صفحہ اول » انجینرنگ سے متعلق پیشے » میکینیکل انجینئرنگ

میکینیکل انجینئرنگ

 اس علم کا مقصد کم سے کم سرمایہ کاری کے ذریعے زیادہ سے زیادہ مالیت کی پیداوار حاصل کرنے کی اہلیت پانا ہے۔ چہارم، کسی میکانیاتی فرم یا اداروں کا انتظام، مشاورت اور بازار کاری (مارکیٹنگ) کی اہلیت کا حصول ہے۔
یہ چاروں وظائف جو اوپر بیان کیے گئے ہیں جدید ترین سائنسی اسلوب پر مبنی ہیں اور صنعتی انقلاب سے لے کر آج تک ان میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔ آج کی جدید یونی ورسٹیوں میں میکانی انجینئروں کو آپریشنل ریسرچ، ویلیو انجینئرنگ اور پرابلم انالائسس بائی ریشنالائزڈ اپروچ جیسے جدید علوم کو بھی پڑھنا پڑتا ہے۔
پاکستانی یونی ورسٹیوں میں میکانیات کی تعلیم کا نصاب جدید ممالک کی یونی ورسٹیوں کے نصاب کو سامنے رکھ کر مرتب کیا گیا ہے۔ نصاب مرتب کرتے ہوئے کوشش کی جاتی ہے کہ جدید ترین میکانی علوم تک پہنچ کے لیے طالب علم کو پہلے بنیادی سائنسوں کا علم بہم پہنچایا جائے چناںچہ اس مقصد کے لیے طالب علموں کو طبیعیات، کیمیا اور ریاضیات کی تعلیم بھی حاصل کرنا ہوتی ہے۔ پہلے سال میں طلبہ بنیادی سائنسوں کا علم حاصل کرکے اس قابل ہوجاتے ہیں کہ اگلے سال مبادی میکانیات کا علم حاصل کرسکیں۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد سے یورپ اور امریکا کی بیش تر یونی ورسٹیوں میں میکینیکل انجینئرنگ کے مختلف شعبوں میں تخصیص (اسپیشلائزیشن) کی جانب رجحان بڑھا ہے۔ انجینئرنگ کے مختلف شعبوں میں تیزی کے ساتھ ترقی ہوئی ہے جس کے نتیجے میں فنیاتی منصوبے روز بہ روز زیادہ پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں ۔چناںچہ ہر میکینیکل انجینئر کو نہ صرف اپنے مضمون میں تخصیص اور فضیلت حاصل کرنا ہوتی ہے بلکہ دوسرے شعبوں اورشاخوں کا بھی بنیادی علم رکھنا پڑتا ہے۔ چناںچہ حال ہی میں یونی ورسٹی کی سطح پرنصابوں پر نظرِ ثانی کی گئی ہے جس کا مقصد طلبہ کو انجینئرنگ سائنس کا وسیع و بنیادی علم فراہم کرنا ہے جب کہ خصوصی تربیت کی ذمہ داری صنعتوں پر چھوڑ دی گئی ہے۔ بعض یونی ورسٹیوں میں ایک سینڈوچ تربیتی پروگرام بھی بنایا گیا ہے جس میں چھ ماہ کی تربیت  یونی ورسٹی میں اور چھ ماہ کی تربیت صنعت میں دی جاتی ہے۔ برطانوی انجینئرنگ اسکولوں میں یہ نظام نمایاں طور پر رائج ہے۔