صفحہ اول » انجینرنگ سے متعلق پیشے » ٹیکسٹائل انجینئرنگ

ٹیکسٹائل انجینئرنگ

ٹیکسٹائل انڈسٹری میں پہلے سے کام کرنے والے ہنر مندوں کے لیے کراچی میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف کاٹن ریسرچ اینڈ ٹیکنالوجی میں 2سے 12 ہفتوں کے سرٹیفکیٹ کورسز کرائے جاتے ہیں جو بنیادی طور پر کوالٹی کنٹرول سے متعلق ہوتے ہیں۔ ان کورسز میں شرکت کے لیے انٹر پری انجینئرنگ ہونا ضروری ہے۔اسی طرح ٹیکسٹائل ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ سینٹر کراچی میں ٹیکسٹائل کی صنعت سے وابستہ، آپریٹر سے منیجرتک کی سطح کے افراد کے لیے 6 دن سے 36دن تک کے مختلف کورسز کرائے جاتے ہیں۔
7۔اپرنٹس شپ ٹریننگ
اپرنٹس شپ آرڈیننس کے تحت ٹیکسٹائل ملوں میں مختلف شعبوں میں دو سال بر سر کار (آن جاب) تربیت دی جاتی ہے۔ اس میں داخلے کے اشتہارات اخبارات میں شائع ہوتے ہیں۔ داخلے کی اہلیت بالعموم میٹرک ہوتی ہے۔

ذاتی خصوصیات

ٹیکسٹائل کے شعبے میں کیریئر بنانے کے خواہش مند نوجوانوں کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ انجینئرنگ میں اس کا طبعی رجحان ہو۔ ڈگری اور ڈپلوما حاصل کرنے والے نوجوانوں کو ٹیکسٹائل مل میںاسسٹنٹ ماسٹر اور سپروائزر کی حیثیت سے کام کرنا ہوتا ہے۔ اپنے پیشے میں آگے بڑھنے کے لیے ضروری ہے کہ ان میں نہ صرف کام سیکھنے کی اہلیت ہو بلکہ اپنے ماتحتوں سے  خوش گوار ماحول میں کام لینے کی بھی صلاحیت ہو۔ اس مقصد کے لیے کام سے دلچسپی کے ساتھ گفتگو کی صلاحیت نہایت ضروری ہے۔ انتظامی لیاقت جلد ترقی کے مواقع فراہم کرتی ہے۔ پیداوار میں بلند معیار کا خیال رکھ کر نہ صرف ذاتی ساکھ بنائی جاسکتی ہے بلکہ اپنے ادارے کی ساکھ بھی قائم کی جاسکتی ہے۔

نصاب

نیشنل کالج آف ٹیکسٹائل انجینئرنگ میں تین شعبوں میں تربیت دی جاتی ہے۔ پہلے سال کا نصاب تینوں شعبوں کے طلبہ کے لیے یکساں ہوتا ہے جب کہ بعد کے تین سال ہر شعبے میں تخصیص (اسپیشلائزیشن) کے ہوتے ہیں۔ سال اوّل میں اطلاقی ریاضی، اطلاقی طبیعیات، اطلاقی کیمیا، انجینئرنگ میٹیریلز، تھیوری آف مشینر، پارچہ بافی کے خام مال، حرکیات (تھرموڈائنامکس) انجینئرنگ ڈرائنگ اور گرافکس، ورک شاپ پریکٹس، اسلامیات اور مطالعہء پاکستان کے مضامین پڑھائے جاتے ہیں۔
دوسرے سال میں اسپننگ، ویونگ ٹیکسٹائل ٹیسٹنگ، ٹیکسٹائل میکینکس، ٹیکسٹائل کیمسٹری، ریاضی، رامیٹیریلز، طبیعیات اور آرگینک کیمسٹری کے مضامین پڑھائے جاتے ہیں۔ تیسرے سال میں اسٹیٹکس اینڈ کوالٹی کنٹرول، ٹیکسٹائل فزکس، اسپننگ پروسیس، فیبرک اسٹرکچر، بلیچنگ اینڈ ڈائینگ، پولیمر کیمسٹری،الیکٹروٹیکنیکس، یارن پروڈکشن، کلر فزکس اور اسلامیات و مطالعہءپاکستان کے مضامین ہوتے ہیں۔
چوتھے سال کے دوران طلبہ ٹیکسٹائل انجینئرنگ، ٹیکسٹائل ٹیسٹنگ، اسپننگ پروسیس اینڈ پلاننگ، اسپننگ پریپریشن اینڈ کیلکولیشنز، ویونگ تھیوری اینڈ پریکٹس، ویونگ کیلکولیشنز، ڈائی اسٹف کیمسٹری، ٹیکسٹائل کیمیکل اینالیسز، پروڈکشن اینڈ پلاننگ ان ٹیکسٹائل فنشنگ، اسلامیات و مطالعہءپاکستان، فایبر فزکس ، اکنامک مینجمنٹ، یارن پروڈکشن اینڈ پلاننگ، یارن پروڈکشن کیلکولیشنز، ایڈوانس اسپننگ اسٹیڈیز، اسپننگ پروجیکٹ ، فایبر اسٹرکچر اینڈ ٹیکسٹائل ڈیزائننگ، فیبرک اینالیسز اینڈ پروڈکشن، ویونگ پروجیکٹ، ٹیکسٹائل پرنٹنگ، بلیچنگ اینڈ ڈائینگ اور ٹیکسٹائل کیمسٹری پروجیکٹ کے مضامین پڑھتے ہیں۔
کراچی اور ملتان کے گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی میں بھی کم و بیش اسی نوعیت کا نصاب رائج ہے۔ ویونگ اور اسپننگ کے پہلے دو سال کے مضامین یکساں ہوتے ہیں۔ چوںکہ ان دونوں اداروں میں ٹیکسٹائل کیمسٹری (یا پروسیسنگ/فنشنگ) ٹیکنالوجی نہیں ہے اس لیے اس سے متعلق مضامین یہاںکے نصاب میں شامل نہیں ہوں گے۔

ماحولِ کار

ماضی قریب تک پاکستان میں ٹیکسٹائل ملوں کے حالات بہت اچھے نہیں تھے۔ لیکن اب جدید مشینوں کے ساتھ جو نئے مل قائم ہو رہے ہیں وہاں حالات بہتر ہیں۔ چھوٹے اسپننگ ملوں میں روئی کے ریشے فضا میں ہر وقت موجود رہتے ہیں اور سانس کے ساتھ جسم کے اندر داخل ہوتے ہیں۔ ویونگ ملوں میں مشینوں کے چلنے کی آواز سے پیدا ہونے والا شور بہت زیادہ ہوتا ہے۔ پروسیسنگ یا فنشنگ کے عمل میں مختلف کیمیکلز کے استعمال کی وجہ سے فضا نہایت گرم یا نہایت مرطوب ہوتی ہے۔ یہ جدید سہولتیں (مثلاً ڈسٹ ایکسٹریکٹر) استعمال نہ ہونے کی وجہ سے گرد و غبار کی سطح بھی بلند رہتی ہے۔
تاہم ان مسائل پر ذرا سی احتیاط سے قابو پایا جاسکتا ہے۔ اسپننگ ملوں کے کارکنوں کو ناک اور منھ پر ماسک پہننا چاہیے، جب کہ ویونگ مل میں کام کرنے والوں کو کانوں پر حفاظتی غلاف استعمال کرنا چاہئیں۔