۔پولٹری ہسبنڈری: اس شعبے میں فارم پر رکھے جانے والے پرندوں اور مرغیوں سے کم لاگت میں زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کرنے، سائنسی بنیادوں پر ان کی دیکھ بھال اور انھیں بیماریوں سے محفوظ رکھنے اور انڈوں سے بچے نکالنے کی تعلیم دی جاتی ہے۔
3۔لائیو اسٹاک مینجمنٹ:اس شعبہ میں ہر قسم کے فارم پر رکھے جانے والے جانوروں کی دیکھ بھال اور ان سے حاصل کردہ اشیا کا صحیح طور پر انتظام شامل ہے۔
4۔اینمل نیوٹریشن: اس کا مقصد تمام جانوروں کے لیے ایسی غذا تجویز کرنا ہے جو جانوروں کے جسم کی تمام ضروریات کو پورا کرے۔ اس میں وٹامنز، معدنیات، کاربوہائیڈریٹس، فیٹس کے میٹا بولزم کی تعلیم دی جاتی ہے۔
5۔ویٹرنری اناٹومی: اس شعبے میں خلیے سے لے کر پوری جسامت تک تمام جانوروں کے اندرونی اور بیرونی ساخت کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔
6۔فزیالوجی اور فارما کالوجی: جانوروں کے جسم کے مختلف اعضا کے افعال، ادویات کی کمپوزیشن، دوائی کی مقدار اور طریقہ ،اثر، ذریعہ دوائی کے متعلق تعلیم دی جاتی ہے۔
7۔پیرا سائٹالوجی: تمام جانوروں میں پائے جانے والے اندرونی اور بیرونی طفیلیات (پیرا سائٹس) ان کا جسم میں داخل ہونے کا طریقہ، دورِ زندگی، علاج اور جسم پر اثر کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

کیریر پلاننگ کے اہم نکات

اپنا جائزہ لیں اور خود کو جانیں اپنے اندر کی شخصیت کا جائزہ لیجیے۔ اپنے …