صفحہ اول » انجینرنگ سے متعلق پیشے » ایئر ٹریفک کنٹرولر

ایئر ٹریفک کنٹرولر

2۔بیسک اے ٹی سی کورس
اس کورس میں شامل ہونے کے لیے بی ایس سی (طبیعیات اور ریاضی) کی اہلیت رواں انگریزی اور 21سال عمر کی شرط لازمی ہے۔ علاوہ ازیں ہوا بازی کے شعبے میں تین سال کا فنی تکنیکی تجربہ ہونا بھی ضروری ہے۔ اس کورس کا مقصد یہ ہے کہ شہری ہوا بازی کے بین الاقوامی اصولوں اور قوانین کے مطابق ایئر ٹریفک کنٹرول آفیسر تیار کیے جائیں۔ تربیت کے دوران درج ذیل مضامین کی تعلیم و تربیت دی جاتی ہے۔
فضائی قوانین، ایئر و ڈرم، کنٹرول، ایئر ٹریفک سروس، موسمیات، سرچ اینڈ ریسکیو، ایرو ناٹیکل انفارمیشن سروس، فلائٹ نیوی گیشن، ریڈیو ایڈ ٹوایئرنیوی گیشن، کمیونی کیشن پروسیجر، اپروچ کنٹرول/ایریا کنٹرول پریکٹس اینڈ پروسیجر، عملی تربیت۔
ان دو بنیادی کورسز کے علاوہ دیگر متعدد کورس ہوتے ہیں لیکن ان کے لیے متعلقہ پیشے/ شعبے کا تجربہ ضروری ہے۔
اس تربیت کے بعد امیدوار بہ طور ٹرینی اے ٹی سی مختلف ایئر پورٹ پر تجربہ کار ایئر ٹریفک کنٹرولر کے تحت کام شروع کرتے ہیں اور جب وہ تجربے کے بعد اس قابل ہوجاتے ہیں کہ وہ خود اعتمادی کے ساتھ تنہا اپنے فرائض انجام دے سکیں تو حسبِ ضرورت انھیں ایئر ٹریفک کنٹرولر کی ذمہ داری سونپ دی جاتی ہے۔
فضائی آمدورفت اور ایئر ٹریفک کنٹرول کے شعبے میں ہونے والی جدید تحقیق و ترقی سے آگاہ کرنے اور دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے ایئر پورٹس کے حالات اور طریقوں سے واقف کرنے کے لیے سوال ایوی ایشن اتھارٹی اپنے ایئر ٹریفک کنٹرولرز کو سوئیڈن ، فرانس، برطانیہ اور سنگاپور میں تربیت کے لیے بھیجتی ہے۔
ذاتی خصوصیات
ایئر ٹریفک کنٹرولر کا کام انتہائی حاضر دماغی اور ذمہ داری کا ہے۔ ایک لمحے کی غفلت یا معمولی غلطی سے فضا میں یا زمین پر کسی بھی طیارے کو حادثہ پیش آسکتا ہے اور سینکڑوں مسافروں کی جانیں اور لاکھوں کروڑوں کی املاک خطرے میں پڑسکتی ہے۔ اس پیشے کا تقاضاہے کہ آدمی ہر وقت چاق چوبند اور دماغی طور پر مستعد رہے۔ ایسے ماحول میں وہی لوگ کامیابی سے اپنے فرائض انجام دے سکتے ہیں جو نہایت مضبوط اعصاب اور تیزی کے ساتھ حالات کا تجزیہ کرکے فوری طور پر فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ احساسِ ذمہ داری اور تحمل ضروری ہے۔ بہترین ذہنی اور جسمانی صحت اور بینائی کی درستی بنیادی شرائط ہیں۔ ہوا بازی سے دلچسپی اور ریڈیو، ٹرانس میٹر، ریڈار اور کمپیوٹر جیسے آلات سے لگاؤ نہایت مددگار ثابت ہوتا ہے۔ واضح آواز۔۔۔ریڈیائی مواصلات کی بنیادی ضرورت ہے۔
حالاتِ کار/ماحولِ کار
ایئر ٹریفک کنٹرول۔۔۔ایک مربوط نظام کا نام ہے جس کے مختلف یونٹ ہوتے ہیں اور ایک کامیاب ایئر ٹریفک کنٹرولر کو ان چار مختلف یونٹس میں اپنی اہلیت ثابت کرنی ہوتی ہے۔ تربیت کے دوران ، ہر یونٹ میں کام کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ یہ چار یونٹ درج ذیل ہیں۔
1۔فلائٹ انفارمیشن سینٹر 2۔ایریا اپروچ کنٹرول3۔کنٹرول ٹاور4۔ریڈار
ریڈار پر صرف وہی افراد کام کرتے ہیں جو پہلے تین یونٹس میں کام کرچکے ہوں۔
ایئر ٹریفک کنٹرولر کا کام چوں کہ انتہائی ذمہ داری کا ہے۔ اس لیے یہاں کام کرنے والے اعصابی تناؤ اور ذہنی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔ بڑے ایئر پورٹ پر طیاروں کی آمدورفت چوبیس گھنٹے ہوتی ہے اس لیے ایسی جگہوں پر شفٹوں میں کام کرنا ہوتا ہے۔ ایک شفٹ چھ گھنٹے کی ہوتی ہے۔ ایئر ٹریفک کنٹرولر کو جو آلات اس کے فرائض کی انجام دہی میں مدد دیتے ہیں، ان میں ریڈیو سب سے اہم ہے جس کے ذریعے کنٹرولر کا رابطہ طیارے کے ہوا باز اور دیگر ایئر پورٹس سے رہتا ہے۔
ایئر ٹریفک کنٹرولر کو اپنے شہر سے دور کسی دوسرے ایئر پورٹ پر کام کے لیے بھی بھیجا جاسکتا ہے۔
تنخواہیں
سوال ایوی ایشن اتھارٹی، ایئر ٹریفک کنٹرولر کا ابتدائی تقرر گروپ سات یا گروپ آٹھ میں کرتی ہے۔ گروپ سات کی بنیادی تنخواہ تقریباً ڈھائی ہزار روپے اور گروپ آٹھ کی بنیادی تنخواہ تقریباً پونے تین ہزار روپے ہے۔ مختلف الاؤنسز میں بنیادی تنخواہ کا ساٹھ فیصد کرایہ مکان کرایہ آمدورفت تین سو روپے ایل سی اے اور دو سو روپے یوٹیلٹی الاؤنس دس فی صد اور چار سو پچاس روپے طبی الاؤنس شامل ہے۔
مواقع
پاکستان نے شہری ہوا بازی کے شعبے میں گزشتہ سات آٹھ برسوں میں نمایاں ترقی کی ہے۔ 1980ء سے پہلے ہمارے یہاں کل انیس ایئر پورٹ تھے۔ جہاں سہولتیں بھی ناقص تھیں اور ایئر ٹریفک کنٹرول کا نظام بھی فرسودہ تھا۔ 1982ء میں سول ایوی ایشن اتھارٹی قائم کی گئی۔ (اس سے پہلے یہ وزارت دفاع کا ایک محکمہ تھا) اتھارٹی کے قیام کے بعد نہ صرف پرانے ایئر پورٹس کو وسعت دی گئی، وہاں جدید سہولتیں فراہم کی گئیں بلکہ چودہ نئے ایئر پورٹس بھی تعمیر کیے گئے اور ایئر ٹریفک کنٹرول کے نظام کو جدید بنایا گیا۔
اس وقت ملک میں 33ایئر پورٹ ہیں اور 3 ایئر پورٹ اور مارہ، رحیم یارخاں اور پارا چنار میں زیر تعمیر ہیں۔ 33ایئر پورٹس میں سے سات ایئر پورٹ بڑے اور 26فیڈر ہیں۔ بڑے ایئر پورٹس میں کراچی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے علاوہ اسلام آباد، لاہور ، فیصل آباد، ملتان، سکھر پشاور کے ایئر پورٹس شامل ہیں۔
کراچی میں ایک جدید ایئر پورٹ کی تعمیر کا کام شروع ہوگیا ہے۔ لاہور اور اسلام آباد ایئر پورٹس کی بھی توسیع و تجدید کے منصوبے ہیں۔ ان تین بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر سہولتوں میں اضافے کے بعد یہاں آنے والے طیاروں کی تعداد میں اضافہ ہوگا اور اسی رفتار سے ایئر ٹریفک کنٹرولر کے لیے مواقع پیدا ہوں گے۔
جون 1989ء کے اعداد و شمار کے مطابق، ان 33ایئر پورٹس پر 265 ایئر ٹریفک کنٹرولر کام کر رہے ہیں۔ جن میں گیارہ خواتین ہیں۔ پاکستان میں تربیت یافتہ ایئر ٹریفک کنٹرولر مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ مستقبل میں نہ صرف پاکستان میں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں بھی فضائی سفر کی سہولتوں اور فضائی مسافروں کی تعداد میں جیسے جیسے اضافہ ہوگا، ایئر ٹریفک کنٹرولر کے تحت نئے مواقع اسی رفتار سے پیدا ہوں گے۔
یہ ایک تخصیصی پیشہ (اسپیشلائزڈ فیلڈ) ہے جہاں مواقع بے شمار نہیں ہوتے بلکہ ہمیشہ محدود رہتے ہیں۔
ایئر ٹریفک کنٹرولر کے پیشے کے بارے میں مزید معلومات کے لیے اس پتے پر رابطہ کیجیے۔
جنرل منیجر ٹریننگ
سول ایوی ایشن اتھارٹی
قائدِ اعظم انٹر نیشنل ائیرپورٹ، کراچی