صفحہ اول » انجینرنگ سے متعلق پیشے » کمپیوٹر سائنس اور انجینئرنگ

کمپیوٹر سائنس اور انجینئرنگ

۔فاسٹ انسٹیٹیوٹ آف کمپیوٹر سائنس
ایس ٹی4،سیکٹر 17۔ڈی نیشنل ہائی وے، شاہ لطیف ٹاؤن
کراچی۔75030

۔فاسٹ۔ایس اے ایچ، انسٹیٹیوٹ آف کمپیوٹر سائنس
22۔اے، فیصل ٹاؤن۔لاہور۔
4۔بی ای کمپیوٹر ٹیکنالوجی
کمپیوٹر ٹیکنالوجی میں چار سال کا ڈگری کورس مندرجہ ذیل جامعات میں ہوتا ہے۔

۔این ای ڈی یونی ورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، کراچی
۔مہران یونی ورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، جام شورو
۔لاہور یونی ورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، لاہور

بی ای کمپیوٹر ٹیکنالوجی میں داخلے کے لیے امیدوار کی بنیادی اہلیت پری انجینئرنگ کے ساتھ سائنس میں بارہویں جماعت کامیاب ہونا ہے۔ داخلہ میرٹ کی بنیاد پر اور مختلف طبقوں کی مخصوص نشستوں پر ہوتا ہے۔
کمپیوٹر سائنس میں بی ای کی سند کے حامل نوجوان کمپیوٹر ہارڈ ویئر سے متعلق امور انجام دیتے ہیں جن میں کمپیوٹر کی ڈیزائننگ، آپریشن، دیکھ بھال اور مرمت، تنصیب، خرید و فروخت کے امور شامل ہیں۔
چار سالہ ڈگری کورس کے تعلیمی اخراجات کا اندازہ دس ہزار روپے ہے۔ مزید معلومات کے لیے متعلقہ یونی ورسٹی کے ڈیپارٹمنٹ آف کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے چیئرمین کو خط لکھیے۔

۔ایم ایس سی کمپیوٹر سائنس

کمپیوٹر سائنس میں ایم ایس سی کا دو سالہ نصاب، مندرجہ ذیل جامعات میں جاری ہے:
1۔جامعہ کراچی 2۔جامعہ قائد اعظم، اسلام آباد 3۔جامعہ این ای ڈی، کراچی
4۔لاہورانجینئرنگ یونی ورسٹی ۵۔جامعہ پشاور،پشاور ۶۔فاسٹ آئی سی ایس، کراچی
کمپیوٹر سائنس کا نصاب سافٹ ویئر سے متعلق امور پر مشتمل ہوتا ہے، جس میں کمپیوٹر کا تعارف، ان کی مختلف اقسام، کمپیوٹر کی زبانیں، ان کے پروگرام اور نظری و عملی مضامین شامل ہیں۔
داخلے کے لیے بنیادی اہلیت کمپیوٹر سائنس، ریاضی، شماریات، طبیعیات میں سے کسی ایک مضمون میں بی ایس سی یا بی اے ہے۔ دیگر مضامین میں بی اے، بی ایس سی کی سند کے حامل اور بی کام کی سند کے حامل ایسے امیدوار بھی داخلے کے لیے درخواست دے سکتے ہیں جنھوں نے ریاضی میں سرٹیفکیٹ کورس کیا ہو یا شماریات میں پوسٹ گریجویٹ ڈپلوما کر رکھا ہو۔
بی ای اور بی ٹیک کامیاب امیدوار بھی داخلے کے لیے رجوع کرسکتے ہیں۔ داخلہ اہلیت کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ داخلے سے پہلے امیدوار کے لیے میلانِ طبع کا امتحان کامیاب کرنا ضروری ہے۔
دو سالہ نصاب کے تعلیمی اخراجات کا اندازہ 8 ہزار روپے ہے۔ مزید معلومات کے لیے متعلقہ ادارے کے سربراہ کو خط لکھیے۔

ذاتی صلاحیتیں

کمپیوٹر سے متعلق کسی بھی پیشے میں کام کرنے والے میں چند بنیادی صلاحیتوں کا ہونا ضروری ہے۔ سب سے بنیادی بات یہ ہے کہ اس کا ذہن منطقی ہو اور وہ محنت کا عادی ہو، کی پنچ آپریٹر سے سسٹمز اینالسٹ اور انجینئرنگ تک کے لیے یہ دو بنیادی صلاحیتیں لازمی ہیں۔ ان کے علاوہ پروگرامنگ اور سسٹمز اینالسس کے شعبوں میں کام کرنے والوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ تخلیقی صلاحیت کے حامل ہوں اور مستقبل کی ضروریات کا اندازہ کرکے پروگرام، سسٹمز تیار کرنے کی اہلیت رکھتے ہوں، نئے خیالات وضع کرسکتے ہوں، پیچیدہ مسائل کا ممکنہ حل تلاش کرسکتے ہوں، ذہین اور خلاق ہوں اور نظم و ضبط کے ساتھ کام کرنے کے عادی ہوں۔ اپنی بات دوسروں تک عام فہم طریقے سے پہنچاسکتے ہوں اور اپنے رفقائے کار سے درپیش مسائل اور متعلقہ موضوعات پر کھل کر واضح طور پر بات کرسکتے ہوں۔
فروخت (سیلز) کے شعبے میں کام کرنے والوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ فروخت کے فن کے ماہر ہوں۔
تنخواہیں
کمپیوٹر سے متعلق پیشوں میں معقول تنخواہیں پیش کی جاتی ہیں۔ تنخواہ کا دار و مدار بنیادی طور پر ادارے اور متعلقہ فرد کی اہلیت پر ہوتا ہے۔

حالات و ماحولِ کار

کمپیوٹر جہاں بھی ہو اس جگہ کا ماحول لازماً بہت صاف ستھرا ہو، کمپیوٹر اور اس کے متعلقہ آلات کی بلا رکاوٹ کارکردگی کے لیے ضروری ہے کہ جہاں کمپیوٹر نصب ہو وہ جگہ :
1۔گردو غبار سے پاک ہو 2۔ ایئر کنڈیشنڈ ہو 3۔وہاں وافر روشنی موجود ہو۔
کمپیوٹر کے نازک اور حساس پرزوں، آلات کی رواں اور موء ثر کارکردگی کے لیے یہ لوازمات انتہائی ضروری ہیں۔ جس جگہ ایسا ماحول فراہم کیا جائے وہاں خود بخود ایسی فضا بن جاتی ہے کہ کام کرنے والا تھکن کا احساس ہوئے بغیر زیادہ دیر تک کام کرسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کمپیوٹر سے متعلق افراد اپنے کام کی جگہوں کو پسند کرتے ہیں اور پرسکون ماحول میں یکسوئی کے ساتھ کام کے عادی ہوجاتے ہیں۔
کمپیوٹر کسی بھی جگہ ہو، صاف ستھرا، خوش گوار ماحول اس کی بنیادی ضرورت ہے۔ اس کی وجہ سے کمپیوٹر اور اس پر کام کرنے والے افراد کی کارکردگی بہتر سے بہتر رہتی ہے۔

مواقع

پاکستان میں کمپیوٹر کے پیشوں کا آغاز ساتویں عشرے میں ہوا۔ ابتدا میں اسے مقبولیت حاصل نہیں ہوئی، لیکن جب اس کی افادیت ظاہر ہوئی تو کمپیوٹر صنعت و تجارت، ذرائعِ ابلاغ اور مختلف کاروباری شعبوں میں تیزی سے داخل ہوگیا۔ انداز ہ ہے کہ 2000ء تک کمپیوٹر کے شعبوں میں ایک لاکھ سے زائد پیشہ ور افراد کی ضرورت ہوگی۔ ملک میں جس تیزی سے کمپیوٹر کا استعمال بڑھ رہا ہے اس کے پیش نظر یہ کہنا غلط نہیں ہے کہ ذہین اور منطقی سوچ کے حامل نوجوانوں کے لیے اس شعبے میں روزگار کے شان دار مواقع ہیں۔

مزید معلومات: 

پاکستان میں کمپیوٹر کی تربیتی سہولتیں درجِ ذیل اداروں میں موجود ہیں۔ مزید معلومات کے لیے ان اداروں سے رابطہ کیا جاسکتا ہے

۔پاکستان کمپیوٹر بیورو، اسلام آباد

۔ڈیپارٹمنٹ آف کمپیوٹر سائنس، قائد اعظم یونی ورسٹی، اسلام آباد
۔یونی ورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ، لاہور
۔این ای ڈی یونی ورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، یونی ورسٹی روڈ کراچی
۔نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن، گلشن اقبال، کراچی(صرف سرکاری افسران کے لیے)
۔پاکستان انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ، کراچی(کاروباری اداروں کے افسران کے لیے)
۔مہران یونی ورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، جام شورو
۔سینٹر آف بیسک سائنس(کمپیوٹر ٹریننگ سینٹر) ، اسلام آباد
۔کمپیوٹر اسٹیڈیز سینٹر، پشاور
۔ڈیپارٹمنٹ آف کمپیوٹر سائنس، جامعہ کراچی
۔ڈیپارٹمنٹ آف کمپیوٹر سائنس، بہاو الدین زکریا یونی ورسٹی ، ملتان
۔صدر، کمپیوٹر سوسائٹی آف پاکستان، تیسری منزل، عظمیٰ کورٹ ، کلفٹن، کراچی
۔فاسٹ آئی سی ایس ایس ٹی،4سیکٹر17،ڈی، نیشنل ہائی وے شاہ لطیف ٹاؤن، کراچی
۔پیٹرومین، مسرت بلڈنگ سلطان احمد شاہ روڈ، شہید ملت روڈ، کراچی
۔ذوالفقار علی بھٹو انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی۔ 90کلفٹن، کراچی۔
۔دی کومیکس انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایجوکیشن، ایس ٹی90،بلاک13،گلستان جوہر، کراچی۔