صفحہ اول » انجینرنگ سے متعلق پیشے » ٹیکسٹائل انجینئرنگ

ٹیکسٹائل انجینئرنگ

پارچہ بافی (ٹیکسٹائل) پاکستان کی سب سے بڑی صنعت ہے۔ اس شعبے میں پاکستان نے حیرت انگیز ترقی کی ہے۔ آزادی کے وقت پاکستان میں پارچہ بافی کے صرف دوکارخانے تھے۔ جون 1991ءکے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں بڑے ٹیکسٹائل ملوں کی تعداد 250ہے۔ ان کے علاوہ غیر منظم شعبے میں ہزاروں چھوٹے کارخانے کام کر رہے ہیں۔ ہر سال اوسطاً 50 نئے کارخانے قائم ہو رہے ہیں اور قومی برآمدات کا 52 فی صد سے زیادہ حصہ پارچہ بافی کی مصنوعات پر مشتمل ہوتا ہے۔ پاکستان ساختہ سوتی کپڑا، ملبوسات، اونی مصنوعات اور قالین دنیا بھر میں پسند کیے جاتے ہیں۔ اس طرح پارچہ بافی، انجینئرنگ کا ایک ایسا شعبہ ہے جس میں ترقی کے بے شمار امکانات ہیں اور اس شعبے میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے روزگار اور ترقی کے روشن مواقع موجود ہیں۔

پیشے کا تعارف

لباس، انسان کی اوّلین ضرورتوں میں سے ایک ہے۔ غذا کے بعد انسان کو لباس ہی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس طرح پارچہ بافی اہمیت کے اعتبار سے دنیا کی دوسری بڑی ٹیکنالوجی ہے۔ زرعی شعبے میں کپاس، اون،پٹ سن (جوٹ) اور مصنوعی ریشے کی پیداوار دنیا میں سب سے زیادہ ہے اور اس میں اضافے کی شرح 5 فی صد سالانہ ہے۔ قدرتی ریشے کے علاوہ انسان نے لباس تیار کرنے کے لیے مصنوعی ریشے بھی ایجاد کرلیے ہیں۔
گزشتہ چند برسوں میں ٹیکسٹائل کی صنعت میں اہم تبدیلیاں آئی ہیں۔ صنعتوں میں کمپیوٹر کے استعمال نے ٹیکسٹائل کے شعبے میں بھی کئی ایسے کاموں کو آسان اور جلد ممکن بنا دیا ہے جن میں پہلے خاصا وقت صرف ہوتا تھا۔ دھاگے کی تیاری اور کپڑے کی بنائی کے دوران ڈیزائننگ….یہ سب کام اب خود کار مشینوں سے ہونے لگے ہیں جس کے نتیجے میں مشینوں کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔
پارچہ بافی کی صنعت کا خام مال قدرتی ریشہ(کپاس، اون، ریشم اور پٹ سن) اور مصنوعی ریشہ (نائیلون، وسکوز اور پولیسٹر) ہوتا ہے۔ ٹیکسٹائل ملوں میں اس خام مال کو کپڑے میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ ان مصنوعات میں لیس، کپڑا، قالین ، ہوزری اور بنت کی دیگر اشیا شامل ہیں۔
ٹیکسٹائل کی صنعت کے چار اہم مرحلے ریشے کی تیاری ، دھاگا بنانا، بنائی (ویونگ یانٹنگ) اور ڈائینگ یافنشنگ ہیں۔ پہلے مرحلے میں اون یا کپاس کی گانٹھوں کو ذخیرہ اور پھر صاف کیا جاتا ہے۔ اس صاف شدہ روئی کو کارڈنگ مشین کے ذریعے ایک نرم رسّی کی شکل دی جاتی ہے۔ اسے مزید کھینچا جاتا ہے، آہنی کنگھوں سے گزارا جاتا ہے اور اس میں بل دے کر پتلے اور مضبوط دھاگے میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ ویونگ اور نٹنگ کپڑا تیار کرنے کے دو طریقے ہیں۔ لوم مشین یا نٹنگ مشین سے تیار شدہ کپڑا ایک مسلسل لمبائی میں برآمد ہوتا ہے۔ سرکلر مشینوں سے بعض تیار ملبوسات بھی برآمد ہوتے ہیں۔ بلیچنگ، ڈائینگ،پرنٹنگ، فنشنگ کپڑے کی تیاری کے آخری مراحل ہیں جن سے گزر کر کپڑا بازار میں فروخت کے لیے پہنچ جاتا ہے۔

کام کی نوعیت

ٹیکسٹائل ٹیک نیشن، مل کے مختلف شعبوں میں کام کرتے ہیں جن میں پروڈکشن، ڈیزائن، ڈائینگ، پرنٹنگ اور فنشنگ کے شعبے شامل ہیں۔ ٹیک نیشن کا اصل کام یہ ہے کہ مشینیں بلا رکاوٹ کام کرتی رہیں، تمام آلات رواں رہیں اور مشینوں کی وقت پر دیکھ بھال ہوتی رہے۔ مختلف قسم کے کپڑے کی تیاری سے پہلے مشینوں کو کسی خاص قسم کے کپڑے کے لیے ایڈجسٹ کرنا ہوتا ہے۔ اگر دھاگا یا کپڑا صحیح تیار نہ ہو رہا ہو یا مشین بند ہوجائے تو نقص کو تلاش کرنا اور دور کرناٹیک نیشن کی ذمہ داری ہے۔ جدید مشینیں کمپیوٹر سے کام کرتی ہیں اسی لیے آج کے دور کے ٹیکسٹائل ٹیک نیشن کو کمپیوٹرائزڈ مشینوں اور الیکٹرونک انجینئرنگ سے بھی واقف ہونا چاہیے۔
پاکستان میں پارچہ بافی کی صنعت کی اہمیت اور اس کی ترقی کی رفتار کے مقابلے میں فنی تعلیم و تربیت کے اداروں کی کمی ہے۔ اس وقت ملک میں درجِ ذیل تعلیمی ادارے کام کر رہے ہیں۔

ٹیکسٹائل یونی ورسٹی آف پاکستان
یہ یونی ورسٹی ٹیکسٹائل ملوں کے مالکان کی انجمن (APTMA)ٹیکسٹائل مینجمنٹ میں بی ایس سی (آنرز) کے چار سالہ نصاب کی اور ٹیکسٹائل ٹیکنالوجی میں ایسوسی ایٹ ڈگری کے دو سالہ نصاب کی تربیت دی جاتی ہے۔بی ایس سی آنرز میں داخلے کی اہلیت انٹر سائنس (60 فی صد نشانات) اور ایسوسی ایٹ ڈگری کے لیے انٹر سائنس (50 فی صد نشانات) ہے۔
1۔نیشنل کالج آف ٹیکسٹائل انجینئرنگ فیصل آباد
فیصل آباد میں واقع اس درس گاہ میں ٹیکسٹائل کے تینوں بنیادی شعبوں، یعنی اسپننگ ، ویونگ اور ٹیکسٹائل کیمسٹری یا پروسیسنگ کا چار سالہ کورس مکمل کرایا جاتا ہے۔ کامیاب امیدواروں کو بی ایس سی ٹیکسٹائل انجینئرنگ کی سند دی جاتی ہے۔ داخلے کی اہلیت انٹر سائنس (پری انجینئرنگ) یا اے لیول ہے۔ نشستوں کی تعداد 128 ہے۔
2۔گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی کراچی اور ملتان
کراچی اور ملتان کے گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی میں ٹیکسٹائل اسپننگ اور ٹیکسٹائل ویونگ ٹیکنالوجی میں تین سالہ ڈپلوما کورس کی سہولت ہے۔ کامیاب امیداروں کو بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن، ڈپلوما آف ایسوسی ایٹ انجینئر کی سند دیتا ہے۔ ہر ٹیکنالوجی میں نشستوں کی تعداد 50 ہے۔ داخلے کی اہلیت میٹرک اور انٹر سائنس (پری انجینئرنگ) ہے۔
3۔سوئیڈش پاک انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کراچی
اس ادارے کے کلوپھنک ڈیپارٹمنٹ میں تین سالہ نصاب کی تکمیل کے لیے داخلہ دیا جاتا ہے اور کامیاب امیدواروں کو ڈپلوما آف ایسوسی ایٹ انجینئر کی سندپیش کی جاتی ہے۔ نشستوں کی تعداد 25 ہے۔ داخلے کی اہلیت میٹرک اور انٹر سائنس (پری انجینئرنگ)ہے۔
4۔گورنمنٹ ویمن پولی ٹیکنک لیاقت آباد کراچی
اس ادارے میں صرف طالبات کو داخلہ دیا جاتا ہے اور گارمنٹس ٹیکنالوجی میں تین سالہ کورس مکمل کرایا جاتا ہے۔ کامیاب طالبات کو ایسوسی ایٹ انجینئر کی سند دی جاتی ہے۔ داخلے کی اہلیت میٹرک ہے۔
5۔ گورنمنٹ ویونگ اینڈ فنشنگ انسٹی ٹیوٹ شاہدرہ
لاہور میں واقع اس ادارے میں ویونگ اور فنشنگ ٹیکنالوجی میں ڈھائی سالہ نصاب کی تکمیل پرڈپلومے کی سند دی جاتی ہے۔ نشستوں کی تعداد 40ہے اور داخلے کی اہلیت میٹرک یا انٹر سائنس (پری انجینئرنگ) ہے۔
6۔ گورنمنٹ وولن سینٹر جھنگ
اس ادارے میں وول ٹیکنالوجی میں دو سالہ نصاب مکمل کرایا جاتا ہے۔ داخلے کی اہلیت میٹرک سائنس ہے اور نشستوں کی تعداد 30ہے۔
ان کے علاوہ کراچی میں آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کے تحت حال ہی میں ٹیکسٹائل ٹیکنالوجی انسٹی ٹیوٹ قائم ہوا ہے، جہاں فی الحال مختصر مدت کے کورس کرائے جا رہے ہیں۔ اپٹما کی طرف سے کراچی میں ٹیکسٹائل کالج کے قیام کا منصوبہ زیر تشکیل ہے۔
پنجاب اور سندھ کے لیبر ڈائریکٹوریٹ اور اسمال انڈسٹریز کارپوریشنوں کے تحت دونوں صوبوں کے مختلف حصوں میں پارچہ بافی، قالین بافی، گارمنٹس اور دیگر شعبوں کے تربیتی ادارے کام کر رہے ہیں جہاں 6 سے 8 ماہ کی مختصر مدت کے سرٹیفکیٹ کورسز کرائے جاتے ہیں۔ ان کورسز میں داخلے کی اہلیت خواندہ ہونا ہے۔