صفحہ اول » انجینرنگ سے متعلق پیشے » برقیاتی انجینئرنگ

برقیاتی انجینئرنگ

حالاتِ کار اور
مواقع

موجودہ صدی کا پہلا نصف بجلی کی ترقی کا دور کہا جاتا تھا اور آخری نصف برقیات کی ترقی کا دور ہے۔ زمین سے لے کر خلا تک اور ہوا سے لے کر پانی تک ہر جگہ برقیاتی آلات کی حکمرانی ہے۔ جنگ ہو یا امن کوئی شعبہ برقیاتی آلات کے بغیر کام نہیں کرسکتا۔ سچی بات یہ ہے کہ برقیات نے ابلاغ اور مواصلات کو غیر معمولی رفتار اور درستی کی صلاحیت دے کر انسانی معمولات میں ایک انقلاب برپا کر دیا ہے۔
1957ءمیں دنیا بھر میں برقیاتی آلات کی پیداواری مالیت صرف12 ہزار 800 ملین ڈالر تھی۔ 1987ءمیں برقیاتی آلات کی پیداوار ی مالیت 5 لاکھ 60ہزار ملین ڈالر تک پہنچ گئی۔
پاکستان میںبرقیات کی صنعت بالکل ابتدائی مرحلے میں ہے۔ اس وقت پانچ ادارے الیکٹرونکس کی ترقی اور تحقیق کے لیے خدمات انجام دے رہے ہیں ان میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الیکٹرونکس اسلام آباد، سلی کون ٹیکنالوجی ڈیولپمنٹ سینٹر، اکوئپمنٹ پروڈکشن یونٹ آف ریڈیو پاکستان، سپارکو، اور اخلاق حسین انسٹی ٹیوٹ آف الیکٹرونکس لاہور شامل ہیں۔
الیکٹرونکس انجینئرز کی مانگ اور کھپت سرکاری اور غیر سرکاری ہر شعبے میں ہے۔ الیکٹرونکس انجینئرپرائیویٹ فرموں بالخصوص کمپیوٹرز، ورڈ پروسیسرز، ٹیلی کمیونی کیشن، ٹی وی اسمبلی، وی سی آر اسمبلی کے شعبوں میں آسانی سے ملازمت حاصل کرسکتے ہیں۔ سرکاری شعبے میں کے ای ایس سی سے لے کر واپڈا تک اور سپار کو سے لے کر پی سی ایس آئی آر تک ہر قسم کے اداروں میں الیکٹرونکس انجینئرز کے لیے ہر قسم کی اسامیاں فراہم ہیں۔ ریڈیو اور ٹیلی وژن کارپوریشن، ٹی اینڈ ٹی اور ٹی آئی پی بنیادی طور پر الیکٹرونکس انجینئرنگ ہی کے ادارے ہیں۔ اسی طرح نجی شعبے میں بھی مواصلات، ذرائع ابلاغ، برقیاتی ابلاغ اور کمپیوٹر کی صنعت میں بالخصوص الیکٹرونکس انجینئرز کی ہزاروں اسامیاں نکلتی رہتی ہیں۔ کمپیوٹر کی صنعت بالخصوص اتنی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے کہ کہا جاتا ہے کہ کچھ عرصے میں یہ ہر شعبہءزندگی پر چھا جائے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ ملک میں مانگ کے مقابلے میں الیکٹرونکس انجینئرز کی پیداوار کم ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس اہم شعبے میں تربیت اور تعلیم کی محدود سہولتیں ہماری جدید ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔

تنخواہیں

ایک اچھے الیکٹرونکس انجینئر کو ابتدا ہی میں کم از کم پانچ ہزار روپے ماہانہ مشاہرہ مل جاتا ہے جو تجربہ حاصل کرنے کے بعد پچاس ہزار روپے تک پہنچ جاتا ہے۔ مختلف اداروں میں تنخواہوں کی شرحیں مختلف ہیں۔ سرکاری شعبے میں تازہ سند یافتہ بی ای انجینئرکو گریڈ 17میں ملازمت دی جاتی ہے۔
نجی کاروبار کے مواقع
الیکٹرونکس انجینئرنگ اتنی تیزی سے ترقی کرنے والا پیشہ ہے کہ اس میں نجی کاروبار کے بڑے روشن مواقع ہیں۔ سند یافتہ الیکٹرونکس انجینئر چند سال کا عملی تجربہ حاصل کرنے کے بعد بطور مشیر یا کنسل ٹینٹ بھی خدمات انجام دے سکتے ہیں اور اگر سرمایہ ہو تو اپنی فرم بھی قائم کرسکتے ہیں۔ پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے اور برقیات کی صنعت میں تیزی سے ترقی ہو رہی ہے۔ یوں بھی الیکٹرونکس ایسی فنیات ہے جس کے بغیر انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کے کسی شعبے میں جدیدیت کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ اب خواہ وہ میکینیکل انجینئرنگ ہو یا میٹالرجی، ماحولیات ہو یا کان کنی، ٹیکنالوجی کے ہر صیغے میں برقیات ایک بنیادی لازمہ اور ضرورت ہے اور الیکٹرونکس انجینئرکے لیے ہر جگہ بیش بہا مواقع ہیں۔
جو نوجوان انجینئرز اپنی ٹنگ فرم یا کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں ان کو آسان شرائط پر قرضے اور سرمائے کی فراہمی کے لیے متعدد سرکاری یا نیم سرکاری اور نجی ادارے کام کر رہے ہیں۔ ان میں اسمال بزنس فنانس کارپوریشن، نیشنل ڈیولپمنٹ فنانس کارپوریشن، ادارئہ فروغ سرمایہ کاری برائے نوجوانان شامل ہیں۔

رجسٹریشن

پاکستان اور الیکٹرونکس انجینئروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ پاکستان انجینئرنگ کونسل سے خود کو رجسٹر ڈکروائیں۔ اس کے بعد ہی وہ بہ طور انجینئر کوئی کام کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ الیکٹرونکس انجینئرز دوسرے پیشہ ور اداروں اور انجمنوں کی رکنیت بھی حاصل کرسکتے ہیں ان میں انسٹی ٹیوشن آف الیکٹریکل انجینئرز خاص طور پر قابل ذکر ہے۔

مزید معلومات

الیکٹرونکس انجینئرنگ کے پیشے کے بارے میں مزید معلومات کے لیے ان اداروں سے رابطہقائم کیا جاسکتا ہے۔
1۔ صدر دفتر انسٹیٹیوٹ آف الیکٹریکل انجینئرز پاکستان 4۔لارنس روڈ، لاہور
2۔صدر دفتر انسٹیٹیوشن آف انجینئرز، کراچی سینٹر 177/2، شارع فیصل، کراچی
3۔صدر دفتر پاکستان انجینئرنگ کونسل 52۔ مارگلہ روڈ، اسلام آباد۔
4۔انسٹی ٹیوشن آف الیکٹریکل انجینئرز، کراچی سینٹر، 1۔اے یونی آرکیڈ، بلاک نمبر 3 گلشن اقبال، کراچی