صفحہ اول » برّی فوج

برّی فوج

انتخاب کا طریقہ

پاکستان کی مسلح افواج میں پاکستان اور آزاد کشمیر کے شہری شامل ہوسکتے ہیں۔ پی ایم اے لانگ کورس کے داخلے کا اعلان کے وقت امیدواروںکو غیر شادی شدہ ہونا چاہیے تاہم مسلح افواج کے حاضر سروس افرادکے لیے یہ پابندی نہیں ہے۔
پی ایم اے لانگ کورس میںداخلے کے اعلان کے بعدامیدوار کو بری فوج کے بھرتی دفاتر (پتے مضمون کے آخر میں دیکھیے ) میں کسی ایک پر اپنی تعلیمی اسناد کے ساتھ حاضر ہونا چاہیے۔ آرمی ریکروٹنگ اینڈ سلیکشن سینٹر پرامیدواروں کا ابتدائی ذہانت کا امتحان اورتحریری امتحان لیا جاتا ہے۔ اب ابتدائی امتحانات اور طبی معائنے میں کامیاب ہونے والے متعلقہ امیدواروں کو درخواست فارم دیا جاتا ہے، جسے پر کرکے دو تین دن کے اندرمتعلقہ سینٹر میں جمع کرانا ہوتا ہے۔ آرمی سلیکشن اینڈ ریکروٹنگ سینٹر سے بھیجی گئی کامیاب امیدواروں کی فہرست جی ایچ کیو میں،امیدواروں کے میٹرک/انٹر کے نشانات( نمبروں) کے ساتھ مرتب کی جاتی ہے اوراہل امیدواروں کوآئی ایس ایس بی میں امتحان اور انٹرویو کے لیے بلایا جاتا ہے۔ آئی ایس ایس بی سے پہلے یا بعد میں امیدواروں کا کسی قریبی ملٹری اسپتال میں تفصیلی طبی معائنہ ہوتاہے۔ آئی ایس ایس بی کے مراکز کوہاٹ ، گوجرانوالہ اور کراچی میں ہیں۔ آئی ایس ایس بی میں حاضر ہونے والے امیدواروںمیں سے کامیاب امیدواروںکی فہرست جنرل ہیڈکوارٹر میں مرتب کی جاتی ہے ۔
جو امیدوار جس مرحلے پر ناکام ہوجائے، اس کی اطلاع اسے دے دی جاتی ہے ۔

گریجویٹ /ٹیکنیکل گریجویٹ کورس

بی اے یا بی ایس سی یا اس سے اعلی تعلیم حاصل کرنے کے بعد فوج میں ڈائریکٹ شارٹ سروس کمیشن حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اس میں بھی انتخاب کا طریقہءکا روہی ہے جواوپربیان کیا گیا ہے۔ متعلقہ مضمون میں فرسٹ یا سیکنڈ ڈویژن کامیاب امیدوار درخواست دے سکتے ہیں۔ عمر کی حد 28 سال ہے۔ ایم اے ، ایم ایس سی، درسِ نظامی یا اسلامیات میں ایم اے کے حامل امیدواروں کے لیے عمرکی حد 35 سال ہے۔ مضامین کے لحاظ سے مختلف کوروںمیں شمولیت کی تفصیلات درجِ ذیل ہیں :
تعلیمی قابلیت     کورس     ٹریننگ کی مدت
بی ایس سی انجینئرنگ
-1 الیکٹریکل یا میکینکل     الیکٹریکل اور میکینکل کور
-2 الیکٹرانکس     سگنل کور     ایک سال
-3 سول    انجینئرنگ کور     ایک سال
ایم بی بی ایس     آرمی میڈیکل کور دس ہفتے آرمی میڈیکل کورسینٹر میں
بی ڈی ایس      آرمی ڈینٹل کور
ڈی وی ایم     ریماﺅنٹ اینڈ وٹرنری کور     دس ہفتے
ایم اے /ایم ایس سی     آرمی ایجوکیشن کور     اکیس ہفتے
درس نظامی +ایم اے اسلامیات     (شعبہ دینی تعلیمات)     اکیس ہفتے
آرمی میڈیکل کور اور ڈینٹل کور کے علاوہ دیگر کیڈٹوں کو مذکورہ تربیت پی ایم اے میں دی جاتی ہے ۔ تربیت کی تکمیل کے بعد کیڈٹوں کوکیپٹن کے عہدے میں کمیشن ملتا ہے۔ آرمی ایجوکیشن کور یا اس کے شعبہ دینی تعلیمات میں ایم فل یا پی ایچ ڈی کی شکل میں عمرمیں چھوٹ اوررینک میں مزید سنیارٹی یا ترقی کے لیے گزشتہ سروس کو شمار کیا جاسکتا ہے ۔
پی ایم اے میں تربیت کے بعد یہ افسر اپنی اپنی کور کے مخصوص کالجوں میں اپنی کور کے بارے میں بنیادی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ پھر سروس کے مختلف مرحلوں میں بھی دوسرے افسروں کے ساتھ ان کی تربیت کا مزید اہتمام کیا جاتا ہے۔

پری میڈیکل گروپ

پری میڈیکل میں ایف ایس سی کرنے والے طلبہ جنھوں نے کم از کم 65 فیصد نمبر حاصل کیے ہوں اورجن کی عمر 17 سال کے درمیان ہو،آرمی میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس کرنے کے لیے درخواست دے سکتے ہیں، منتخب ہونے پرانھیں پانچ سال کے لیے آرمی میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس کا کورس کروایا جاتا ہے جس کی تکمیل پر وہ دس ہفتوں کے لیے آرمی میڈیکل کورسینٹر جاتے ہیں جہاں انھیں خالص فوجی تربیت دی جاتی ہے۔ تربیت کی تکمیل پر انھیں کپتان کے رینک میں کمیشن ملتا ہے ۔
اس اسکیم کے تحت چند نشستیں خواتین امیدواروں کے لیے بھی مخصوص ہوتی ہیں۔

ٹیکنیکل کیڈٹ اسکیم

ایف ایس سی کرنے والے نوجوان ٹیکنیکل کیڈٹ اسکیم کے ذریعے بھی کمیشن حاصل کرسکتے ہیں ۔ اس اسکیم کے تحت پری انجینئرنگ میں ایف ایس سی کرنے والے جنھوں نے این سی سی سمیت کم ازکم 60 فیصد نمبرلیے ہوں، درخواست دینے کے اہل ہوتے ہیں۔ درخواست فارم آرمی سلیکشن سینٹروں سے حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ انھیں احتیاط سے بھر کر مندرجہ ذیل پتے پر بھیجنا ہوتا ہے :

جنرل ہیڈ کوارٹرز

پی اے ڈائریکٹوریٹ ( پی اے ۔3 بی )، راول پنڈی
درخواستوں کی جانچ پڑتال کے بعد ایف سی لیول کا فزکس ،کیمسٹری اور حساب میں ایک امتحان لیا جاتا ہے جو پشاور، راولپنڈی ، لاہور ، ملتان، حیدر آباد، کراچی اور کوئٹہ میں منعقد ہوتا ہے۔ کامیاب امیدوار آئی ایس ایس بی کے لیے بلائے جاتے ہیں ۔ یہاں سے کامیاب امیدوار خود کو قریبی فوجی اسپتال میںطبی معائنے کے لیے پیش کرتے ہیں پھرحتمی فہرست تیار ہوتی ہے۔ ناکام امیدواروں کو پی ایم اے کے لانگ کورس کے لیے زیرِ غورلایا جاسکتا ہے۔ کامیاب امیدوار فوج کے مختلف کالجوں میں تعلیم پاتے ہیں جس کی تفصیل یہ ہے :

ملٹری کالج آف انجینئرنگ

یہ ڈگری دینے والا ادارہ ہے۔ بیرونی امتحانات یونی ورسٹی آف انجینئرنگ اینڈٹیکنالوجی لاہور، انجینئرنگ یونی ورسٹی پشاور اور این ای ڈی یونی ورسٹی کراچی کے زیرِ اہتمام منعقد ہوتے ہیں۔ یہاں کے گریجویٹ اعلیٰ تعلیم کے لیے امپیریل کالج آف لندن، اور امریکا کے ایم آئی ٹی جیسے اداروںکے لیے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ہیں ۔
1988ءسے یہاں پاکستان کی تینو ں یونی ورسٹیوں اورمشی گن اسٹیٹ یونی ورسٹی کے الحاق سے ایم ایس سی سول انجینئرنگ کے تین مضامین میں کلاسیں بھی شروع ہیں۔ ٹیکنیکل کیڈٹ اسکیم کے تحت آنے والے کیڈٹ یہاں ڈھائی سال تعلیم حاصل کرکے بی ایس سی کی ڈگری حاصل کرتے ہیں ۔

ملٹری کالج آف سگنلز

یہ کالج ڈگری کے لیے یونی ورسٹی آف انجینئرنگ اینڈٹیکنالوجی لاہور سے الحاق شدہ ہے۔ ساڑھے تین سال کی تربیت کے بعد یہاں سے ٹیلی کمیونیکیشن میں بی ایس سی کی ڈگری ملتی ہے۔

کالج آف الیکٹریکل اینڈمیکینکل انجینئرنگ

یہ کالج بھی یونی ورسٹی آف انجینئرنگ اینڈٹیکنالوجی سے الحاق شدہ ہے ۔ یہاں آنے والے کیڈٹ ساڑھے تین سال کی تربیت کے بعد الیکٹریکل یا میکینکل کے شعبے میں بی ایس سی کی ڈگری حاصل کرتے ہیں ۔
ان تینوں کالجوں سے ڈگری حاصل کرنے کے بعد ان کیڈٹوں کو فوجی تربیت کے لیے پاکستان ملٹری اکیڈمی بھیجا جاتا ہے جہاں ایک سال کی تربیت کے بعدبہ طورکیپٹن انھیں فوج میں کمیشن ملتا ہے ۔ اس اسکیم میں شامل ہونے والے کیڈٹوں کے تمام تعلیمی اخراجات فوج برداشت کرتی ہے۔ انھیں وردی مفت مہیا کی جاتی ہے ، قیام وطعام کی ذمہ داری بھی فوج کی ہوتی ہے۔ تاہم شمولیت کے خواہش مند افراد سے یہ اقرار نامہ لیا جاتا ہے کہ تعلیم کی تکمیل پر وہ کم از کم تیرہ سال فوج میں خدمت کریں گے ۔
پاکستان ملٹری اکادمی ، کاکول
پاکستان ملٹری اکادمی ،کاکول پاک فوج کے لیے منتخب کیے جانے والے افسروں کی تربیت گاہ ہے۔ جو نوجوان انٹر سروسز سلیکشن بورڈ( آئی ایس ایس بی) سے کامیاب ہوتے ہیں انھیں تربیت کے لیے پی ایم اے میں داخل کرلیا جاتا ہے۔ پی ایم اے کے مہ و سال ، زندگی کا ناقابل فراموش تجربہ ہوتے ہیں۔ اس تربیت گاہ میں پاکستان کے کسی شہر یا دیہات سے آنے والے عام سے نوجوان کو ایسی تربیت دی جاتی ہے کہ وہ ایک ”فوجی افسر“ بن کر نکلتا ہے۔
پی ایم اے میں ہر روز زندگی کا آغاز صبح سویرے ہوتا ہے۔ طلو ع آفتاب سے قبل جسمانی ورزش کرائی جاتی ہے، دوڑایا جاتا ہے، گھنٹوں جی تھری رائفل سے نشانہ بازی کی مشق کرائی جاتی ہے۔ میلوں پیدل مارچ ہوتا ہے اور متواتر کئی کئی دن اور رات ، جنگی تدابیر، کیمپنگ اور پیٹرولنگ کی مشق کرنی ہوتی ہے۔ یہ نہایت سخت زندگی ہوتی ہے لیکن ناممکن نہیں ہوتی۔ کیڈٹ کی سخت تربیت کے دشوارمرحلے سے گزرنے کے بعد فوجی وردی پہننے والے نوجوان کے کاندھے پرستارے جگمگاتے ہیں جو مستقبل کے بہت سے ستاروں کے پیام بر ہوتے ہیں۔ یہی تربیت ذہن کو بےدار کرتی ہے، صلاحیتوں کو جلا بخشتی ہے اور جسم کو چاق چوبند اور چست بناکر فوجی افسر کا مطلوبہ معیار پیدا کردیتی ہے۔ نوجوانوں میں خود اعتمادی کا ایک نیا احساس بےدار ہوتا ہے، ذمہ داریوں کو قبول کرنے اور ان سے کامیابی سے عہدہ برآ ہونے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔
پی ایم اے میں تعلیم وتربیت کے دوران کیڈٹ کو معقول وظیفہ دیا جاتا ہے ،اس کی رہائش، کھانا، تعلیم، علاج اور لباس مفت ہوتے ہیں۔
پی ایم اے سے بی اے یا بی ایس سی کرنے کے بعد اگر امیدوار کی خواہش اور صلاحیت ہو تو اسے اندرون ملک اور بیرون ملک اعلیٰ تعلیم کا موقع بھی حاصل ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ اسکول کے درجے پر بھی چند درس گاہیں ہیں جہاں نو عمر طلبہ کو چھٹی، ساتویں یا آٹھویں جماعت میں داخلہ دیا جاتا ہے اور عام درسی تعلیم کے ساتھ فوجی تربیت بھی فراہم کی جاتی ہے۔ بری فوج کی درجِ ذیل درس گاہیں ہیں، جہاں کے سند یافتہ نوجوانوں کو پی ایم اے لانگ کورس کے ابتدائی انتخاب و امتحان کے مرحلے سے استثنیٰ حاصل ہوتا ہے۔
-1 ملٹری کالج ، جہلم -2 آرمی برنس ہال کالج ، ایبٹ آباد -3 ایچی سن کالج ، لاہور -4 لارنس کالج، مری -5 کیڈٹ کالج کوہاٹ -6 کیڈٹ کالج ،پشاور -7 کیڈٹ کالج حسن ابدال -8 کیڈٹ کالج، مستنگ -9 کیڈٹ کالج ،رزمک -10 کیڈٹ کالج ، پٹارو -11 کیڈٹ کالج لاڑکانہ ۔ مزید تفصیلات کے لیے اپنے قریبی آرمی سلیکشن اینڈریکروٹنگ سینٹرآفس سے رابطہ کیجیے۔ ان کے فون نمبر درج ِذیل ہیں ۔
پشاور 770392     راول پنڈی 56134237
لاہور3792803     ملتان 71350
حیدر آباد 278365    کراچی 7782711
کوئٹہ 7602454

[/urdu]