بحری فوج


مرچنٹ نیوی یا تجارتی جہاز رانی،بیش نوجوانوں کے لیے ایک رومان انگیز اور پر شوق پیشہ ہے۔ جھل مل کرتے بٹنوں سے سجی، سفید براق وردی، اور خوب صورت ٹوپی پہنے گہرے نیلے سمندروں میں، خوب صورت جہازوں کو چلانا، نئے نئے ملکوں کے ساحلوں پر اُترنا اور دنیا دیکھنا، سمندروں میں طوفانوں کا مقابلہ کرنا اور کبھی راستہ بھٹک کر انجان جزیروں پر اُتر جانا،….یہ تمام ایسے خواب انگیز مناظر ہیں جو نوعمری میں اکثر نوجوانوں کو اس پیشے کی طرف راغب کرتے ہیں۔ ٹیکنالوجی کی ترقی نے آج کے جہازوں کو بڑی حد تک خود کار اور محفوظ بنا دیا ہے اور سمندری سفر کے خطرات کو کم کر دیا ہے لیکن مہم جوئی کا رومان کسی نہ کسی حد تک برقرار ہے۔ اس مضمون میں مرچنٹ نیوی یا تجارتی جہاز رانی کے پیشے کے بارے میں گفتگو کی جائے گی۔
بحری جہازاپنی جگہ ایک چھوٹی سی دنیا ہوتی ہے ساحل چھوڑنے کے بعد سمندر میں جہاز کی اس دنیا کا مالک و مختار جہاز کا کپتان ہوتا ہے۔ اس دنیا کا انتظام کرنے اور جہاز کو رواں دواں رکھنے میں بہت سے لوگ کپتان کے ماتحت مختلف کام کرتے ہیں۔ جہاز کے بڑے بڑے شعبے یہ ہوتے ہیں:
1۔ ڈیک آفیسرز: سمندر میں جہاز کو محفوظ طریقے سے چلانے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔
2۔انجینئرآفیسرز: جہاز کے انجنوں اور متعلقہ مشینوں اور آلات کو رواں رکھنے اور ان کی دیکھ بھال ان کے ذمے ہوتی ہے۔
3۔کیٹرنگ آفیسرز: انھیں جہاز کے عملے اور مسافروں کے کھانے پینے اور ان کی رہائش و دیگر ضروریات کا خیال رکھنا ہوتا ہے۔
4۔ریڈیو آفیسرز: سمندر میں جہاز کا دوسرے جہازوں اور زمینی اسٹیشنوں سے ریڈیو کے ذریعے رابطہ رکھنا ان کی ذمہ داری ہے۔
5۔ میڈیکل آفیسر: جہاز کے عملے کی صحت اور بیماری کی صورت میں علاج معالجے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ اس مضمون میں ہم ڈیک آفیسرز اور انجینئرآفیسرز کے بارے میں گفتگو کریں گے۔ ریڈیو آفیسرز کے پیشے کے بارے میں علیحدہ مضمون شائع کیا جائے گا۔ کیٹرنگ آفیسر کے لیے ضروری ہے کہ اس نے کیٹرنگ کی باقاعدہ تربیت حاصل کی ہو اور تجربہ رکھتا ہو۔ میڈیکل آفیسرز ڈاکٹر ہوتے ہیں۔

مرچنٹ نیوی، سمندری راستوں پر جہازوں کے ذریعے تجارتی سامان اور مسافروں کی نقل و حمل کی ذمہ دار ہوتی ہے۔ بحری جہازوں اور ان کے ذریعے لے جانے والے سامان کی اقسام مختلف ہوتی ہیں۔ اسی طرح جہازوں کی نوعیت اور سامان کے اعتبار سے راستے بھی بدلتے رہتے ہیں۔ تیل بردار جہاز (آئل ٹینکر) مال بردار جہاز (بلک کارگو) کنٹینر بردار جہاز (کنٹینر شپ)ملے جلے سامان کے جہاز (مکسڈ کارگو) سرد خانوں والے جہاز (ریفریجریٹر کارگو) مسافر بردار جہاز (پسنجر شپ) اور گاڑی اور مسافر بردار جہاز (کارفیریز اینڈ پسنجر کروزر شپ) جہازوں کی مختلف اقسام اور لے جانے والے سامان کی نوعیت کی مثالیں ہیں۔
کرئہ ارض کا تین چوتھائی حصہ سمندروں پر مشتمل ہے اور یہ وسیع و عریض سمندر بحری جہازوں کی جولاں گاہ ہیں۔

کام کی نوعیت

ڈیک آفیسر، جہاز کے کپتان کی ہدایت کے مطابق سمندر میں جہاز کو محفوظ طریقے سے چلانے کے ذمہ دار ہوتے ہیں اس کے علاوہ ان کے فرائض میں سامان کو ذخیرہ کرنے، مال برداری اور مال اتارنے کے عمل کی نگرانی ،جہاز کی دیکھ بھال اور مرمت ،جہاز کے دیدبان (برج) پردید بانی (واچ) کے ذریعے دوسرے جہازوں کی آمدورفت سے آگاہ رہنے، جہاز رانی کے خطرات کا اندازہ کرنے اور سمندر میں موسم کی خبر رکھنے کے کام شامل ہیں۔ دیدبانی (واچ) کے دوران ڈیک آفیسر وقتاً فوقتاً اس بات کی نگرانی کرتے ہیں کہ جہاز اپنے مقررہ راستے پرآگے بڑھ رہا ہے اگر تیز ہواﺅں یا سمندر کی موجوں کی وجہ سے جہاز اپنا رخ تبدیل کرلے تو اسے دوبارہ مقررہ راستے پر ڈالنا ہوتا ہے۔
انجینئر آفیسرز ، جہاز کے انجنوں، مشینوں اور آلات کو چلانے، انھیں کنٹرول کرنے، ان کی مرمت اور دیکھ بھال کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ تمام انجینئر اور متعلقہ کارکن چیف انجینئر کی ہدایات کے مطابق کام کرتے ہیں جو جہاز پر انجینئرنگ کے شعبے کا سربراہ ہوتا ہے۔ جہاز پر انجینئرنگ کے کاموں میں ڈیزل انجن ، اسٹیم ڈیزل، بجلی کے جنریٹر، بجلی کی تنصیبات، ایئر کنڈیشننگ پلانٹ، پمپس، پلمبنگ، کرینیں ، اسٹیئرنگ کے آلات اور سامان تجارت سے متعلق آلات کی دیکھ بھال شامل ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں جہاز کے کپتان یا اس کے نائب کی ہدایات کے مطابق جہاز کو چلانے والے انجنوں کی قوت کو کم یا زیادہ کرنا بھی انجینئرز کے فرائض میں شامل ہے۔
انجنوں اور مشینوں کی بلا رکاوٹ کارکردگی کے لیے وقتاً فوقتاً ان کی دیکھ بھال کی جاتی ہے۔ بالعموم ہر انجینئر افسرکو کسی انجن یا مشین کی ذمہ داری سونپ دی جاتی ہے۔ بعض جہازوں پر الیکٹریکل یا الیکٹرونکس انجینئر علیحدہ ہوتے ہیں لیکن عام طور پر جہازوں پر کام کرنے والے تمام انجینئروں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ بجلی اور الیکٹرونکس کے کاموں سے واقف ہوںگے۔

تعلیم و تربیت کا ادارہ

پاکستان میں جہاز رانی کی تعلیم و تربیت کا ایک ادارہ ہے جو کراچی میں واقع ہے اور ”پاکستان میرین اکیڈمی“ کے نام سے معروف ہے۔ یہ اکیڈمی 1971ءمیں قایم کی گئی۔ اس سے پہلے قومی جہاز رانی کے شعبے کی ضروریات پوری کرنے کے لیے 1962ءمیں مشرقی پاکستان میں چٹاگانگ کے ساحل پر مرکنٹائل میرین اکیڈمی کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا گیا تھا جو جہاز رانی کے شعبے میں نوجوانوں کو تربیت دیتا تھا۔ بنگلہ دیش بننے کے بعد پاکستان میرین اکیڈمی کا قیام کراچی میں عمل میں آیا جو کراچی ہاربر کے شمال مغرب میں ماری پور روڈ پر 136 ایکڑ پر واقع ہے۔

داخلے کی اہلیت

پاکستان میں میرین اکیڈمی میں داخلے ہر سال اگست/ستمبر کے مہینے میں ہوتے ہیں او ر اخبارات میں اشتہارات کے ذریعے امیدواروں سے درخواستیں طلب کی جاتی ہیں۔
میرین اکیڈمی میں داخلے کے لیے بنیادی تعلیمی اہلیت پری انجینئرنگ میں بارہویں جماعت (یامساوی امتحان) میں کم سے کم سیکنڈ ڈویژن میں کامیابی ہے۔
صرف مرد امیدواروں کو داخلہ دیا جاتا ہے۔ امیدوار کا پاکستانی شہری ہونا لازمی ہے یکم ستمبر کو عمر20سال سے زائد نہیں ہونی چاہیے۔ ابتدائی مرحلے میں منتخب امیدواروں کا طبی معائنہ ہوتا ہے۔