صفحہ اول » برّی فوج

برّی فوج

 آرمی میڈیکل کور

یہ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ امن کے دنوں میں تمام فوجی افراد اوران کے والدین سمیت اہلِ خاندان کو طبی سہولتیں فراہم کرتی ہے اور جنگ کے دنوں میں میدانِ جنگ سے زخمیوںکو اسپتال تک لانے کی ذمہ دار ہے۔ گزشتہ دہائیوں میں یہ کور بڑی وسعت اختیار کر گئی ہے۔ اس کے ایک شعبے میں جنرل تک کے رینک کے کئی افسر ہوتے ہیں۔ آرمڈ فورسز میڈیکل کالج میںاے ایم سی کے افسروں کے لیے اعلیٰ تعلیم کے کئی کورس چلائے جاتے ہیں۔

 آرڈیننس کور

میدانِ جنگ سے مناسب فاصلوں پرگولہ بارود کے ذخیرے تیار رکھنا اس کور کی اہم ذمہ داری ہے ۔ جوانوں اور جونیئر کمیشنڈ افسروں کے لباس ان کی ضروریات کی دیگر اشیا ، جیسے کمبل، چارپائیاں وغیرہ اور فوج میں استعمال کی بہت سی اشیا بھی آرڈیننس کور فراہم کرتی ہے ۔

( کور آف الیکٹریکل اینڈ میکینکل ( ای ایم ای

ایک چھوٹے سے وائر لیس سے لے کر بھاری گاڑیوں، ٹینکوں، توپوںاور ہیلی کاپٹروں تک کی مرمت ای ایم ای کی ذمہ داری ہے۔ خراب گاڑیوں کو واپس لانا اورانھیں ٹھیک کرکے واپس بھیجنا ان کا اہم کام ہے۔ اس کے لیے مختلف سطحوں پر مختلف ورک شاپ قائم کیے جاتے ہیں ۔
اس شعبے میں کام کرنے والوں کے لیے بنیادی تربیت کا اہتمام ای ایم ای سینٹریا ای ایم  ای کالج میں ہوتا ہے ۔

 آروی اینڈ ایف سی

فوج کو فراہم کیے جانے والے گوشت اور مچھلی کا معائنہ اور حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق ان کے قابلِ استعمال ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں رائے دینا، فوج کے استعمال کے لیے گھوڑے ، خچر اور گوشت اوردودھ کی فراہمی کے لیے جانور مہیا کرنااور ان جانوروں کی طبی دیکھ بھال آر وی اینڈ ایف سی کی ذمہ داری ہے۔ یہ لفظ مخفف ہے ریماﺅنٹ، ویٹرنری اینڈفارمز کور کا۔ جانوروں کی پرورش کے لیے یہ کور ہزاروں ہیکٹر پر مشتمل فارمز قائم کرتی ہے جہاں سے تازہ چارہ اور بھوسا فراہم ہوتا ہے ۔
گھوڑوں ، خچروں اور گائے بھینسوں کے علیحدہ فارم ہوتے ہیں جہاں اعلیٰ قسم کے جانوروں کی افزائش کی جاتی ہے۔ دودھ اور اس کی مصنوعات کے لیے جدید ترین مشینری کی مدد سے ڈیری فارمز قائم کیے گئے ہیں جہاں سے پوری فوج کود ودھ ، مکھن ، پنیر اور دیگرمصنوعات فراہم کی جاتی ہیں ۔ اعلی نسل کے کتوںکی پرورش اور ان کی تربیت کے لیے آرمی ڈاگ بریڈنگ سینٹر قائم ہے ۔

 آرمی ایجوکیشن کور

کہا جاتا ہے کہ جنگ ، میدانِ جنگ میں نہیںبلکہ انسانی دماغوں میںہاری اور جیتی جاتی ہے ۔ آرمی ایجوکیشن کور فوج میں شامل ہونے والوں کی ذہنی تربیت کی ذمہ دار ہے اور اس کور کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ فوج میں جوان کی سطح سے لے کرجنرل تک کوئی شخص ایسا نہیں ہوتا جس نے کسی نہ کسی مرحلے پر ایجوکیشن کورکے کسی افسر کے سامنے زانوئے تلمذتہ نہ کیا ہو۔ ایجوکیشن کورکے افسروں کی سب سے زیادہ نفری پاکستان ملٹری اکیڈمی میں ہوتی ہے جہاں وہ انٹر میڈیٹ پاس کرکے آنے والوں کو گریجویٹ بناتے ہیں۔ ہر بریگیڈ، ڈویژن اور کور میں ایجوکیشن کور کا ایک افسر ہوتا ہے جو تعلیمی معاملات میں کمانڈر کا مشیر ہوتا ہے ۔

( اسپیشل سروسز گروپ ( ایس ایس جی یا کمانڈوز

تمام آرمز اور سروسز جسمانی طور پر سخت جان افراد کو منتخب کرکے انھیں خاص تربیت دی جاتی ہے ۔
اسپیشل سروسز گروپ کے جاں باز کئی ہنروں کے ماہر ہوتے ہیں۔ یہ وہ سرفروش ہوتے ہیں جنھیں کسی بھی مشن پر، کسی بھی وقت،اعتماد کے ساتھ بھیجا جاسکتا ہے۔ بہترین تربیت یافتہ افراد اور انتہائی نوعیت کے نظم کے پابند، جسمانی اورذہنی طور پر اعلیٰ ترین صلاحیتوں کے حامل ، یہ ہمیشہ جنگ کے پیچیدہ اور خصوصی مرحلوں سے نبرد آزما ہوتے ہیں۔ ایس ایس جی کا نشانِ افتخار صرف انھی کے سینوں پر آویزاں کیا جاتا ہے جو صرف ”بہترین“ ہوں ۔

فوجی افسر

بری فوج میں نوجوانوں کو بہ طور افسر شامل کیا جاتا ہے اور ضروری تعلیم و تربیت کے بعدانھیں افسر کے عہدے پر فائز کرکے چند افراد اور سازو سامان کا ذمہ داربنادیا جاتا ہے۔ افسر کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے یونٹ کے جوانوں اور ماتحت افسروں کی تعلیم و تربیت کا بندوست کرے، تربیت کا شیڈول بنائے اوریونٹ کے انتظامی امور کو چلائے۔ ماتحت افسربھی ترتیب کا شیڈول مرتب کرسکتے ہیں لیکن یہ تربیت کب اور کس انداز سے دی جائے گی، اس کا فیصلہ افسر کرتا ہے۔ افسرکی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ وہ اپنے ماتحت افسروں اور جوانوں کی فلاح و بہبود کا خیال رکھے۔ اگر یونٹ کے کسی جوان کوکوئی مشکل درپیش ہو تو افسر اسے مشورہ دے کر اس کی مشکل حل کرسکتا ہے۔ جوانوں اور ماتحت افسروں کا اعتماد حاصل کیے بغیر افسراپنے فرائض خوش اسلوبی سے انجام نہیں دے سکتا۔

تدبیر /جنگی قیادت

جنگ کے دوران افسر کا سب سے اہم کا یہ ہے کہ وہ اپنے یونٹ کے ” فیصلے“ کرے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ افسر کو نہ صرف ہر قسم کے ہتھیاروں اور اسلحے سے واقف ہوناچاہیے جو اس کے جوان استعمال کرتے ہیں،بلکہ اسے جنگی تدابیر کے فن (علاقے کا استعمال، کمیوفلاج،نقشہ پڑھنا) کا بھی ماہر ہونا چاہیے۔ جنگ ہو یا امن، افسر کو ہر حالت میں قیادت کا فرض ادا کرنا ہوتا ہے۔ان تمام باتوں کا انحصار افسرپر ہی ہوتا ہے کہ وہ اپنے یونٹ کو کہاںاُتارے اوردستیاب وسائل کو کس طرح بہترین طریقے سے استعمال کیا جائے، خواہ وہ پیدل فوج کا یونٹ ہو، رسالے کا یا توپ خانے کا۔یہ تمام ذمہ داریاں اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے بہ احسن پوری کرنا ہوتی ہیں کہ افسروںکے حکم کی تعمیل کی جائے اور فوج کی سرگرمیوں میں شامل دوسرے معاون شعبوں کو پیشِ نظر رکھا جائے۔

ماحولِ کار

چوںکہ فوج کی تربیت اس طرح کی جاتی ہے کہ وہ ہر طرح کے حالات میں دشمن کا مقابلہ کرسکے، اس لیے افسروں اور جوانوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ مختلف نوعیت کے ماحول اور حالات سے نمٹ سکتے ہیں۔ آندھی، برسات، برف باری،سخت سردی، شدید گرمی….کیسا ہی موسم ہو، فوج کواپنا کام کرنا ہوتاہے۔ بارش کے موسم میں جب ٹینک کھیتوںاور کھلیانوں سے گزرتے ہیں تو وہاں دلدل اور کیچڑ کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ گرمیوں میں جب ٹینک صحرائی علاقوں سے گزرتے ہیں توخاک اور دھول کے بادل فضا کو ڈھانپ لیتے ہیں، جوانوںکوگرم موسم میں بندگاڑیوں میں محاذ پر پہنچایا جاتا ہے۔ ان گاڑیوں میں جگہ تنگ ہوتی ہے۔ اس لیے فوج کے افسروںاورجوانوں کوہر طرح کے موسم اور مشکل حالات کا عادی ہوناہوتا ہے ۔

ترقی کے امکانات

بری فوج میں ترقی کے مواقع افسرکی ذاتی قابلیت، صلاحیت اور مطلوبہ امتحان میں کامیابی سے مشروط ہیں۔ ترقی کے ہر اگلے موقعے کے لیے ضروری تربیت فراہم کی جاتی ہے۔
سیکنڈ لیفٹیننٹ سے لیفٹیننٹ بننے میں بالعموم ایک سال کا عرصہ لگتا ہے۔ لیفٹیننٹ سے کیپٹن کے عہدے پر ترقی چار سال سے ساڑھے چار سال کے عرصے میں ہوسکتی ہے،کیپٹن سے میجر کے عہدے تک پہنچنے کے لیے سات سال کا عرصہ درکارہوتا ہے۔ میجر سے اوپر کے عہدوں کے لیے ، گنجائش کے مطابق اہلیت اور صلاحیت کے پیشِ نظر موزوں امیدواروں کو منتخب کرکے ترقی دی جاتی ہے ۔

ذاتی خصوصیات

فوج کے افسروں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ نظم و ضبط کی پابندی کریں اور خود نظم و ضبط کا مظاہرہ کریں۔ لیکن افسر کے لیے سب سے اہم خصوصیت قائدانہ صلاحیت ہے، افسریا قائد کا مطلب یہ ہے کہ آپ آزادانہ فیصلے کرسکیں۔ اس کام کے لیے خود اعتمادی ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ہی اپنے ماتحتوں میں بھی اعتماد پیدا کرنا ہوتا ہے۔ تجزیاتی ذہن اور حالات کو سمجھ کر فوری فیصلہ کرنے کی صلاحیت لازمی ہے۔ افسر کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ موصولہ اطلاعات کا فوری تجزیہ کرسکے ۔ اپنے کام میں ماہر ہو اور اپنے خیالات دوسروں تک واضح طور پر پہنچا سکے۔ افسر کو دوسروں کے ساتھ مل جل کر رہنے اور کام کرنے کا عادی ہونا چاہیے تاکہ وہ اپنے ماتحتوں اورجوانوں کے ساتھ رفاقت کا جذبہ پیدا کرسکے ۔

بری فوج میں بہ طور افسر داخل ہونے کا طریقہ

پاکستان کی بری فوج میں افسر کی حیثیت سے شامل ہونے کے لیے کئی مواقع ہیں جن کی تفصیلات وقتاً فوقتاً اخبارات میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔ ان مواقع کامختصر تعارف درجِ ذیل ہے :

پی ایم اے لانگ کورس

بارہویں جماعت یا اس کے مساوی یا سینئر کیمبرج( پانچ مضامین کامیاب اور ہائی سینئرکیمبرج کے دو مضامین کامیاب) یا اے لیول کامیاب یا اولیول کے لازمی انگریزی کے ساتھ پانچ مضامین کامیاب اوراے لیول کے دو مضامین کامیاب نوجوان پی ایم اے لانگ کورس میں شامل ہوسکتے ہیں۔ عمرکی حد 17 سے 22 سال اور حاضر سروس مسلح افواج کے افراد کے لیے 23 سال ہے۔ انٹرمیڈیٹ میں کم سے کم ڈی گریڈ (40 فیصد نمبر) ہوناچاہیے۔ انتخاب کے مراحل میں کامیاب ہونے والوں کو پاکستان ملٹری اکادمی کاکول میں دو سال کی تعلیم و تربیت دی جاتی ہے۔ تربیت کی تکمیل پر انھیں بی اے /بی ایس سی کی سند کے ساتھ فوج میں بہ طور افسر کمیشن دے دیا جاتا ہے ۔
پی ایم اے لانگ کورس میں داخلے کے لیے سال میں دو بار اپریل اوراکتوبر میں درخواستیں طلب کی جاتی ہیں ۔