سول انجینئرنگ

تعلیم و تربیت کے ادارے
سول انجینئرنگ کے شعبے میں انجینئروں اور ٹیکنیشنوں کی ضرورت پوری کرنے کے لیے پاکستان میں ڈگری اور ڈپلومے کی سطح کی تعلیم و تربیت کا انتظام ہے۔ پری انجینئرنگ میں بارہویں جماعت کامیاب نوجوان چار سالہ ڈگری کورس کے لیے اور دسویں جماعت کامیاب نوجوان تین سالہ ڈپلوما کورس میں داخلے کے لیے درخواستیں دے سکتے ہیں۔
پاکستان کی مندرجہ ذیل انجینئرنگ یونی ورسٹیوں اور کالج میں سول انجینئرنگ ٹیکنالوجی کے شعبے موجود ہیں۔ 1988ءاور 1989ءکے دوران ان تعلیمی اداروں کے سول انجینئرنگ کے شعبے میں سال اوّل میں جتنی نشستوں پر داخلوں کی گنجائش تھی وہ تعداد ذیل میں درج ہے:
1۔یونی ورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، لاہور۔    201
2۔مہران یونی ورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، جامشورو    ….
3۔این ای ڈی یونی ورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، کراچی    208
4۔این ڈبلیو ایف پی یونی ورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی،پشاور    83
5۔مہران یونی ورسٹی کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی،نواب شاہ    79
6۔یونی ورسٹی کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، ٹیکسلا    61
7۔خضدار انجینئرنگ کالج، خضدار    30

داخلے کے لیے اہلیت
ملک کے جن چھ تعلیمی اداروں میں سول انجینئرنگ کے شعبے میں تعلیم کی سہولت دستیاب ہے ان میں ہر سال پری انجینئرنگ میں بارہویں جماعت کامیاب امیدواروں سے داخلے کے لیے درخواستیں طلب کی جاتی ہیں۔ عام داخلے میرٹ کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔بی ایس سی اور ڈپلومہ آف ایسوسی ایٹ انجینئر میں کامیاب امیدواروں کے لیے بھی چند نشستیں مخصوص ہوتی ہیں علاوہ ازیں شمالی و قبائلی علاقوں، غیر ملکی طلبہ، دیہی علاقوں کے طلبہ، کھلاڑیوں،متعلقہ درس گاہوں کے اساتذہ/ ملازمین کے بچوں، پروفیشنل انجینئرز کے بچوں، مسلح افواج کے ارکان کے بچوں کے لیے بھی نشستیں مخصوص ہوتی ہے۔

تعلیم و تربیت کا نصاب
سول انجینئرنگ کے بی ای یا بی ایس سی کی سطح کے نصاب میں اسلامیات کے علاوہ انجینئرنگ سائنس کے بنیادی مضامین کی تعلیم دی جاتی ہے۔ مضامین میں ڈیزائننگ ڈرائنگ، فراہمی و نکاسی آب، جیوٹیکنیکل انجینئرنگ، صحتِ عامہ کی انجینئرنگ، ہائیڈرولکس ریاضی، سرویئنگ، طبیعیات، کیمیا، مطالعہءپاکستان، تھرموڈائنامکس، اسٹرینتھ آف مٹیرل، انجینئرنگ ، کنسٹرکشن سوائل مکینکس ،اسٹرکچر تھیوری، فلیوڈ مکنیکس انجینئرنگ اکنامکس، ری انفورسڈ کنکریٹ اور کنسٹرکشن مینجمنٹ شامل ہیں۔ چوتھے سال کے دوران طلبہ کو گروپ کی شکل میں یا انفرادی طور پر ایک منصوبہ مکمل کرنا ہوتا ہے۔
اخراجات، وظائف اور سہولتیں
پاکستان میں جامعات کی داخلہ فیس اوسطاً چار سو روپے اور سالانہ فیس تقریباً ڈھائی سو روپے ہے ۔ہاسٹل میں رہنے والے طلبہ کو بھی نہایت ارزاں نرخوں پر رہائش کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔
انجینئرنگ کے طلباءکو سال اوّل میں کیلکولیٹر اور ڈرائنگ کا سامان خریدنا ہوتا ہے جس کی قیمت اندازاً ڈیڑھ اور دو ہزار روپے تک ہوتی ہے۔ نصاب کی کتابیں یونی ورسٹی لائبریری یا بک بینک سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔ بعض بنیادی اور اہم نوعیت کی کتابوں کی خریداری کے مصارف ڈیڑھ دو ہزار روپے ہوتے ہیں۔ مستحق طلبہ کو فیس میں رعایت بھی دی جاتی ہے۔ تقریباً تمام تعلیمی اداروں میں اپنے شعبے میں اعلیٰ تعلیمی کارکردگی ظاہر کرنے والے طلبہ کو وظائف دیے جاتے ہیں۔
سول انجینئرنگ میں اعلیٰ اعزاز کے ساتھ ڈگری حاصل کرنے والے طلبہ کو مختلف تعمیراتی اداروں کی جانب سے سونے کے تمغے دیے جاتے ہیں۔
جامعہ پشاور میں گیمن (پاکستان) میڈل، واپڈا میرٹ میڈل اور قبائلی علاقوں کے امیدوار کو صدارتی ایوارڈ دیا جاتا ہے۔ این ای ڈی یونی ورسٹی میں میرٹ گولڈ میڈل،لاہور انجینئرنگ یونی ورسٹی میں دو طلبہ کو امپریل کنسٹرکشن کمپنی کی اسکالر شپ دی جاتی ہے۔

ذاتی خصوصیات
سول انجینئروں کو اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران حقیقی اور عملی نوعیت کے مسائل کا سامنا کرنا ہوتا ہے اور ان مسائل کا فوری حل تلاش کرکے کام کی رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ متعلقہ فرد منطقی اور عملی اندازِفکر کا حامل ہو۔ ڈیزائننگ اور پروڈکشن کا کام کرنے والوں کو تخلیقی صلاحیتکے ساتھ ساتھ فنِ تعمیر کے تکنیکی امور کا ماہر اور تصور کی بہتر لیاقت کا حامل ہونا چاہیے تاکہ وہ تعمیر و تکمیل کے مختلف مرحلوں کا صحیح تصور کرسکےں اور ان مرحلوں کی نوعیت اور عملی دشواریوں سے واقف ہوں۔ صاف ستھری ڈرائنگ تیار کرنا ایسا بنیادی کام ہے جو ہر انجینئرکو آنا چاہیے۔ موجودہ دور میں ڈیزائننگ اور ڈرائنگ کا کام کمپیوٹر کی مدد سے بھی کیا جاتا ہے لہٰذا کمپیوٹرسے واقفیت اور اس کا استعمال کام میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ عمارت کی تعمیری اشیا اور عمارتی ڈھانچے کے تناﺅ (اسٹریس) وزن برداشت کرنے کی طاقت (لوڈبیرنگ کیپسٹی) کا تخمینہ لگانے کے لیے ریاضی اور حساب کتاب میں دسترس ہونا ضروری ہے۔
کنسٹرکشن کے کام کے دوران سول انجینئروں کو ایک مزدور سے لے کر نہایت اعلیٰ تعلیم یافتہ فرد تک سے واسطہ پڑتا ہے لہٰذا ان میں یہ صلاحیت ہونا چاہیے کہ وہ ہر سطح اور طبقے کے لوگوں سے گفتگو کرسکےں اور اپنی ضرورت انھیں سمجھا سکے۔ علاوہ ازیں انجینئروں کو انتظامی امور سے بھی واقفیت ہونی چاہیے، ایک انجینئر بعض اوقات سینکڑوں کارکنوں کی ٹیم کا سربراہ ہوتا ہے۔ اس لیے قائدانہ صلاحیتیں بھی کام آتی ہیں۔