سول انجینئرنگ

ماحولِ کار
سول انجینئرکے وقت کا زیادہ حصہ تعمیر کی جگہ (سائٹ) پر فنی اور انتظامی امور کی انجام دہی میں گزرتا ہے دفتری امور کی انجام دہی کے لیے اسے دفتر میں بھی بیٹھنا ہوتا ہے لیکن کام کی نگرانی تعمیر کا معائنہ اور استعمال ہونے والے سامان کے معیار کی جانچ کے لیے اسے بہ ذات خود سائٹ پر موجود رہنا ضروری ہوتا ہے۔ اپنے فرائض کی انجام دہی میں سول انجینئرکو بلند سیڑھیوں یا اونچی پہاڑ پر چڑھنا اترنا پڑتا ہے۔ ہر قسم کے موسم میں کھلے آسمان کے نیچے کام کرنا ہوتا ہے۔بعض اوقات اہم نوعیت کے کاموں مثلاً کنکریٹ کا سٹنگ کے وقت اسے مقررہ اوقات کے علاوہ دیر تک رکنا پڑتا ہے۔
کنسلٹنگ انجینئروں کے ساتھ کام کرنے والوں کو بالعموم دفتر میں کام کرنا ہوتا ہے لیکن کسی تعمیراتی منصوبے کے ابتدائی مرحلے میں انھیں سائٹ پر جاکر پیمائش یا معائنے کا کام کرنا ہوتا ہے اور تعمیر کے دوران وقتاً فوقتاً کام کا موقعے پر جاکر معائنہ کرنا پڑتا ہے۔ ان حضرات کو دوسرے متعلقہ لوگوں کے ساتھ مذاکرات اور بحث و مباحثہ میں بھی وقت صرف کرنا ہوتا ہے۔
سول انجینئرنگ کے پیشے کو اپنانے کی خواہش رکھنے والے نوجوانوں کو متحرک ہونا چاہیے۔ بعض اوقات کسی دوسرے شہر میں بھی کام کرنا پڑجاتا ہے اس صورت میں طویل عرصے کے لیے گھر سے دور رہنا ہوتا ہے۔

حالاتِ کار
سول انجینئرسرکاری ادارے، بلدیاتی ادارے یا کسی نجی ادارے میں کام کرتے ہیں۔ہر ادارے کی نوعیت کے اعتبار سے انھیں مختلف قسم کے حالاتِ کار کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سرکاری یا بلدیاتی ادارے کی ملازمت میں تنخواہ مقرر ہوتی ہے ، لیکن اختیارات حاصل ہوتے ہیں جب کہ نجی ادارے میں بھاری تنخواہیں ہیں، رہائش اور گاڑی کی سہولتیں اور دیگر مراعات ملتی ہیں لیکن یہاں ان تھک محنت کرنی ہوتی ہے۔اس محنت کا صلہ ذاتی تجربے میں گراں قدر اضافے اور مالی فوائد کی شکل میں ملتا ہے۔ تجربے کے ساتھ ساتھ تنخواہ میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ سول انجینئرنگ کے پیشے سے متعلق افراد کو کسی ایک جگہ کام نہیں کرنا ہوتا۔ انھیں اپنے شہر سے دور بھی جانا پڑتا ہے اور بعض اوقات چھ ماہ یا اس سے زائد عرصہ گھر سے دور رہنا پڑتا ہے۔

تنخواہیں
سول انجینئرنگ میں بی ای کی سندحاصل کرنے کے بعد نئے انجینئروں کو سرکاری بلدیاتی اداروں میں گریڈ ۱۷ میں ملازمت پیش کی جاتی ہے۔ گریڈ ۱۷ کی ابتدامیں تنخواہ ساڑھے تین ہزار سے پونے چار ہزار روپے تک ہوتی ہے جب کہ نجی اداروں میں ابتدا میں ذرا کم تنخواہ یعنی دو ہزار سے ڈھائی ہزار روپے تک ملتے ہیں لیکن چند سال کے بعد امیدوار کی کارکردگی کی بنیاد پر تنخواہ میں خاطر خواہ اضافہ ہوجاتا ہے۔
مواقع
جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے، ایک ترقی پذیر ملک کی حیثیت سے پاکستان میں سول انجینئرنگ کے پیشے کا مستقبل نہایت روشن ہے۔
پاکستان میں اس وقت رجسٹرڈ سول انجینئروں کی تعداد ۱۱ ہزار ایک سو ۵۲ ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے یہ تعداد زیادہ نہیں ہے۔ مستقبل میں ہمیں جن ترقیاتی منصوبوں کا سامنا ہے ان کے لیے مزید تعمیراتی انجینئروں کی ضرورت ہوگی۔
کراچی میں نئے ایئر پورٹ، جناح ٹرمینل کی تعمیر کا منصوبہ ہے۔ کے ڈی اے کی اسکیم نمبر 33 ایک پورا شہر ہے جسے ابھی آباد ہونا ہے۔ اگر کالا باغ ڈیم کے سیاسی پہلو کا حل تلاش کرلیا گیا  تو یہ بند بذات خود بجلی پیدا کرنے اور آب پاشی کے نظام کا زبردست منصوبہ ہوگا۔ ان چند بڑے منصوبوںکےعلاوہ چھوٹے بڑے شہروں اور خاص طور پر دیہاتوں میں تعمیر و ترقی کے منصوبوں کا لامتناہی سلسلہ تا دیر جاری رہنے والا ہے۔ ان سب منصوبوں کی تکمیل کے لیے اور ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے باصلاحیت اور ہنر مند سول انجینئروں کی ضرورت ہمیشہ رہے گی۔

ذیلی پیشے
سول انجینئرنگ کے کاموں میں انجینئر کو ہنر مندوں کی ایک پوری ٹیم کی مدد درکار ہوتی ہے اور ان معاونین کے ساتھ اشتراکِ عمل سے ہی سول انجینئر کسی تعمیراتی منصوبے کو مکمل کرسکتا ہے۔ یہ ہنر مند افراد ٹیکنیشن کہلاتے ہیں اور اپنے ہنر میں ماہر ہوتے ہیں۔
سول انجینئرنگ کے متعلقہ پیشوں میں سپروائزرز اور سینئر ڈرافٹس مین ، سرویئر، ڈیزائن اینڈ لیب اسسٹنٹ کے پیشے میں شامل ہیں۔ ان پیشوں کے لوگ تعمیر و مرمت (دیکھ بھال) کے لیے ناگزیر ہوتے ہیں۔ پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں کالج آف ٹیکنالوجی یا پولی ٹیکنیک قائم ہیں اور کم و بیش تمام پولی ٹیکنک/کالج آف ٹیکنالوجی میں سول انجینئرنگ کا شعبہ موجود ہے جہاں میٹرک کامیاب نوجوانوں کو سول ٹیکنالوجی میں تین سالہ ڈپلوما کی تربیت دی جاتی ہے۔

نجی کاروبار کے مواقع
سول انجینئرنگ کے پیشے میں نجی کاروبار کے مواقع بھی روشن ہیں۔ تازہ سند یافتہ انجینئر جب چار پانچ سال کا عملی تجربہ حاصل کرلیتے ہیں تو وہ اس لائق ہوجاتے ہیں کہ بہ طور مشیرِ تعمیرات (کنسلٹنٹ) اپنا ذاتی کاروبار شروع کرسکیں مشیر تعمیرات کا کاروبار پاکستان میں خاصا ترقی پذیر ہے اور اچھے مشیر تعمیرات کی کامیابی کسی شک و شبہ سے بالا ہے۔ انجینئروں کو ذاتی کاروبار کے لیے بعض قومی مالیاتی ادارے قرضہ بھی دیتے ہیں۔

رجسٹریشن
سول انجینئرنگ میں بی ای (بیچلر آف انجینئرنگ) کی سند حاصل کرنے کے بعد بہ طور سول انجینئرکام شروع کرنے سے پہلے پاکستان انجینئرنگ کونسل سے خود کو رجسٹر ڈکرانا ہوتا ہے۔ یہ رجسٹریشن لازمی ہے۔
اس کے علاوہ ملک میں سول انجینئرز کی پیشہ ورانہ انجمن بھی موجود ہے جس کی رکنیت حال کی جاسکتی ہے۔
سول انجینئرنگ کی تعلیم و تربیت اور پیشہ ورانہ امور کے بارے میں مزید معلومات کے لیے درجِ ذیل اداروں سے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔
1۔ صدر دفتر
پاکستان انجینئرنگ کونسل ،پوسٹ بکس نمبر1296 56-مارگلہ روڈ، اسلام آباد
2۔علاقائی دفتر
پاکستان انجینئرنگ کونسل،کمرہ نمبر102،پہلی منزل، سوک سینٹریونی ورسٹی روڈ ، کراچی
3۔انسٹیٹیوٹ آف انجینئرز پاکستان،شاہراہ فیصل، کراچی
4۔صدر، شعبہ سول انجینئرنگ،این ای ڈی یونی ورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، کراچی
5۔صدر شعبہ سول انجینئرنگ،مہران یونی ورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی،جام شورو
6۔صدر شعبہ سول انجینئرنگ،این ڈبلیو ایف پی یونی ورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پشاور