بحری فوج


امیدواروں کا آخری انتخاب، صرف اہلیت (میرٹ) کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ طبیعیات، ریاضی اور انگریزی کے مضامین میں بارہویں جماعت میں حاصل کردہ مجموعی نشانات (نمبروں ) پر فیصلہ کیا جاتا ہے۔چند نشستیں صوبائی کوٹے کی ہوتی ہیں۔
اکیڈمی میں داخلے کے لیے امیدوار کی ذہنی و جسمانی موزونیت کو خاصی اہمیت دی جاتی ہے۔ ذہنی و جسمانی موزونیت کا معیار یہ ہے:
کم سے کم وزن 110 پونڈ (امیدوار کا وزن کم ہونے کے باوجود اگر ڈاکٹر اس کی جسمانی موزونیت سے مطمئن ہو تو رعایت ہوسکتی ہے) کم سے کم قد 5 فٹ 4 انچ۔ سینے کی چوڑائی 30 انچ(عام حالت میں) پھیلاﺅ 2انچ۔ اچھی سماعت، کان کی کوئی بیماری نہ ہو پیٹ کا کوئی مرض لاحق نہ ہو، رواں گفتگو، دانت صحت مند ہوں۔ اگر کسی دانت پر کیڑا لگا ہو تو اس کی صفائی اور باقاعدہ بھرائی ہونی چاہیے۔

تعلیم و تربیت کا نصاب

میرین اکیڈمی میں امیدواروں کو دو سال کی تربیت دی جاتی ہے۔ دو سال کا یہ عرصہ چار میقات (سمسٹرز) میں تقسیم ہوتا ہے۔ ہر سال جون اور جولائی کے مہینوں میں دوماہ کی اور دسمبر/ جنوری میں 15دن کی تعطیلات ہوتی ہے۔ تربیت کامیابی سے مکمل کرنے والے امیدواروں کو جامعہ کراچی کی جانب سے بی ایس سی(میری ٹائم اسٹڈیز) کی سند عطا ہوتی ہے۔
اکیڈمی میں دو شعبوں میں تربیت کی سہولت موجود ہے ایک ناٹیکل اور دوسرے انجینئرنگ ناٹیکل کے شعبے کاجہاز رانی سے براہِ راست تعلق ہے جب کہ انجینئرنگ کے شعبے میں جہازوں کے انجن، مشینوں اور آلات سے متعلق تربیت دی جاتی ہے۔ ناٹیکل یا جہاز رانی کے شعبے کے امیدواروں کو مقررہ تعلیمی نصاب کے ساتھ ساتھ ملاحی، کشتی رانی، اشاراتی زبان(سگنلنگ) ، کشتی کھینے اور کشتی سنبھالنے کی بھی تربیت دی جاتی ہے۔
ڈیک کیڈٹس کا نصاب دو حصوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ ایک علمی دوسرا فنی۔ علمی موضوعات یہ ہیں: طبیعیات، ریاضی، انگریزی، مطالعہء اسلام/اخلاقیات، مطالعہء پاکستان اور عمرانی و معاشرتی علوم۔
فنی مضامین میں درج ذیل موضوعات شامل ہیں :جہاز رانی (نیوی گیشن) ، بحری عمل (میرین آپریشن) ، بحری نقل وحمل، موسمیات، انجینئری علوم برائے جہاز راں، اشارات (سگنلنگ) فوری طبی امداد۔
انجینئرنگ کے شعبے کے امیدواروں کو علمی مضامین کے علاوہ میرین انجینئرنگ کے مضامین میں تعلیم دی جاتی ہے جو درجِ ذیل ہیں:
اطلاقی حرکیات (اپلائیڈ تھرموڈائنامکس) اطلاقی میکانیات (اپلائیڈ میکنکس)، مشین ڈرائنگ، الیکٹرو ٹیکنالوجی، جنرل انجینئرنگ نالج، انسٹرومینٹیشن اینڈ کنٹرول سسٹمز، انٹرنل کمبسشن، انجینئرنگ نالج، نیول آرکی ٹیکچر اینڈ شپ کنسٹرکشن، ورک شاپ تھیوری ، ورک شاپ پریکٹس، پریکٹیکل ٹریننگ، فوری طبی امداد، فائر فائٹنگ اینڈ پرسنل سروائیول۔

اخراجات

پاکستان میرین اکیڈمی میں تربیت کے لیے جن امیدواروں کو منتخب کیا جاتا ہے انھیں تعطیلات کے علاوہ عرصہءتعلیم میں، اکیڈمی میں رہنا ہوتا ہے جہاں انھیں فرنیچر کے ساتھ معیاری رہائش اور غذا فراہم کی جاتی ہے۔ رہائشی اور غذائی سہولت میں یہ خیال رکھا جاتا ہے کہ امیدواروں کی ذہنی و جسمانی نشو ونما بہترین طریقے سے ہو۔
امیدواروں کو ہر میقات کے آغاز پر مختلف مدات میں تقریباً چار ہزار روپے ادا کرنے ہوتے ہیں۔ جب کہ اکیڈمی میں شامل ہوتے وقت وردی اور کاشن منی کے طور پر چار ہزار دو سو روپے جمع کرانے ہوتے ہیں۔ اکیڈمی سے رخصت کے وقت کاشن منی کے دو سو روپے واپس کر دیے جاتے ہیں۔ اس طرح وہ سال کے عرصے میں امیدواروں کو تقریباً بیس بائیس ہزار روپے کے اخراجات برداشت کرنے ہوتے ہیں۔
واجبات کی پہلی ادائیگی اکیڈمی میں داخلے کے وقت، دوسری ادائیگی تربیت کے پہلے سال میں 15مئی تک تیسری ادائیگی، 15 دسمبر تک چوتھی ادائیگی تربیت کے دوسرے سال میں 15 مئی تک کرنا ہوتی ہے۔وردی کے علاوہ، جو اکیڈمی فراہم کرتی ہے، امیدوار کو ذاتی استعمال کے لیے لباس اور دیگر ضروری اشیا خود فراہم کرنا ہوتی ہیں۔

ذاتی خصوصیات

جہاز رانی کا پیشہ اپنانے کے خواہش مند نوجوانوں کو ذہنی و جسمانی طور پر چاق چوبند ہونے کے ساتھ ریاضی میں دلچسپی ہونی چاہیے جو جہاز رانی میں مدد دیتی ہے۔ جسمانی طور پر مضبوط نوجوان سمندری سفر کی مشکلات کا بہتر طور پر مقابلہ کرسکتے ہیں۔ چوںکہ سفر کے دوران ان لوگوں کو طویل عرصے تک ایک ہی جہاز پر ایک ہی عملے کے ساتھ رہنا ہوتا ہے اس لیے ان کا خوش مزاج ہونا اور لوگوں کے ساتھ اچھی طرح پیش آنا ضروری ہے۔ ڈیک آفیسرز کو ماتحت عملے سے کام لینا ہوتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ رہنمائی کی صلاحیتیں رکھتے ہوں، احکامات واضح طور پر دے سکتے ہوں اور دوسروں کے کام کی نگرانی کر سکتے ہوں ،ذمہ داری کو قبول کرنا اور اسے بہتر سے بہتر طور پر بجا لانا، فرض شناسی کی بنیادی خصوصیات ہے۔

حالاتِ کار

جہاز رانوں کو اپنے گھر اور عزیزوں سے دور طویل عرصے جہاز پر رہنا ہوتا ہے جو ان کی کام کی جگہ بھی ہوتی اور رہائش کی بھی۔ بحری سفر کی طوالت بعض اوقات چھ ماہ یا اس سے زائد بھی ہوسکتی بالعموم جہازوں پر رہائشی سہولتیں نہایت معیاری اور آرام دہ ہوتی ہیں۔ رہائشی کیبنوں کے علاوہ لاﺅنج،کتب خانہ، مشروبات کا کمرہ، کھانے کا کمرہ، کھیلوں کی سہولتیںاور سینما وغیرہ کی تفریح موجود ہوتی ہے۔ بڑے جہازوں میں پیراکی کے تالاب بھی ہوتے ہیں۔
بعض جہاز راں ادارے طویل سفر پر جہاز رانوں کویہ اجازت دیتے ہیں کہ وہ اپنے بیوی بچوں کو بھی ساتھ رکھیں لیکن یہ سہولت بہت کم اور بالعموم صرف اعلیٰ افسران کو ملتی ہے۔
جہازرانوں کے کام کی مرکزی جگہ دیدبان یا برج ہوتا ہے جہاں جہاز رانی کے آلات نصب ہوتے ہیں اور جہاز کے اطراف نظر رکھی جاسکتی ہے۔ بعض جہازوں میں مواصلاتی نظام کے آلات بھی دیدبان ہی میں ہوتے ہیں۔ تاہم جہازوں رانوں کو دیدبان کے باہر جہاز کے عرشے اور دیگر کھلے حصوں میں بھی کام کرنا ہوتا ہے۔ خاص طور پر خراب موسم میں تند ہواﺅں اور طوفانی سمندری لہروں کا مقابلہ کرنا ہوتا ہے۔ انجینئر آفیسرز کے کام کی مرکزی جگہ جہاز کا انجن روم ہوتا ہے لیکن چوںکہ مشینیں اور آلات جہاز کے مختلف حصوں پر نصب ہوتے ہیں اس لیے انھیں عملاً پورے جہاز پر کام کرنا ہوتا ہے۔