صفحہ اول » متفرق » صحافی کیسے بنتا ہے؟

صحافی کیسے بنتا ہے؟

اس زمانے میں پنجاب، کراچی اور سندھ کی تینوں جامعات میں ایم اے نہیں بلکہ محض ڈپلوما کورسز کی کلاسیں ہوتی تھیں۔ 1959ء میں پاکستان پریس کمیشن نے اور 1960ء میں قومی تعلیمی کمیشن نے مختلف جامعات میں صحافت کے تدریسی شعبے قائم کرنے اور پہلے سے موجود شعبوں کو ترقی دینے کی سفارشات کیں۔ جامعہ سندھ میں صحافت کی تدریس کا تجربہ۔ 1958ء میں ہی ناکام ہوچکا تھا اور شعبہ بند کردیا گیا تھا تاہم ان کمیشنوں کی سفارشات کی روشنی میں پنجاب اور کراچی کی جامعات میں بالترتیب 1960ء اور 1964ء سے ایم اے کی کلاسوں کا اجرا ہوا۔ سقوطِ مشرقی پاکستان کے بعد جامعہ سندھ میں صحافت کا شعبہ از سرِ نو قائم ہوا۔ پھر صوبہ سرحد کی جامعہ گومل اور جامعہ پشاور میں شعبے قائم ہوئے۔ پچھلے دو تین برسوں میں جامعہ بلوچستان اورجامعہ اسلامیہ بہاول پور میں بھی صحافت کے شعبے قائم ہوچکے ہیں ۔
جامعات کے علاوہ پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن نے اپنی مخصوص ضرورتوں کے لیے 1984ء میں اسلام آباد میں اپنا الگ تربیتی ادارہ ’’پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن اکیڈیمی‘‘ بھی قائم کیا ہے جس میں اداکاری، مسودہ نگاری، پیش کش کاری، کیمرہ کاری اور صورت آرائی کی فنی تربیت دی جاتی ہے یہ وہ شعبے ہیں جن کی تربیت کے لیے جامعاتی سطح کے تدریسی پروگراموں میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ریڈیو پاکستان نے بھی ایسی ہی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے اپنا ایک الگ تربیتی ادارہ قائم کیا ہے۔ 1987ء میں آل پاکستان نیوز پیپر سوسائٹی اور کونسل آف پاکستان نیوز پیپرزایڈیٹرز نے تحقیقی اور تخصیصی نوعیت کے تربیتی مقاصد کے لیے نجی شعبے میں پہلا تربیتی ادارہ پاکستان پریس انسٹی ٹیوٹ قائم کیا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

خواتین کے لیے بہتر زندگی کا موقع!

15 ہفتے کی تربیت آپ کی زندگی بدل سکتی ہے! 18 سے 45 سال کی …