صفحہ اول » برّی فوج

برّی فوج

بری فوج کا بنیادی یونٹ بٹالین یا رجمنٹ ہوتی ہے۔ ہر رجمنٹ /بٹالین ایک خاص کام کی ماہر ہوتی ہے اور اس کے افسروںاور جوانوںکا انتخاب اس خاص مہارت کی صلاحیت رکھنے والے افراد میں سے کیا جاتا ہے۔ رجمنٹ/بٹالین کو دورانِ جنگ یا اس سے پہلے ان کی خدمات کی نوعیت کے پیشِ نظر تین اقسام میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ۔

لڑاکا بازو

یہ وہ فوجی دستے ہوتے ہیں جنھیں جنگ میں براہ ِراست مقابلہ کرنا ہوتا ہے۔ لڑاکا فوج تین حصوں پر مشتمل ہوتی ہے :
-1 رسالہ ( آمرڈ ) -2 پیدل ( انفینٹری) -3 فضائیہ ( آرمی ایوی ایشن)

معاون بازو

اس شعبے کے افراد کو لڑنے کی تربیت اس طرح دی جاتی ہے کہ وہ لڑاکا شعبوں کو لڑائی جاری رکھنے میں مدد دے سکیں۔ معاون بازو کے درج ِذیل حصے ہیں :
-1 توپ خانہ ( آرٹلری) -2انجینئر -3سگنلز -4 آرمی ایئر ڈیفنس

معاون خدمات

لڑاکا بازو اور معاون بازو، دونوں عملی جنگ میں براہ ِراست شریک ہوتے ہیں، جب کہ معاون خدمات کے شعبوں کے افراد بھی وقت پڑنے پر لڑ سکتے ہیں لیکن ان کا بنیادی کام لڑنے والے دونوں شعبوں ( لڑاکا بازو /معاون بازو) کوایسی خدمات مہیا کرنا ہے جن کی مدد سے جنگ جاری رکھی جاسکے ۔
معاون شعبوں میں درجِ ذیل نام شامل ہیں :
آرمی سروس کور ، آرمی میڈیکل کور ، آرڈی نینس کور ، کور آف الیکٹریکل اینڈ میکینکل انجینئرز ، آر وی ایف سی ، آرمی ایجوکیشن کور اور خدمات کا شعبہ فوج کے اہم لڑاکا دستوں کا مختصر تعارف درج ذیل ہے:

 رسالہ ) آمرڈ)

ٹینک، جنگ کا فیصلہ کن ہتھیار ہے۔ قدیم دور میں جنگیں گھوڑوں پر بیٹھ کر لڑی جاتی تھیں، آج ٹینکوں پر بیٹھ کر لڑی جاتی ہیں ۔ رسالے کا کام دشمن کی صفوں کو چیر پھاڑ کر رکھ دینا، اسے تتر بتر کردینا، دشمن کے حوصلے پست کرنا اور بالآخر اسے تباہ و برباد کردینا ہے۔ یہ آہنی جوان اورافسر ہی ہوتے ہیں جو رسالے میں شامل ہوکر وطن کا دفاع کرتے ہیں ان کو عرفِ عام میں بکتر بند دستے بھی کہا جاتاہے ۔

پیدل فوج ) انفینٹری)

پیدل سپاہی، لڑاکا فوج کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔ یہ فوج کے وہ دستے ہیں جو دشمن کا دو بدو مقابلہ کرتے، اسے زیر کرتے ہیں اور آگے بڑھ کر علاقہ فتح کرتے ہیں۔ ایک اعتبار سے یہ فوج کا وہ شعبہ ہے جس کے لیے پوری فوج سرگرم عمل رہتی ہے۔ پیدل فوج کے ہر افسر اور جوان کے سامنے ہر وقت ایک چیلنج رہتا ہے۔ ان کی تربیت خاص انداز سے کی جاتی ہے جوانھیں اس قابل بنا دیتی ہے کہ سخت ترین حالات کا مقابلہ کرسکیں، چست ہوں اورسوچنے اور عمل کرنے میں ہر دم مستعد ہوں۔ پید ل فوج کے دستے پیدل بھی آگے بڑھتے ہیں اور بکتر بند گاڑیوں اور ہیلی کاپٹر کے ذریعے بھی آگے پہنچائے جاتے ہیں ۔

اس وقت پاک فوج کی پیدل فوج چھ رجمنٹوں پر مشتمل ہے ۔
-1 پنجاب رجمنٹ -2 بلوچ رجمنٹ -3 فرنٹیئر رجمنٹ -4 آزاد کشمیر رجمنٹ -5 سندھ رجمنٹ -6 ناردرن لائٹ انفینٹری ۔

 برّی فضائیہ ) آرمی ایوی ایشن )

اس شعبے کے افراد امن اور جنگ کے دنوں میں یکساں اہمیت کے فرائض انجام دیتے ہیں۔ جنگ کے دنوں میں اہم کمانڈروں کو تیزی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کے لیے انھی کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔ اپنے علاقے میں رہتے ہوئے دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھتے ہیں۔ اپنے توپ خانے کے فائر کی درستگی اور دشمن کے علاقے میں اہم اہداف کی نشان دہی اور زخمیوں کو میدانِ جنگ سے اسپتال منتقل کرنا ان کے فرائض میں شامل ہے ۔
شمالی علاقوں میں سیاچن کے محاذ پر ہماری برّی فضائیہ نے اہم خدمات انجام دی ہیں ۔

 توپ خانہ ) آرٹلری )

اگلے مورچوں سے قدرے فاصلے پر رہتے ہوئے ، دشمن پر ٹھیک ٹھیک نشانہ لگا کر اسے نیست و نابود کرنے کا کام توپ خانے کا ہے۔ ہلکی ، درمیانی اور بھاری توپیں، کام کرنے والوں کو ٹیم ورک کے ذریعے بالکل درست نشانہ لگانے کا چیلنج دیتی ہیں۔ اب ایسی توپیں بھی آگئی ہیں جنھیں کسی گاڑی کے ذریعے کھینچنا نہیں ہوتا بلکہ وہ خود حرکت کرتی ہیں، آگے بڑھتی ہیں اور دشمن پر آگ برساتی ہیں ۔

 انجینئرز

جب جنگ کے بادل منڈلانے لگتے ہیں تو میدانِ جنگ میں سب سے پہلے پہنچنے والے انجینئرز ہوتے ہیں جواپنی فوج کے لیے راستے بناتے ہیں، دریاﺅں پر پل تعمیر کرتے ہیں اور دشمن کی متوقع گزرگاہوں میں بارودی سرنگیں بچھاتے ہیں اوررکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں۔ جنگ ختم ہونے کے بعد جب دوسرے شعبے بیرکوں میں لوٹ جاتے ہیں ، انجینئرز میدانِ جنگ میں مصروف ِعمل رہتے ہیں۔ دشمن کی بچھائی ہوئی بارودی سرنگیں صاف کرتے ہیں۔ بے پھٹے گولے بارود لگا کر اڑاتے ہیںاورعلاقے کو عام شہری آبادی کی رہائش کے قابل بناتے ہیں ۔
اپنے کام میں مہارت کے لیے انجینئرز کے افسران کواندرونِ ملک اور بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم کے مواقع دیے جاتے ہیں ۔

 سگنلز

اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ جدید زمانے کی جنگ مواصلاتی جنگ ہوتی ہے۔ جس فوج کا مواصلاتی شعبہ یعنی سگنلز جتناماہر ہوگا اس کے جنگ جیتنے کے امکانات زیادہ ہوں گے۔ روایتی طور پر تو سگنلز کور ،بٹالین کی سطح سے اوپر یعنی بریگیڈ، ڈویژن ، کور اور جی ایچ کیو کے درمیان مواصلات قائم کرتی ہے، لیکن جدید زمانے میں ان کا کام کہیں زیادہ بڑھ گیا ہے۔ دشمن کی باہمی پیام رسانی کی ٹوہ میں رہنا، بوقتِ ضرورت دشمن کے مواصلاتی نظام کومعطل (Jam) کرنا،مصنوعی سیاروں کے ذریعے دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا سگنلز کور کی ذمّہ داریوں میں شامل ہے۔
سگنلز کورکے افسروں اور جوانوں کو بھی اعلیٰ تعلیم کے بہترین مواقع مہیا کیے جاتے ہیں۔ اس وقت پاک فوج کی سگنلز کورمیں بیرونِ ملک سے تعلیم یافتہ پی ایچ ڈی افسر تک موجود ہیں ۔

 فضائی دفاع ) آرمی ایئر ڈیفنس )

حساس اورنازک آلات او رہتھیاروں کے استعمال کے ماہرافراد، آرمی ایئر ڈیفنس میں شامل ہوتے ہیں۔ ان کامقصد زمین پرلڑنے والی فوج کا فضائی حملے سے دفاع کرنا ہے۔ اس شعبے کے افراد کو فنی مہارت کی بہترین تربیت دی جاتی ہے۔ ریڈار کا استعمال سکھایا جاتا ہے۔ توپ خانہ، میزائل ، فائر کنٹرول اور ٹریکنگ ، وہ چند شعبے ہیں جن میں ان کی تربیت اورفنی مہارت کی آزمائش ہوتی ہے ۔

 آرمی سروس کور

یہ کور پوری فوج کو متحرک رکھنے اور ضروریاتِ زندگی کی اشیا کی فراہمی کی ذمہ دار ہے۔ ٹینکوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کے لیے اس کے پاس بڑی اوربھاری گاڑیاں ہوتی ہیں۔ میدان جنگ میں ان کا اہم کام اگلے مورچوں تک غذائی اشیا کی فراہمی ہے ، ان کا نعرہ( موٹو) ہے ”ہم کبھی ناکام نہیں “ (We Never Fail) اب تک ہونے والی جنگوں میں انھوں نے یہ قول بہ طریقِ احسن نبھایا ہے ۔