مرچنٹ نیوی

ملک کے سمندروں اورساحلی سرحدوں کا دفاع اور پاس داری بحریہ کا فریضہ ہوتا ہے۔ پاکستان میں یہ فریضہ پاک بحریہ انجام دیتی ہے ۔ بحری جنگی جہاز، آب دوزیں اور ہیلی کاپٹر اور طیارے بحریہ کی کار گاہیں ہوتی ہیں۔ سمندروں اور ساحلوں پر مصروف ِعمل جہازوں کو ساحلی تنصیبات سے مدد بہم پہنچائی جاتی ہے جن میں تربیت گاہیں اور مواصلاتی مرکز شامل ہوتے ہیں ۔ بحریہ کے جہازوں پر تین قسم کے افراد کام کرتے ہیں 1-افسر اور سپاہی جو اپنے جہاز کو چلاتے اور اس جنگ میں حصہ لیتے ہیں2- انجینئرز اور ٹیکنیشن جو جہازوں اور بحری تنصیبات کی دیکھ بھال کرتے ہی . (انجینئرز افسروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ میکینکل ، الیکٹریکل یا الیکٹرو میکینکل انجینئرنگ کے سند یافتہ ہوں اور انھوں نے میرین انجینئرنگ میں یا الیکٹریکل /الیکٹرونک ایکویپ منٹس اور سسٹم میں یا ایرو ناٹیکل انجینئرنگ میں اسپیشلائزیشن کیا ہو) 3- سپلائی اور سکریٹریٹ افسر اور عملہ ( ان میں باورچی ، کلرک ، اکاﺅنٹنٹ ، اسٹور کیپر، وغیرہ شامل ہیں) یہ حضرات بحریہ کے روز مرہ کے کاموں کو سر انجام دینے کے ذمہ دار ہوتے یں ۔

پاک بحریہ کی تنظیم

پاک بحریہ کا ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں ہے ۔ ہیڈ کوارٹر کے تحت تین شعبے کام کرتے ہیں جن میں سے ہر ایک کا سربراہ کمانڈر کہلاتا ہے۔ یہ تین شعبے اور ان کے ذیلی شعبے درج ِذیل ہیں : 1- کمانڈر پاکستان نیوی : پاکستان نیوی کا بحری بیڑا کمانڈر پاکستان نیوی ( کوم پاک) کے تحت ہے ۔ بحری بیڑے کے درجِ ذیل شعبے ہیں : 1- سب میرین اسکواڈرن     2- ایوی ایشن اسکواڈرن 3- ڈسٹرائر اسکواڈرن     4- فریگیٹ اسکواڈرن 5- مائنز سوئپر اسکواڈرن    6- آئل شپ اسکواڈرن 7- پیٹرول اسکواڈرن     8- پی این ایس اقبال 9- گوادر اور پسنی کے نیول یونٹس 2- کمانڈر کراچی : کمانڈر کراچی ( جنھیں کوم کار کہا جاتا ہے) کے تحت پاک بحریہ کی تمام تربیت گاہیں ہیں جو درج ِذیل ہیں : 1- پی این ایس ہمالیہ     2- پی این ایس رہبر 3- پی این ایس کار ساز     4- پی این ایس بہادر 5- پی این ایس جوہر     6- پی این ایس ر نما 7- پی این ایس شفا     8- پی این ایس دلاور 3- کمانڈر لاجسٹک : کمانڈر لاجسٹک کو کوم لوگ کہتے ہیں۔ ترسیل اور فراہمی کے تمام شعبے ان کے ماتحت ہوتے ہیں جو درجِ ذیل ہیں ۔ 1- پی این ایس ڈاکیارڈ     2- پی این ڈی ماری پور 3- این ایس ڈی     4- پی این ٹی 5- این اے ایس او     6- بحریہ کی ضرورت کی تمام اشیا کی فراہمی کاشعبہ

بحریہ کاافسر

کام کی نوعیت : بحریہ کے افسر کا بنیادی کام اپنے جہاز پر کام کرنا اور لڑنا ہے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اسے اپنے جہاز اوراس پر نصب ہتھیاروں کے نظام کی صلاحیتوں اورگنجائش کے بارے میں تفصیلی معلومات ہوں۔ اس کے ساتھ ہی اسے ہوا کے رخ اور سمندرکی حالتوں کا بھی صحیح اندازہ ہوناچاہیے اوران دونوں کو جنگی تدبیر کے طور پر بہتر سے بہتر استعمال کرنا چاہیے۔ بحریہ کے تربیت یافتہ، باصلاحیت افسر ہی ایک بحری جنگی جہازکی قیادت کرسکتے ہیں۔ بحریہ کے افسروں کا انتخاب کسی خاص متعلقہ شعبے میں امیدوار کی مہارت، ذاتی رجحان ،یا خصوصی تربیتی کے پیشِ نظر بھی کیا جاسکتا ہے۔ اور انھیں آب دوز، طیارے/ ہیلی کاپٹر، بارودی سرنگوں یا ہائیڈرو گرافک سرویئنگ افسر کے طور پر منتخب کیا جاسکتا ہے ۔ بحریہ ….نوجوانوں کے لیے ایک حوصلہ آزما اور پرشوق پیشہ ہے۔ بحریہ کے افسر اور جوان جہازوں پر بھی زندگی گزارتے ہیں اور بحریہ کی ساحلی تنصیبات پر بھی کام کرتے ہیں۔ پاکستان کی سمندری حدود بحیرئہ عرب اور بحر ہند کے پانیوں تک پھیلی ہوئی ہے۔ پاکستان کا ساحل سینکڑوں میل طویل ہے۔ بحری راستوں سے ملک پوری دنیا سے جڑا ہوا ہے۔ ہر ملک کے پرچم بردار جہاز ہماری بندرگاہوں پر لنگر انداز ہوتے ہیں۔ زمانہءامن میں بحری راستوں کی حفاظت اورجنگ کے دوران ساحلوں کی حفاظت بحریہ کے افسر اورجوان کرتے ہیں۔ پاک بحریہ کی قوت کے تین شعبے ہیں : 1- سطحِ آب پر بحریہ کے تباہ کن جہاز، گشت کرنے والی محافظ کشتیاں اوربارودی سرنگیں صاف کرنے والے جہازخدمات انجام دیتے ہیں ۔ تباہ کن جہازوں میں جدید ہتھیاروں سے لیس بحری جہاز شامل ہیں جن پر افسروں اور جوانوںکو تربیت دی جاتی ہے ۔ بحریہ کے گشتی بیڑے تیزرفتار کشتیوں پر مشتمل ہیں جو آب دوزشکن اور طیارہ شکن ہتھیاروں سے مسلح ہیں ۔ بحریہ کے سرنگ سمیٹ جہاز، بارودی سرنگیں صاف کرنے والے جدید آلات سے لیس ہیں ۔ 2- زیرِ آب سرگرمیاں آب دوز کے بیڑے کے ذمے ہیں ۔ آب دوز ، بحری جنگ کا تباہ کن ہتھیار ہے۔ پاک بحریہ کے آب دوز بیڑے میں جدید ترتیزرفتا راو رمہلک آب دوزیں شامل ہیں جو ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کرسکتی ہیں ۔ بحریہ کا ایک اہم شعبہ اسپیشل سروسز گروپ(کمانڈوز) ہے، جو زیرِ آب اور ساحلوں پر دشمن کے خلاف تباہ کن کارروائیاں کرکے اسے تباہ کرتا ہے ۔ 3- پاک بحریہ کا تیسرا اہم شعبہ نیول ایوی ایشن ہے جس میں لمبی پرواز کرنے والے گشتی طیارے اور ہیلی کاپٹر شامل ہیں ۔

ماحولِ کار

بحریہ کے ہرشعبے کا کام ٹیم ور ک کا مطالبہ کرتا ہے۔ ہر افسر کو اپنی مدتِ ملازمت کے دوران سمندر اور ساحلوں پر خدمات انجام دینی ہوتی ہیں۔ علاوہ ازیں ملک کے مختلف ساحلوں اور مقامات کے علاوہ بیرون ملک بھی مصروف عمل رہنا ہوتا ہے ۔ بحریہ کے افسر بالعموم صاف ستھرے ماحول میں کام کرتے ہیں جب کہ بحریہ کے فضائی شعبے میں کام کرنے والوں کو قدرے دشوار حالات کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔ بارودی سرنگیں بچھانے اور انھیں صاف کرنے والے غوطہ خوروں کو سخت حالات درپیش ہوتے ہیں جن میں خطرات بھی ہوسکتے ہیں۔ آب دوز میں کام کرنے والے افسروںکو تنگ جگہ میں رہنے اور کام کرنے کا عادی ہونا پڑتا ہے۔ پاک بحریہ کے جہازخیر سگالی دورے اورتربیتی مقاصد کے سلسلے میں مختلف ملکوں کا سفر کرتے ہیں، اس طرح بحری افسروں اور جوانوںکو دنیا دیکھنے، مختلف لوگوں سے ملنے اورنئی چیزیں سیکھنے کا موقع ملتا ہے ۔ سیاحت کے شوقین لوگوں کے لیے بحریہ ایک پرکشش شعبہ ہے ۔