صفحہ اول » بلاگ » کیریر پلاننگ کیا ہے؟

کیریر پلاننگ کیا ہے؟

-5 ترقی کی خواہش : ایک خاص مقام پر پہنچنے کے بعد انسان کی فطری خواہش اس سے آگے بڑھنے کیہیں۔ آپ کا کاروبار آپ کا پیشہ بھی ہے ملازمت بھی۔ کامیابی کے لیے شرط یہ ہے کہ آپ نے اس سلسلے میں منصوبہ بندی مکمل کی ہوئی ہو اور اپنی ترقی کے ہدف مقرر کیے ہوئے ہوں۔ کسی مفکر کا کہنا ہے کہ ….پیشہ کوئی بھی ہو، اس کی اصل حیثیت تجارت سے مختلف نہیں ہوسکتی، ایک ٹوکری ڈھونے والا مزدور بھی دراصل ایک تاجر ہے جو اپنی جسمانی مشقت فروخت کرکے روزی کماتا ہے، دفتر میں کام کرنے والا کلرک بھی تاجر ہے جو اپنی دماغی محنت فروخت کرکے معاوضہ حاصل کرتا ہے اور ایک دکان دار تو ہے ہی تاجر….وہ اپنا مال فروخت کرکے دولت اکٹھی کرتا ہے۔ اسی طرح وکیل، ڈاکٹر، انجینئر، منتظم ، سب تاجر ہیں۔ ہر شخص دنیا کے بازار میں اپنی اپنی صلاحیتیں، قوت، محنت اور مال فروخت کرکے زندگی گزارنے کا سامان مہیا کررہا ہے ۔
اس عمل میں انسان سب سے زیادہ خوشی کس ذریعے میںمحسوس کرتا ہے اور اپنی صلاحیتوں کو بہ درجہ اتم کس چیز میں بروئے کار لاتا ہے….اس ذریعے اور چیز کے علم، فہم اور اس کے شعوری انتخاب کو کیریئر کا انتخاب کہتے ہیں ۔
گویا ملازمت ہو یا کاروبار….یہ دونوں کیریئر کے دو راستے ہیں ۔
کیریئر کا انتخاب ؟
اپنے اطراف ہونے والی معاشی سرگرمیوں پر نظر ڈالیے تو آپ کو تمام لوگ تین قسم کے کام کرتے نظر آئیں گے۔
-1عملی کام : یہ ایسے کام ہیں جن میں کام کرنے والا اپنے ہاتھوں کے ذریعے کسی ایسے عمل میں مصروف ہوتا ہے جس سے کوئی مشین، آلہ، پرزہ حرکت کرتا ہے ۔
مثلاً انجینئر ، پائلٹ ، کسان ، کمپویٹر آپریٹر وغیرہ
-2 کاغذی کام : ہر وہ کام ہیں جو خط و کتابت ، لکھنے، پڑھنے اور اعداد و شمار سے متعلق ہیں مثلاً اکاﺅنٹنٹ، صحافی ، آرکیٹیکٹ، سیکریٹری وغیرہ
-3 عوامی/افرادی کام: ایسے کام جن میں کام کرنے والے کا واسطہ عوام یا مختلف افراد سے زیادہ ہوتا ہو، اس زمرے میں آتے ہیں مثلاً ڈاکٹر، استاد ، ایئر ہوسٹس وغیرہ
شعوری یا غیر شعوری طور پر ہر نوجوان، دوران تعلیم چند پیشوں کو پسند کرنے لگتا ہے۔ اس پسند کے پس منظر میں اس کے خاندان کے افراد کے پیشے، اس کے دوستوں کے والد یا بھائیوں کے پیشے، قومی ہیروز کے پیشے یا کسی خاص شخصیت سے اس کی ذہنی وابستگی اور عقیدت کارفرما ہوتی ہے۔
جب نوجوان زندگی کے اس دوراہے پر پہنچے جہاں اسے اپنی پیشہ ورانہ تعلیم کے مرحلے میں داخلہونا ہے تو اپنی پسند کے پیشوں کی ایک ترجیحی فہرست بنالینا چاہیے۔ اس فہرست میں کم سے کم تین پیشے ہوں پہلے نمبر پر سب سے پسندیدہ، دوسرے نمبر پر اس سے کم پسند کا اور تیسرے نمبر پر سب سے کم پسند کا پیشہ ۔
پیشے کے انتخاب کے دوسرے مرحلے میں ، درج ذیل چھ بنیادی باتوں کو پیشِ نظر رکھ کر اپنا جائزہ لینا چاہیے کہ ”میرے لیے کون سا پیشہ بہتر ہوسکتا ہے ؟“
-1 صلاحیتیں     -2 تعلیم
-3 ذہانت     -4 رجحان /میلان
-5 دلچسپی    -6 حالات /ماحول
-1 صلاحتیں : صلاحیتوں کا مطلب انسان کی ذہنی اور جسمانی خوبیاں ہیں۔ لیکن خوبیوں کا اندازہ ہم کو اسی وقت ہوسکتا ہے جب اپنی خامیوں یا کمیوں کا احساس ہو ۔
ایک نوجوان کی خواہش پائلٹ بننے کی ہے لیکن اس کی نظر کم زور ہے اس لیے وہ پائلٹ نہیں بن سکتا۔ یا کوئی شخص صحافی بننا چاہتا ہے لیکن اسے زبان پر عبور نہیں تو وہ اس پیشے میں کامیاب نہیں ہوسکتا ۔ اچھی گفتگو کی صلاحیت رکھنے والے وکالت یا سیلز کے پیشے میں کامیاب ہوسکتے ہیں ۔
-2 تعلیم : تعلیم کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اب تک جو تعلیم حاصل کی ہے وہ اس پیشے کی ضرورت کے مطابق ہونا چاہیے جو وہ اختیار کرنا چاہتا ہے۔ ڈاکٹر کا پیشہ اختیار کرنے کی خواہش رکھنے والے کو لازماً انٹر میڈیٹ سائنس کا امتحان پری میڈیکل گروپ میں کامیاب کرنا ہوگا جب ہی وہ ایم بی بی ایس کے لیے کالج میں داخلے کا اہل ہوگا ۔
-3 ذہانت : زندگی میں کامیابی کے لیے تعلیم کے ساتھ ذہانت بھی لازمی ہے۔ ذہانت کا مطلب اپنے علم اور تجربے کو تجزیے کے ساتھ بروقت استعمال کرنا ہے ۔ اچھی یادداشت ذہانت کو حسن عطا کرتی ہے۔ کم سے کم وسائل کو زیادہ سے زیادہ موءثر بنانا بھی ذہانت کا کرشمہ ہے۔ انسان کوئی بھی کیریئر منتخب کرے ،ذہانت کامیابی کے لیے ضروری ہے ۔
-4 رجحان/میلانِ طبع : ہر شخص کو کوئی ایک یا چند کام آسان لگتے ہیں وہ انھیں دوسروں کے مقابلے میں جلد سیکھ جاتا ہے، ان کے تکنیکی پہلوﺅں کو فوری طور پر سمجھ لیتا ہے۔ دوسرے افراد کے مقابلے میں اسے یہ برتری اس لیے حاصل ہوتی ہے کہ اس کا رجحان اس خاص کام یاشعبے کی طرف ہوتا ہے بعض نوجوانوں کو الیکٹرونکس کے آلات سے اس قدر دلچسپی ہوتی ہے کہ اس کے اسرار و رموز سے خود بہ خود واقف ہوجاتے ہیں۔ لڑکے گڑیوں کے کھیل میں دلچسپی نہیں رکھتے لیکن لڑکیاں وہی کھیل کھیلتی ہیں ۔
پیشے کے انتخاب میں اپنے رجحان کو لازماً مدِنظر رکھنا چاہیے اور اس کے مطابق اپنی ترجیحات میں سے کیریئر کا انتخاب کرنا چاہیے ۔

یہ بھی دیکھیں

خواتین کے لیے بہتر زندگی کا موقع!

15 ہفتے کی تربیت آپ کی زندگی بدل سکتی ہے! 18 سے 45 سال کی …