صفحہ اول » انجینرنگ سے متعلق پیشے » ایئر ٹریفک کنٹرولر

ایئر ٹریفک کنٹرولر

airtrafic-controller-imageایئر ٹریفک کنٹرولر

زندگی کے بہت سے راستوں میں ایک راستہ نقل و حمل یا ٹرانسپورٹیشن کا ہے، ایک مقام سے دوسرے مقام تک نقل و حمل افراد کی بھی ہوتی ہے اور سامان کی بھی۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی نے نقل و حمل کے میدان میں بھی جادو جگائے ہیں اور تیز رفتار سواریوں کی وجہ سے دنیا سکڑ کر رہ گئی ہے۔ بری ، بحری اور فضائی راستوں پر چلنے والی عام سواریوں میں ہوائی جہاز یا طیارے سب سے تیز رفتار وسیلہء سفر ہیں جو ایک وقت میں سینکڑوں افراد اور ہزاروں ٹن سامان کو چند گھنٹو میں ہزاروں میل دور پہنچا دیتے ہیں۔
عام مسافر طیاروں کو اڑانے والے تو پائلٹ یا ہوا باز ہوتے ہیں، لیکن جو لوگ فضا میں ان طیاروں کے محفوظ سفر، ہوائی اڈے سے ان کی محفوظ اڑان (ٹیک آف) اور بہ حفاظت اترنے (لینڈنگ) کے ذمہ دار ہوتے ہیں، وہ طیارے سے بہت دور کسی کمرے یا مینار (ٹاور ) میں بیٹھ کر کام کرتے ہیں۔ان لوگوں کو ایئر ٹریفک کنٹرولر کہا جاتا ہے اور بہ حیثیت مجموعی یہ لوگ فضا میں اور زمین پر ہوا بازی کے بین الاقوامی قوانین کے مطابق، طیاروں کی محفوظ آمدورفت کا نازک کام انجام دیتے ہیں۔ اس مضمون میں ایئر ٹریفک کنٹرولر کے پیشے کے بارے میں گفتگو کی جائے گی۔

پیشے کا تعارف، کام کی نوعیت

جیسا کہ ابتدا میں بتا یا گیا ہے، ایئر ٹریفک کنٹرولر فضا میں، فضائی راستوں پر طیاروں کی پرواز اور کسی ایئر پورٹ کے نزدیک پہنچنے پر اس کی نقل و حرکت اور زمین سے طیارے کی اڑان یا فضا سے زمین پر طیارے کے اترنے کے عمل اور ایئر پورٹ پر اس کی نقل و حرکت کی نگرانی (کنٹرول) کرتے ہیں۔ ہر بڑے ایئر پورٹ کا ایک مخصوص حلقہء نگرانی ہوتا ہے جب تک کوئی طیارہ اس حلقہء نگرانی کی حدود میں رہتا ہے، اس کی پرواز اور نقل و حرکت کی تمام ذمہ داری متعلقہ ایئر پورٹ کے ایئر ٹریفک کنٹرول ٹاور پر عائد ہوتی ہے۔
حلقہء نگرانی کے افراد یا ایئر ٹریفک کنٹرولر اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ ان کی فضائی حدود میں پرواز کرنے والے طیارے ایک دوسرے سے محفوظ فاصلوں پر رہیں اور مختلف بلندیوں پر پرواز کرتے رہیں۔ یہ لوگ اس بات کو بھی یقینی بناتے ہیں کہ ان کی فضائی حدود کے اندر جو طیارے داخل ہوں، انھیں تربیت یافتہ اور اہل ہوا باز اُڑا رہے ہوں اور طیارے میں وہ تمام ضروری آلات نصب ہوں جو محفوظ پرواز کے لیے ضروری ہیں۔ ایئر ٹریفک کنٹرولر شہری ہوا بازی کے قوانین پر عمل درآمد کا بھی خیال رکھتے ہیں اور طیاروں کی محفوظ پرواز کے لیے موسم اور ہوا کی رفتار کا حساب بھی رکھتے ہیں اور ہوا بازوں کو موسم کی کیفیت اس میں ردّ و بدل اور متعلقہ فضائی حدود میں دوسرے طیاروں کی موجودگی اور سمت پرواز سے بھی آگاہ کرتے رہتے ہیں۔
پاکستان میں تو فی الحال یہ صورتِ حال نہیں ہے لیکن دنیا کے بعض مصروف ایئر پورٹس پر بہت زیادہ ٹریفک کی وجہ سے چند لمحوں یا منٹوں کے وقفے سے طیارے پرواز کرتے ہیں ایسی جگہوں پر ایئر ٹریفک کنٹرولر اڑان کے لیے طیاروں کی قطار بندی کو بھی منظم کرتے ہیں۔
حلقہء نگرانی کے علاوہ ایئر ٹریفک کنٹرولر کا دوسرا اہم کام متعلقہ ایئر پورٹ پر ’’ایئر پورٹ کنٹرول‘‘ ہے۔ اس ضمن میں انھیں تین اہم کام انجام دینے ہوتے ہیں، جن میں طیاروں کی زمینی حرکت، ان کا اڑانا اور اترنا اور اترنے کے لیے ایئر پورٹ کے نزدیک پہنچنا شامل ہیں۔ دن کے اوقات اور اچھے موسم میں ایئر ٹریفک کنٹرولر، کنٹرول ٹاور سے آنے والے طیاروں اور ایئر پورٹ پر ان کی نقل و حرکت کا مشاہدہ کرتے ہیں لیکن رات کے اوقات یا خراب موسم میں جب حدِ نظر بہت کم ہوجاتی ہے، طیاروں کی حرکات کا مشاہدہ ریڈار سے کیا جاتا ہے۔ فلائٹ پروگریس اسٹرپ سے ایئر ٹریفک کنٹرولر کو یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ کوئی طیارہ اس کی فضائی حدود سے کب گزرے گا۔ ان معلومات کی بنیاد پر وہ اس طیارے کے اترنے، ہوائی اڈے پر اس کے ٹھہرنے اور پھر دوبارہ اڑان کے کاموں کو منظم کرتا ہے۔

داخلے کے لیے اہلیت اور تعلیم و تربیت کا ادارہ

پاکستان میں اسلام آباد، کوئٹہ اور پشاور کے سوا تمام شہری ایئر پورٹس اور شہری ہوا بازی کے امور کا ذمہ دار ادارہ سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) ہے۔ اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ کے ایئرپورٹ کا نظم و نسق سول ایوی ایشن اتھارٹی اور پاک فضائیہ کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ یہ ادارہ نہ صرف تمام ایئر پورٹس کاانتظام کرتا ہے بلکہ پاکستان کی فضائی حدود میں طیاروں کی آمدورفت، ان کی اڑان اور ان کے اترنے کے معاملات کی بھی نگرانی کرتا ہے، ایئر ٹریفک کنٹرولر۔۔۔سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ملازم ہوتے ہیں اور ان کا چناؤ اور فنی تربیت بھی سول ایوی ایشن اتھارٹی کی ذمہ داری ہے۔
ایئر ٹریفک کنٹرولر کے پیشے میں تربیت حاصل کرنے کے لیے بنیادی اہلیت بی ایس سی (پری انجینئرنگ) ہے (کمرشل پائلٹ کا لائسنس رکھنے والے افراد کو انٹرمیڈیٹ تک کی رعایت دی جاسکتی ہے) تاہم اگر آرٹس یا کامرس کا کوئی گریجویٹ داخلے کا امتحان کامیاب کرلے تو وہ بھی اس پیشے میں شامل ہوسکتا ہے۔ علاوہ ازیں جسمانی صحت اور خصوصاً نظر کا درست ہونا بہت ضروری ہے۔ داخلے کے لیے تحریری امتحان، انٹرویو اور طبی جانچ کے مراحل سے گزرنا ہوتا ہے۔
بہ طور ٹرینی انتخاب کے بعد کامیاب امیدواروں کو ایئر ٹریفک کنٹرولر کی عملی تربیت کے لیے سول ایوی ایشن ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ بھیجا جاتا ہے۔ یہ ادارہ حیدر آباد کے نزدیک واقع ہے۔ ایئر ٹریفک کنٹرولر کی حیثیت سے کام کرنے کے لیے اس ادارے میں امیدواروں کو ان کی اہلیت کے اعتبار سے مختلف کورس کرائے جاتے ہیں۔ یہ کورس چھ سے آٹھ ہفتوں کے ہوتے ہیں۔ متعلقہ کورسز کا مختصر تعارف نیچے درج ہے۔
1۔ایئر ٹریفک کنٹرولر اسسٹنٹ کورس
اس کورس کا مقصد یہ ہے کہ امیدوار کو ایئر ٹریفک کنٹرولر کی بنیادی معلومات بہم پہنچائی جائیں تاکہ وہ اے ٹی سی اسسٹنٹ کی ذمہ داریاں انجام دینے کے لیے تیار ہوسکیں۔ کم سے کم تعلیمی قابلیت انٹرمیڈیٹ (طبیعیات اور ریاضی) ہے۔ انگریزی سے اچھی طرح آگاہ ہونا ضروری ہے۔ اس کورس میں مندرجہ ذیل مضامین کی تعلیم و تربیت دی جاتی ہے۔ فضائی قوانین، اے ٹی سی معیارات، ایرو ناٹیکل انفارمیشن سروس، فلائٹ انفارمیشن سروس، سرچ اینڈ ریسکیو، ایئر نیوی گیشن، ریڈیو ایڈ ٹو ایئر نیوی گیشن، ایرو ڈرم اور ایرو ڈرم کنٹرول سروس، موسمیات، مواصلات ، اے ٹی سی جغرافیہ، آلٹی میٹرسیٹنگ پروسیجر، عملی تربیت۔