صفحہ اول » انجینرنگ سے متعلق پیشے » الیکٹریکل انجینئرنگ

الیکٹریکل انجینئرنگ


الیکٹریکل انجینئرنگ میں جنرل مینجمنٹ کا شعبہ بھی اہمیت کا حامل ہے۔ نجی شعبے میں انجینئروں کا ایک بڑا تناسب تقریباً 19 فی صد یہاں خدمت انجام دے رہا ہے۔ الیکٹریکل انجینئروں کا کوئی 20 فیصد پولی ٹیکنیک اداروں اور انجینئرنگ یونی ورسٹیوں میں تدریس کے پیشے سے منسلک ہے۔

ملازمت کے مواقع اور تنخواہیں
پاکستان میں برقی انجینئرنگ اور برقیات کے شعبے میں تیزی سے ترقی ہو رہی ہے اور اسی رفتار سے ڈپلوما اور ڈگری یافتہ انجینئروںکے لیے روزگار کے مواقع میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سرکاری شعبے میں واپڈا، بڑے بڑے پن بجلی گھر، ہیڈ ورکس، مختلف چھوٹے بڑے شہروں میں بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے نظام اور کارپوریشنوں میں الیکٹریکل انجینئروں کی بڑی کھپت ہے۔ عام طور پر سرکاری ملازمت ڈومیسائل کی بنیاد پر ملتی ہے۔ نجی شعبے میں مسابقت کی کیفیت ہے۔ نجی ادارے اور سرمایہ کار طلبہ کی ڈگریوں پر زیادہ اعتبار نہیں کرتے۔ اس لیے نجی شعبے میں صرف وہ گریجویٹ کامیاب ہوتے ہیں جنھوں نے صحیح معنوں میں تعلیم اور تربیت حاصل کی ہوتی ہے۔ ذہین اور محنتی طلبہ کو امتحان کے نتائج آنے سے قبل ہی اچھی ملازمتوں کی پیش کش ہوجاتی ہے۔
جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے کہ واپڈا اور کے ای ایس سی دو بڑے ادارے ہیں جہاں الیکٹریکل انجینئروں کے لیے ملازمتیں دستیاب ہوتی ہیں۔ ان کے علاوہ سرکاری شعبے میں اٹامک انرجی کمیشن ، پی آئی اے، پاکستان ریلوےز، اے ڈی اے، ٹیلیفون کا محکمہ، پی آئی ڈی سی، پیکو، پاک سوزوکی، آٹو موبائل کارپوریشن، سیمنٹ کارپوریشن، نیس پاک ایسے ادارے ہیں جہاں الیکٹریکل انجینئروں کے لیے ملازمت کے مواقع دستیاب ہوتے ہیں۔نجی شعبے میں عام صنعتی کارخانوں کے علاوہ چند بڑے ادارے ہیں جن میں سیمینز، فلپس، اے ای جی اور جے اینڈ پی شامل ہیں ۔تعمیراتی کمپنیاں، جہاز راں ادارے اور مشاورتی فرمیں بھی الیکٹریکل انجینئروں کو ملازمتیں فراہم کرتی ہیں۔
تازہ سند یافتہ الیکٹریکل انجینئر کا تقرر سرکاری اور نیم سرکاری شعبے میں گریڈ 17 یا اس کے مساوی عہدے پر عمل میں آتا ہے جس کی مجموعی تنخواہ تقریباً ساڑھے تین ہزار روپے ہوتی ہے۔ نجی اداروں میں امیدوار اور ادارے کی حیثیت کے مطابق ابتدائی تنخواہ کی شرح 3 ہزار سے 4 ہزار روپے ماہانہ تک ہوسکتی ہے۔
مستقبل کے امکانات
پاکستان میں بجلی کی توانائی کی قلّت ہے۔ اس وقت واپڈا تقریباً ۶ ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کر رہا ہے جب کہ کے ای ایس سی کی پیداواری صلاحیت ۱۱ سو میگا واٹ ہے۔ ان کے علاوہ پاکستان اسٹیل مل اور کراچی کا جوہری بجلی گھر (کینوپ) بھی بجلی پیدا کرتے ہیں۔ بجلی کی پیداوار میں اضافے کے کئی منصوبےزیرِ تکمیل اور کئی زیرِ غور ہیں۔ کراچی میں بن قاسم کے بجلی گھر میں ۲۱۰ میگاواٹ کے دو مزید یونٹ زیرِ تکمیل ہیں جب کہ ویسٹ و ہارف تھرمل پاور اسٹیشن پر پرانے یونٹ کو تبدیل کرکے دو سو میگاواٹ کا نیا یونٹ نصب کیے جانے کی تجویز زیرِ غور ہے۔ ادھر واپڈا، تربیلا بجلی گھر کی پیداواری قوت میں اضافہ کر رہی ہے۔ اور اس مقصد کے لیے چار نئے یونٹوں کی تنصیب زیرِ تکمیل ہے۔ ملک کے بیش تر دیہات بجلی سے محروم ہیں اور رفتہ رفتہ انھیں بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔
ان تمام منصوبوں کی تکمیل کے لیے الیکٹریکل انجینئروں کی ضرورت ہوگی اور اس روشنی میں الیکٹریکل انجینئرنگ کے پیشے کا مستقبل امکانات سے بھرپور نظر آتا ہے۔
متعلقہ پیشے
الیکٹریکل انجینئرنگ کے متعلقہ پیشوں میں پولی ٹیکنیک کے ڈپلوما ہولڈرز اور بی ٹیک سند کے حامل نوجوان کام کرتے ہیں۔ یہ حضرات سپروائزر، فورمین اور معاون انجینئرز کے طور پر خدمات انجام دیتے ہیں۔ پولی ٹیکنیکس میں الیکٹریکل انجینئرنگ کے 3 سالہ ڈپلوما کورس میں داخلے کے لیے سائنس یا ٹیکنیکل گروپ میں میٹرک کامیاب امیدواروں کو ترجیح دی جاتی ہے۔ بی ٹیک میں داخلے کی اہلیت، ایسوسی ایٹ انجینئر کا ڈپلوما ہے۔
رجسٹریشن
سند یافتہ انجینئروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ خود کو پاکستان انجینئرنگ کونسل سے رجسٹرڈ کروائیں۔ انسٹیٹیوشن آف الیکٹریکل انجینئرکے مطابق اس وقت پاکستان میں رجسٹرڈ شدہ الیکٹریکل انجینئروں کی تعداد ۶ہزار ہے۔
مزید معلومات
الیکٹریکل انجینئرنگ کے پیشے کے بارے میں مزید معلومات کے لیے درجِ ذیل اداروں سے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔
۔1 صدر دفتر
انسٹیٹیوشن آف الیکٹریکل انجینئرز پاکستان
لارنس روڈ، لاہور
۔علاقائی دفتر 1۔اے ، یونی آرکیڈ، بلاک نمبر3
گلشنِ اقبال ، کراچی

۔3 صدر دفتر
پاکستان انجینئرنگ کونسل
52مارگلہ روڈ، اسلام آباد

۔4 انسٹیٹیوٹ آف انجینئرز پاکستان
۷۷۱/2،شارع فیصل، کراچی