بحری فوج

ترقی کی منزلیں

پاکستان میرین اکیڈمی سے دو سال کی تربیت مکمل کرنے کے بعد نوجوانوں کو بحری جہازپر یا انجینئرنگ ورک شاپ میں عملی تربیت مکمل کرنی ہوتی ہے۔

ناٹیکل (ڈیک) برانچ

ناٹیکل (ڈیک) کے سند یافتہ نوجوانوں کو بہ طور ڈیک کیڈٹ جہاز پر تربیت کا موقع فراہم کیا جاتا ہے اور اس حیثیت سے انھیں 33 ماہ کی تربیت مکمل کرنی ہوتی ہے (جو کیڈٹ پاکستان میرین اکیڈمی کے سند یافتہ نہیں ہوتے بہ طور کیڈٹ ان کی تربیت کا عرصہ 42ماہ ہے) تربیت کے آخری چھ مہینوں میں ضروری ہے کہ وہ کسی سند یافتہ افسر کی نگرانی میں واچ کیپنگ (دیدبان کی نگرانی) کے فرائض انجام دیں۔ یہ تربیت مکمل کرنے کے بعد ڈیک کیڈٹ چوتھے درجے کی اہلیت کا امتحان (سرٹیفکیٹ آف کمپی ٹینسی کلاس فور) میں شرکت کے مجاز ہوجاتے ہیں۔ اس امتحان میں کامیابی کے بعد انھیں تھرڈ آفیسر کے عہدے پر ترقی ملتی ہے۔ اور چھ ماہ کے تجربے کے بعد وہ تیسرے درجے کی اہلیت کے امتحان میں شرکت کرسکتے ہیں۔ یہ امتحان کامیاب کرنے کے بعد انھیں سیکنڈ آفیسر کے عہدے پر ترقی مل جاتی ہے۔ سیکنڈ آفیسر کی حیثیت سے18 ماہ واچ کیپنگ کے تجربے کے بعد امیدوار دوسرے درجے کی اہلیت کے امتحان میں شرکت کا مجازہوجاتا ہے اور یہ امتحان کامیاب کرنے کے بعد چیف آفیسر کے عہدے پر ترقی پاکر خدمات انجام دے سکتا ہے۔ مزید 18 ماہ کی واچ کیپنگ اور تیسرے درجے کی اہلیت کے امتحان کے بعد مجموعی طور پر 42 ماہ کی واچ کیپنگ کے تجربے کے بعد امیدوار اوّل درجے کی اہلیت کا امتحان دے سکتا ہے ، یہ امتحان جہاز کے کپتان کے عہدے کا ہوتا ہے جس کی کامیابی کے بعد بہ طور کپتان تقرر ہوسکتا ہے۔
کسی بھی بحری جہاز پر کپتان کا عہدہ سب سے بڑا عہدہ ہوتا ہے۔

انجینئرنگ برانچ

میرین اکیڈمی سے انجینئرنگ کے شعبے میں دو سال کی تعلیمی سند حاصل کرنے کے بعد نوجوانوں کو میرین انجینئر اپرنٹس کی حیثیت سے کسی تسلیم شدہ بحری انجینئرنگ ورک شاپ میں تین سال کی عملی تربیت مکمل کرنی ہوتی ہے۔ (اکیڈمی کے غیر سندیافتہ نوجوانوں کے لیے تربیت کا عرصہ چار سال ہے)یہ تربیت مکمل کرنے کے بعد امیدوار دوسرے درجے کی اہلیت کے امتحان حصہ اوّل (سرٹیفکیٹ آف کمپی ٹینسی، کلاس ٹو پارٹ اے) کے امتحان میں شرکت کا مجاز ہوجاتا ہے۔ یہ امتحان کامیاب کرنے کے بعد جہاز پر بہ طور ففتھ انجینئر یا جونیئر انجینئر تقرر ہوتا ہے۔ مقررہ عرصے کے تجربے اور اہلیت کے بعد امیدوار بالترتیب چوتھے اور تیسرے درجے کی اہلیت کا امتحان دے سکتا ہے۔ غیر ملکی سفر کرنے والے جہاز کے انجن روم میں واچ کیپنگ کے 18 ماہ سے 21 ماہ کے تجربے کے بعد امیدوار دوسرے درجے کی اہلیت کے حصہ ”ب“ امتحان میں شرکت کا مجاز ہوتا ہے۔ یہ سند حاصل کرنے کے بعد اس کا تقرر سیکنڈ انجینئرکی حیثیت سے ہوسکتا ہے۔ انجن روم میں واچ کیپنگ کے 18 تا 21 ماہ کے مزید تجربے کے بعد امیدوار درجہ اوّل کے امتحان میں شرکت کرسکتا ہے اور یہ امتحان کامیاب کرنے کے بعد اس کا تقرر بہ طور چیف انجینئرہوسکتا ہے۔ انجینئرنگ برانچ میں چیف انجینئر جہاز پر سب سے بڑا عہدہ ہے۔

تنخواہیں

بحری جہازوں پر ڈیک اور انجینئرنگ کے افسروں کی تنخواہیں جہاز کے سائز اور اس کی مال برداری نوعیت کے لحاظ سے مقرر ہوتی ہیں۔ پاکستان میں پی این ایس سی جہاز رانی کا سب سے بڑا ادارہ ہے۔ اس ادارے کی تنخواہوں کی اوسط شرح نیچے دی جا رہی ہے یہ صرف حوالے کے لیے ہے اس میں کمی بیشی ممکن ہے۔

ڈیک کیڈٹ    2 ہزار روپے ماہانہ
جونیئر انجینئر/ففتھ انجینئر     ساڑھے 4 سے 5 ہزار روپے ماہانہ
تھرڈ آفیسر/فورتھ انجینئر    5سے 6 ہزار روپے ماہانہ
سیکنڈ آفیسر/تھرڈ انجینئر    ساڑھے 11 سے 12 ہزار روپے ماہانہ
چیف انجینئر/سیکنڈ انجینئر    17سے 18 ہزار روپے ماہانہ
چیف انجینئر    21 سے 22 ہزار روپے ماہانہ
کیپٹن    23 سے 24 ہزار روپے ماہانہ
تنخواہ کی اس شرح میں مختلف الاﺅنس شامل ہیں۔ اس تنخواہ کے علاوہ ڈرٹی کار گو الاﺅنس 50 روپے یومیہ، ٹینکر الاﺅنس بنیادی تنخواہ کا 12.5 فیصد اور کنٹینر شپ الاﺅنس 600روپے سے 12 سو روپے ماہانہ بھی دیا جاتا ہے۔ منافعے کی صوت میں بونس کی توقع بھی کی جاسکتی ہے۔

غیر ملکی جہازوں پر تنخواہوں کی شرح

غیر ملکی جہازوں پر تنخواہوں کی شرح جہازراں ادارے کی حیثیت ، جہازوں کے سائز اور مال برداری کی نوعیت کے اعتبار سے مختلف ہوتی ہے ذیل میں صرف اندازے کے لیے تنخواہوں کی شرح درج کی جا رہی ہے۔
ڈیک کیڈٹ    260سے 360ڈالر ماہانہ
جونیئرانجینئر    290 سے 350 ڈالر ماہانہ
تھرڈآفیسر/فورتھ انجینئر    820 سے 1000 ڈالر ماہانہ
سیکنڈ آفیسر/تھرڈ انجینئر    1470 ڈالر ماہانہ
چیف آفیسر/سیکنڈ انجینئر    2360 سے 2590 ڈالر ماہانہ
چیف انجینئر    3500 ڈالر ماہانہ
کپتان     3600 ڈالرماہانہ
تنخواہ کے علاوہ ٹینکر الاﺅنس اور دیگر الاﺅنسز بھی مل سکتے ہیں۔نو ماہ کی ملازمت کی تکمیل پر ایک ماہ کی تنخواہ بہ طور بونس دی جاتی ہے۔
(پی این ایس سی اور غیر ملکی جہازوں کی تنخواہوں کی شرح پاکستان مرچنٹ نیوی آفیسرز ایسوسی ایشن نے فراہم کی ہے۔)
مواقع : پاکستان میں تین جہاز راں ادارے ہیں۔ پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن سب سے بڑا قومی ادارہ ہے جس کے پاس اس وقت 23 جہاز ہیں۔ نجی شعبے میں پان اسلامک شپنگ کمپنی کے پاس 4جہاز ہیں اور نیشنل ٹینکر کمپنی کے پاس ایک تیل بردار جہاز ہے۔ اس طرح پاکستانی پرچم بردار جہازوں کی تعداد 27 ہے۔
ایک اندازے کے مطابق ملک میں اس وقت مرچنٹ نیوی کے 8 ہزار 9 سو افسران موجود ہیں جن میں سے 15 تا 20 فی صد پاکستانی جہازوں پر خدمات انجام دے رہے ہیں، 40 سے 45  فی صدافسران غیر ملکی جہازوں پر ملازم ہیں اور تقریباً 40 فی صد بے روزگار ہیں۔
اس صورتِ حال کو دیکھ کر یہ لگتا ہے کہ ملک میں جہاز رانی کے شعبے کے حالات ساز گار نہیں ہیں اور حقیقتاً فی الوقت ایسا ہی ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ یہ حالت ہمیشہ رہے گی۔
دنیا میں ملکوں کے درمیان جتنی بھی تجارت ہوتی ہے اس کا 90 فی صدحصہ بحری جہازوں کے ذریعہ عمل میں آتا ہے۔ پاکستان کی در آمد و برآمد کا صرف 12 فی صدپاکستانی جہازوں کے ذریعے ہوتا ہے جبکہ 88 فی صد مال تجارت غیر ملکی جہاز لاتے اور لے جاتے ہیں۔ گویا یہ امکان ہر وقت موجود ہے کہ قومی جہاز رانی کے شعبے پر توجہ دی جائے تو اس میں بہتری اور ترقی کی 100 فی صدگنجائش موجود ہے۔
پاکستانی جہاز راں، غیر ملکی جہازوں پر بھی خدمات انجام دے رہے ہیں، ایران، کویت، متحدہ امارات، سعودی عرب ، کے جہازوں پر خاص طور پر اور ان کے علاوہ دیگر یورپی ممالک کے جہازوں پر بھی پاکستانی افسران کو ملازمت کے مواقع ملتے ہیں۔
مزید معلومات کے لیے درجِ ذیل پتے پر رابطہ کیجیے۔
کمانڈنٹ، پاکستان میرین اکیڈمی،
ماری پورروڈ، کراچی