صفحہ اول » انجینرنگ سے متعلق پیشے » الیکٹریکل انجینئرنگ

الیکٹریکل انجینئرنگ

سائنس اور ریاضی کے علوم کا عملی استعمال اور مسائل کے حل یا اشیا کی تیاری کے لیے ان نظریاتی علوم کا عملی اطلاق انجینئرنگ کہلاتا ہے۔ انسانی زندگی کی تمام تر ترقی انجینئرنگ کی بدولت ہی ممکن ہوئی ہے۔ انجینئرنگ کی وسیع و عریض دنیا میں برقیات سے متعلق کاموں اور اشیا کے شعبے کو الیکٹریکل انجینئرنگ کا شعبہ کہا جاتا ہے۔ اسے دو حصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔ زیادہ قوت کی برقی رو(ہیوی کرنٹ) سے متعلق شعبے کو الیکٹریکل انجینئرنگ اور کم قوت کی برقی رو (لائٹ کرنٹ) سے متعلق شعبے کو الیکٹرونک انجینئرنگ کہا جاتا ہے۔ اس مضمون میں ہم صر ف الیکٹریکل انجینئرنگ (زیادہ قوت کی برقی روسے متعلق شعبہ) میں تعلیمی سہولتوں اور اس پیشے کے امکانات کے بارے میںگفتگو کریں گے۔

پیشے کا تعارف
الیکٹریکل انجینئرنگ….بجلی کی پیدوار، ترسیل، تقسیم، کنٹرول اور بجلی کے استعمالات کا علم ہے۔ برقی قوت کو بالعموم میکانکی قوت، حرارت، آواز، روشنی یا کیمیائی قوت میں کسی موٹر، برقی مقناطیس، بھٹی، لاﺅڈ اسپیکر، لیمپ یا الیکٹرولائی ٹک کے ذریعے تبدیل کیا جاسکتا ہے۔کسی ذریعے کو استعمال کرتے ہوئے برقی قوت کی میکانکی قوت میں تبدیل ہونے کی اس صلاحیت کی وجہ سے الیکٹریکل انجینئرنگ نے موجودہ دور میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی میں نہایت اہم کردار ادا کیا ہے۔
الیکٹریکل انجینئرنگ کا آغاز جنریٹروں کے ذریعے برقی قوت پیدا کرنے کے کام سے ہوتا ہے۔ بجلی، تیل، گیس، کوئلہ یا جوہری توانائی سے کام کرنے والے جنریٹروں یا دریاﺅں پر بند باندھ کر بہتے پانی کی قوت استعمال کرکے پیدا کی جاتی ہے پھر اس بجلی کو صنعتی اور گھریلو استعمال کے لیے شہروں، قصبوں اور دیہاتوں تک پہنچایا جاتا ہے اور اس کام کے دوران ترسیل و تقسیم کے مختلف آلات نصب کیےجاتے ہیں۔ بجلی گھر میں برقی قوت کی پیدوار، شہروں تک اس کی ترسیل، آبادیوں میں صنعتی اور گھریلو مقاصد کے لیے اس کی تقسیم اور بجلی کے آلات کی تنصیب کے ان تمام کاموں کی نگرانی الیکٹریکل انجینئروں کی ذمہ داری ہے۔
تعلیم کی سہولتیں
پاکستان میں گریجویشن کی سطح پر الیکٹریکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے بنیادی اہلیت پری انجینئرنگ میں بارہویں جماعت میں کامیابی ہے۔ مخصوص نشسوں کے علاوہ عام داخلے اوپن میرٹ کی بنیادپر ہوتے ہیں۔
بی ای یا بی ایس سی (انجینئرنگ) کی ڈگری کے لیے درجِ ذیل تعلیمی اداروں میں چار سالہ نصاب کی تعلیم دی جاتی ہے۔
۔1  این ای ڈی یونی ورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، کراچی
۔2  مہران یونی ورسٹیآف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، جام شورو
۔3  یونی ورسٹی آف انجینئرنگ اینڈٹیکنالوجی، لاہور
۔4  این ڈبلیو ایف پی یونی ورسٹیآف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، پشاور
۔5  بلوچستان انجینئرنگ کالج ،خضدار
۔6  یونی ورسٹیکالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، نواب شاہ
۔7  یونی ورسٹی کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، ٹیکسلا
(۔8  یونی ورسٹی کالج آف انجینئرنگ۔ میر پور (آزاد کشمیر
طالب علموں کی تعداد کے اعتبار سے لاہور انجینئرنگ یونی ورسٹیکا الیکٹریکل انجینئرنگ کا شعبہ سب سے بڑا ہے، جہاں ہر سال تقریباً 222طلبہ کو داخلے دیے جاتے ہیں۔ لاہور یونی ورسٹیسے ملحقہ ٹیکسلا انجینئرنگ کالج کے شعبہ الیکٹریکل انجینئرنگ کی گنجائش 58، این ای ڈی انجینئرنگ یونی ورسٹیکے شعبہ الیکٹریکل میں 144، مہران انجینئرنگ یونی ورسٹیجام شورو میں 55، نواب شاہ انجینئرنگ کالج میں 83 اور سرحد انجینئرنگ یونی ورسٹیمیں 86طلبہ کے داخلوں کی گنجائش ہوتی ہے (بلوچستان انجینئرنگ کالج خضدار اور آزاد کشمیر کے کالج آف انجینئرنگ کے الیکٹریکل انجینئرنگ کے شعبوں میں نشستوں کی تعداد دستیاب نہیں ہے) ۔سال اوّل میں داخلے کے لیے نشستوں کی یہ تعداد حتمی نہیں ہے ان میں کمی بیشی ہوسکتی ہے۔
بی ای/بی ایس سی، الیکٹریکل انجینئرنگ میں سال اوّل میں داخلے کے لیے چند نشستیں بی ایسسی (پری انجینئرنگ) ایسوسی ایٹ انجینئرنگ میں ڈپلوما ہولڈر ای کیڈٹس اور مخصوص علاقوں کے لیے ہوتی ہیں۔

نصاب تعلیم
یہ بات قابل توجہ ہے کہ انجینئرنگ یونی ورسٹیوں میں الیکٹریکل انجینئرنگ کے شعبے میں تعلیمی نصاب یکساں نہیں ہے ہر یونی ورسٹینے اپنے طلبہ کے لیے علیحدہ نصاب وضع کر رکھا ہے۔ این ای ڈی انجینئرنگ یونی ورسٹیکے الیکٹریکل انجینئرنگ کے شعبے میں چار سال کے دوران طلبہ کو درجِ ذیل نصاب کے مطابق پڑھایا جاتا ہے۔
چار سالہ ڈگری کورس کے پہلے سال میں طلبہ کو جدید کمپیوٹرز کا مطالعہ اور استعمال دیکھنا ہوتا ہے ۔ اس میں کمپیوٹر کی بنیادی ساخت، آپریشن، کوڈنگ، کمپیوٹر ریاضی، کمپیوٹر سائنس کا تعارف اورپروگرامنگ کی زبانیں وغیرہ شامل ہیں۔ دیگر مضامین میں الیکٹریکل انجینئرنگ کی مبادیات، اطلاقی ریاضیات، اطلاقی کیمیا، ریاضیات، انگریزی اور مطالعہءپاکستان شامل ہیں۔ دوسرے سال کے نصاب میں فورٹران پروگرامنگ، سرکٹ تھیوری، الیکٹرونکس، برقی مشینیں، لاجک ڈیزائن اور سوئچنگ تھیوری،لائیینئر الجبرا، ڈفرینشل اکیوئیشن، سالڈ جیومیٹری، کیلکولس، کامپلکس ویریئیبل، اسلامیات اور اخلاقیات شامل ہیں۔ تیسرے سال کے نصاب میں سرکٹ تھیوری، انسٹرومینٹیشن ،پاور الیکٹرانکس برقی مشینیں، برقی قوت، لاجک ڈیزائن اور سوئچنگ تھیوری، برقی مقناطیسی میدان، دور مواصلات، ریاضیات، ریاضیاتی طریقے، شماریات اور انجینئرنگ اقتصادیات شامل ہیں۔ سالِ آخر کے نصاب میں سالڈ اسٹیٹ ڈیوائسس، جدید برقی مشینیں توانائی کی بچت، برقی توانائی، کمپیوٹر آرکی ٹیکچر اینڈ آرگنائزیشن، لائینئر کنٹرول سسٹمز، دور مواصلات، برقی انجینئرنگ کے منصوبے اور نیومریکل میتھڈز شامل ہیں۔